Print ready Dawah pamphlet (brochure) in PDF

Instructions:

(1) Download PDF,

(2) Print double-sided (Fit to page) while selecting correct page size (e.g. A4),

(3) Fold (tri-column) with cover at front

(4) Share

Note: If you want a single column PDF version of above pamphlet click here.

_____________________________________________________

gates-to-heaven-in-the-clouds

Text of the Dawah brochure

(Page 1/Cover)

بسم الله الرحمن الرحيم

AN INVITATION TO THE TRUTH

(Page 2)

Who created you and why?


In spite of the number of atheists in the world, the belief in God is universal. A cross cultural consensus is enough evidence to substantiate the claim. Religions like Christianity, Judaism, Hinduism etc. also declare the existence of God. However, they attribute lower and animalistic attributes to God such as having children, getting tired or even worshipping bizarre idols. These things happened due to the corruption of religions  with the passage of time.

Evolution can’t explain the origin of life. For instance, your mobile phone is composed of a few basic things like logic, silicon, plastic, glass etc. Is there a chance that it could have formed itself through random processes? Scientifically, this violates the 2nd law of thermodynamics (law of increasing entropy).So how do we explain the existence of enormously complex life forms? It is reasonable to conclude that the universe and life are a result of willful intelligent design. This certainly proves the existence of a Creator. The presence of DNA in all life forms serves as a divine signature of a common Creator. This Creator is Allah, the Lord of the Worlds. It has been revealed that,

“Allah created death and life to try you, whichever of you is fairest in deeds.” (Qur’an 67:2)

A world without Deen in fact brings an unhappy end. The hippie movement was a demonstration of this social damage. The hippies believed that they could find spiritual emancipation through secular humanist philosophy and by such things as unlimited drugs and sex. The hippy leaders of the 1960s either killed themselves or died from drug-induced comas in the early 1970s.

Islam is here to restore the true message of Prophets. Allah, The Most High Says,

“And messengers were sent into every nation to proclaim, ‘Worship Allah and avoid false deities.” (Qur’an 16:36)

(Page 3)

Proofs of Islam*


The revelations mentioned in the Islamic scriptures confirm their divine nature. For instance, formerly it was thought that mountains were merely protrusions rising above the surface of the Earth. However, scientists realized that mountains play a similar role to a nail or peg firmly holding down earth. Mount Everest, the summit of which stands approximately 9 km above the surface of the earth, has a root deeper than 125 km. Allah, The Most High Says,

“We placed mountains in the earth so that as it revolved  with them you lived undisturbed.” (Qur’an, 21:31)

“Have We not made the earth as a bed and the mountains its pegs?” (Qur’an, 78:6-7)

 Another fact confirmed by recent findings is that matter constantly seeks the most stable state. Iron is the most desirable state of nuclear matter, and cosmological models predict a stage in which everything will turn into iron as a result of nuclear fusion and nuclear fission reactions. Allah, The Most High Says,

 Yet they say: “When we are turned to bones and bits, shall we be raised as a new creation?” Tell them [O Muhammad ()]:”Even if you turn to iron Allah shall bring you back (to life)” (Qur’an 17:49-51)


 [*For details read A Brief Illustrated Guide to Understanding Islam by I. A. Ibrahim]

(Page 4)

Obligations of a Muslim


 The Messenger of Allah () said: “Islam has been built on five (pillars).

 Testifying that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah.

  • Establishing the Salah (prayer).
  • Paying the Zakat (obligatory charity).
  • Making the Hajj (pilgrimage) to the House.
  • And fasting in Ramadhan. ”

 [Nawawi 3]

The Messenger of Allah () said: “The rights of one Muslim over another are six.

 If you meet him, greet him with Salam.

  • If he invites you, accept the invitation.
  • If he asks for advice, give him sincere advice.
  • If he sneezes and praises Allah, say Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you).
  • If he falls sick, visit him.
  • And if he dies, attend his funeral.”

 [Muslim 2162]

(Page 5)

Invalidators of Islam*

(As per the Qur’an, Hadith and consensus of the scholars)


  • Shirk (polytheism)
  • Voluntary apostasy
  • Not deeming a disbeliever to be a disbeliever
  • Believing that the guidance of other than the prophet is more complete than his guidance
  • Hating anything that the messenger came with
  • Mocking Allah, or the Messenger, or the Qur’an, or the Shariah
  • Magic
  • Aiding the disbelievers against the Muslims
  • Believing that some have the choice to leave off the Shariah of Muhammad ()
  • Aversion to the Deen, not learning it nor acting upon it

[*For details see Nawaqid al-Islam by Shaykh Muhammad Ibn Abd al-Wahhab]

(Page 6/Back)

For more information visit:

‎الداعية الإسلامي / Caller To Islam

http://caller-to-islam.tk

 

Advertisements

محبت اور عشق میں فرق

از قلم: محمد زبیر شیخ…. متعلم مرکز اہل الحدیث ملتان

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔

آئیے اس فرق کو جاننے کےلیے مستند عربی لغات کی طرف چلتے ہیں تاکہ حق معلوم ہونے کے بعد ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے رجوع کرکے صحیح بات کی طرف پلٹیں۔

محبت کا معنی:

امام اللغۃ مجد الدين أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادى (المتوفى: 817ھ) اپنی کتاب القاموس المحیط میں تحریر فرماتے ہیں: «الحُبُّ: الوِدادُ، كالحِبابِ والحِبّ، بكسرهما، والمَحَبَّةِ والحُبابِ بالضم» ’حُبّ‘ کا مطلب ہے محبت۔ حِبابِ، الحِبّ، المَحَبَّةِ، الحُبابِکے بھی یہی معنی ہیں۔ جس سے محبت کی جائے، اسے محبوب کہتے ہیں۔

(القاموس المحیط ج: ا، ص: 70، ط: الرسالة, بيروت)

محمد بن مكرم بن على، أبو الفضل، جمال الدين ابن منظور الأنصاري الرويفعى الإفريقى (المتوفى: 711ھ) اپنی کتاب لسان العرب میں رقم طراز ہیں: ’حُبّ‘ کا متضاد بغض ہے۔ حُبّ کے معنی پیار و محبت ہیں۔ حُبّ کو حِبّ بھی کہتے ہیں ۔ محبت کرنے والے کو مُحِبّ کہا جاتا ہے۔ جس سے محبت کی جائے، اسےمحبوب یا مُحَبّ کہتے ہیں۔

(لسان العرب ، ج: 1، ص: 289، ط: دار صادر – بيروت)

أبو نصر إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي (المتوفى: 393ھ) نے بھی اپنی کتاب الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية میں ایسی ہی بات لکھی ہے۔

(الصحاح للجوہری، ج: 1، ص: 105، ط: دار العلم للملايين – بيروت)

امام أبو القاسم الحسين بن محمد المعروف بالراغب الأصفهانى (المتوفى: 502ھ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں محبت کی تعریف یوں کرتے ہیں: «المحبَّة: إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا» کسی چیز کو اچھا اور مفید سمجھ کر اس کا ارادہ کرنا، اسے چاہنا محبت ہے۔ (ج: 1، ص: 214، ط: دار القلم، الدار الشامية – دمشق بيروت)

عشق کا مفہوم:

آئیے اب لفظ عشق کا معنی و مطلب دیکھتے ہیں:

امام فیروز آبادی لکھتے ہیں: « عُجْبُ المُحِبِّ بمَحْبوبِه، أو إفْراطُ الحُبِّ، ويكونُ في عَفافٍ وفي دَعارةٍ، أو عَمَى الحِسِّ عن إدْراكِ عُيوبِهِ، أو مَرَضٌ وسْواسِيٌّ يَجْلُبُه إلى نَفْسِه بتَسْليطِ فِكْرِهِ على اسْتِحْسانِ بعضِ الصُّوَر۔»محب کا اپنے محبوب کو بہت زیادہ پسند کرنا، یا محبت میں غلو کرنا۔یہ محبت پاک بازی کی حدود میں بھی ہوسکتی ہے اور بدکاری میں بھی۔ یا پھر عشق کہتے ہیں: محبوب کے عیوب دیکھنے کی حس سے محروم ہوجانا۔ یا پھر عشق ایک مرض ہے جو عاشق کو خیالوں کی وادی میں دھکیل دیتا ہے کہ بعض صورتیں اس کو اچھی لگنے لگتی ہیں۔ (القاموس المحیط ، ج: 1، ص: 909)

لسان العرب میں تقریباً یہی مفہوم موجود ہے۔ (ج: 10، ص: 251)

اور یہی مفہوم امام جوہری کی الصحاح میں ہے۔ (ج: 4، ص: 1525)

امام ابن فارس اپنی کتاب مقاییس اللغۃ میں لکھتے ہیں: عشق محبت کی حدود کو پھلانگنے کا نام ہے۔(ج: 4، ص: 321، طبع: دار الفكر)

امام ابن ابی العز شرح عقیدہ طحاویہ میں فرماتے ہیں کہ عشق اس بڑھی ہوئی محبت کو کہتے ہیں جس میں عاشق کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جس میں شہوت ہوتی ہے۔

محبت اور عشق میں فرق:

محبت اور عشق میں جو فرق ہے، اسے امام أبو هلال الحسن بن عبد الله بن سهل بن سعيد بن يحيى بن مهران العسكري (المتوفى: قریباً 395ھ) یوں بیان کرتے ہیں:

ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ عشق کہتے ہیں معشوق سے اپنی مراد ومطلوب حاصل کرنے کی خواہش۔ اسی لیے اچھا کھانے کی چاہت کو عشق سے تعبیر نہیں کیا جاتا ۔

اسی طرح عشق اس خواہش کو بھی کہا جاتا ہے جو حد سے بڑھ جائے اور عاشق اگر اسے پورا نہ کرسکے تو وہ خواہش اسے مار ڈالتی ہے۔

(الفروق اللغویۃ ، ج: 1، ص: 122، ط: دار العلم والثقافة القاهرة)

محبت اور عشق میں فرق اس انداز سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ محبوب محبوب ہی رہتا ہے، کوئی محبّ ہویا نہ ہو جبکہ معشوق معشوق نہیں ہوتا جب تک کوئی عاشق نہ ہو۔

محبت کا تعلق اور نسبت رب، رسول کی اور ہر ایک کی طرف کی جاسکتی ہے جبکہ عشق کا تعلق صرف معشوق سے ہوتا ہے۔

محبّ ساری دنیا کےلیے سکون کا طلب گار ہوتا ہے جبکہ عاشق صرف اپنی جنسی تسکین چاہتا ہے۔ (ملخصاً از: میں محبت کس سے کروں, از: الشیخ عظیم حاصل پوری، ص: 23)

معلوم ہوا کہ عشق ایک مذموم فعل ہے جبکہ محبت ایک پسندیدہ فعل ہے۔

عشق کی شرعی حیثیت:

قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف علیہ السلام سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔

ایک اشکال:

بعض لوگ عشق کے ثبوت میں ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: «من عشق، فعف، وكتم، وصبر، ثم مات كان شهيداً» جس نے عشق کیا، پھر پاک دامن رہا، اسے چھپایا اور صبر کیا، پھر مر گیا تو وہ شہید ہوگا۔

ازالہ:

یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیےسلسلۃ الضعیفۃ للألبانی رحمہ اللہ، ح: 409۔معلوم ہوتا ہے کہ ان عُشَّاق (بروزن فُسَّاق) نے احادیث کو بھی معاف نہیں کیا اور اپنے پاگل پن کا ثبوت دینے کےلیے نبیﷺ پر جھوٹ بولنے سے بھی پرہیز نہیں کیا اور یوں نبیﷺ کی اس حدیث کا مصداق بنے کہ : «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

(صحیح البخاری: 3461)

عشق عقل کے میزان میں:

عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔ مثال درکار ہو تو لیلی کے مجنوں کو دیکھ لیجئے، سسی کے پنوں کا جائزہ لیجئے، ہیر کے رانجھے کی داستان پڑھیے۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد پھرتے، آہیں بھرتے، رت جگا کرتے، ہر شے سے بےخبر، بس اک معشوق میں مگن کسی نوجوان کو دیکھ لیجئے جو آپ کو عین انہی صفات کا حامل نظر آئے گا جو اوپر درج کی گئی ہیں۔

مُحِبّ رسولﷺ یا عاشق رسولﷺ؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مؤمن ومسلمان کو سب سے زیادہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت ہونی چاہیے جیسا کہ قرآن کی آیات اور احادیث اس کی وضاحت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر محبت الہٰی کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:

‹وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلہِ› [البقرۃ: 165]

ایمان والے اللہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔

اور محبت رسولﷺ کے بارے میں پیارے پیغمبر جناب محمد رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

«لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (صحیح البخاري: 15)

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سےزیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ ایک روایت میں نبی کریمﷺ نے یہ بات قسم اٹھا کر بھی فرمائی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس شدید اور سب سے زیادہ محبت کو ظاہر کرنے کےلیے لفظ عشق کا استعمال صحیح ہے؟ تو اس کا صاف، سیدھا ، واضح اور دو ٹوک جواب یہی ہے کہ نہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً:

1 لفظ عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ رسول اللہﷺ سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں جو محبت ہوتی ہے، وہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔

2 اگر اس معنی سے صرف نظر کرلیا جائے اور بڑی بڑی پگڑیوں والے اپنے آپ کو عاشق کہلوابھی لیں تو کیا خواتین کےلیے اس لفظ کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی کہ وہ بھی عاشقان رسول کہلوا لیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا خواتین کےلیے الگ اسلام ہے اور مردوں کے لیے الگ؟

3 اہل بیت سے محبت ، عقیدت اور ان کی عزت کا خیال رکھنے کا ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم: 2408) اہل بیت میں ازواج مطہرات اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن بھی شامل ہیں، کیا ان کےلیے بھی یہی لفظ استعمال کیا جائے گا؟ جو لوگ ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج سمجھتے ہیں اور پنجتن پاک کا نعرہ لگاتےہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں پنجتن پاک سے محبت اور عشق ہے، کیا وہ اس پنجتن کے ایک ایک فرد کا نام لے کر عاشق ہونے کا اظہار کرسکتے ہیں؟ مثلاً: عاشق رسول، عاشق علی، عاشق حسن، عاشق حسین تو ہر کوئی کہلوانے کو تیار ہوجاتا ہے لیکن عاشق فاطمہ لوگ نہیں کہلواتے۔ کیوں؟ وجہ ظاہر ہے کہ سب سمجھتے ہیں کہ لفظ عشق کا استعمال مقدس ہستیوں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

4 ہر شخص یہ بات کہتا ہے کہ مجھے اپنے اہل خانہ سے محبت ہے۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔ کیا کوئی شخص اس بات کو زبان پر لا سکتا ہے کہ میں اپنی والدہ یا بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں؟ اگر نہیں تو کیا اللہ اور نبیﷺ کی ذات مبارک ہی اتنی گئی گزری ہے کہ بےتکلف لوگ اپنے آپ کو عشق الہٰی میں غرق اور عاشق رسول کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟

عشق کا جواز اقبال سے:

بعض لوگ جب کوئی اور چارہ نہیں دیکھتے تو فوراً کہتے ہیں کہ دیکھو جی! علامہ اقبال نے بھی تو اپنی شاعری میں لفظ عشق کو استعمال کیا ہے اور بےتحاشا کیا ہے۔ کیا وہ بھی غلط تھے؟

اشکال کا حل:

اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ ہوں یا کوئی اور صاحب علم ودانش، ہمارے لیے اصل دلیل قرآن وحدیث ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ علامہ صاحب نے اسے اس کے مروجہ معانی ومفاہیم سے نکال کر ایک نئے معنی یعنی جوش، جنوں، انجام کی طرف دھیان دیے بغیر کام کرجانا وغیرہ میں استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:

؎ بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

مذکورہ بالا شعر میں وہ لفظ عشق کو عقل کے مقابلے میں لے کر آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عقل انسان کو آگ میں چھلانگ لگانے سے روکتی ہے ، لیکن یہ ابراہیم علیہ السلام کا جذبہ ایمانی ہی تھا جس نے انہیں عقل کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے رب کی خاطر آگ میں کود جانے پر آمادہ کیا۔

معلوم ہوا کہ علامہ صاحب کے طرز عمل سے استدلال غلط ہے اور صحیح بات وہی ہے کہ اس لفظ کا استعمال عموماً اور اللہ اور رسولﷺ کی طرف نسبت کرکے استعمال کرنا خصوصاً غلط اور ناجائز ہے۔

سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں:

ہمارے ہاں اکثر گلیوں، بازاروں میں دیواروں پر اور دکانوں اور گھروں میں کیلنڈرز وغیرہ پر یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ

؎ سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

میرے گھر میں بھی چراغاں ہوجائے یا رسول اللہﷺ

یہ شعر، اگر اسے شعر کا نام دیا جانا درست ہو، بالکل غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سنی سنائی بات ہے ، کوئی پختہ اور مضبوط بات نہیں جیسا کہ ’شاعر‘ موصوف کا اقبالی بیان ہے۔ اور سنی سنائی بات کا شریعت میں جو مقام ہے، وہ اس حدیث سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ» یعنی کسی بھی شخص کے جھوٹا ہونے کےلیے اتنا ہی کافی کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔ (صحیح مسلم: 5)

پھر یہ سنی سنائی بات قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی وفات کا تذکرہ کیا ہے۔ اور احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ نبیﷺ فوت ہوگئے ہیں۔ اور وفات کے بعد نبیﷺ کا مقام اور ٹھکانہ احادیث کی رو سے جنت ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ایک لمبی روایت موجود ہے کہ دو فرشتوں نے خواب میں نبیﷺ کو چند ایک مقامات کی سیر کروائی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ذرا اوپر نظر اٹھا کر تو دیکھیے۔ آپﷺ نے جب دیکھا تو ایک محل نظر آیا جو سفید بادلوں جیسا تھا۔فرشتوں نے جب بتایا کہ یہ آپ کا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: مجھے اس میں جانے دو۔ اس پر فرشتوں نے جواب دیا: «إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ»

ابھی آپﷺ کی عمر کے کچھ سال باقی ہیں۔ جب وہ پورےہوجائیں گے تو آپﷺ اپنے اس محل میں تشریف لے جاسکیں گے۔ (صحیح البخاری: 1386)

معلوم ہوا کہ نبیﷺ اب اپنی حیات دنیوی پوری کرنے کے بعد جنت میں اپنے محل میں تشریف فرما ہیں۔ اور جنت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کے قید خانے میں کون آنا چاہے گا؟ جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:«الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ» دنیا مؤمن کےلیے قیدخانہ ہے۔ (صحیح مسلم: 2956)

اسی طرح رسول رحمت ﷺ فرماتے ہیں : «مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ، لَهُ عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ، يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلَّا الشَّهِيدَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى»

مرنے کے بعد جس بندے کےلیے اللہ کے ہاں خیر وبھلائی ہوگی، وہ کبھی بھی دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے ساری دنیا ہی کیوں نہ وقف کردی جائے۔ سوائے شہید کے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ اس نے شہادت کی جو فضیلت دیکھی تھی، وہ اسے آمادہ کرے گی کہ وہ دنیا میں لوٹ آئے اور دوبارہ اللہ کے راستے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردے۔ (صحیح البخاری: 2795)

ان احادیث کے پیش نظر یہ کہنا کہ ’’سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں‘‘ بالکل غلط ثابت ہوتا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح کے یہ عاشق ہیں، نبیﷺ تو انہیں دیکھنا ہی پسند نہ فرمائیں گے کیونکہ شرک وبدعات میں یہ ڈوبے ہوئے،فرائض کے تارک اور سنتوں کا مذاق اڑانے والےہیں، ان کے گھر تشریف لانا تو دور کی بات ہے!!!

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن وحدیث پر چلنے اور سیرت کے اصل پیغام ’توحیدوسنت‘ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین.

عاشقانِ رسول ﷺ یا کہ محبانِ رسول ﷺ

برئے صغیر پاک و ہند میں اسلامی حلقوں میں ایک لفظ بہت پایا جاتا ہے کہ ہم عاشقِ رسولﷺ ہیں اور اس فقرے کو بہت اہمیت بھی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے سب خاص و عام یہی دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔ آج اسی فقرے کے بارے میں دلائل سے بات ہوگی ان شاءاللہ۔
اس سلسلے میں میری کافی دفعہ بات چیت ہوچکی ہے کیونکہ کبھی میں بھی یہی نظریہ رکھتا تھا اور آج بھی میرے عزیز رشتہ دار اور دوست ایسے بہت ہیں جو یہی فقرہ استعمال کرتے ہیں اس لیے ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، میرا ان سب سے یہی سوال ہوتا ہے کہ آپ وہ الفاظ استعمال کیوں نہیں کرتے جو اللہ نے کہے اور نبیﷺ نے ادا کیئے ہیں؟ آپ لوگ اللہ اور نبیﷺ کی بات کو چھوڑ کر وہ بات کیوں کرتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں بھی بہت غلط تصور کی جاتی ہے؟مگر مجھے آج تک کسی مولوی صاحب یا کسی دوست عزیز نے اس کی دلیل نہیں دی ہے اور جو وجوہات پیش کی ہیں وہ آپ کے سامنے بھی رکھوں گا ان شاءاللہ، اس سے پہلے ہم اس لفظ عشق، عاشق اور معشوق پر بات کریں گے۔
عشق :۔گو کہ المنجد عربی اور درسی اردو لغت وغیرہ میں عشق کا معنی محبت کی انتہا لکھا گیا ہے مگر ہم نے دیکھنا یہ بھی ہے کہ اس لفظ کا استعمال قرآن و حدیث میں کس لحاظ سے کیا گیا ہے؟اب اس معنی کے مطابق جو بندہ نبیﷺ سے محبت بہت زیادہ رکھتا ہے اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ جی نبیﷺسے عشق کرتا ہے جیسے ایک شاعر نے کہا کہ
دل میں عشقِ نبی کی ہو ایسی لگن

اور جب کہ قرآن میں اللہ نے ایسا کوئی بھی فقرہ استعمال نہیں کیا ہے جس سے محبت کی انتہا عشق کا مفہوم لیا جائے بلکہ عشق کا لفظ پورے قرآن میں ہے ہی نہیں ہے۔ ایک آیت میں اللہ کا ارشاد مبارک ہے کہ
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓااَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ ١٦٥؁
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔البقرہ: ۱۶۵
اس آیت مبارکہ میں اللہ نے لفظ حب استعمال کیا ہے جو کہ اردو میں لفظ محبت کا معنی پیش کرتا ہے اور اس لفظ محبت سے پہلے شدید کا اضافہ فرمایا یعنی جو اللہ سے بہت زیادہ محبت کی انتہا سے محبت کرتے ہیں، اب اس آیت سے بات واضح ہوتی ہے کہ اگر محبت شدید بھی ہو تو بھی لفظ محبت ہی استعمال کرنا ہے نہ کہ اس کی جگہ کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جائے جو اپنے معنی اور مفہوم میں کچھ ایسے مفاہم بھی رکھتا ہو جس سے سوچ کا رخ بدل جائے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 31؀
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ آلِ عمران: ۳۱
اس طرح قرآن مجید میں کافی زیادہ آیات مل جائیں گی جن میں لفظ محب، حب استعمال ہوا ہے اور اس آیت کو بھی اگر غور سے پڑھا جائے تو یہی سبق ملتا ہے کہ اگر سے محبت کا دعویٰ ہے تو صرف اور صرف محمدﷺ کی اتباع و پیروی کرو، یعنی کسی کا دعویٰ کرنا اپنی جگہ مگر محبت کی پہچان اتباع محمدﷺ میں ہے اب ہر معاملے میں آپﷺ کی ہی پیروی کرنے کا حکم ہےاور اگر عشق کا لفظ محمدﷺ نے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی آپﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کبھی ایسا کہا کہ ہم نبیﷺ سے عشق کرتے ہیں تو

ہمارے پاس کیا دلیل ہے جو ہم نبیﷺکے بارے میں کہیں کہ ہم عاشقِ رسولﷺ ہیں؟ اور دوسرا اگر یہ اتنا پاکیزہ لفظ ہے تو کوئی اس لفظ کو اپنی ماں اور بہن کے بارے میں استعمال کیوں نہیں کرتا؟کتنی حیران کن بات ہے کہ جو لفظ ہم اپنی ماں ، بہن کے ساتھ لگانا مناسب نہیں سمجھتے وہی لفظ ہم نبیﷺ کی ذات کے ساتھ استعمال کرتے ہیں؟ کیا یہ توہین نہیں ہے؟

کیا کبھی کسی بندے نے یہ بھی کہا ہے کہ میں اپنی ماں کا عاشق ہوں اوریا کہا کہ اپنی بہن کا عاشق ہوں؟ نہیں اور یقیناً نہیں کہا ہوگا کیونکہ ایسا کہنا معیوب سمجھا جائے گا اور لوگ اس کو پاگل کہیں گیں
،

کیا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شخص اپنی ماں اور بہن سے انتہا درجہ کی محبت نہیں رکھتا ؟ نہیں ناں بلکہ سبھی بھائی بیٹے اپنے بہن اور ماں سے شدید محبت کرتے ہیں اور یہ محبت قدرتی امر ہے جو سبھی کو ہوتی ہے، تو

کیا وجہ ہے کہ وہ یہ لفظ عشق اپنی ماں بہن کے ساتھ نہیں لگاتا مگر وہ شخص یہی لفظ نبیﷺ کی ذات کے ساتھ لگاتا ہے؟اوریا پھر عشق مجازی کے ساتھ لگانا مناسب سمجھتا ہے اور اس بات کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ عشق مجازی کیا چیز ہے۔

اور عشق کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جس میں نفسیانی غلامی بھی شامل ہواسی لیے کسی غیر مرد کا کسی غیر عورت سے میل جول یا محبت کو اصل معنوں میں عشق کہا جاتا ہےکیونکہ وہ مرد یا عورت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات بھول کر اپنے نفس کے غلام اور اپنی نفسیانی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں

عاشق:۔ عاشق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہو ۔

معشوق:۔ معشوق اس کو کہا جاتا ہے جس عورت سے کوئی شخص عشق کرتا ہے وہ جس عورت سے عشق کرتا ہے کو معشوق کہا جاتا ہے، یہ تینوں لفظ عشق، عاشق اور معشوق عشق

مجازی کے زمرے میں آتے ہیں ان کو اللہ اور نبیﷺ کے لیئے استعمال کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہے کہ جس طرح کوئی یہ کہنا مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کہے کہ میری بہن میری معشوق ہے یا کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہوں یا اپنی بہن سے عشق کرتا ہوں تو انہی الفاظ کو نبیﷺکی ذاتِ اقدس کے ساتھ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ اگر ہم اثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی رہنمائی لیں تو بھی ہمیں ایسا لفظ نہیں ملے گا کہ کسی صحابی رسولﷺنے آپﷺسے کہا ہو کہ میں آپﷺ سے عشق کرتا ہوں

بلکہ اس کے خلاف آپ کو ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا قیامت کب ہوگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب:صلہ رحمی کا بیان :آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں
اس کے علاوہ سینکڑوں حدیثیں مل جائیں گی جن میں لفظ حب یعنی محبت استعمال ہوا ہے مگر کوئی ایک بھی ایسی حدیث یا اثر نہیں ملے گا جس میں عشق کو نبیﷺکے ساتھ نسبت دی گئی ہو۔

اب کوئی بھائی یہ نہ کہے کہ عربی زبان میں لفظ عشق ہے ہی نہیں بلکہ یہ حب کا معنی ہے جو اردو عشق کہلاتا ہے تو اس پر بھی ایک حدیث پیش کر دیتا ہوں تاکہ یہ مغالطہ ہی دفع
ہو جائے

وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” اقرؤوا القرآن بلحون العرب وأصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونة قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم ” . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم قرآن کریم اہل عرب کی طرح اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھواہل عشق اور اہل کتاب کے طریق کے مطابق پڑھنے سے بچو میرے بعد ایک جماعت پیدا ہو گی جس کے افراد راگ اور نوحہ کی طرح آواز بنا کر قرآن پڑھیں گے۔ ان کا حال یہ ہو گا کہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا (یعنی ان کا پڑھنا قبول نہیں ہو گا) نیز ان کی قرات سن کر خوش ہونے والوں کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ (بیہقی ، رزین)
مشکوۃ شریف:جلد دوم:باب:فضائل قرآن کا بیان :قرآن محض خوش آوازی کا نام نہیں

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لفظ عشق عربی زبان کا بھی لفظ ہے اور اس کا وہی تصور جو اردو میں لیا جاتا ہے عربی میں بھی لیا جاتا ہے یعنی عشقِ مجازی اور دوسرا اس حدیث میں اہلِ عشق کے طریق سے قرآن پڑھنے کی ممانعت آئی ہے کہ جس طرح عشاق اور شعراء اپنی نظمیں وغزلیں اور اشعار آواز بنا کر اور ترنم و سر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور موسیقی اور راگ کے قواعد کی رعایت کرتے ہیں تم اس طرح قرآن کریم نہ پڑھو۔
آخر میں ایک نبیﷺ کا ارشاد پیش کرتا ہوں کہ

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک وہ مجھ سے اپنی اولاد اور والدین اور سب لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرئے ۔ متفق علیہ
صحیح مسلم:جلد اول:باب:ایمان کا بیان :اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر والوں والد اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو۔

اس حکمِ رسول ﷺ میں جو بات واضح ہوئی وہ یہی ہے کہ اگر کبھی ایسا ہوجائے کہ آپ کی اولاد یا والدین یا کوئی تیسری ہستی آپ کو کچھ ایسا کام کرنے کو کہے جو نبی ﷺ کے حکم کے خلاف جاتا ہو تو ایسے موقعہ پر نبیﷺسے محبت کا ثبوت دیں اور وہ کام نہ کریں یہیں سے معلوم ہوگا کہ کوئی کس سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔اور ابھی جو بات پیش کی ہے کہ کبھی بھی یہ نہ کہیں کہ ہم عاشقِ رسول ﷺ ہیں بلکہ یہ کہیں کہ ہم محبانِ رسول ﷺ ہیں کیونکہ ایسا حکم عشق عاشق اور معشوق ہم کو نبی ﷺ نے تعلیم نہیں فرمایا اس لیے ہم ان لفظوں کو اللہ اور نبیﷺکی ذات کے ساتھ منسوب نہیں کریں گیں بلکہ وہیں لفظ کہیں گے جو قرآن اور حدیث میں وارد ہوئے ہیں یعنی محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں محبت کرنے والا دل اور نبیﷺکی اتباع کرنے والا جسم عطاء فرمائے آمین

اس شخص کا کیا حکم ہے جو لاالہ الا اللہ تو پڑھتاہے لیکن نماز نہیں پڑھتا، نہ روزہ رکھتا ہے، نہ زکوۃ دیتا ہے اور نہ کوئی عمل کرتا ہے؟

                                   الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين محمد صلى الله عليه وسلم وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد

   بلاشبہ اہل سنت والجماعت کا ایمان کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ قول اور عمل ہے۔

ruling-on-non-practising-muslims

شیخ الاسلام (ابن تیمیہ رحمہ اللہ) ایمان کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں

بعض دفعہ ــ سلف ـ کہتے ہیں کہ وہ قول اور عمل ہے۔ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ وہ قول، عمل اور نیت ہے۔ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ وہ قول، عمل، نیت اور اتباع سنت ہے۔ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ زبان سے اقرار کرنا، دل سے تصدیق کرنا اور جوارح سے عمل کرنا ہے۔ یہ سب اقوال درست ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ قول اور عمل ہے تو قول میں دل اور زبان دونوں کا قول آجاتا ہے۔

قول کے لفظ کہنے اور اس جیسے دیگر الفاظ کی ادائیگی سے یہی مرادہوتا ہے اور اسی پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ ان سب کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ سلف میں سے جو ایمان کو قول وعمل کہتے ہیں تو ان کی مراد دل وزبان کا قول اور دل وجوارح کا عمل ہے۔ جو ایمان کے ماننے کا اضافہ کرتے ہیں تو ان کے نزدیک معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قول کے لفظ سے ظاہری قول مراد ہے اور انہیں اعتقاد کے نہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ دل سے ماننے کا اضافہ کرتےہیں۔ جو سلف ایمان کو قول، عمل اور نیت کہتے ہیں تو وہ قول سے مراد ماننا اور زبان سے کہنے کو خیال کرتے ہیں۔ جبکہ عمل سے نیت کا پتہ نہیں چلایا جاسکتا ۔اس وجہ سے انہوں نے نیت کا اضافہ کیا ہے۔

جو سلف ایمان میں اتباع سنت کا اضافہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام کام اللہ کے پسندیدہ اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک سنت کی پیروی نہ کی جائے۔ ان کی مراد ہر قول اور عمل نہیں ہے بلکہ ان کی مراد صرف شریعت کے مقرر کردہ اقوال واعمال ہیں۔ ایسا کرنے سے مرجئہ کا رد کرنامقصودہے جنہوں نے ایمان کو صرف قول بنادیا تھا۔اس وجہ سے سلف نے کہا کہ وہ قول وعمل ہے۔ جن اسلاف نے ایمان کی چاراقسام ذکر کیں، انہوں نے اپنی مراد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا

۔جیسا کہ سہل بن عبداللہ تستری سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ وہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا : قول، عمل،نیت اور سنت ہے۔کیونکہ اگر ایمان صرف قولی ہو اور عمل نہ ہو تو وہ کفر ہے۔ اگر ایمان صرف قولی وعملی ہو اور نیت نہ ہو تو وہ نفاق ہے۔ اگر ایمان صرف قولی وعملی اور نیت ہو اور اس میں سنت نہ ہو تو وہ بدعت ہے۔

(مجموع الفتاوی 7/ 100)


ابن رجب حنبلی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں


’’سلف نے ان لوگوں پر سختی کے ساتھ شدید رد کیا ہے جو اعمال کو ایمان سے خارج کرتے ہیں۔ اسلاف میں سے جن لوگوں نے ایسا کہنے والوں پر رد کیا اور اعمال کو ایمان سے خارج کرنے والے قول کو بدعتی قول قرار دیا ان میں سے بعض یہ ہیں

 سعيد بن جُبير، ميمون بن مہران، قتادة ، ايوب السختيانی، ابراهيم النخعی، الزهری اوریحیی بن ابي كثير وغیرہ


ثوری کہتے ہیں

 یہ ایک بدعتی رائے ہے اور ہم نے لوگوں کو بھی اس کے مخالف ہی پایا ہے۔


اوزاعی کہتے ہیں

 جتنے بھی اسلاف گزرچکے ہیں، وہ ایمان اور عمل کے درمیان تفریق نہیں کرتے تھے۔

                        (جامع العلوم والحكم لابن رجب الحنبلي ص70 )


پس جس کسی نے بھی اعمال کو بغیر عذر کے چھوڑا ـــ عذر سے میری مراد یہ ہے کہ کوئی شخص نیا اسلام میں داخل ہوا ہو اور اسے اس بات کا علم نہ ہو کہ اللہ تعالی نے اس پر کن اعمال کو فرض قراردیا ہے یا ایسا شخص جو کسی دور وادی میں رہتا ہو اور اسے صرف شہادتین (کلمہ طیبہ) کے علاوہ اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔ ـــ تو وہ کافر مرتد ہے۔

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں


مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہیں کہ جس نے شہادتین کا اقرار نہ کیا وہ کافرہے۔ لیکن انہوں نے باقی چار اعمال کو چھوڑدینے والے شخص کو کافر قراردینے کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر نہیں ہے توبلاشبہ اس سے ہماری مراد زنا اور شراب جیسے گناہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بنیادی ارکان کو چھوڑنے والے کو کافر قراردینے میں مشہور اختلاف ہے۔

امام احمد کا بھی اس بارے میں اختلاف ہے۔ ان سے مروی ایک روایت میں ہے کہ جو ان (ارکان) میں سے ایک بھی چھوڑ دے تو وہ کافر ہے۔ اس قول کے قائل ابوبکر اور ابن حبیب جیسے امام مالک کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ ہے۔ امام احمد سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ صرف نماز اور زکوۃ کو چھوڑنے والا کافر ہے۔ ان سے ایک تیسری روایت میں مروی ہے کہ نماز اور زکوۃ کو چھوڑنے والا کافر اس وقت ہوگا جب امام ان کیخلاف قتال کررہا ہو۔ چوتھی روایت میں ہے کہ نماز ترک کرے تو اس وقت اسے کافر قراردیا جائے گا۔ پانچویں روایت میں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی چیز ترک کرے تو وہ کافر نہیں ہے۔ سلف کے یہ اقوال معروف ہیں۔


حکم ابن عتیبہ کہتے ہیں

جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی توتحقیق اس نے کفر کیا۔ جس نے جان بوجھ کرزکوۃ نہ دی توتحقیق اس نے کفر کیا۔ جس نے جان بوجھ کر حج چھوڑا توتحقیق اس نے کفر کیا۔ جس نے جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑے تو تحقیق اس نے کفر کیا۔

سعید بن جبیر کہتے ہیں

جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی توبلاشبہ اس نے اللہ تعالی کے ساتھ کفر کیا۔ جس نے جان بوجھ کر زکوۃ نہ دی تو بلاشبہ اس نے اللہ تعالی کے ساتھ کفر کیا اور جس نے جان بوجھ کر روزے چھوڑے توبلاشبہ اس نے اللہ تعالی کے ساتھ کفر کیا۔


ضحاک کہتے ہیں کہ

  نماز زکوۃ کے بغیر بلند نہیں ہوتی ہے۔

  عبد اللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں

 جو نماز قائم کرتا ہے اور زکوۃ نہیں دیتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی ہے۔

اس کو اسد بن موسی نے روایت کیا ہے۔

(مجموع الفتاوى 7/169)


شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں


اسی وجہ سے علماء میں ان چار فرائض کے واجب ہونے کا اقرارکرنے کے بعد ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے والے کو کافر قراردینے میں اختلاف ہے۔البتہ اگر کوئی شخص شہادتین کا اقرار کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود انہیں نہیں پڑھتا ہے تو اس کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

اسی طرح امت کے اسلاف، ائمہ اور جمہور علماء کے نزدیک وہ شخص ظاہری اور باطنی کافر ہے۔لیکن اگر وہ چار فرائض میں سے کسی ایک کے واجب ہونے انکار کرے تو حجت قائم ہوجانے کے بعد وہ کافر ہے۔اسی طرح متواتر سے حرام کردہ ظاہری اشیاء میں سے فحش اشیاء، زنا، ظلم، جھوٹ اور شراب جیسی کچھ چیزوں کے حرام ہونے کو نہ مانے تو وہ کافر ہے۔

ہاں البتہ جس شخص پر حجت قائم نہ ہوئی ہو ،اس وجہ سے کہ وہ نیا اسلام قبول کرنے والا ہے یا کسی دور درازوادی میں رہ رہا ہے اور اس تک اسلامی احکام نہیں پہنچے ہیں یا اسے انہیں سمجھنے میں غلطی لگی ہو اور اس نے یہ سمجھ لیا ہوکہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے شراب کی حرمت سے مستثنی ہیں تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول کی جائے گی اور ان پر حجت کا اتمام کیا جائے گا جیساکہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کے لوگوں سے توبہ قبول کرکےمعاف کردیا تھا۔

اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد پھر بھی ان پر اصرار کریں تو اس وقت وہ کافر ہوجائیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے سے پہلے ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا جیسا کہ صحابہ نے قدامہ ابن مظعون اور اس کے ساتھیوں پر کفر کا حکم نہیں لگایا تھا جنہوں نے غلط تاویلیں کرکے غلطیاں کیں تھیں۔


ہاں البتہ اگر کوئی ان کے واجب ہونے کا اقرار کرتا ہو اور پھر ان چار ارکان میں سے کچھ پر عمل کرنا چھوڑے تو اسے کافر قرار دینے کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں جو تمام کے تمام احمد سے مروی ہیں۔


ایک قول یہ کہ وہ ان چار میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑے گا، خواہ وہ حج ہی کیوں نہ ہوتو اس نے کفر کا ارتکاب کرلیا۔اگرچہ حج کو مؤخر کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے مگر جب بھی کسی نے کلی طور پر حج کو ترک کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کفر کرلیا۔ یہ سلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہ احمد کی ایک روایت ہے جسے ابوبکر نے اختیار کیا ہے۔


دوسرا قول یہ ہے کہ وہ واجب کا اقرار کرتے ہوئے بھی اگر ان ارکان میں سے کچھ کو چھوڑدے تووہ کافر نہیں ہو گا۔ یہی ابوحنیفہ، مالک اور شافعی کے اکثر فقہاء کے ہاں مشہور ہے اور یہ احمد کی ایک روایت ہے جسے ابوبکر نے اختیار کیا ہے۔


تیسرا قول یہ ہے کہ وہ صرف نماز کو چھوڑنے کی صورت میں کافر ہوتاہے۔ یہ احمد سے تیسری روایت ہے۔ اسلاف میں سے اکثر اور مالک، شافعی اور احمد کے ساتھیوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔

چوتھا قول یہ ہے کہ وہ صرف نماز اور زکوۃ کو چھوڑنے کی صورت میں کافر ہوتا ہے۔پانچواں قول یہ ہے کہ وہ روزہ اور حج کو چھوڑنے کے علاوہ نماز اور زکوۃ کو چھوڑنے کی صورت میں اس وقت کافر ہوجاتا ہے جب امام اس سے قتال کریں۔

اس مسئلے کے دو رخ ہے۔ ایک رخ کا پہلویہ ہے کہ ظاہری اور باطنی کفر کو ثابت کرناجبکہ دوسراپہلو یہ ہے کہ باطنی کفر کو ثابت کرنا۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ ایمان قول وعمل پر مبنی مسئلہ ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکاہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک آدمی مومن ہو اور اس کے دل میں یہ ایمان راسخ ہو کہ اللہ تعالی نے اس پر نماز، زکوۃ، روزے اور حج کو فرض کیا ہے،اس کے باوجود وہ اپنی زندگی کا ایک عرصہ ایسے گزارے کہ اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ نہ کیا ہو، رمضان کا ایک روزہ نہ رکھا ہو اور بیت اللہ کا ایک حج نہ کیا ہو۔ ایسا اس شخص سے ہی ہوسکتا ہے جس کے دل میں نفاق اور زندقہ(لادینیت،گمراہی) ہو جبکہ ایسا صحیح ایمان کے ہوتے ہوئے نہیں ہوسکتا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے سجدے سے انکار کرنے کو کافروں کی صفت قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے:

يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ، خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ۔
(القلم)


جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور (کفار) سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ سجدہ کی قدرت نہ پائیں گے۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اس وقت) وہ سجدے کے لیے بلائے جاتے تھے جبکہ وہ صحیح و سالم تھے(اور وہ بالارادہ سجدہ نہیں کرتے تھے)۔

اسی طرح صحیح میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو وضوء کے آثار سے تابندہ رو اور روشن ہونے والی پیشانی اور اعضاء سے پہچانیں گے۔

یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس کسی کی پیشانی اوراعضاء وضوء کے آثار سے تابندہ رو اور روشن نہیں ہونگے اسے نبی ﷺ نہیں پہنچانیں گے اور جس کونہیں پہنچانیں گے وہ ان کی امت میں سے نہیں ہے۔

اسی طرح قرآن میں بھی دینی اخوت کو نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے سے اسی طرح مشروط کیا گیا ہے جیسے کفر سے توبہ کرنے سے اسے مشروط کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں نبی اکرم ﷺ سے صحیح حدیث میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا

العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها كفر 

 ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز کا ہے۔ پس جس کسی نے اسے چھوڑا تو اس نے کفر کیا

مسند میں یہ حدیث ہے


من ترك الصلاة متعمداً فقد برئت منه الذمّة…


جس کسی نے جان بوجھ کر نماز کو چھوڑا تو بلاشبہ وہ (اللہ کے) ذمے سے نکل گیا۔

(مجموع فتاوى ابن تيمية 7/330)

والله أعلم۔

کیا طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے سلسلے میں زبردستی یا مجبوری کا دعویٰ قابل قبول ہے ؟

سوال:

کیا اس مسئلے یعنی طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے سلسلے میں زبردستی یا مجبوری کا دعویٰ قابل قبول ہے ؟خاص طور پر جبکہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کی مدد اور حمایت اس لئے کی کہ انہوں نے ہمیں مجبور کیا لہٰذا طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے لئے وہ مجبوری کو عذر بناتے ہیں ۔

جواب:

ہم کہتے ہیں :اس مسئلے میں یعنی طاغوت کی مدد وحمایت کے سلسلے میں مجبوری کا عذر غیر شرعاً غیر معتبر اور ناقابل قبول ہے کیونکہ توحید طاغوت کے ساتھ کفرکرنے کے ذریعے ہی ثابت ہوتی ہے اور طاغوت کے ساتھ کفر اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست نہ بنایاجائے اور قول وفعل کے ذریعے محض انہی سے محبت اوران کی مدد نہ کی جائے اور جس قدر ممکن ہو ان کی خیر خواہی نہ چاہی جائے ایسے ہی ایمان اور توحید سے متعلق دیگرمسائل ،اقوال وافعال کو اختیار نہ کرلیا جائے ۔طاغوت کے ساتھ کفر کی حقیقت یہ ہے کہ کفر اور کافروں سے براء ت اختیار کی جائے ان سے اور ان کے دین اور عقیدے سے نفرت کی جائے اور ظاہر اور باطن ہر طرح ان سے مکمل طور پر الگ ہوجایاجائے اوران کی طرف معمولی سابھی جھکاؤ نہ ہو اورانہیں پسند نہ کیاجائے اور ظاہر وباطن ہر اعتبار سے ان کی مشابہت اختیار کرنے سے بچاجائے اور ان کی شرعی اعتبار سے مکمل مخالفت کی جائے اور ان کی نہ مدد کی جائے نہ حمایت او رمسلمانوں کے خلاف ان کی مدد یا حمایت سے مکمل اجتناب کیاجائے اور جان ،مال اور زبان کے ذریعے ان کے خلاف جہاد جاری رکھاجائے ایسے ہی اللہ کے لئے دوستی اور دشمنی کے تمام تقاضوں کو پورا کیاجائے۔

محدث ابوالوفاء ابن عقیل ﷫نے کیا خوب فرمایا کہ :
’’اگر تم اہل زمان میں اسلام کی قدرومنزلت جاننا چاہتے ہو تو مساجد میں ان کی بھیڑ اور میقات میں ان کی لبیک کی صداؤں پر مت جاؤ بلکہ دشمنان دین سے ان کی ہم آہنگی کی طرف توجہ کرو‘‘۔

علاوہ ازیں جسے مسلمانوں کے لڑنے پر مجبور کردیاجائے اس کے لئے پھر بھی جائز نہیں کہ وہ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہو کیونکہ اس کی جان اللہ کے نزدیک مجاہدین فی سبیل اللہ سے بڑھ کرنہیں ہوسکتی جن کی تعریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اﷲَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن……الآیة۔
’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے میں خرید لئے ہیں کہ ان کے لئے جنت ہوگی وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں ….الآیۃ‘‘۔

اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ خود کو نقصان سے بچانے کی خاطر دوسرے مسلمان کو نقصان میں مبتلا کردے اور علماء اصول نے یہ اصول بتایا ہے کہ الضرر لایزال بمثلہ ’’نقصان کو اس جیسے نقصان کے ذریعے زائل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

چنانچہ جب ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل پر مجبور کردیا جائے تو اس کے لئے اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے تو جو مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کفار کے ساتھ شریک ہو اس کے لئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے مجبوری کی بناء پر مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی صفوں میں محض شریک ہونا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ لڑائی جائز ہوجائے کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے عام حالات میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل پر مجبور کردیاجائے۔

امام سرخسی ﷫اس سلسلے میں ’’شرح السیرالکبیر(1517/4)میں فرماتے ہیں :
’’اور اگر وہ کفار ان (مسلمانوں )سے کہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑو وگرنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے تو ان کے لئے مسلمانوں سے لڑنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو مسلمانوں پر بعینہ حرام ہے لہٰذا قتل کی دھمکی کی بناء پر اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جیسے اگر کوئی مسلمان سے کہے کہ اس مسلمان کو قتل کردے وگرنہ میں تجھے قتل کردوں گا اسی طرح اگر کفار مسلمانوں کو دھمکی دے کر کہیں کہ ہماری صفوں میں شامل ہوجاؤ لیکن پھر وہ مسلمانوں سے لڑائی بھی نہ کریں اس صورت میں مجھے امید ہے کہ گنجائش ہے کیونکہ اس صورت میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کچھ کیا نہیں ہے لہٰذا یہ ظلم نہیں ہوگا اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ مشرکین کی صفوں میں شامل ہوکر انہوں نے مسلمانوں کی نگاہ میں مشرکین کی تعداد میں اضافہ کردیا تویہ ایسے ہی ہے جیسے کسی مسلمان کو جان کی دھمکی دے کر دیگر مسلمانوں کے مال چھیننے پر مجبور کردیا جائے اور اگر مسلمانوں کو مشرکین سے اپنی جانوں کا خوف نہ ہو تو ان کے لئے ان کے ساتھ ان کی صفوں میں شامل ہونا بھی جائز نہیں اگر چہ مشرکین اس پر مجبور کریں کیونکہ ایسا کرنے میں دیگر مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں مرعوب کرنا اور انہیں منتشر کرنا لازم آتا ہے اور کسی مسلمان کے لئے بلاضرورت ایسا کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ‘‘۔

میں کہتا ہوں:شرعی اعتبار سے ضرورت کے وقت بھی ایسا کرنے کی گنجائش نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا کرنے میں اس سے بڑے نقصان کا خطرہ ہے یعنی کسی مسلمان کا کافروں کے لشکر میں مل جانا اور طاغوت کی مددکرنا اور اس کے لئے لڑنا یہ خود اس مسلمان کے قتل یا قید یا پٹائی وغیرہ سے زیادہ بڑا نقصان ہے اسی لئے شریعت مطہرہ اس جیسی ضرور ت یا مجبوری کا اعتبار نہیں کرتی کیونکہ ایسا کرنے میں بہت سے دنیاوی اور دینی نقصانات ہوتے ہیں۔اس کی دلیل صحیح بخاری کتاب المغازی باب شہود الملائکہ بدرا کی یہ حدیث ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا کہ ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ :’’انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺسے اجازت مانگی اور کہا (ائذن لنا فلنترک لابن اختنا عباس فداء ہ قال واﷲ لا تذرون منہ درھما)’’آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑدیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کا ایک درہم بھی نہ چھوڑو‘‘ (فتح الباری:321/7حدیث نمبر4 018)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں :’’عباس سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مراد ہیں اور ان کی ماں انصاریہ نہ تھیں بلکہ ان کی دادی یعنی عبدالمطلب کی ماں انصاریہ تھیں لیکن انہوں نے عباس کی دادی کوبہن کہا کیونکہ وہ انہی کی قوم سے تھیں اور عباس کو ان کا بیٹا کہا کیونکہ وہ ان کی دادی تھیں اور ان کا نام سلمی بنت عمرو بن زید بن لبید ہے وہ بنی عدی بن نجار سے پھر بنی خزرج سے تھیں جبکہ عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام نتیلہ بنت جناب ہے جو کہ تیم اللات بن نمر بن قاسط کی اولاد سے ہیں ۔کرمانی کو وہم ہوا لہٰذا اس نے کہا کہ عباس بن عبدالمطلب کی والدہ انصاریہ تھیں اور یہ بات انہوں نے انصاریوں کے ظاہری قول ’’ہمارے بھانجے ‘‘کی بناء پر کہی ہے جبکہ حقیقت وہ نہیں جو انہوں نے سمجھی بلکہ اس سے بڑھ کر ہے جیسا کہ میں نے وضاحت کی ہے ۔ (فتح الباری:322/7)

یہ عباس رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو مکہ میں مسلمان ہوچکے تھے مشرکین مکہ انہیں اور ان کے ساتھ کچھ اور مسلمانوں کو بھی غزوہ بدر میں مسلمانوں کے مقابلے کے لئے زبردستی اپنے ساتھ لائے تھے جیسا کہ مسند احمد 89/1حدیث نمبر 676میں عبداللہ بن احمد اپنے والد احمد بن حنبل سے ’’وجادۃ‘‘(علماء مصطلحین کی ایک مخصوص اصطلاح یعنی اپنے والد کی لکھی ہوئی کتاب سے )روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول ﷺنے غزوہ بدر کے دن فرمایا (من استطعتم ان تاسروا من بني عبدالمطلب فانھم خرجوا کرھا ولم یعذرھم رسول اﷲﷺبل امرباسرھم وکان منھم العباس بن عبدالمطلب  اسرہ ابو الیسر)’’تم میں کون ہے جو عبدالمطلب کی اولاد کو قید بنائے کیونکہ انہیں زبردستی لایا گیا ہے اور نبی نے ان کا عذر نہ مانا بلکہ انہیں قید کرنے کاحکم دیا اور ان میں عباس بن عبدالمطلب بھی شامل تھے انہیں ابویسر نے قیدی بنایا‘‘۔اس حدیث کے مطابق نبیﷺ نے اپنے چچا عباس  رضی اللہ عنہ کے ساتھ کفار والا معاملہ کیا جبکہ وہ مسلمان تھے اور مکہ کے کمزور لوگوں میں سے تھے ۔

ابن اسحاق﷫نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺنے عباسرضی اللہ عنہ  سے کہا :
(یا عباس افد نفسک وابن اخویک عقیل بن ابی طالب ونوفل بن الحارث وحلیفک عتبة بن عمرو فانک ذو مال قال انی کنت مسلما ولکن القوم استکرھونی قال اﷲ اعلم بما تقول ان کنت ما تقول حقا ان اﷲ یجزیک ولکن ظاھر امرک انک کنت علینا)
’’اے عباس اپنا اور اپنے بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا فدیہ دو تم مالدار ہو انہوں نے کہا میں تومسلمان تھا او رلوگ مجھے زبردستی لائے ہیں آپ نے فرمایا اللہ ہی جانتا ہے جو تم کہہ رہے ہو اگر تم جو کہہ رہے ہو سچ ہے تواللہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی آئے تھے ‘‘۔
( فتح الباری:322/7)

اس حدیث میں نبی ﷺکا فرمان ’’بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی آئے تھے‘‘اس بارے میں صریح ہے کہ جو مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ آئے گا وہ اس کے ساتھ کفار والا معاملہ ہی کیاجائے گا اور اس کا اورکفار کا ایک ہی حکم ہوگاوہ ان کی طرح کافر ہی شمار ہوگالہٰذا وہ لشکر اور فوجی جو طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ان پر بھی مرتد ہونے کے احکام جاری ہوں گے جو مرتد حکام پرجاری ہوتے ہیں وہ یقینا انہی کی طرح کافر ہوں گے اور عباس رضی اللہ عنہ کا مذکورہ واقعہ اس بات کی انتہائی واضح دلیل ہے ۔واﷲ الموفق للصواب۔

جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام کی وضاحت

جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام فقہا اور سلف نے یہ بیان کی ہیں:
1 ۔فرضِ کفایہ یا اقدامی جہاد
2۔ فرضِ عین یا دفاعی جہاد

فرضِ کفایہ یا اقدامی جہاد کے معنی او ر اس کا شرعی حکم:
اقدامی جہاد جس کو ’’جہاد الطلب ‘‘ بھی کہاجاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’طلب الکفار فی بلادھم‘‘،یعنی خود جنگ کی ابتداء کر تے ہوئے کفار کے علاقے میں گھس کر ان پر حملہ کرنا ،جب کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قتال کے لئے تیاری بھی نہ کررہے ہوں ۔ایسے حالات میں جہاد فرضِ کفایہ ہوتا ہے،جس کی ادائیگی کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ :

(۱) سرحدوں پر اہل ایمان کی اتنی تعداد ہر وقت موجود رہے جو سرزمین اسلام کے دفاع اور اللہ کے دشمنوں پر دہشت بٹھانے کے لئے کافی ہو۔

(۲) سال میں کم از کم ایک مرتبہ مسلمان فوج کو کفار کے خلاف لڑنے کے لئے ضرور بھیجا جائے جبکہ کفار کا مسلمانوں کے خلاف کوئی لڑنے کا کوئی ارادہ بھی نہ ہو۔

لہٰذا مسلمانوں کے امام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ’’دار الحرب ‘‘ کی سمت لشکر روانہ کرے اور رعایا کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اما م کے ساتھ تعاون کرے ۔لیکن اگر امام کسی لشکر کو نہیں بھیجتا تو گناہ کا بوجھ اسی پر ہوگا۔ (حاشیة امام ابن عابدین الشامی :۳/۱۳۸۔)

اسی طرح فقہاء کرام سال میں ایک مرتبہ لشکر بھیجنے کے مسئلے کو ’’جزیے ‘‘کے مسئلے پر قیاس کرتے ہیں۔علمائے اصول فرماتے ہیں:
’’الجھاد دعوة قھریة فتجب اقامة بقدر الامکان حتی لایبقی الامسلم او مسالم‘‘
’’جہاد قوت وغلبہ کے ذریعے دعوت پھیلانے کا نام ہے ۔پس جہاد کو استطاعت بھر قائم کرنا فر ض ہے یہاں تک کہ کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو مسلمان نہ ہویا پھر مسلمانوں سے مصالحت (یعنی جزیہ دینے پر ) آمادہ نہ ہوچکاہو۔‘‘
(حاشیة الشروانی وابن القاسم علی تحفة المحتاج علی المنھاج :۹/۲۱۳۔)

’’ اقدامی جہاد ‘‘ کی چند شرائط فقہائے کرام نے بیان کی ہیں جو درجِ ذیل ہیں :
(۱) سرپرست کی اجازت ہو۔
(۲)بعض کے ہاں طاقت کا توازن ہو۔
(۳)امیرِ عام ہو۔
(۴)دعوت الی الاسلام ہو۔

یاد رہے جہاد جس’’دعوت‘‘پر موقوف ہے اس کے تین جملے ہیں :
(۱) اسلام قبول کرلو
(۲)جزیہ دو ،اگر نہیں
(۳)تو قتال کے لئے تیار ہوجاؤ۔

رسول الملاحم،حضرت محمدﷺ کی دعوت کیا تھی ؟
((امرت ان اقا تل الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللّٰہ فقد عصم منی نفسہ ومالہ الا بحقہ ،وحسابہ علی اللّٰہ ))
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرو کہ وہ لاالہ الا اللہ کہیں۔پس جس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا تو اس نے اپنے جان ومال کو مجھ سے بچالیا،مگر کسی حق کے بدل ۔اور اس کا حساب اللہ پر رہے گا‘‘۔
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد۔)

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ علمائے اصول کا یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ’’فرض کفایہ ‘‘مقرر مدت میں ادا نہ کیا جائے تو وہ ’’فرض عین ‘‘ہوجاتا ہے ،جیسے نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے لیکن اگر مقررہ مدت میں کچھ لوگ اسے ادانہ کریں تو پھر وہ تمام مسلمانوں پر فرضِ عین ہوجاتی ہے جب تک کہ کچھ لوگ اُس کو ادانہ کرلیں۔

فرضِ عین یا دفاعی جہاد کے معنی اور اس کاشرعی حکم:
دفاعی جہاد جس کو ’’جہاد الدفع‘‘ بھی کہتے ہیں ،اس سے مراد((دفع الکفار من بلادنا))’’کفار کو مسلمانوں کے علاقوں سے باہر نکالنے کے لئے جہاد۔دفاعی جہاد فرض عین، بلکہ’’ اہم ترین فرض عین ‘‘ہے ۔چار صورتیں ایسی ہیں جن میں دفاعی جہاد تعین کے ساتھ ہر ایک مسلمان پر فرض ہوجاتا ہے:
’’اذا دخل الکفار بلدة من بلاد المسلمین ‘‘
’’جب کفار مسلمانوں کے کسی بھی علاقے میں گھس آئیں ‘‘۔


موجودہ دور کے کچھ دانشور حضرات جو کہ’’ریسرچ اور تحقیق‘‘کے شعبے سے وابستہ ہونے کے دعویدار ہیں ،اپنی تلبیسی استدلال کے ذریعے یہ بات عامۃ المسلمین میں پھیلارہے ہیں کہ جہاد اگر ’’فرض عین ‘‘ہوبھی جائے تو وہ تمام مسلمانوں پر کبھی ’’فرض عین ‘‘نہیں ہوتا بلکہ اس کی ادائیگی صرف مسلمان حکمران اور ان کی افواج پرفرض ہے ،عام مسلمانوں کی تو صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تقریرو تحریر،پرنٹ میڈیا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن سیاسی و احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے دباؤڈالیں مگر خود اس جہاد میں شریک ہونا اُن پر فرض نہیں ۔اسی طرح یہ ریسرچ اور تحقیق کے دعوے دار جہاد کے فرض عین کو صرف اُن مصنوعی لکیروں تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ معاہدہ سائیکس پیکونے ہمارے لئے کھینچی تھیں یا جان انتون نامی برطانوی یا کسی اور فرانسیسی کافر نے جن کا تعین کیا تھا!لیکن ان مفکرین کے ان تلبیسی استدلال اور تاویلات کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ۔عامۃ المسلمین کے لئے ان’’آئمة المضلّین‘‘سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔


چنانچہ اب ہم کچھ احادیث مبارکہ دیکھیں گے اور اس ضمن میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے سلف و صالحین و فقہاءکرام نے جہاد کے فرضِ عین ہونے کو کیسے سمجھا ہے؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے ،اس لئے نہ تو خود اس پر زیادتی کرے،اور نہ دوسروں کا نشانہ ٔ ظلم بننے کیلئے بے یارومددگار نہیں چھوڑدے۔‘‘
(بخاری۔مسلم۔)

’’ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان بندے کوکسی ایسے موقع پر بے یارومددگار چھوڑ دے گا ،جس میں اس کی عزت پر حملہ ہو ،اور اس کی آبرو اُتاری جارہی ہو ،تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ایسی جگہ اپنی مدد سے محروم رکھے گا جہا ں وہ اس کی مدد کا خواہش مند ہوگا ۔‘‘ (سنن ابی داؤد۔)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫فرماتے ہیں:
’’وأما قتال الدفع فھو اشد انواع دفع الصائل عن الحرمة والدین فواجب اجماعا،فالعدو الصائل الذی یفسد الدین وا لدنیا لاشیئ أوجب بعد الایمان من دفعہ،فلا یشترط لہ شرط(کلزاد والراحة)بل یدفع بحسب الامکان ،وقد نص علی ذلک العلماء ،أصحابنا و غیرھم‘‘
’’اور جہاں تک بات ہے ’’دفاعی قتا ل‘‘ کی تو حرمتوں اور دین پر حملہ آور دشمن کو پچھاڑنے کے لئے یہ قتا ل کی اہم ترین قسم ہے اور اسی لئے اس کے فرض ہونے پر امت کا اجماع ہے ۔ایمان لانے کے بعد سب سے’’اہم ترین فریضہ‘‘دین و دنیا کو برباد کرنے والے حملہ آور دشمن کو پچھاڑنا ہے ۔اس کی فرضیت کے لئے کوئی شرائط نہیں (مثلاًزادِراہ اور سواری موجود ہونے کی شرط بھی ساقط ہوجاتی ہے)بلکہ جس طرح بھی ہودشمن کو پچھاڑا جائے گا ۔یہ بات علماءنے صراحتاً کہی ہے ،خواہ ہمارے مذہب ِ فقہی کے علماء ہوں ،یا دیگر فقہی مذاہب کے‘‘
(الفتاوی الکبری ۴/۵۲۰۔)

امام ابن عابدین شامی ﷫فرماتے ہیں :
’’اگر دشمن کسی بھی اسلامی سرحد پر حملہ آور ہوجائے تو (وہاں بسنے والوں پر )جہادفرضِ عین ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح ان کے قرب وجوار میں بسنے والے پر بھی جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے۔البتہ جولوگ ان سے پیچھے ،دشمن سے فاصلے پر بستے ہوں ،تو جب تک ان کی ضرورت نہ پڑجائے،مثلاً :جس علاقے پر حملہ ہوا ہے اس کے قرب وجوار میں رہنے والے لوگ دشمن کے خلاف مزاحمت کرنے میں بے بس ہوجائیں،یا بے بس تو نہ ہوں لیکن اپنی سستی کی وجہ سے جہاد نہ کریں ،تو ایسی حالت میں ان کے گرد بسنے والوں پر بھی جہاد ،نماز اور روزے کی طرح ’’فرضِ عین ‘‘ہوجاتا ہے اور اسے ترک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔پھر فرضیت کا یہ دائرہ اس کے بعد اور پھر اس کے بعد والوں تک حسب ضرورت پھیلتا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی تدریج سے بڑھتے ہوئے ایک وقت مشرق و مغرب میں بسنے والے ہر مسلمان پر جہاد فرض ہوجاتا ہے‘‘۔ (حاشیة ابن عابدین :۳/۲۳۸۔)

امام ابن تیمیہ ﷫فرماتے ہیں:
’’پس اگر دشمن مسلمانوں پر حملے کا ارادہ کرے تو اسے دفع کرنا سب پر فرض ہوگا ، اُن پر بھی جو حملے کا ’’ہدف‘‘ ہو اور اُن پر بھی جو حملے کو ہدف نہ ہوں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ
’’اور وہ اگر دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے‘‘۔
(الانفال:۷۲۔)
اور جیسا کہ نبی ﷺ نے بھی (کئی احادیث مبارکہ میں )مسلمانوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے ۔یہ حکم سب کے لئے ہے ،خواہ کوئی باقاعدہ تنخواہ دار فوجی ہو یا عام مسلمان ،ہر ایک پر حسب استطاعت جان ،مال سے دفاعی جہاد کرنا فرض ہے ،چاہے (افراد اور اسلحہ کی )قلت ہو یا کثرت ،سواری میسر ہویا پیدل ہی نکلنا پڑے۔بالکل اسی طرح جیسے غزوۂ خندق کے موقع پر جب دشمن نے مسلمانوں کا رُخ کیا تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی‘‘۔
(مجموع الفتاویٰ :۲۸/۳۵۸۔)

مسلمانوں کے تمام علاقوں کو ایک ہی ’’ملک‘‘قرار دیتے ہوئے امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:
’’جب دشمن اسلامی سرزمین میں گھس آئے تو بلا شبہ اسے نکال کر باہر کرنا قریبی آبادیوں پر،اور اگر وہ نہ کرسکیں تو اس کے بعد والی قریبی آبادیوں پر ’’فرض‘‘ ہوجاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے تمام علاقوں کی حیثیت دراصل ایک ہی ’’ملک ‘‘ کی سی ہے۔ایسی حالت میں والد اور قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر نکلنا فرض ہوجاتا ہے‘‘۔ (الفتاوی الکبریٰ :۴/۶۰۸۔)

امام عبداللہ عزام شہید ﷫نے اپنے مشہور فتوے میں فرمایا:
((اتفق السلف والخلف وجمیع الفقھاء والمحدثین فی جمیع العصور الاسلامیة أنہ:اذا اعتدی علی شبر من أراضی المسلمین أصبح الجھاد فرض عین علی کل مسلم ومسلمة ،بحیث یخرج الولد دون اذن والدہ والمرأة دون اذن زوجھا))
’’تمام سلف و خلف اور اسلامی تاریخ کے ہر دور میں تمام فقہاء اور محدثین اس بات پر متفق رہے ہیں کہ:
اگر مسلمانوں کے سرزمین کے کسی گز بھر حصے پر بھی حملہ ہو،تو جہاد ہر مسلمان مردو عورت پر ’’فرضِ عین‘‘ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں بیٹا باپ کی اور عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نکلیں گے‘‘۔
(مقدمہ از ’’ایمان کے بعد اہم ترین فرضِ عین ‘‘ص:۵۴۔)

امام ابوبکر جصاص ﷫ فرماتے ہیں :
’’اور تمام مسلمانوں کے اعتقاد میں یقینی طور پر یہ بات ہے کہ’’ دارالاسلام ‘‘کی سرحدوں پر رہنے والے جب دشمن سے خوف زدہ ہوں اور دشمن کے مقابلے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور اپنے شہروں ،جانوں اور اہل خانہ کے بارے میں خوف کا شکار ہوں تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کی مدد کے لئے اتنے لوگ نکلیں کہ جو دشمن سے دفاع کے لئے کافی ہوں اور یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں ۔اس لئے کہ اس وقت کسی بھی مسلمان کا یہ قول نہیں ہوتا کہ ان کی مدد سے کنارہ کشی حلال ہے تاکہ کفار مسلمانوں کے خون اور ان کے بچوں کو قید کرنے کو حلال سمجھنے لگیں‘‘۔ (احکام القرآن:۴/۳۲۱۔)

درجِ بالا احادیث اورفقہا و سلف کے فتاویٰ و اقوال اور آخر میں امام جصاص﷫نے امت کے اجماع واتفاق سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ کفار سے خوف ہو اور خوف زدہ علاقے کے باشندے قوت و طاقت اور وسائل میں مقابلے کے لئے کافی نہ ہوں تو پوری امت پر ان سے تعاون اور دشمن سے ان کا دفاع فرض ہے۔

اب جبکہ بات ’’خوف ‘‘تک نہیں رہی بلکہ عملاً دنیا بھر کے کافر مسلمانوں کے خون ،مال،عزت اور اولاد سب کو مباح سمجھے ہوئے ہیں اور تختۂ مشق بنائے ہوئے ہیں تو ایسے وقت میں کیا جہادکو ’’فرضِ کفایہ ‘‘ قرار دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس فریضہ کی ادائیگی سے منہ موڑنے کے مترادف نہیں؟؟

’’اذا استنفر الامام افراداًأو قوماًوجب علیھم النفیر‘‘
’’جب امام کچھ افراد یا کسی قوم سے جہاد کے لئے نکلنے کا مطالبہ کرے ،تو ان سب پر فرض ہوجاتا ہے کہ نکلیں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اِذَااسُتَنْفَرْتُمْ فَانْفِرُوْا))
’’جب تم سے جہاد میں نکلنے کے لئے کہا جائے تونکل جاؤ‘‘۔
(صحیح بخاری:کتاب الجہاد والسیر:وجوب النفیر وما یجب من الجھاد والنیة۔)

جب مسلمانوں سے نکلنے کا مطالبہ ہوتو اس حکم کو شریعت کی اصطلاح میں ’’نفیر عام ‘‘کہا جاتا ہے اور یہ دو صورتوں میں فرض ہوجاتا ہے:
(۱) جب امام جہاد کے لئے پکارے یا
(۲) جب مسلمانوں کو مدد کی ضرورت پڑجائے ،خواہ کوئی پکارے یا نہ پکارے۔

اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫’’موطا امام مالک ‘‘کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’یہ ضروری نہیں کہ کوئی خاص شخص مسلمانوں کو یہ کہہ کر پکارے کہ آؤ جہاد کرو۔مقصود یہ ہے کہ ایسی حالت پیدا ہوجائے جو ’’نفیر‘‘ کا تقاضہ کررہی ہو۔پس جب کافر وں نے بلادِ اسلامیہ (پر حملے کا )قصد کیا اور مسلمانوں اورکافروں میں لڑائی شروع ہوگئی تو جہاد ’’فرض ‘‘ہوگیا،اور جب دشمنوں کی طاقت ان ممالک کے مسلمانوں سے زیادہ قوی ہوئی اور مسلمانوں کی شکست کا خوف ہوا،تو یکے بعد دیگرے تمام مسلمانانِ عالم پر جہاد فرض ہوگیا ،خواہ کوئی پکارے یا نہ پکارے ۔یہی حال تما م فرائض کا ہے ۔نماز کا جب وقت آجائے تو خواہ مؤ ذن کی صدائے حی علی الصلوٰۃ سنائی دے یا نہ دے ،وقت کا آنا وجوب کے لئے کافی ہوتا ہے‘‘۔

اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہوئے امام ابن العربی ﷫فرماتے ہیں:
’’ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جب ’’نفیرِ عام‘‘(یعنی ہر ایک کا نکلنا)فرض ہوجائے۔لہٰذا دشمن جب مسلمانوں کی کسی سرزمین پر حملہ آور ہوں یا ان کے کسی علاقے کو گھیر لے توجہاد ’’تعین ‘‘کے ساتھ ہر ایک پر فرض ہوجاتا ہے اور تمام لوگوں کے لئے جہاد کرنا اور اس کی خاطر گھروں سے نکلنا لازم ہوجاتا ہے ۔ایسے میں اگر وہ ادائیگی ٔ فرض میں کوتا ہی کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔پس اگر نفیرِ عام کا حکم اس وجہ سے ہوکہ دشمن ہمارے کسی علاقے پر قبضہ کرلے یا مسلمانوں کو پکڑ کر قیدی بنالے تو سب پر جہاد فرض ہوجاتا ہے کہ وجۂ جہاد کے لئے نکلیں،اور ہر حال میں نکلیں ،خواہ ہلکے ہو یا بوجھل،سوار ہوں یا پیدل ،غلام ہو یا آزاد.جس کے والد زندہ ہوں وہ ان کی اجازت کے بغیر نکلے اور جس کے والد فوت ہوچکے وہ بھی نکلے (اور جہاد کرتا رہے)یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب آجائے ،مسلمانوں کی سرزمین سے دشمن کا شر دور ہوجائے ،اسلامی سرحدیں محفوظ ہوجائیں ،دشمن رسوا ہوجائے ،سارے مسلمان قیدی آزاد ہوجائیں………اور اس بارے میں ان علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

لیکن (سوال یہ ہے کہ)اگر سب لوگ ہی جہا د چھوڑ کر بیٹھے رہیں تو اکیلا بندہ کیا کرے؟اسے چاہیے کہ وہ کوئی قیدی تلاش کرے اورپیسے دے کر آزاد کرائے ،اور اگر قدرت رکھتا ہو تو اکیلا ہی قتال کرے اور اگر اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو کسی مجاہد کوتیار کرے اور اسے سامان فراہم کرے‘‘۔ (احکام القرآن:۲/۹۵۴۔)

امام ابن قدامہ ﷫بھی فرماتے ہیں:
’’فان عدم الامام لم یؤخر الجھاد لأ ن مصلحتہ تفوت بتأ خیرہ‘‘
’’پس امام کی عدم موجودگی کی وجہ سے جہاد مؤخر نہ ہوگا ،کیونکہ تاخیر کرنے سے جہاد کی مصلحت فوت ہوجائے گی‘‘۔
(المغنی :۸/۲۵۳۔)

’’اذا أسر الکفار مجموعة من المسلمین‘‘
’’جب کفار کچھ مسلمانوں کو قید کرلیں ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((فُکُوْ الْعَانِیْ))
’’قیدیوں کو رہا کرواؤ‘‘
(بخاری۔)

امام قرطبی ﷫اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’قیدیوں کو چھڑانا مسلمانوں پر واجب ہے،چاہے قتال کے ذریعے چھڑائیں یا اموال خرچ کرکے چھڑائیں ،اور مال کے ذریعے چھڑانا زیادہ واجب ہے کیونکہ مال خرچ کرنا اپنی جانیں کھپانے سے کم تر اور زیادہ آسان ہے‘‘۔ (تفسیر القرطبی،سورة النساء: ۷۵۔)

امام المجاہدین عبد اللہ بن مبارک ﷫اپنے اشعار میں فرماتے ہیں :
کیف القرار و کیف أ مسلم والمسلمات مع العدوالمعتدی
قرار کہاں ہے ؟اور ایک مسلمان پرسکون کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مسلمان عورتیں سرکش دشمن کی قید میں ہیں۔

الضاربات خدودھن برنة الداعیات نبیھن محمد
جو چیخ وپکار کے ساتھ اپنے رخسار پیٹتی ہیں اور اپنے نبی محمد ﷺ کو پکار تی ہیں ۔

القائلات اذا خشین فضیحة جھدالمقالة لیتنا لم نولد
ذلت و رسوائی کے خوف سے وہ سخت ترین بات کہتی ہیں کہ اے کاش!ہم پید اہی نہ ہوتیں۔

مانستطیع ومالھا من حیلة الا التستر من اخیھا بالید
نہ وہ طاقت رکھتی ہیں اور نہ ہی کوئی حیلہ کرسکتی ہیں سوائے اس بات کے کہ ہاتھ کے ساتھ اپنے بھائی سے پردہ کریں‘‘۔
(سیراعلام النبلاء۸ \ ۴۰۸۔)

کسی بھی عقل وشعور رکھنے والے شخص کے لئے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ درجِ بالا چاروں شرائط کا اگر بغور جائزہ لیاجائے تو آج جہاد کے ’’فرضِ عین ‘‘ہوجانے کے حوالے سے مسلمانوں کے مجموعی حالات یا صورتحال میں کوئی ایک بھی شایدنہ رہ گئی ہو؟آج کفار و مشرکین مسلمانوں کے اکثر علاقوں میں قابض ہوچکے ہیں یااُن کا اثر ونفوذ ان علاقوں میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ عملاً ان ہی کی عملداری ہوچکی ہے اور وہ ان علاقوں میں مسلمانوں کے جان ومال،عزت وآبروکو اپنے لئے حلال سمجھ چکے ہیں ، کفار ومشرکین اور مسلمانوں کے لشکر پوری دنیا میں باہم مقابل ہیں ،مسلمانوں کے لئے ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘میں پیچھے بیٹھے رہنے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا کہ آج مسلمانوں کے اکثرمقبوضہ علاقوں کے رہنے والے مسلمان مدد ونصرت کے محتاج ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کی اکثریت آج الحمد اللہ !ایک شخص کو مسلمانوں کا ’’امیر المومنین‘‘تسلیم کرتے ہوئے مختلف محاذوں پر مقامی امراء کی قیادت میں کفارو مشرکین سے برسر پیکار ہیں اور آج مسلمان عورتوں اور مردوں کی ایک کثیر تعداد کفار ومشرکین کی قید میں ہیں ،چاہے وہ ابوغریب جیل ہو یا کیوبا کے گوانتا نامو کا عقوبت خانہ ،کابل میں قائم مشہور زمانہ بگرام جیل ہو یا کفارو و مشرکین کے علاقوں کے علاوہ بلادِ اسلامیہ بشمول پاکستان ،مصر ،ترکی ،سعودی عرب وغیرہ میں پھیلے ہوئے عقوبت خانے،جن میں اُن پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔

لہٰذاآج کسی بھی شخص کے لئے مسلمانوں پر جہاد کے فرضِ عین بلکہ ’’اہم ترین فرضِ عین ‘‘ہونے میں کوئی شک یا تردد یا ابہام نہیں رہنا چاہیے سوائے اس شخص کہ جس کے دل اور کانوں پر اللہ رب العزت کی طرف سے مہر لگ گئی ہو اور آنکھوں پر حجاب آگیا ہو اور اس کے لئے ہدایت کے بدلے گمراہی اور نجات کے بدلے بربادی لکھ دی گئی ہو۔

جہاد فی سبیل اللہ کا حکم قیامت تک کے لئے

مسلم معاشرے کو اور’’عمرانی ارتقاء‘‘کو بنیاد بناکر موجودہ دور کے جدیدیت پسنداور مغرب کی طاقت سے مرعوب، ریسرچ اور تحقیق میں اپنی حدوں کو پھلانگ جانے والے دانشوروں اور اسکالروں نے موجودہ دور میں :
(۱) اوّل مسلمان ہونے کی بناء پرظالم حکمران کے خلاف ’’خروج‘‘اور
(۲) دوم موجودہ زمانے میں عددی قوت اور ٹیکنالوجی کے فرق کی بنیاد پر

فی زمانہ ’’قتال‘‘ کو ناقابل عمل (Infesable)سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے لئے یہ ’’راہِ عمل ‘‘تجویز کررہے ہیں کہ:
’’ وقت کے دریا میں سے بہت سا پانی گذرگیا ہے اور حالات میں بہت تبدیلی آچکی ہے جس کی وجہ سے دین حق کی اقامت اور طاغوت کی حکمرانی سے نجات اور مسلمانوں کو کفار و مشرکین سے نجات دلانے کے لئے ’’قتال ‘‘کے حوالے سے اجتہاد کی ضرورت ہے۔چنانچہ اب قتال کی جگہ انتخابات ، پُر امن مظاہروں اوردیگر جمہوری طریقوں سے جدوجہد کی جائے ۔‘‘

جان لیجئے !یہ بات قرآن و حدیث میں مذکور اللہ اور اس کے رسول ﷺارشادات اور سلف وخلف کے متفقہ فتاویٰ و اقوال سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اس کے بالکل برخلاف جاتی ہے ۔چنانچہ :
(1) اوّل بات کی پوری طرح وضاحت ان شاء اللہ ’’طاغوت‘‘اور ’’الولاء والبراء‘‘کے عنوان میں سمجھیں گے ۔ مختصر یہ کہ ’’خلافت ‘‘کے ادارے کی موجودگی میں اگر کوئی مسلم حکمران مسلمانوں پر ظلم و ستم کرے اور مسلمانوںکا نظامِ حکومت کو صحیح انداز سے نہ چلائے تو اس صور ت میں اس کے خلاف’’خروج ‘‘کی شروط اور اس کے ساتھ صحابہ کرام اور سلف وصالحین کا مؤقف اور طرزِ عمل میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر جیسے یزید کے معاملے میں نواسہ رسول حضرت حسین اور حضرات صحابہ مثلاً حضرت عبد اللہ بن زبیر ،حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمر کا طرزِ عمل اور حجاج بن یوسف کے معاملے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت عبد اللہ بن عمر کا خروج میں اختلاف ۔مگر وہ حکمران جوکہ خلافت کی موجودگی میں بحیثیت خلیفہ’’کفر بواح ‘‘یعنی وہ اقوال و افعالِ کفر جن کی قرآن و سنت میں صریح دلیل موجود ہے اور جن کا مرتکب کوئی بھی شخص، دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ،اس کے خلاف بااتفاقِ صحابہ کرام اور سلف و صالحین ’’خروج ‘‘ فرضِ عین ہوجاتا ہے۔چہ جائیکہ نہ آج ’’خلافت‘‘قائم ہے اور اس کے ساتھ بلادِ اسلامیہ حکومت کرنے والے اکثر حکمران اللہ کے نازل کردہ قانونِ شریعت کو چھوڑ کر اپنے وضع کردہ یا کہیں اور سے درآمد شدہ قوانین کو رائج کریں اور ان کی اہل ایمان اور دین اسلام سے دشمنی اور یہودونصاریٰ سے دوستی جیسے ’’کافر ومرتد ‘‘بنادینے والے اعمال بھی آج کسی سے بھی پوشیدہ نہ ہوں پھر بھی وضع الشیئ فی محلہ ’’یعنی ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا‘‘کے اصول کے برعکس ان پر ’’ظالم مسلمان خلیفہ‘‘کے احکامات لگاتے ہوئے ’’خروج ‘‘ کی بحث کرنا کم عقلی و کم علمی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔شایدایسی سوچ رکھنے والے لوگوں سے ہی دینی معاملات میں رہنمائی لینے سے خبردار کرتے ہوئے رسول اللہﷺنے فرمایا تھا:
’’یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ لوگ (اپنے دینی معاملات میں )جاہلوں سے علم حاصل کریں گے‘‘۔


((اِتَّخَذَالنَّاسُ رَءُوْساً جُھَّالًا،فَسُئِلُوْا فَاَفْتَوْابِغَیْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوْاوَاَضَلُّوْا))
’’لوگ جہلا کواپنا بڑا بنالیں گے اور ان جاہلوں سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے جاری کریں گے ۔پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘۔
(رواہ الطبرانی واسنادہ صحیح ۔)

(2) دوم یہ کہ آج کے دور کے حوالے سے جس عددی قوت اور ٹیکنالوجی کی کمی کو بنیاد بناکر قتال کے مرحلے کے حوالے سے ’’اجتہاد‘‘ کی بات کی جاتی ہے اور یہ کہاجاتا ہے کہ آج ہمارے پاس وہ عددی قوت اور ٹیکنالوجی نہیں جس کے ذریعے ہم باطل سے پنجہ ٔ آزمائی کریں۔چنانچہ موجودہ دور میں صر ف یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ’’الیکشن ‘‘یا ’’پُرامن احتجاجی مظاہروں‘‘کے ذریعے مسلمانوں کویہودونصاریٰ اور ان کے پروردہ حکمرانوں کے ظلم وستم سے نجات دلائی جائے ۔

جان لیجئے!یہ بہت بڑا شیطان کا دھوکہ ہے اور آنکھوں کو دھوکہ دینے والاسراب ہے ۔اس کے برعکس ہمیں قرآن و حدیث میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ارشادات اور سلف وخلف کے طرزعمل سے یہ بات صراحت کے ساتھ ملتی ہے کہ تا قیام قیامت ’’قتال ‘‘ہی وہ واحد طریقہ ہے جو کسی بھی کافر یا زبانی مسلمان حکمران کے خلاف فتنوں کو رفع کرنے اور غلبۂ دین حق کے لئے کیا جاتاہے ۔چنانچہ اب کسی ’’اجتہاد‘‘ کی یا عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ (لَااِجْتَھَادَ مَعَ النَّصِّ)’’نص کی موجودگی میں کوئی اجتہاد نہیں‘‘۔

ہاں البتہ یہ بات بھی واضح رہے کہ ’’قتال‘‘کے لئے مقدور بھر تیاری کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ احادیث میں واضح طورپر دیا ہے ۔لیکن یہ کہیں نہیں کہ قتال یا اس کی مقدور بھر تیاری کرنے کے بجائے کوئی اورجمہوری یا اپنے عقل و دانش کی وضع کردہ دوسری راہ اختیار کرلی جائے۔

’’قتال کی حجیت تاقیام قیامت‘‘قرآن کی روشنی میں:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُم وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ ْوَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
’’ تم پرقتال کاکرنا فرض کردیا گیا ہے اگر چہ وہ تمہیں کتنا ہی نا پسند ہو اور ممکن ہے تم کسی چیز کو نا پسند کر تے ہو حالا نکہ وہ تمہا رے لئے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسندکر تے ہو اور وہ تمہا رے لئے شر ہو اور اﷲ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جا نتے ہو‘‘

الحمد للہ !تمام مسلمانوں کا اس بات پر ایما ن ہے کہ قرآن کریم میں بیا ن کردہ کسی بھی شعبے میں رہنمائی ،قیامت تک کیلئے قابل عمل ہے اوراس میں کسی تردّد کی گنجائش نہیں۔چنانچہ نے قتال کے مرحلے کے لئے رہنمائی دیتے ہوئے قرآن کریم نے حضرت طالوت کالشکر جوکہ جالوت کے لشکر سے نبرد آزماہونے کے لئے کھڑاتھا،کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا :
فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ قَالُوْا لاَ طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٍ کَثِیرَة بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہ،ُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ
’’پھر جب طالوت اور اس کے مسلمان ساتھی دریاپار کرکے آگے بڑھے ،تو انہوں نے طالوت سے کہاکہ ’’آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔لیکن وہ لوگ جن کو اس بات کا یقین تھا کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے ،انہوں نے کہا :’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اِذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
(سورة البقرة :۲۴۹۔)

سورۃالاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمادیا:
وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا
’’اوراللہ تعالیٰ کافی ہے مومنوں کی طرف سے جنگ کے لئے ا ور اللہ تعالیٰ بڑی قوت والااور زبردست ہے‘‘
(سورةالاحزاب:۲۵۔)

اس طرح سورۃ النسآء کی آیت ۴۸ میں اللہ رب العزت نے رسول ﷺکومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لاَ تُکَلَّفُ اِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّکُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاللّٰہُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْکِیْلاً
’’پس تم جنگ کرو اللہ کی راہ میں،تم اپنی ذات کے سواکسی کے ذمہ دار نہیں ۔البتہ مومنوں کو قتال پر ابھاریئے۔اللہ سے امید ہے کہ وہ کافروں کے زور کوتوڑدے گا اور اللہ سب سے زیاہ زور والااور سب سے سخت سزا دینے والا ہے‘‘

اس آیت کے حوالے سے حضرت براء بن عازب کی روایت منقول ہے کہ :
’’ابو اسحاق ﷫فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب سے پوچھا :اگر ایک شخص تنہا ہی مشرکوں پر کو د پڑے،تو کیا اس کایہ فعل اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے متراد ف ہے.؟حضرت براء بن عازب نے فرمایا :
((لَا!لِاَنَّ اللّٰہَ بَعَثَ رَسُوْلِہ، فَقَالَ: فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لاَ تُکَلَّفُ اِلاَّ نَفْسَکَ))
’’نہیں(ایسا نہیں ہے)کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکوبھیجا اور فرمایا :’’پس تم جنگ کرو اللہ کی راہ میں،تم اپنی ذات کے سواکسی کے ذمہ دار نہیں ۔‘‘
(الفتح الربانی :۱۴/ ۸،رواہ احمد و صححہ الحاکم ووافقه الذھبی۔)

موجودہ دور کے مادہ پرستانہ مفکرین کفار سے ’’قتال ‘‘کے لئے ان کے مساوی قوت و استعداد کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں ،وہ تو شاید قیامت تک بھی مسلمانوں کوحاصل نہ ہوسکے سوائے اللہ کی مدد ونصرت کہ،پھر تاریخ اسلام ا س بات کی شاہد ہے کہ اہل ایمان نے کبھی جنگوں میں کامیابی اپنی قوت و استعداد کی بناء پر حاصل نہیں کی اور نہ ہی کبھی ان کو کفار کے مساوی طاقت و استعداد حاصل رہی،سوائے چند ایک استثناء کہ ،ہمیشہ ان کو فتح و کامرانی جزبۂ جہاد ، مقدوربھر تیاری اور پھر اللہ پر کامل توکل کی بنیاد پر ملی۔

غزوۂ حنین کے موقع پر جب مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد اور اپنی طاقت و استعداد پر تھوڑا سا ناز ہوگیا تھا ،تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً تنبیہ اس صورت میں آئی کہ لشکر اسلام کے عارضی طورپر قدم اکھڑنے لگے۔مگر بعد میں اللہ کی نصرت ومدد سے فتحیا بی نصیب ہوئی۔
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَةٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُولِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ
’’بے شک اللہ نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور غزوۂ حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی کثرتِ تعداد پر ناز تھا ،مگر وہ تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ۔پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول ﷺ پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اُتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے اُن لوگوں کا جو حق کا انکا رکریں‘‘۔
(التوبة:۲۴،۲۶۔)

آج بھی اگر اہل ایمان کا اللہ کی مددو نصرت پر اور معجزات پر کامل یقین ہواور کفار کے مساوی نہیں بلکہ اپنی مقدور بھر تیاری کے ساتھ میدان میں اُتریں، تو اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ
’’(اے کافرو!)تمہاری جمیعت ،خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی(کیونکہ)اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔
(الانفال:۱۹۔)

فضائے بدر پیدا کر کہ فرشتے تیری نصرت کو
گردوں سے اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار اب بھی

قتال کی حجیت تا قیام قیامت‘‘ احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں’’

((بعثت بین یدی الساعة بالسیف، حتیٰ یعبداللّٰہ وحدہٗ لا شریک لہٗ وجعل رزقی فی تحت ظل رمحی، وجعل الذّل والصغار علیٰ من خالف امری، ومن تشبہ بقوم فھو منھم ))
’’مجھے قیامت تک کے لئے’’تلوار ‘‘کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے ،یہاں تک کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی جانے لگے اور میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا گیا ہے ۔اورجس نے میرے (اس) امر کی مخالفت کی ،اُس کے لئے ذلت اور پستی رکھ دی گئی اور جس نے (میرے اس طریقے کو چھوڑکر)کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو اُنہی میں (شمار)ہوگا۔‘‘
(احمد :مسندالمکثرین،طبرانی۔)


((لا تزال عصابة من امتی یقاتلون علیٰ امراللّٰہ قاھرین علیٰ عدوھم لا یضرھم من خالفھم حتیٰ تاتیھم الساعة وھم علیٰ ذلک))   
’’میری امت کاایک گروہ اللہ کے حکم کے مطابق قتال کرتا رہے گا ،یہ لوگ دشمنوں پر چھائے رہیں گے ،جس کسی نے ان کی مخالفت کی وہ انہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گا ،یہاں تک کہ قیامت آجائے اور اسی طریقے پر قائم رہیں گے۔‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الامارة۔)


((من یرد اللّٰہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین ‘ولا تزال عصابة من المسلمین یقاتلون علی الحق ظاھرین علی من ناواھم الی یوم القیامة))
’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دیدیتا ہے اور قیامت تک مسلمانوں میں سے ایک جماعت حق پر لڑتی رہے گی اور اپنے سے الجھنے والوں پر غالب رہے گی ۔‘‘
(صحیح مسلم۔)


’’ مسلسل میری امت میں سے ایک جماعت لڑتی رہے گی حق پر۔غالب رہے گی اپنے مخالفین پر یہاں تک کہ وہ آخر میں مسیح دجال (سے قتال کرے گی)‘‘
(ابوداؤد،با ب دوام الجھاد۔)


’’میری امت سے ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق کے لئے لڑتا اور غالب رہے گا ۔آخر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اس (گروہ )کے امیر ان سے کہیں گے ’’آئیے ہماری امامت کیجئے‘‘تو وہ کہیں گے ’’نہیں اللہ نے اس امت کو یہ شرف بخشا ہے کہ تم ہی آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو‘‘۔
(مسلم واحمد ،بروایت عن جابر بن عبد اللّٰہ ؓ۔)


’’سلمہ بن نفیل سے روایت ہے ‘کہتے ہیں کہ(فتح مکہ کے بعد)میں رسول اکرم ﷺ کی مجلس بابرکت میں بیٹھاتھا کہ ایک آدمی کہنے لگا: اللہ کے رسول لوگوں نے گھوڑے باندھ لئے ہیں اور ہتھیار رکھ دیئے ہیں کہتے ہیں اب کوئی جہادنہیں،بس اب جنگ ختم ہوچکی ہے۔رسول اکرم ﷺنے چہرہ مبارک آگے کیا ‘فرمانے لگے :’’جھوٹ کہتے ہیں، ابھی تو جنگ جاری ہے ‘میری امت میں تو ایک امت ہمیشہ حق پر قتال کرتی رہے گی ‘ان کیلئے اللہ کچھ قوموں کے د لوں میں ٹیڑھ پیدا کردے گا(تاکہ وہ ان سے لڑیں)مگر انہی سے ان کو رزق بھی فراہم کرے گا حتی کہ قیامت آجائے گی اور حتی کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا ‘اور قیامت تک کے لئے اللہ نے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی ہے(یعنی اب جہاد قیامت تک جاری رہے گا)‘‘۔
(سنن نسائی۔)


افسوس !آج مسلمان دنیا کے دھندوں میں مشغول ہوکر ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘کے اس مفہوم کوسرے سے بھو ل ہی گئے یا جہاد کے معانی ہی کو تبدیل کرکے اُس کو اپنے معانی پہنا دئے ،لہٰذا آج مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کا شکار ہیں ،قومیں ایک دوسرے کو اُن پر ٹوٹ پڑ نے کی دعوت دے رہی ہیں ۔رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا:
’’جب تم سودی کاروبار کرنے لگ جاؤگے اور بیلوں کی دم کو پکڑے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاؤ گے اور
((تَرَکْتُمُ الْجِھَادَ))جہاد کو چھوڑ دوں گے تو اللہ تم پر ذلت مسلط کردے گا اور اسے اس وقت تک دور نہیں کرے گا ،یہاں تک کہ تم اپنے ’’دین‘‘(یعنی جہاد فی سبیل اللہ)کی طرف لوٹ آؤ۔‘‘

’’قریب ہے کہ (کفر کی )قومیں تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دے کر بلائیں گی جس طرح بھوکے ایک دوسرے کو دستر خوان پر دعوت دے کر بلاتے ہیں‘‘۔اس پر ایک پوچھنے والے نے پوچھا کہ کیا اس وقت ایسا ہماری قلت ِ تعداد کی وجہ سے ہوگا ؟آپﷺنے فرمایا :’’(نہیں،)بلکہ اس وقت تو تم زیادہ تعداد میں ہوگے ،لیکن تم سیلابی پانی کے جھاگ کی طرح ہوگے۔اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے ضرور ہی تمہاری ہیبت ختم کردیں گے اور تمہارے دلوں میں ’’وھن‘‘ ڈال دیں گے۔‘‘تو پوچھنے والے نے پوچھا :یارسول اللہ!یہ وھن کیا ہوگا؟ فرمایا:
((حُبُ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَةُ الْمَوْتِ ))
’’ دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا ‘‘ ۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں :صحابہ نے پوچھا :یارسول اللہﷺ!یہ وھن کیا ہوگا؟آپ ﷺ نے فرمایا :
(( حُبُّکُمُ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَتُکُمُ الْقِتَالَ))
’’تمہارا دنیا سے محبت کرنا ’’قتال‘‘ کو ناپسند کرنا ۔‘‘
(ابوداؤد باب کتاب الملاحم ، مسندِ احمد واسنادہ صحیح۔)


یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس فریضہ سے مختلف بہانوں اور تاویلات کرکے روکنے والے ’’آئمة المضلین‘‘سے مسلمانوں کو خبردار کردیا تھا:
’’جب تک آسمان سے بارش برستی رہے گی تب تک جہاد ترو تازہ رہے گا۔اور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان کےعلماء یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں ہے ۔لہٰذا ایسا دور جس کو ملے تو وہ’’جہاد کا بہترین زمانہ‘‘ہوگا ۔صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ!کیا کوئی ایسا کہہ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں وہ جس پر اللہ کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہو!یہی لو گ جہنم کا ایندھن ہوں گے‘‘۔
(السنن الواردة فی الفتن ج:۳ص:۷۵۱،کنز العمال۔)


حضرت ابو رجاء الجزری حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ ’’اب کوئی جہاد نہیں ہے ‘‘۔تو جب ایسا دور آجائے تو تم جہاد کرنا کیونکہ وہ’’ افضل‘‘جہاد ہوگا‘‘۔
(کتاب السنن ج :۲ص:۱۷۶۔)

Virtues of Reciting Various Surahs of the Qur’an

The Holy Quran

  • Reciting the Qur’an

Tameem ad-Dari (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Whoever recites (in prayer) with a hundred verses in a night, it will be written for him as devout obedience to Allah for the night.”

Abdullah bin Mas’ud (radiAllahu anhu) reported that the Messenger (salAllahu alayhi wasalam) said, “Whoever recites one letter from the Book of Allah then he will receive a good reward, and every good deed is rewarded with ten times its like. I do not say that Alif Laam Meem is one word but Alif is one word, Laam is one word and Meem is one word.”

Ibn Imran (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Whoever recites the Qur’an then let him ask from Allah by it, for there will come a people who recite the Qur’an and will the ask from people by it.”

A’isha (radiAllahu anha) that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Reciting the Qur’an during prayer is more excellent than reciting it at other times, and reciting the Qur’an at a time other than during prayer is more excellent than extolling Allah and declaring His greatness. Extolling Allah is more excellent than sadaqah, sadaqah is more excellent than fasting, and fasting is a protection from Hell.
[Bayhaqi Shu’ab al-Iman, Mishkat al-Masabih #2166]

  • Saying ‘Bismillah’

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said that it is one of the names of Allah the distance between it and Allah’s greatest name, is but like the distance between the black and white of the eye seen from a close angle.
[Hakim & Dhahabi in The Book of Excellence of the Qur’an 1/552]

Ibn Abbas (radiAllahu anhu) said, concerning ‘Bismillah’, Allah evolved it for you, and never had He evolved it unto any community before you.
[Hakim in Al-Mustadrak & Dhahabi in ‘The Book of Excellence of the Quran 1/551]

  • Surah al Fatihah (1)

A man came to the Prophet (salAllahu alayhi wasalam), embraced Islam then returned to his people. On his way there were a group of men who had with them a mad man in iron manacles. The group said, that they heard that the travelers friend (i.e. Prophet Muhammad) had something good with him and so he exorcised the mad man with Surah al Fatiha, and he was cured. As reward they gave the traveler 100 sheep. He then returned to the Prophet and narrated the story. The Prophet asked if he did anything other than recite al-Fatiha, he said no. So the Prophet said that while these people make their livelihoods out of false incantations (i.e. worshipping false idols) the traveler earned the 100 sheep through something lawful; so he could keep the sheep.
[Abu Dawud 3398/a]

Abu Sa’id Ar-Rafi’ bin Al-Mu`alla (radiAllahu anhu) reported: The Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Shall I teach you the greatest Surah in the Qur’an before you leave the mosque?” Then he (salAllahu alayhi wasalam), took me by the hand, and when we were about to step out, I reminded him of his promise to teach me the greatest Surah in the Qur’an. He (salAllahu alayhi wasalam) said, “It is `Alhamdu lillahi Rabbil Alamin (i.e., Surat Al-Fatihah) which is As-Sab` Al-Mathani (i.e., the seven oft-repeated Ayat) and the Great Qur’an which is given to me.”
[Sahih Al-Bukhari]

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) reported that when Allah’s Messenger (salAllahu alayhi wasalam) asked Ubayy ibn Ka’ab (radiAllahu anhu), “Do you want me to teach you a Surah the like of which has not been revealed in the Torah, the Injeel, the Zabur, nor the Qur’an?”, and also asked what he recited in his prayers. He replied Umm-ul Qur’an (Surah Fatihah) the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) proclaimed, ‘By Him in whose dominion my soul is, nothing like it has been revealed in the Torah, the Gospel, the Psalms, or the Qur’an and it is seven of the oft-repeated verses in the Mighty Qur’an which I have been given’
[at-Tirmidhi, Al-Hakim says that this hadith is Sahih on the conditions established by Imam Muslim (Tafseer Mazhari 1:30)]

Abdullah Ibn ‘Abbas (radiAllahu anhu) reported that Allah’s Messenger (salAllahu alayhi wasalam) said ‘Rejoice in the two lights brought to you which have not been brought to any prophet before you’: al-Fatihah and the last verses of Surah al-Baqarah (2: 2854), (said an angel to the Prophet, blessings and peace be on him)
[Muslim].

Ambari in his ‘Kitabur-Rad’ through his own chain of narrators has mentioned from Mujahid ibn Jabr (rahmatullahi alaih) that Iblees the accursed of Allah Ta’ala lamented on four occasions: first when he was cursed; secondly when he was cast out of Heaven to the Earth; thirdly when Muhammad (salAllahu alayhi wasalam) was given the Prophethood; fourthly when Surah Fatihah was revealed and it was revealed in Madinah.

Once the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) was traveling when he disembarked and began walking alongside a companion. He asked him, ‘Shouldn’t I tell you the best part of the Qur’an?’ then he recited ‘Alhamdu lilahi rabil alameen’ (Praise be to Allah, Lord of the Worlds).
[Hakim 1/560; Dhahabi]

Abu Saeed al-Khudr’i narrates that while on a journey we halted at a place. A girl came to us and said: “The chief of this tribe has been stung by a scorpion and our men are not present, is there anybody amongst you who can recite something upon him to treat him?” Then, one of our men went along with her although we did not think that he knew any such treatment. However, our friend went to the chief and recited something upon him and the chief was cured. Thereupon, the chief gave him thirty sheep and gave us all milk to drink. When he returned, we asked our friend: “Did you know anything to recite upon him to cure him?” He said: “No, I only recited Umm al-Kitab (i.e. Surah al-Fatihah) upon him.” We said that do not do anything until we reach Madinah and ask the Prophet regarding this (practice and reward-whether the sheep were lawful or not for us). Upon reaching Madinah, we narrated this to the Prophet (salAllahu alayhi wasalam), whereupon he remarked: “How did he come to know that Al-Fatihah can be used as a cure? (Rasulullah said this in astonishment) Distribute your reward amongst yourselves and allot a share for me as well.
[Sahih al-Bukhari]

Ibn ‘Abbas said, “While Jibril (alayhis salam) was sitting with the Prophet, he heard a sound above him and raised his head. He said, ‘This is a door of heaven which has been opened today and which has never been opened before today. An angel descended from it.’ He said, ‘This is an angel who has descended to earth who has never descended before today.’ He gave the greeting and said, ‘Give the good news of two lights which you have been given and which no Prophet before you was given: the Fatiha of the Book and the end of Surah al-Baqarah (2). You will not recite a letter of them without being given it.’”
[Muslim, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi]

Abu Sulaiman says that once a group of Companions were in an expedition (ghazwa) when they happened to come across an epileptic person, who was unconscious. One of the Companions recited Surah Al-Fatiha and blew in his ear. The epileptic person immediately cured. When Sayyidana Muhammad (salAllahu alayhi wasalam) was informed of this, he said: “It (Surah Al-Fatiha) is “The Mother of the Qur’an” (Umm al-Qur’an) and is a cure for every disease.”
[This narration has been recorded by Ath-Thua’lbi from Abu Sulaiman, who narrated it from Muawiya bin Saleh (radhi Allah anhu), Tafseer Mazhari 1:31]

Sa’ib (radhi Allah anhu) bin Yazeed says that Rasulullah (salAllahu alayhi wasalam) recited Surah Al-Fatihah and blew it on me. To safeguard me against calamities, Rasulullah (salAllahu alayhi wasalam) recited this Surah and put his blessed saliva in my mouth.
[At-Tabraani narrated this tradition in ‘Al-Awsat’, Tafseer Mazhari 1:31]

Anas (radhi Allah anhu) said: “When you recite Surah Al-Fatihah and Surah Al-Ikhlas upon lying on your bed, you will be safeguarded and should become fearless of every thing except death.”
[Narrated by Baraa’, Tafseer Mazhari 1:31]

The Prophet said, ‘Whoever mastered the first seven (chapters or verses) from the Qur’an is a pontiff’.
[Hakim 1/564; Dhahabi]

The Prophet said, ‘The mother of the Qur’an are the seven oft repeated verses’
[Bukhari 4704]

It is narrated from Jabir (radhi Allah anhu) that Rasulullah (salAllahu alayhi wasalam) said: “O Jabir, shall I inform you about the best Surah revealed in the Qur’an?” Jabir said: “O Messenger of Allah, please inform me.” Rasulullah (salAllahu alayhi wasalam) said: “It is Fatiha tul Kitab.” Jabir adds: “And I think that Rasulullah (salAllahu alayhi wasalam) said that Al-Fatiha is a cure for every diseases.” Jabir is also reported to have said: “Fatiha tul Kitab is a medicine for every disease except death.”
[Recorded by Al-Khal’i in his Fawa’id, Tafseer Mazhari 1:30]

The Prophet said, ‘In the Fatiha of the Qur’an, there is a cure for all maladies(illnesses)’
[Darimi 3236, also narrated by Ad-Darmi in his Al-Masnad and Al-Bayhaqi in Shu’bul Imaan, Tafseer Mazhari 1:30]

Surah Al-Fatihah is equivalent to two thirds of the Qur’an
[Al-Bayhaqi and Al-Haakim, Tafseer Mazhari 1:31]

  • Surah al Baqarah (2)

The Prophet said, ‘The Qur’an and those who committed themselves to it will be presented on the Day of judgement, preceded by Surah al-Baqarah and Surah al Imran’.
[Muslim 805]

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Learn how to recite Surah al-Baqarah for there is a blessing in it, and there is sorrow for abandoning it, and it is unbearable for the idle’ and that ‘al Baqarah and al Imran are like two flowers which will shade their learner on the day of Judgement, as if there were two large clouds or two flocks of birds’.
[Ahmad 21872 & Buraida al-Aslami Muslim 1/553]

The Prophet said, ‘Recite Surah al Baqarah in your dwellings and do not keep them as tombs. He also said that whoever recited Surah al Baqarah at night would be crowned with a crown of paradise.’
[Baihaqi in Al-Shuaib]

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Do not turn your houses into graves. Shaitan is barred from any house in which Surat al-Baqarah (2) is recited.” [Muslim 780, 4: 1707]

The Prophet was asked, ‘Which part of the Qur’an is the best?’. He replied, ‘The Surah in which the cow is mentioned’. He was then asked ‘Which part of that Surah?’. He replied, ‘The verse of the Throne and the last pasrt of Surah al Baqarah came down from under the Throne’
[Darimi 3248]

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Al Baqarah is the top (or pinnacle) of the Qur’an. Eighty angels came down with each one of it’s verses and extracted the verse of the throne from under the throne, and it was joined to the other verses’
[Ahmad 5/26]

Abu Ummamah (radiAllahu anhu) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said, “Whoever recites Ayat Al-Kursi immediately after each prescribed Prayer, there will be nothing standing between him and his entering Paradise except death.”
[an-Nasa’i, Ibn Hibban, Darimi 3249/A]

Imam Ahmad (rahimullah) said: It was narrated that Asma’ bint Yazid ibn As-Sakan (radiAllahu anha) said, I heard the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) say about these two verses— “Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exists…” [Al-Baraqah, 2: 255] and “Alif. Laam. Meem. Allah! None has the right to be worshiped but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exists” [’Al ‘Imran, 3: 1-2]— that they contain the greatest name of Allah.
[abu Dawud, at-Tirmidhi, Tafsir of Imam Ibn Kathir]

Ubayy ibn Ka’b reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “O Abu’l-Mundhir! Do you know which ayat in the Book of Allah is greatest you have?’ I said, ‘Allah. there is no god but Him, the Living, the Self-Sustaining.’ (W2:253; H2:256) He struck me on the chest and said, ‘May knowledge delight you, Abu’l-Mundhir!’”
[Muslim, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi]

Imam Ahmad narrated: Muhammad ibn Ja’far told us, Uthman ibn Itab told us, he said: I heard Abu As-Sulayl saying, A man from among the Companions of the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) addressed the people until a large number had gathered around him, then he climbed onto the roof of a house and addressed the people, saying: “The Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Which verse of the Qur’an is the greatest?’ A man said, ‘Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exists…’ [Al-Baqarah, 2: 255].’ He said: He put his hand between my shoulders and I felt coolness in the center of my chest, [or he said] he put his hand on the center of my chest and I felt coolness between my shoulders, and he said, ‘Congratulations on your knowledge, Abul-Mundhir.’”
Another version of the same hadith.
[Tafsir of Imam Ibn Kathir]

It was reported from the Messenger (salAllahu alayhi wasalam) that “It is the greatest verse in the Book of Allah.” (referring to Ayat al-Kursi). It was narrated from Ubayy ibn Ka’b (radiAllahu anhu) that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) asked him which verse in the Book of Allah was the greatest. He said, “Allah and His Messenger know best.” He repeated it several times, then he said, “Ayat Al-Kursi.” The Prophet (peace and blessings be upon him) said, “Congratulations upon your knowledge, Abul-Mundhir. By the One in Whose hand is my soul, it has a tongue and two lips, and it glorifies the Sovereign (i.e., Allah) at the foot of the Throne.”
[Tafsir of Imam Ibn Kathir]

Abu Umamah (radiAllahu anhu) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “The greatest name of Allah, which if He is called by it, He responds, is in three surahs: Al-Baqarah, ‘al ‘Imran and Ta-Ha.” Hisham ibn Ammar, the khateeb of Damascus, said: “In Al-Baqarah, it is ‘Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exist’ [Al-Baraqah, 2: 255]. In ‘al ‘Imran it is ‘Alif. Laam. Meem. Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exists’ [’al ‘Imran, 3: 1-2]. And in Ta-Ha it is ‘And (all) faces shall be humbled before (Allah), the Ever- Living, the One Who sustains and protects all that exists’ [Ta-Ha, 20: 111].”
[narrated in a marfu’ report (one that is traced all the way back to the Prophet [salAllahu alayhi wasalam], Tafsir of Imam Ibn Kathir)]

The Prophet said, ‘Whoever recites 4 verses from the first part of Surah al Baqarah, the verse of the Throne, two verses after the verse of the Throne and three verses from the last part of Surah al Baqarah, Satan would never come near him or the members of his family on that day, and nothing he despises would come near him or the members of his family, and never are these verses recited over a madman without him regaining his consciousness’
[Darimi 3249/A in the Book of Excellence of the Quran; an-Nasai in the Deeds during the Day and Night; Ibn Hibban & Tabrani]

Abdullah ibn Mas’ud (radiAllahu anhu) said, ‘Whoever recited ten verses from al-Baqarah in the night, Satan shall not have access to that house, during the night till he wakes in the morning. These are: Four from the first part of the Surah, followed by the verse of the Throne, two verses after the verse of the Throne and three from the last part of the Surah’.
[Darimi 3248/A]

Abu Umamah (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Recite Surah al-Baqarah: for to hold on to it is a barakah (blessing), to leave it is a regret’
[Muslim]

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Everything has a hump, and the hump of the Qur’an is al-Baqarah’
[at-Tirmidhi, ad-Darami]

Abu Mas’ud al-Badri (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, “If anyone recites the two ayats at the end of Surat al-Baqarah (2) at night, they will be enough for him.”
[Sahih al-Bukhari 6:61 #530, Agreed upon]

It was narrated from Abdullah ibn Ubayy ibn Ka’b (radiAllahu anhu) that his father told him that he had a vessel in which he kept dates. He used to check on it and found that the number was decreasing. So he kept guard on it one night and saw a beast that looked like an adolescent boy. He said: I greeted him with salams and he returned my greeting, then I asked him, “What are you, a jinn or a human?” He said, “A jinn.” I said to him, “Show me your hand.” So he showed me his hand, and it looked like a dog’s paw with dog’s fur. I said, “Do all the jinn look like this?” He said, “I know no one among the jinn who is stronger than I.” I said, “What made you do what you did [i.e., taking the dates]?” He said, “We heard that you are a man who loves charity, and we wanted to have some of your food.” Ubayy asked him, “What will protect us from you?” He said, “This verse, Ayat Al-Kursi.” Then the next day he [Ubayy] went to the Prophet (peace and blessings be upon him) and told him (about what had happened) and he said, “The evil one spoke the truth.”
[Tafsir of Imam Ibn Katheer]

Ibn ‘Abbas (radiAllahu anhu) said, “While Jibril (salayhis salam) was sitting with the Prophet, he heard a sound above him and raised his head. He said, ‘This is a door of heaven which has been opened today and which has never been opened before today. An angel descended from it.’ He said, ‘This is an angel who has descended to earth who has never descended before today.’ He gave the greeting and said, ‘Give the good news of two lights which you have been given and which no Prophet before you was given: the Fatiha of the Book and the end of Surah al-Baqarah (2). You will not recite a letter of them without being given it.’”
[Muslim, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi]

Abu Umamah (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘Read the two radiant ones al-Baqarah and Al ‘Imran for they will come on the Day of Resurrection like two clouds, or two shades, or two flocks of birds, pleading for their companions’
[Muslim]

Al-Nawwas Ibn Sam’an (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘The Qur’an will be brought on the Day of Resurrection, along with its companions who used to act by it, at the front being Surah al-Baqarah and Al ‘Imran like two black clouds or canopies with light, or two flocks of birds pleading for their companion’
[Muslim]

Abu Huraira (radiAllahu anhu) said, “The Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) put me in charge of guarding the zakat of Ramadan. Someone came and began to take handfuls of food. I grabbed him and said, ‘By Allah, I will take you to the Messenger of Allah!’ He said, ‘I am needy and have a large family and I am in dire need.’ I let him go and in the morning the Prophet said, ‘Abu Huraira, what did you do with your prisoner yesterday?’ I said, ‘Messenger of Allah, he complained of dire need and a large family, so I showed mercy to him and let him go on his way.’ He said, ‘He lied to you and he will come back.’ So, from the words of the Messenger of Allah, I knew that he would come back. Therefore, I lay in wait for him and he came and once more began to take handfuls of food. I seized him and said, ‘I will take you to the Messenger of Allah!’ He said, ‘Let me go. I am in need and have a large family. I will not come back again.’ I had mercy on him and let him go his way. In the morning the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to me, ‘Abu Huraira, what did you do with your prisoner yesterday?’ I said, ‘Messenger of Allah, he complained of dire need and a large family, so I showed mercy to him and let him go on his way.’ He said, ‘He lied to you and he will come back.’ So I lay in wait for him a third time and he came and began to take handfuls of food. I grabbed him and said, ‘I will take you to the Messenger of Allah! This is the third time. You claimed you would not come back and then you came back.’ He said, ‘Let me go. I will teach you some words which will help you with Allah.’ I said, ‘What are they?’ He said, ‘When you go to bed, recite the Throne Verse, “Allah, there is no god but Him, the Living, the Self-Sustaining…” to the end of the ayat. You will have someone guarding over you from Allah and shaitan will not come near you until morning.’ So I let him go his way. In the morning, the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said to me, ‘What did you do with your prisoner yesterday?’ I said, ‘Messenger of Allah, he claimed that he would teach me some words which would help me with Allah, so I let him go his way.’ He said, ‘What are they?’ I said, ‘He said to me, “When you go to bed, recite the Throne Verse to the end: ‘Allah, there is no god but Him, the Living, the Self-Sustaining’.” He said to me, “You will have someone guarding over you from Allah and shaitan will not come near you until morning.”‘ The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, “He told you the truth even though he is a liar. Do you know whom you were speaking with on these three days, Abu Huraira?’” He said, “No.” The Prophet said, “It was Shaitan.”
[Sahih al-Bukhari]

  • Surah al Imran (3)

Abdullah ibn Masud (radiAllahu anhu) said, ‘What an excellent treasure Surah al Imran is to the pauper when he recites it in prayer during the last part of the night’
[Darimi 3264/A]

The Prophet said, ‘Allah’s most Magnificent name, which when used to implore Him, He responds, is found in three Surahs. Al Baqara, Al’ Imran and Taha’
[Hakim & Ibn Majah 3856]

The Prophet said to Muadh (radiAllahu anhu), ‘Should I not teach you a supplication which, when used to implore Allah, Allah shall pay your debt, even it be as huge as Mount Uhud? He then mentioned them (i.e. Surah al Imran verse 26 & 27)’
[Tabarani in Al Saghir 1/330]

Makhul (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “If anyone recites Al ‘Imran on a Friday, the angels will invoke blessings on him till night comes.”
[Darimi transmitted it. Mishkat al-Masabih #2172]

Usman ibn Affan (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “If anyone recites the end of Surah ‘Al Imran at night, the reward for a night spent in prayer will be recorded for him.”

Abu Umamah (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘Read the two radiant ones al-Baqarah and Al ‘Imran for they will come on the Day of Resurrection like two clouds, or two shades, or two flocks of birds, pleading for their companions’
[Muslim]

Al-Nawwas Ibn Sam’an (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘The Qur’an will be brought on the Day of Resurrection, along with its companions who used to act by it, at the front being Surah al-Baqarah and Al ‘Imran like two black clouds or canopies with light, or two flocks of birds pleading for their companion’
[Muslim]

  • Surah al An’am (6)

Jabir (radiAllahu anhu) reported that The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘So many Angels accompanied its revelation that the horizon was covered with them’
[Hakim, Dhahabi & Baihaqi]

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘The Qur’an was revealed in one fifth part, whoever memorised it in one fifth parts would not forget it. Except for Surah al An’am, which was revelaed in it’s entirity, seen off by seventy angels from each heaven until they delivered it to the Prophet. Never has it been recited over a sick person, without Allah granting him a cure’
[Baihaqi & Khatib]

Umar ibn al-Khattab (radiAllahu anhu) reported that The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, “Surah An’aam is from the core of the Qur’an”
[Tafsir of al-Qurtubi]

  • Surah Hud (11)

Ka’ab (radiAllahu anhu) reported that The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Recite surah Hud on Fridays’
[Darimi transmitted it in mursal form. Mishkat al-Masabih #2174]

  • Surah Yusuf (12)

The Prophet said, ‘Teach your relatives the recitation of Surah Yusuf, for, any Muslim who recites it or teaches it to his family and slaves, Allah shall ease for him the agony of death, and give him the strength that will prevent him from envying a fellow Muslim’
[Ibn Asakir]

  • Surah al Kahf (18)

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever recited Surah al Kahf in the same manner in which it was revealed, it will serve for him as a light on the Day of Judgement, from his domicile to Makkah. And whoever recited the last ten verses, and it happens that the Dajjal should appear after that, Dajjal will not be empowered over him’.
[Hakim 1/564 & Dhahabi]

Abu’d-Darda’ reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Anyone who memorises ten ayats from the beginning of Surat al-Kahf (18) will be protected from the Dajjal.”
[Muslim, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi 183 #1012]
One variant has, “from the end of Surat al-Kahf.”

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever recited Surah al Kahf on a Friday, Allah will kindle for him abundant light to brightly illuminate the period between the two Fridays (the Friday on which the recitation was made and the next Friday)’
[Hakim 2/367, Mishkat al-Masabih #2175, however Baihaqi disagreed with it’s authenticity in Sahih Al Jami 2/1104]

Narrated Al-Bara’bin Azib: A man was reciting Surah Al-Kahf and his horse was tied with two ropes beside him. A cloud came down and spread over that man, and it kept on coming closer and closer to him till his horse started jumping (as if afraid of something). When it was morning, the man came to the Prophet, and told him of that experience. The Prophet said, “That was As-Sakina (tranquility) which descended because of (the recitation of) the Qur’an.”
[Sahih al-Bukhari 6:61 #531, at-Tirmidhi 2810/A]

  • Surah Ta Ha (20)

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) reported that Allah’s messenger (salAllahu alayhi wasalam) said, A thousand years before creating the heavens and the Earth, Allah recited Ta-Ha and Ya-Sin, and when the angels heard the recitation they said, ‘Happy are the people to whom this comes down, happy are the minds which carry this, and happy are the tongues which utter this.
[Darami transmitted it, at-Tirmidhi]

Abu Umamah (radiAllahu anhu) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “The greatest name of Allah, which if He is called by it, He responds, is in three surahs: Al-Baqarah, ‘al ‘Imran and Ta-Ha.” Hisham ibn Ammar, the khateeb of Damascus, said: “In Al-Baqarah, it is ‘Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exist’ [Al-Baraqah, 2: 255]. In ‘al ‘Imran it is ‘Alif. Laam. Meem. Allah! There is no god but He, the Ever-Living, the One Who sustains and protects all that exists’ [’al ‘Imran, 3: 1-2]. And in Ta-Ha it is ‘And (all) faces shall be humbled before (Allah), the Ever- Living, the One Who sustains and protects all that exists’ [Ta-Ha, 20: 111].” [narrated in a marfu’ report (one that is traced all the way back to the Prophet [salAllahu alayhi wasalam], Tafsir of Imam Ibn Kathir)]

  • Surah al Mu’minun (23)

Ibn Masud (radiAllahu anhu) recited (Surah al Mu’minun from verse 115 to 118) in the ear of an afflicted person and the man was cured. The Prophet said, ‘What did you reicte in his ear?’. Ibn Masud told him, and the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘By He in Whose hand lies my soul, Were a believing man to recite it over a mountain, it would have melted’.
[Fath al Qadir 3/502]

  • Surah as Sajdah (32)

The Prophet would not sleep until he recited Surah as Sajdah.
[at-Tirmidhi 5/165; Hakim 2/412 & Dhahabi in Sahih al Jamiea (22/789)]

Khalid ibn Ma’dan (radiAllahu anhu) said, “Recite the Deliverer, which is Alif Laam Tanzeel, for I have heard that a man who had committed many sins used to recite it and nothing else. It spread its wing over him and said, ‘O’ My Lord, forgive him, for he often used to recite me.’ So the Lord Most High made it an intercessor for him and said, ‘Record for him a good deed and raise him a degree in place of every sin.”
Khalid (radiAllahu anhu) also said, “It will dispute on behalf of the one who recites it when he is in his grave saying, ‘O’ Allah, if I am part of Thy Book, make me an intercessor for him. But if I am not a part of Thy Book, blot me out of it.’ It will be like a bird putting its wing on him, it will intercede for him and will protect him from the punishment in the grave.” He said the same about Tabaarakalladhi (Surah Mulk).
Khalid (radiAllahu anhu) did not go to sleep at night till he had recited them. Taus said that they were given sixty virtues more than any other Surah in the Holy Qur’an.

  • Surah Yasin (36)

Anas (radiAllahu anhu) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘Everything has a heart and the heart of the Qur’an is Ya Sin. Anyone who reads it, God will write down for him ten readings of the Qur’an’
[at-Tirmidhi 2812/A & Dhahabi, Maqal]

The Prophet said, ‘Whoever recited Surah Yasin in the night seeking Allah’s pleasure, Allah would forgive him’
[Ibn Hibban, Darimi 3283/A, Abu Yala, Tabarani, Baihaqi & Ibn Mardawaih]

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) narrated that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever reads surat Ya-Sin in the night, he will be forgiven. And whoever reads Ha-Meem, the one in which smoke is mentioned, he will be forgiven.’
[Abu Ya’la reported it]

Ma’qil Ibn Yasar (radiAllahu anhu) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘Whoever reads Ya Sin, seeking Allah’s pleasure, his past sins will be forgiven, so recite it over the dying among you’
[Bayhaqi]

  • Surah al Fussilat (41)

The messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Everything has its fruit and benefits, and the fruit of the Qur’an is Ha-Meem (another name for Surah al-Fussilat). Chapters beginning with Ha-Meem are beautiful, fresh, fragrant, splendid mesdows. Whosoever desires to walk around in the mesdows of Paradise should recite these surahs’
[Al-Tadhkar Fi Afdal Al-Adhkar by Imam al-Qurtubi]

  • Surah ad Dukhan (44)

Ibn Masud (radiAllahu anhu) said, ‘The ‘ha-meems’ are the embelishments of the Quran
[Hakim, Dhahabi, Ibn Al Mundhir & Baihaqi]

The ‘ha-meems’ refer to the seven Surahs which have ha-meem at the start.

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) narrated that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whosoever recites Surah ad-Dhukhan every night, seventy thousand angels will ask forgiveness for him’
[at-Tirmidhi]

Abu Hurairah (radiAllahu anhu) narrated that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever reads surat Ya-Sin in the night, he will be forgiven. And whoever reads Ha-Meem, the one in which smoke is mentioned, he will be forgiven.’
[Abu Ya’la reported it]

The messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, Chapters beginning with Ha-Meem are beautiful, fresh, fragrant, splendid mesdows. Whosoever desires to walk around in the mesdows of Paradise should recite these surahs’
[Al-Tadhkar Fi Afdal Al-Adhkar by Imam al-Qurtubi]

NB: The ‘ha-meems’ refer to the seven Surahs which have ha-meem at the start are: Surahs Ghafir or Al-Mu’min (40), Fussilat (or Ha-Meem) (41), Shura (42), Zukhruf (43), Dukhan (44), Jathiyah (45), Ahqaf (46)

  • Surah al Fath (48)

Umar (radiAllahu anhu) narrated that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘A Surah of the Qur’an was revealed to me tonight, indeed it is the dearest Surah to my heart, than anything under the sun’. Then the Prophet recited Surah al Fath verses 1-5.
[Sahih al-Bukhari 6:61 #532]

  • Surah ar Rahman (55)

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) went to the companions and recited Surah ar Rahman but they were all quiet. He told them that he went to the jinn and recited it to them and they were responsive. And when he would recite the verses ‘And which of the favours of the Lord will you deny’ the jinn would respond ‘There is nothing among your bounties that we can deny, all praise belong to Allah’
[Tirmidhi, Ibn al Mundhir, Al Adhama & Hakim 2/474]

Abdullah Ibn Mas’ud (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Everything has an adornment, and the adornment of the Qur’an is Surah ar Rahman’
[Bayhaqi in Shuab al Eiman]

  • Surah al Waqiah (56)

Abdullah ibn Mas’ud reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever recites surah al Waqiah at night would never encounter poverty’
[Ibn as-Sunni 620, Bayhaqi]

The Prophet said, ‘Surah al Waqiah is the Surah of Wealth, so recite it and teach it to your children’
[Ibn Asakir]

  • Surah al Hadid (57)

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) used to recite Surahs of Glorification before returing and he said that there is a verse in them which is better than a thousand verses.
[Tirmidhi 5/181]
NB: These Surahs are: Al-Hadid, Al-Hashr, As-Saf, Al-Jum’ah and At-Tagabun

  • Surah al Hashr (59)

The Prophet said, ‘Whoever when he wakes in the morning says ‘I seek refuge with Allah against the accursed satan’ and then recited three verses from the last part of Surah al Hashr, will be assigned seventy thousand angels to pray for him until the evening, and should he die that day, he would have died a martyr’
[Ibn Ahmad, Darimi, Tirmidhi 5/182]

  • Surah al Mulk (67)

The Prophet said, ‘There is a surah in the Qur’an which is only thirty verses. It defended whoever recited it until it puts him into paradise’ i.e. Surah al Mulk
[Fath al Qadir 5/257, Sahihul Jamiea 1/680, Tabrani in Al-Awsat & Ibn Mardawaith]

Abu Huraira (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “The Qur’an contains a surah of thirty ayats which will intercede for a man until he is forgiven. It is: ‘Blessed be He who has the Kingdom in His Hand!’ (67)”
[abu Dawud, Ahmad, at-Tirmidhi, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1016]

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Surah al Mulk is the protector from the torment of the grave’
[Sahihul Jamiea 1/680, Hakim 2/498 & Nasai]

Jabir (radiAllahu anhu) said it was the custom of the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) not to go to sleep until he had read Tabarakallahi Biyadihil Mulk and Alif Laam Meem Tanzeel.
[Ahmad, Tirmidhi and Darami]

Anas (radiAllahu anhu) reported Rasulullah (sallallahu alaiyhi wasalam) as saying, “There is a Surah which will plead for its reciter till it causes him to enter paradise (Tabarakallahi Biyadihil Mulk).”
[at-Tabrani]

Abdullah Ibn ‘Abbas (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘It is my desire/love that Surahtul Mulk should be in the heart of every Muslim’
[Hakim, al-Hisnul Haseen by the cassical scholar Muhammad al-Jazri]

Ibn Abbas (radiAllahu anhu) said that one of the Prophet (salAllahu alayhi wasalam)’s companions set up his tent over a grave without realising that it was a grave and it contained a man who was reciting the Surah Tabarakallahi Biyadihil Mulk up to the end. He went and told the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) who said, ‘It is The Defender; it is The Protector which safeguards from Allah Ta’ala’s punishment’
[at-Tirmidhi]

Khalid bin Madam (tabie) said about surat Al Mulk and ‘As Sajda that these two surahs will fight for their reciter in the grave and will say, ‘O Allah! If we belong to your book, accept our intercession in his favour. In case we do not, get us obliterated. These surahs will spread their wings like birds and will save the person from the torment of the grave.’
[Mishkat al-Misbah]

It was narrated that Abdullah ibn Mas’ud said: Whoever reads Tabarakallahi Biyadihil Mulk [i.e. Surah al-Mulk] every night, Allah will protect him from the torment of the grave. At the time of the Messenger of Allah (sallallahu alaiyhi wasalam) we used to call it al-mani’ah (that which protects). In the Book of Allah it is a surah which, whoever recites it every night has done very well.
[an-Nasa’i]

  • Surah al A’la (87)

‘Ali (radiAllahu anhu) narrated ‘He loved this Surah’
[Ahmad]

  • Surah al Zilzilah (99)

Abdullah Ibn ‘Abbas and Anas Ibn Malik (radiAllahu anhum) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever recited Surah Zilzilah (99) would get the reward of reciting half the Qur’an. Whoever recited surah al Kafirun (109) would get a reward as if reading a quarter of the Qur’an. Whoever recited Surah al Ikhlas (112) would get a reward as if reading one third of the Qur’an’.
[at-Tirmidhi 2818/A]

An old man, saying that his heart had difficulty in remembering, and tongue his sluggish asked the Prophet (salAllahu alayhi wasalam); “Teach me the reading of a comprehensive surah.”
So Prophet (salAllahu alayhi wasalam) taught him to recite Idha dul dilatil ardhu dhildalaha up to the end. The man said, “I swear by Him who has sent you with the truth that I shall never recite more than that.”

  • Surah Aadiyat (100)

The Prophet said, ‘Whoever recietes Aadiyat his reqard equals one half of the Qur’an’
[Hakim 1/566 & Tirmidhi 2894]

  • Surah at Takathur (102)

The Prophet said, ‘Whoever recited one thousand verses in one night would meet Allah with a smile on his face’. Someone said, ‘O Apostle, who can recite a thousand verses?’. The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) then recited Surah at Takathur and then said, ‘By He in Whose hand my soul is, it is equal to a thousand verses’
[Al Khatib in Al Muttafaq wal Muftaraq & Dailami in Fath al Qadir 5/487]

  • Surah al Kafirun (109)

The Prophet said, ‘Recite surah al Kafirun and then go to sleep after coming to its end, for it is a clearance from shirk’
[Abu Dawud 4396 & Hakim 1/565]

Abdullah Ibn ‘Abbas and Anas Ibn Malik (radiAllahu anhum) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘It is equivalent to a quarter of the Qur’an’
[at-Tirmidhi, 2818/A].

Abdullah ibn Umar Al-Khattab (radiAllahu anhu) reported that Allah’s messenger (salAllahu alayhi wasalam) said, “Qul Huw Allahu Ahad” is equal to a third of the Qur’an and “Qul ya ayyuhal Kafirun” is equal to a fourth of the Qur’an.”
[at-Tabarani, classed as Sahih]

  • Surah al-Nasr (110)

Anas (radiAllahu anhu) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘It is equivalent to a fourth of the Qur’an’
[at-Tirmidhi]

  • Surah al Ikhlas (112)

Anas mentioned that a man said to the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) , ‘I really love this surah’. The Prophet replied, ‘And your love for it will enable you to enter paradise’
[at-Tirmidhi 2826/A, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1013]

Abu Sa’id al-Khudri (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said about the surah, “Say: He is Allah, Absolute Oneness” (112), ‘By Him in Whose hand my soul is, it is equal to one third of the Qur’an!’
[Sahih al-Bukhari 6:61 #533, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1010]

“Qul Hu Allahu Ahad” is equal to a third of the Qur’an and “Qul ya ayyuhal Kafirun” is equal to a fourth of the Qur’an.”
[at-Tabarani, classed as Sahih]

Mu’adh bin Anas (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Whoever recites (Qul Hu Allahu Ahad) ten times, Allah will build for him a house in Paradise.”

Abu Huraira (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said that “Say: He is Allah, Absolute Oneness” is equal to a third of the Qur’an.
[Muslim, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1012]

Abdullah Ibn ‘Abbas and Anas Ibn Malik (radiAllahu anhum) reported that the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) said, ‘Whoever recited Surah Zilzilah (99) would get the reward of reciting half the Qur’an. Whoever recited surah al Kafirun (109) would get a reward as if reading a quarter of the Qur’an. Whoever recited Surah al Ikhlas (112) would get a reward as if reading one third of the Qur’an’.
[at-Tirmidhi 2818/A]

Anas (radhi Allah anhu) said: “When you recite Surah Al-Fatihah and Surah Al-Ikhlas upon lying on your bed, you will be safeguarded and should become fearless of every thing except death.”
[Narrated by Baraa, Tafseer Mazhari 1:31]

Abu Sa’id al-Khudri (radiAllahu anhu) reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said to his Companions, “Are any of you unable to recite a third of the Qur’an in a night?” That was difficult for them and they said, “Which of us is able to do that, Messenger of Allah?” He said, “[The surah] ‘Say: He is Allah, Absolute Oneness, Allah, the Everlasting Sustainer of all’ (112) constitutes a third of the Qur’an.’”
[Sahih al-Bukhari 6:61 #534, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1010]

Anas (radiAllahu anhu) reported the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) as saying, “If anyone recites two hundred times daily, Qul huwallahu ahad the sins of fifty years will be wiped out, unless he is in debt.”
[at-Tirmidhi and Darami].
The latter version has ‘fifty times’ and he did not mention ‘unless he is in debt’

A’isha (radiAllahu anha) reported that whenever the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) went to bed every night, he used to cup his hands together and blow over it after reciting Surat Al-Ikhlas, Surat Al-Falaq and Surat An-Nas, and then rub his hands over whatever parts of his body he was able to rub, starting with his head, face and front of his body. He used to do that three times.
[Sahih al-Bukhari 6:61 #536]

  • Surah al Falaq (113)

The Prophet said, ‘O Uqba, learn to recite Surah al Falaq, for you would never recite a surah more cherished by Allah and more profound in His sight that this surah’
[Durais, Ibn al Anbari, Hakim, Dhahabi & Ibn Mardawaih]

The Prophet (salAllahu alayhi wasalam) used to seek refuge from the jinn as well as from the evil eye until Surah al Falaq and An Naas were revealed. When they were sent down, he utilised them and left other things.
[at-Tirmidhi #1984, Riyad as-Salihin by Imam an-Nawawi Ch.183 #1014]

‘Uqba ibn ‘Amir reported that the Messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said, “Have you not seen the ayats sent down this night the like of which have never been seen before? ‘Say: I seek refuge with the Lord of Daybreak,’ and ‘Say: I seek refuge with the Lord of mankind.’” (113 & 114)
[Muslim]

  • Surah an Nas (114)

A’isha (radiAllahu anha) reported that whenever the Prophet (salAllahu alayhi wasalam) became sick, he would recite Mu’awwidhat (Surat Al-Falaq and Surat An-Nas) and then blow his breath over his body. When he became seriously ill, I used to recite (these two Surahs) and rub his hands over his body hoping for its blessings.
[Sahih al-Bukhari 6:61 #535]

‘Uqbah Ibn ‘Amir (radiAllahu anhu) reported that the messenger of Allah (salAllahu alayhi wasalam) said ‘No seeker of refuge can seek refuge with anything like these two’
[abu Dawud]

References:
-Riyad as-Salihin (The Meadows of the Righteous) by Imam Abu Zakariya Yahya bin Sharaf An-Nawawi Ad-Dimashqi
– The Excellence of the chapters and verses of the Qur’an by Mohammad Abdul Bashir Rafiuddeen
– Al-Hisnul Haseen by Imam Ibn al-Jazari Muhammad ibn Muhammad
– Selected Surahs from the Qur’an and their Excellence by AlBirr Foundation, UK
– Munajati Maqbul by Abdul Rahman Tariq

Celebrating The Holidays of The Infidels

infidels-celebrating-pagan-holidays

INTRODUCTION:

Verily, all praise belongs to Allah alone, we praise Him, seek His aid and His forgiveness. We repent to Him and seek refuge in Him from the evils of our souls and the evils of our actions. Whomsoever Allah guides there is none to misguide and whomsoever He misguides there is none to guide. I bear witness that there is no diety worthy of worship except Allah alone and I bear witness that Muhammad is His servant and messenger. Allah sent him with the guidance and the true religion and he conveyed the message, fulfilled the trust, advised the ummah and strove for Allah as He ought to be strived for until there came to him the certainty. He left his ummah on a pure and clear path, whose night is like its day and none deviates from it except one who is destroyed.

He explained (in this clear path) everything which the ummah is in need of in all of its affairs. This was done to the extent that Abu Dharr (radya Allah Anh) said, “The Messenger (sallah Allahu alayhi Wasalam) did not even leave a bird flapping its wings in the sky except that he mentioned to us knowledge regarding it.” Also a man from among the [1]mushrikeen said to Salmaan al-Farsy (radya Allahu Anh), “Your Messenger teaches you (so much), even toilet manners.” So Salmaan replied, “Yes! He has also forbidden us to face the qiblah while passing water or excrement or that we clean ourselves with less than three stones, or that we clean ourselves with the left hand or that we clean ourselves with dung or bones.”

Allah has explained in this Great Quran the fundamentals of the religion and its branches. He has explained Tawheed with all its types, Aqeedah[2] in great detail, the etiquette of meeting in gatherings, and even the details on the number of times to seek permission to enter people’s houses.

Allah Said, [3]“There is not an animal that lives on the earth, nor a being that flies on its wings, but forms part of communities like. Nothing have we left out from this book, and they shall be gathered to their lord in the end.”

Among the widely spread deviations of the ummah concerning those in the west and fiercely invading Muslim countries is the celebrations of the holidays and festivals of the infidels. They have become a trend and a tradition to some, that one who does not celebrate them, and does not go along with the flow is in their eyes a burden, outcast, or even a radical and a fundamentalist. But that’s only in the scale of those walking on their faces, Allah said, [4]“Is then one who walks headlong, with his face groveling, better guided, or one who walks evenly on a straight way.”

What is more saddening than the “general masses” of the ummah deviating from this important aspect that concerns the core of our belief, are those ignorant heads who pave the path and justify these deviations. These so-called “scholars” give fatwa’s to this ummah based solely and purely on what the devil instigates to them and what their minds spill out for them. They do this, leaving behind their back the revelations that were inherited to guide us to success and victory. The deviations they are introducing only await humiliation and destruction.

For Muslims to even see the light of victory, they must begin to adhere to the Quran and Sunnah and understand them according to the only understanding approved by Allah and his messenger; the understanding of the salaf [5](sahabah). When one mentions anything, we ask for their proof rather than be ignorant, blind followers of humans who lead us to the brinks of hell without us perceiving it. It was the repeated saying of the four major imams in one form or another to continuously tell people to take from where they themselves took from (Quran and Sunnah). They said this so that people do not be their blind followers.

This booklet is based on the Quran, and Sunnah, according to the guided path of the companions (radya Allahu Anhum). It will prove, by no doubt, to any reader who takes the Quran and Sunnah as his guide the clear prohibition of participating, by any means, no matter how small it may seem, in the holidays of the kuffar.

I ask Allah for sincerity in this humble effort, and I ask Him that it be used as a tool to guide with to the right path. May Allah reward those who helped and advised me, especially my father, along with those who gave their valuable effort in editing it. May the peak of Jannah be their reward.

Ahmad Musa Jibril

General proof on prohibiting celebrating the holidays of the Infidels:


A) Celebrating the holidays of the infidels is an innovation. These celebrations are not from within Islam, nor are they conduct of the salaf [6](sahabah). Therefore anything not established in Islam should not be followed, as this will lead to punishments, especially in area of [7]ebaddah.

Every single detail of ones life from birth to grave falls under one of the following categories “munkar (evil), mubaah (permissible), haram (prohibited), mustahabb (encouraged) and waajib (obligatory).

Islam is complete, and we derive our total lifestyle from Islam that Allah has completed for us, we cannot add nor eliminate any teachings from this co,pleted religion as the Prophet (sallah Allahu alayhi Wasalam) said,[8] “nothing of what would bring you closer to the Jannah and further away from the fire but I have clarified for you.”

As we will see not only is celebrating, and contributing by any means to the holidays of the kuffar an innovation to Islam but it is disobeying the explicit sayings forbidding it.

b) Celebrating the holidays of the infidels is an imitation of the kuffar. The prophet [9] (sallah Allahu alayhi Wasalam) in a plenty of ahadith prohibited imitating the infidels, he said “Whomever imitates the kuffar is one of them ”.

c) Muslims must differ in areas of similarities with non-Muslims.

Being different from the infidels is an important principle in Islam. Following the path of those cursed by Allah [10](Subhanahu wa ta’aala) is not part of Islam.

There is a pattern of showing this important principle that one can clearly see through the Koran and sunnah:

1. The changing of the Kiblah from Beit El Makdus to the Kabah was to be different from the Jews who faced the same direction.

2. Ibn Umar (radiya Allahu Anh) said the Prophet (sallah Allahu alayhi Wasalam) said [11] :(Be different than the Jews and Christians and grow your beards and trim your mustaches).

3. Abu Hurairah (radiya Allahu Anh) said the Prophet (sallah Allahu alayhi Wasalam) said,[12]”The Jews and Christians do not [13]dye their hair, therefore be different than them.”

4. Anas Bin Malik (radiya Allahu Anh) said, [14] “when Jewish women used to get their monthly period the Jewish men used to refuse to eat or sleep with them, the companions asked the Prophet (sallah Allahu alayhi Wasalam) about that and Allah revealed [15] ‘They ask thee concerning wome’s courses. Say: they are a hurt and a pollution so keep away from women and do not approach them until they are clean.’ They heard about that and said, ‘There is nothing this man is attempting to leave common amongst us and them’.”

5. Ibn Abbas (radiya Allahu Anhuma) said the Prophet (sallah Allahu alayhi Wasalam) said,[16] “Fast Ashura and be different from the Jews by fasting a day before it or a day after it along with it.”

6. Amro Bin Maymoon said, [17] “I seen Umar in [18]Juma’ and I heard him say the people of jahilyah used to leave this area after sunrise and the Prophet Muhammad (sallah Allahu alayhi Wasalam) wanted to be different and departed this area before sunrise.”

7. Deterring from praying after fajer until sunrise and before Maghrib was also because non-Muslims specialized those times for worship.

This is a mere sample of the tens of orders that the Prophet Muhammad (sallah Allahu alayhi Wasalam) deterred from doing or changed because we had them common with non-Muslims. So just as it was clear to the Jews during the Muhammad (sallah Allahu alayhi Wasalam) in the previously mentioned hadith that his goal was to change everything in common with the non-Muslims, we must realize this important principle of Islam and apply it.

The prophet Muhammad (sallah Allahu alayhi Wasalam) ran a pattern of trying to be different from the Kuffar and we see those ignorant heads with spoiled followers who attempt to run a contradicting pattern of imitating and enjoining them!

However, there are issues of tradition we are similar in, but we do not derive it from them, so there is a difference between innovating practices, traditions, saying and greetings to become similar to the infidels and those traditions that just coincidently continued on.

From showing you some examples of proof, we see clearly that celebrating the holidays of the infidels in any manner is prohibited because it is not from Islam.

The detailed proof of prohibition from the Quran, Sunnah and unification of scholars are as follows:

From the Quran:

[19]“Those who witness no falsehood and if they pass by some evil play or evil talk, they pass by it with dignity.”

Ibn Taymiyyah [20](Rahimahu Allah) narrated a Hadeeth that Muhammad Bin Sireen said [21]“Falsehood” in this verse means the holiday of “Shaneen” where the Christians claim Iesa [22](Alayhi Alsalam) entered [23]Palestine.

Ibn Abbas [24](Radia Allahu anh), [25]Abu Alaieh, Tawoos, Ibn Sireen, Al-Dahak, Al Rabee bin Anas and others all said “falsehood” in this verse means the holidays of the [26]infidels.

“ Who witness no falsehood,” means they do not participate in [27]it.

There were other meanings given by other companions and major scholars regarding “falsehood.” Some said it was a statue, some said it was music, and some even said it meant associating a partner with Allah (Subhanahu wa ta’aala). All of the above does not contradict the verse referring to the holidays of the infidels. This was the path of the salaf to name a certain detail of a broad meaning of a verse to allow the listener to understand.

Therefore, Allah (Subhanahu wa ta’aala) commanded the believers not to witness falsehood, let alone participate in it. This includes giving greetings, gifts or anything of that nature.

From the Sunnah:

1. Hadeeth narrated by [28]Thabeit Ibn Al-Dahhaak (radia Allahu anh) said, [29] “At the time of the Messenger of Allah (sallah Allahu Alayhi Wasalam), a man vowed to sacrifice some camels in [30]Bawanah. He came to the Messenger of Allah (sallah Allahu Alayhi Wasalam) and said, ‘I have vowed to sacrifice some camels in Bawanah.’ The Prophet of Allah (sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, ‘were there any idols there that were worshipped during the [31]Jahiliyah?’ He said, ‘No.’ The Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) said ‘Did they hold any of their holidays there?’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (sallah Allah Alayhi Wasalam) said: ‘Then fulfill your vow, for there is no fulfillment of any vow which involves disobeying Allah (Subhanahu wa ta’aala), or with regard to something that the son of Adam does not own.’”

· This clearly shows the prohibition of conducting ceremonies or Islamic gatherings in areas where the Kuffar have used and were known by them to be used for worship and holidays.

· In the Hadeeth the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, “Then fulfill your vow.” Meaning the only reason he was ordered and ordained to fulfill his vow was because his vow was free from those two aspects: no idols worshipped and no holidays. The Prophet (Sallah Allah Alayhi Wasalam) asked him because had he said yes to any of those two, he would have prohibited him from sacrificing there.

· The Prophet (Sallah Allah Alayhi Wasalam) concluded the Hadeeth by saying, “There is no fulfillment of any vow which involves disobeying Allah.” Meaning that sacrificing an area where the Kuffar used to sacrifice in is prohibited. This is due to the fact that it involves disobeying Allah (Subhanahu wa ta’aala), otherwise this phrase of the Hadeeth would be meaningless.

· If it were permissible for one to sacrifice in an area where the kuffar held their holidays, then the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) would have immediately responded, ordering him to carry out with his [32]vow. It would be meaningless talk of the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) to ask about those two factors if he was not going to base a prohibition on them.

· When the man came asking about his vow, the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) would have immediately told him to carry out his vow, but there were restrictions that the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) had to ask about.

· If carrying one of the most important matters of [33]worship and obeying Allah (subhanahu wa ta’aala) is prohibited in these areas because the kuffar had held their celebrations there. What should be said about those that go to the infidel’s celebrations and participate with them? These people who participate with the infidels will be dirtying themselves and not following Islam.

· Note that this was not an ongoing event; the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) said ‘Did they hold any of their holidays there?’ in the past.

2. The Hadeeth narrated under the authority of Anas Bin Malik (Radia Allahu Anh) who said, “The Prophet (Sallah Allah Alayhi Wasalam) came to Medina with two days they played in.

The Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, ‘What are these two days?’ They said, ‘These are two days we used to play in, in our Jahiliyah.’ The Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, ‘Allah has replaced them with two better days: Eid Al Adhaa and Eid Al [34]Fitr’.”

It is explicitly clear how the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) did not allow them to continue in their play because it was a celebration from before Islam.

He (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) also told them “Allah has replaced them,” meaning you must leave what was replaced and go by that which it was replaced by with.

Also his saying (sallah Allahu Alayhi Wasalam), “better days,” means to take that which is better and was pointed out to us by Islam, instead of what is worse, and has no basis in Islam. Not only are we disobeying the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s commands by celebrating the non-Muslim Holidays; we are adopting a characteristic of [35]Bany Israel in which Allah (Subhanahu wa ta’aala) told them, [36] “Will ye exchange the better for the worse?”

These two days of celebrations were abandoned and no longer practiced. Had the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) not prohibited them in this celebration, they would have continued. It takes a very strong deterrence to change habits that have been in the hearts for a long time. Over the centuries, leaders and kings tried to change habits and traditions of their people unsuccessfully. The determined deterrence of the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam), with the aid of Allah (subhanahu wa ta’aala), made him successful.

This Hadeeth is a reply to those who claim that it is permissible to celebrate traditions of the Kuffar as long as it holds no religious significance.

In this Hadeeth the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) saw kids playing. When he asked about this, he was told that in the past, they played in Jahiliyah. Note that in no part of the Hadeeth was there any religious significance, nor was there any worshipping attached to this holiday, yet the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) barred them from it.

We heard of some scholars who excuse some Kuffar holidays like Thanksgiving or New Years as being permissible, because they have no religious significance. This authentic Hadeeth puts a dead end to that.

3. These Sayings of the prophet Muhammad (sallah Allahu Alayhi Wasalam) among others all prove that there were celebrations during the time of the Jahiliyah. With the coming of the prophet Muhammad (sallah Allahu Alayhi Wasalam), all that was banned.

Had it not been for the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s determination and strong deterrence to his companions, they would have continued with these traditions and celebrations, and no one would have left them. If it had not been for the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s successful attempt of abolishing the smallest traces of their celebrations, they would have continued to celebrate them. What was strongly deterred by the Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) is considered to be [37]haram.

Some claim that since the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) permitted the Kuffar to celebrate their holidays, is a reflection that Muslims are permitted to do the same. This would mean that we can participate in the biggest sin humanity can commit. This false statement can lead to [38]shirk.

4. The Hadeeth narrated under the authority of Aisha [39](Radia Allahu Anha) who said, “Abu Baker entered my house when I had two young girls from the [40]Ansar signing lyrics that were said in the day of [41]Buath. Abu Baker (Radia Allahu Anh) said, ‘in the devils tone do you sing in the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s house?’

And it was a day of [42]Eid, so the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, ‘Oh Abu Baker, for every group is a Eid and this is our [43]Eid’.”

In another narration he said, “Oh Abu Baker for every people is a Eid, and today is our [44]Eid.”

From the above Hadeeth we can conclude that:


a.
The prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s saying, “for every group is a Eid,” means that there are special festivals and holidays for every religion that make them distinct from each other.

· As Allah (Subhanahu wa ta’aala) said, [45] “To each among you we have we prescribed a Law and a clear way.” Just like we do not allow the Kuffar to join us in our religious holidays, or any religious aspect for that matter, we do not join them in theirs. Among other things, we differ from them in our holidays, our Lord, and the direction we face to worship Him.

b. In the Hadeeth, the prophet Muhammad (sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, “and today is our Eid.” Meaning that our holiday (“Eid”) is confined in this day and we do not have any other festivals or [46]holidays.

The above does not mean that the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) is limiting our only day of celebration to that one day. He (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) spoke in a general sense and was not giving a specific example. To make this point clearer, imagine yourself explaining prayer to someone that knows nothing about it. You would begin with the basics, and then say: “This is the prayer of the Muslims.” That doesn’t mean you are limiting Muslims’ prayer to this special one; this one is just an example.

In another Hadeeth, the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) named the specific days in which Muslims can celebrate. He (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, [47] “The day of Arafa, The day of Sacrifice, The day of Muna, are our holidays we the people of Islam, they are days of eating and drinking.”

c. Since the Muslims celebrations do not extend into, and blend with, the holidays of the Kuffar, the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) allowed the young girls to continue singing. The reason he allowed for this to take place comes from his saying, “for every group is a holiday and this is our holiday.” This reason is specific for the Muslims. Had this reason been for any festival, it would have been meaningless to specify our holiday in particular. Yet he did specify our holiday, meaning that the permissibility is specific to our holidays, and us. This is not general to any holiday.


5. The lands of the Arabian Peninsula had Christians and Jews in them until Umar bin Alkhatab (Radia Allahu Anh) ousted them during the time of his leadership. It was even a known fact that the prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam) died with his war shield ke[t as collateral by Jew. There was non-Muslims in every land where Islam spread.

That is an undeniable aspect. Those Jews followed their traditions, and holidays. They ate, drank, and wore new clothes, along with other things during those holidays.

A historic fact that can accept no doubt is that Muslims never enjoined in their holidays. They did not greet them, and they did not make any changes from their daily routines on the Kuffar holidays. Some used to fast, or called on to fasting, during the days of the infidels’ holidays in order to be different from them.

The Prophet (sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s order was strict and decisive that we not celebrate with the infidels. Had this not been the case, we would have heard of those who enjoined in their holidays or at least greeted them, as doing so was a tradition they were raised on. Had it not been for an order from Allah (Subhanahu wa ta’aala) and His messenger (sallah Allahu Alayhi Wasalam), they would have continued with their old ways. The farthest extent some went to during the times of the infidels’ holidays was narrated to us: they used to go merely to watch. Even this, however, Umar Ibn Alkhatab (Radia Allahu Anh) banned them [48]from.


The narration’s that have reached us have been so detailed and specific so as to pass along, over the years, that some of the Salaf used to watch the infidels’ festivals. With this in mind, would you not agree that if they had participated in the celebrations themselves, or at least greeted the Kuffar during their holidays, this would have made the history books?

Umar Ibn Alkhatab (radia Allahu Anh) banned them from “looking” at the festivals of the infidels. What would he have done if he saw Muslims decorating their homes for Christmas, eating Turkey on Thanksgiving day, putting out pumpkins for Halloween, exchanging gifts and greetings on Mothers day, Fathers day, and so on?

6. The Hadeeth narrated by Abu Hurayrah, [49] “We are the last in this world, first on the judgment day. They were given the book before us; we were given the book after them. This is their day that Allah ordered them in, they disputed it but Allah guided us to it; the people are followers for us in it: Jews are tomorrow and Christians are the day after.”

In another Hadeeth the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, [50] “Allah astrayed from the [51]jummah those before us. Jews had Saturday, and Christians Sunday. Then Allah brought us and guided us to Friday. So he made Friday, Saturday, and Sunday. They are behind us in the judgement day. We are the last of this people on this earth, and the first who will be judged on the judgement day.”

These, and other hadeeth’s, all emphasize that we have our separate holidays.

Also, note how the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) divided the days: Friday for us, Saturday for the Jews, and Sunday for the Christians.

That is like saying there are three cars: a Mercedes, Lincoln and a Cadillac. The Mercedes belongs to Mohammad, the Lincoln belongs to Abdullah and the Cadillac belongs to Abd-Alrahman. Each car belongs to an individual alone. No one other than this individual has the right to the car. The same applies to the days and how the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) divided them out between us.

Commenting on this Hadeeth, Ibn Taymiyyah (Rahimahu Allah) said, [52] “If we celebrate their days then we disobey this Hadeeth. And if this is a weekly celebration, then the same applies to their yearly celebrations with no difference. In fact, if this is a celebration that may be known through Arabic calculations and calendars, then it is even worse for holidays of infidels that are not known except through the calculations of the Romans, Coptic, Pharisees, or Jews.”

Although in this life we are the last of all religions and revelations, we will be the leaders on the Day of Judgement. Our Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) will be privileged with opening the gates of heaven. This is so because we were given the book after them, we were guided to that which they disputed, and our good actions preceded them. When we beat them to the right path, Allah (Subhanahu wa ta’aala) honored us with being rewarded first.

Islam is a complete religion. It is the way of life. Every detail of our life, we take from it. Among these details is our specialty in our specific holidays. Therefore, to maintain our position as leaders on the Day of Judgement, we must follow that which was prescribed to us by Allah (Subhanahu wa ta’aala) and His messenger (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) by celebrating only those days specified to us.

The prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) emphasized in this Hadeeth that we will be the first to be rewarded on the Day of Judgement because we were guided when the rest went astray. Yet out of all the things the Kuffar went astray in, whether it be major or minor, the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) chose to mention that they went astray in their days of holidays. This proves the importance of this topic and that it is a major issue, and not just a minor detail, as some claim.

By joining those who are less in rank than us, we are wasting away the privilege that Allah (Subhanahu wa ta’aala) has granted us. We need this privilege most on the day of Judgement, when the Sun is less than a meter away from us, and each person is drowning in his sweat depending on his actions. So, why waist it away merely to join those lower than us in their holidays?

7. Kuraib, the servant of Ibn Abbas, narrated that, [53] “Ibn Abbas sent me and other companions of the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) to Um Salamah (Radia Allahu Anha) to ask her: ‘what days did the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) fast most?’ She said, ‘he fasted Saturday and Sunday, and he used to say, “They are holidays of the infidels and I love to be different from them in them.”

Not only is not enjoining their holidays a major sin, but being different than them is a principle commanded by Islam.

However, it must be noted, that scholars of the past have different point of views on what one must do on the holidays of the kuffar. Some said be different from them by fasting, some said disregard it totally and continue as though it was a normal day, and some went on to differ between Arabic and non-Arabic holidays in this matter. Note, that not a single one of them said it is permissible to celebrate their holidays, enjoin in them, or even greet them.

PROOF FROM THE CONSENSUS OF THE SCHOLARS:

1. It was previously mentioned that the Jews, Christians, and their likes were in the Muslim lands, and that they celebrated their holidays there. Not once was it recorded that the Muslims joined them in their celebrations, or even greeted them for their holidays. Had it not been for a strong command from the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) that we not enjoin them in their holidays, we would have heard many situations in which the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)’s companions and their followers did so.

2. Umar (radia Allahu anh), the rest of the sahabah, and their followers from the most famous scholars, united upon a clause Umar (radia Allahu anh) placed with treaties on lands he conquered. This stated that the people of the book, who are under the rule of Muslims, are not permitted to publicly express their celebrations in the lands the Muslims.

If the Muslims agreed that the Kuffar cannot celebrate their own holidays openly in lands under Muslim rule, then how can a Muslim, by any means, do so? Is it not a worse crime if it was a Muslim that was celebrating their holidays?

They were banned from it because it is either a sin or a symbol for them. In any situation, a Muslim is prohibited from committing sins and from contributing to the symbols of the [54]Kuffar.

From the Sayings of the Salaf:

1. Umar (Radia Allahu Anh) said [55]”Beware of the languages of the non-Arabs, and beware not to enter on the Mushrikeen on their holidays in their places of worship.”

2. Umar (Radia Allahu Anh) said, [56] “Do not learn the languages of the non-Arabs, and do not enter on the Mushrikeen in their churches on their holidays because the curse of Allah falls down upon them.”

3. Umar Ibn Alkhatab (radia Allah anh) said, [57] “Keep away from the enemies of Allah on their holidays.”

4. Abdullah Ibn Umar [58](Radia Allahu Anhuma) said, [59] “whomever builds in the lands of the non-Arabs, and makes their [60]Naiyrooz and festivals and imitates them, until he dies like that, will be stuck in hell fire with them.”

5. Abdullah Ibn Amr (Radia Allahu anh) said, [61] “whomever builds in the lands of non-Arabs and makes their Naiyrooz and festival and imitates them until he dies like that he will be stuck in hell fire with them.”

6. Muhammad Ibn Sireen said, “Ali (radia Allahu anh) was brought a gift for the holiday of Naiyrooz. He said, “What is this?” They said, “Oh leader of the Muslims, this is the day of the Naiyrooz.’ Ali (radia Allahu anh) said, “Make everyday a Fayrooz.”

Abu Usamah, a narrator in the chain of that saying, said that Ali (Radia Allahu Anh) called it Nayrooz, and hated them to call it what the Kuffar called it.

Notice how Ali (radia Allahu anh) changed the name of the holiday, as well as the days of it, so as to be different from the non-Muslims.

Umar (Radia Allahu anh) deterred from talking in their language, and the mere fact of entering their churches on their holidays. Knowing this, how can one do their actions, or that which may be symbolic or part of their religion? Isn’t it worse to be like them in their religion than in their language? Aren’t some of their holiday actions worse than merely entering the church?

And if the curse of Allah (Subhanahu wa ta’aala) falls on them on their holidays because of their actions, then whoever enjoins them in their actions or some of their actions receives the same punishment and subjects himself to Allah curse.

Umar (Radia Allah Anh) ordered us to “keep away from enemies of Allah on their holidays.” Is this not an order to keep away from them and meet with them on those days? What about those who intentionally go to the extent of doing some of what they do?

What his son, Abdullah Ibn Umar (Radia Allahu Anhuma), said of those who celebrate the Kuffar holidays shows that he considered them Kuffar themselves, or big sinners.

Ali (Radia Allahu anh) hated the commonality of the name and day, so how would have he reacted if he saw the Muslims nowadays agreeing with them in their actions?

Imam Ahmad, as well as many other known scholars have agreed to the narrations of the companions [62]above.

Commentaries:

1. Festivals of the infidels are part of the belief and path in Islam that Allah said about, [63]”For every nation We have ordained religious ceremonies, which they must follow.” These are like facing the [64]Qiblah, praying, and fasting. There is no difference between enjoining them in a holiday of theirs and in any other aspect of their belief. In fact, celebrations are a specialty of the infidels and one of the biggest signs of distinctions between them, and us. Accepting their holidays is an invitation for a curse from Allah.

2. Their celebrations and festivals are abrogated and based on disobedience of Allah (Subhanahu wa ta’aala). To say that we will look at their holidays from the best point of view is like praying to Beit Al-Maqdis in Palestine instead of the Kaa’bah in Makkah.
A Muslim who celebrates or greets the infidels in their holidays has implicitly approved their falsified religion or an innovated aspect of it.

3. If it had been permitted to associate with them in their holidays, even if it was by only greeting them, this would have drastic circumstances. More and more Muslims will do it, and soon enough it will be a habit between Muslims to greet the Kuffar on their holidays! It may even reach the extent that it will be considered a kind of holiday for us, in fact those who live in Kuffar countries can sense that now! It will then compete in the celebrations of Allah (Subhanahu wa ta’aala) and even overwhelm it to reach a point where it will kill Islam and give life to kufer. This has already begun to happen between the “westernized” Muslims.

4. Most of the celebrations of the infidels are a decoration from the devil to them. The biggest example of this is Christmas. They themselves, and among themselves, dispute the date of the birth of Issa (Alayhi Alsalam). In fact, all leaders from their sources point to him being born in the summer, not in the winter, as this is the time when they celebrate his birthday! In documentaries, a more realistic Kafer admitted, that Christmas is more of a business holiday than it is a spiritual one. Merchants and businesses take the lead role in making it as popular a holiday as it is today. However, what is sad is Muslims actually fall for this foolishness, and ignorance and approve of it! The rest of their holidays are similar to this one.

This entirely deviant act by Muslims is something that the prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) predicted, [65] “you will follow the path of those before you.”

Following the infidels starts off small, or in a small detail, by a small group of people. The majority do not forbid and crush that evil, so it spreads. The result is a westernized generation with a new spoiled religion that may be referred to as “Westernized Islam,” where you cannot tell a Muslim from a Jew, or Christian. The general trend among “westernized Muslims” now, has become to follow the path of interfaith, which I will present its details in a separate booklet [66]insha’ Allah.

1. The prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam) said, [67] “There are no people who bring about an innovation but Allah takes away a Sunnah like it.”

Islam and Sunnah are food of the soul, if you do not fill it with one kind of food, you will need to fill it with another.

Therefore, it is an established fact that innovation takes the place of the Sunnah like Islam takes the place of kufer. An example of that is looking forward for it, and taking days off from work. If you celebrate the holidays of the infidels, or at least part of them, you will become too tired to celebrate the holidays of Islam. Its anticipation and love will not be the same to you if it was only one holiday to look forward to or to take time off for. Therefore, your soul will lose and be deeply affected.

Can you take two weeks off school, and work for Christmas like you take for Eid and have the same energy and inspiration for both?

Can you buy and give to your loved ones the same way you would have had there been only either Christmas or Eid?

Would you look forward to Christmas or Eid had there only been one of the two? Would you be inspired in those holidays had it only been one? If someone says, “I can handle both,” the answer is “if you commit yourself to one, it will be by all means more fulfilling than if you choose both.”

There is a distinction between one who enjoys, celebrates and focuses his energy to what is halal and one who refuses but to choose the sinful path and the worst of the two.

2. Mixing and mingling with the infidels in it self, is dangerous because people tend to react to each other in a special way when they become close. Mixing during celebrations is even worse than normal, because it can lead those who mix to act in a way in which cannot distinguish between the two except by name.

We have already seen this happen in Bosnia. Most Muslims there were similar to the Croats and Serbs. They were not distinguishable from them by anything other than their names. This is the effect of mixing and mingling with them for such a long time!

We see the same problems here in the United States. The new younger generation that has grown up in the states and was raised in its schools has become a spoiled, “westernized” generation with its mentality. The attitude and thinking is that of the Kuffar, but what may distinguish them from the Kuffar is their name, except some whom Allah (Subhanahu wa ta’aala) was merciful with.

Therefore, mixing with the infidels in their holidays, greetings, or decorating for them, gives the Muslims the cursed characteristics of the Kuffar.

3. Imitating others externally initiates love, and affection internally, just like love internally initiates external imitation of that loved. That’s why it is proven that those with commonalities and similarities have a special bond more than others. If two people from the same homeland meet in a foreign land they will have a special bond and close ties. In fact, those who wear the same or those who work in the same type of jobs have special bonds, ties and emotions that tie them together.

Therefore, if imitation or a common bond in materialistic matters results in love, loyalty and special bond. The matter regarding religious issues makes bonds stronger and increases love and loyalty. Love and loyalty to non-Muslims is against Islam as Allah (Subhanahu wa ta’aala) emphasized in the Quran in hundreds of verses:

[68] “Oh ye who believe take not the Jews and the Christians for your friends and protectors. They are but friends and protectors to each other. And he amongst you that turns to them is of them, verily Allah guidith not a people of unjust. Those in whose hearts is a disease-thou seest how eagerly they run about amongst them, saying: ‘we do fear lest a change of fortune bring us a disaster.’ Ah! Perhaps Allah will give thee victory or a decision from him then will they regret of the thoughts which they secretly harbored in their hearts.”

The verses like this in the Quran are plenty: one who loves the Kuffar is not a true believer. Imitating them implies loving them, therefore it is prohibited.

Allah (Subhanahu wa ta’aala) said, [69] “Thou will not find any people who believe in Allah and the last day loving those who oppose Allah and His messenger even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred.”

Conclusion:

From what was mentioned it is clear to anyone who has a heart and understanding that it is prohibited to celebrate the holidays of the kuffar. Whether this be by participating with in them in any way, greeting them, mingling with them on their holidays, entering the places where their parties are taking place, or any symbolic move, action or gesture that would appear symbolic or sympathetic for their holiday.

We should not purchase gifts for parents on fathers or mothers day, rather every day of a Muslims life is fathers and mothers days.

We should not celebrate birthdays because those better than us did not do so, and its origin was by the kuffar.

We should not decorate for their holidays as they do on Christmas, nor should we wear like them as they do on Halloween, nor should we eat as they do on Thanksgiving.

We should not eat Turkey and say our intention was otherwise; there are 364 days in the year for you to enjoy your Turkey, to choose that day specifically is symbolically participating in their holidays.

The same applies to those who decorate their homes with Christmas trees or seasonal lights during Christmas season, then claim their intention was otherwise.

If we do not wake up and take a stand, we will wake up one day before a hopeless generation that knows Islam only by its name. This is because celebrating and enjoining in the holidays of the infidels is a cancerous tumor in the core of the Islamic belief that will spread and will not stop until it devastates us and causes us to loose our identity and dignity. Worst of all, it will subject us to the curse and wrath of Allah.

It is not appropriate to find excuses and rationales in order to find a way out merely to satisfy surrounding pressure or to please the west and go along with the flow. It is our only duty in this life to adhere, listen and totally and fully accept the commands that come down to us from Allah and His messenger (Sallah Allahu Alayhi Wasalam). Allah (Subhanahu wa ta’aala) makes this point clear in the Quran. He said, [70] “It is not fitting for a believer man or women when a matter has been decided by Allah and his messenger to have nay option about their decision. If anyone disobeys Allah and his messenger, he indeed is on a clearly wrong path.”

Allah said, [71] “But no by they lord, they can have no real faith, until they make thee judge in all disputes between them. And find in their souls no resistance against they decisions, but accept them with the fullest and total conviction.”

May we be of those who accept Allah and his messenger (sallah Allahu alayhi Wasalam)’s commands totally, happily and willingly and not be like the hypocrites whom Allah humiliated in the Koran, [72]”When it is said to them come to what Allah hath revealed and to the messenger thou seest the hypocrites avert their faces from thee in disgust.”

——————————————————————————–

[1] pagans

[2] Core of Belief

[3] Al-Anaam 38

[4] AlMulk 22

[5] Companions of the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)

[6] Companions of the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)

[7] Worship

[8] Musnad Ahmad

[9] Narrated by Abu Dawoud 4/314 Hadith # 4031; Ahmad In Musnad 2/50; Ibn Taimieh in the Fatawa 25/331 said it is an authentic hadith; Ibn Hajar mentioned it in Fateh Albary 6/98; Alsuty Narrated it in Jame Sagheer and said its chain of authenticity is good. 1/590.

[10] May He be Exalted

[11] AlBukhary #5442

[12] AlBukhary #5448; Muslim 3926

[13] Changing the hair to other than black when it turns gray.

[14] Muslim 455

[15] Albakarah 222

[16] Sunan Ahmad

[17] Nasaey #2997

[18] Area visited during Hajj

[19] Al-Furqan 72

[20] May Allah have mercy on him.

[21] {Zoor}

[22] (Jesus) Peace be upon him

[23] Ektida El Sirat ElMustakeem 1/427 Referencing from Jamee by Abu Baker Alkhalal.

[24] May Allah bless him.

[25] Aldur Almanthoor by Alsuyooty 5/80

[26] Tafseer Ibn Katheer 3/439

[27] See Above.

[28] Thabit was a companion of those who aided the prophet sallah Allahu Alieh Wasalam who give the prophet commitment of Ridwan. He died in 64H.

[29] Narrated by Abu Dawoud in al-Aymaan wa’l-Nudhoor, 3133. According to another report, the one who asked the question was a woman (2133). It was also narrated by al-tabaraani in al-Kabeer (1431). Shaykh al-Islam said: its isnaad is according to the conditions of al-Saheehayn. All of its narrators are thiqaat (trustworthy) and mashhoor (well known), and the chain is intact, with no ‘an’anah (none of the links of the chain are connected with the word ‘an, meaning ‘from’). See al-Iqtidaa’, 1/634. It was classed as saheeh by al-Haafiz in al-Buloogh 5041. There is also similarly worded authentic hadith narrated in sunan Abu Dawoud 3/607-609; in Ibn Majah 2131 1/688; In Musnad Ahmad 3/419;

And also a third hadith sunan Abu Dawoud 3315 3/609 and the men in its chain of authenticity are strong.

[30] a high area near the shores of Yanbu just North of Makkah.

[31] Jahiliyah is a term used to the time before Islam in general, or specific used to mean ones personal Jahiliyah is when he was a non-Muslim.

[32] Iktidal Sirat 1/441

[33] Sacrificing for the sake of Allah

[34] Sunan Abu Dawoud # 1134; 1/675

Also narrated through another authentic chain in Musnad Ahmad 3/103-235-250; Sunan Nasey 3/179-180

[35] The Children of Israel

[36] Al-baqarah 61

[37] Prohibited

[38] Polytheism

[39] May Allah be pleased with her.

[40] Those who aided the Prophet (Sallah Allahu Alayhi Wasalam)

[41] A famous battle that took place in the Jahiliyah between the Awos and khajraj.

[42] One of the Muslims religious holidays

[43] Saheeh Muslim # 892 2/607-608; Saheeh AlBukhary # 952 2/445.

[44] Saheeh AlBukhary 3931 7/264

[45] Al-ma’idah 48

[46] Iktida Sirat Al Mustakeem 1/447

[47] Abu Dawoud 2/804 #2418

[48] Iktida Sirat Almustakeen 1/448-50

[49] Bukhary #238; Muslim 855

[50] Muslim 2/586 # 856

[51] Friday

[52] Iktida Sirat Mustakeem 1/451

[53] Musnad Ahmad 6/323-324; Hakem in Mustadrak 1/109 and said it chain is authentic; Ibn Taimieh mentioned it in another chain as well and said many have said it is authentic, Iktida Sirat Almustakeem 1/453

[54] Iktida Sirat Almustakeem 1/454

[55] Baihaky – Sunan Kubra 9/234; Kanz Alumal 3/886 #9034

[56] Abalrazak in Musnaf 1/411 #1609; Sunan Kubra for Baihaky 9/234

[57] Kanz Alumal 1/405 # 1732; Sunan Kubra for Baihaky 9/234

[58] May Allah be pleased with them both.

[59] Baihaky 9/234

[60] A holiday of the Persians.

[61] Baihaky 9/234, there is also another chain for the same hadith.

[62] Iktida Sirat Mustakeem 1/455-61

[63] Al-hajj 67

[64] Makkah

[65] Narrated by Bukhary and Muslim

[66] God willing

[67] Musnad Ahmad 4/105; Suyooty said its authenticity was good in Jame Sagheer 2/480

[68] Al-Ma’idah 51-52

[69] Al-Mujadilah 22

[70] Alahzab 36

[71] Alnisaa 65

[72] Alnisaa 61