اسلام کا مجاہد تلوار اٹھا رہا ہے

اسلام کا مجاہد تلوار اٹھا رہا ہے
اب غزنویؒ کا بیٹا میدان مے آ رہا ہے
امن وامان کا جھنڈا لہرایگا ہر جانب
اک اجنبی بھی ہوگا اپنا عزیز صاحب
با دل طمانیت کا ہر سمت چھا رہا ہے

اب غوریؒ کا بیٹا میدان میں آ رہا ہے
بنیاد بے الہ میں لو پڈ گی دراریں
الحاد و شرک و فتنہ کھانے لگا پچھاڈیں
زور و جبر کا لہجہ اب کپ کپا رہا ہے

خالدؓ کا جانشین اب میدان میں آ رہا ہے
سوے حرم دریچے یادوں کے کھل رہیں ہیں
اب لا الہ کے نغمے کانوں مے گھل رہیں ہیں
حی علی الجہاد اب کوئی سنا رہا ہے

اب ٹوٹ کر رہے گا مایوسیوں کا گھیرا
حرمین کے افق سے ابھرے گا اب سویرا
موسم اداسیوں کا اب مٹتا جا رہا ہے

مل جائے گا یقینن تدبیر کو کرینہ
ساحل پے آ لگےگا تقدیر کا سفینہ
نیکی کا ولولہ اب جلوہ دکھا رہا ہے

ہاتھوں میں تھام کر اب قرآن کا صحیفہ
جان و جگر کے خون سے آلون کا وظیفہ
اب وقت کی جبیں پر کوئی لکھا رہا ہے

بارش سعادتوں کی ہوگی ضرور اب کے
سوکھی سی ٹہنیو پر اے گا بور ابکے
بنجر زمین پی سبزے کا رنگ آ رہا ہے

منہ زور سی جفائیں اب نہ کرینگی یورش
ایمان کی اذان سے نابود ہوگی شورش
گم کر ذرا مسلمان مرکل پے آ رہا ہے

مندر میں دیکھنا اب ہیبت سے بت گرینگے
مت جانا اصلحے پر بے تیگ بھی لڑینگے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s