وفا کی راہ

وفا کی راہ چل پڑے ہیں پھول کیا تو خار کیا
جہاد کے ان مرحلوں میں جیت کیا تو ہار کیا

ستم کا جو رواج ہو عدو کا جو مزاج ہو
ہماری اس سے جنگ ہے تو جنگ سے فرار کیا
ہے جنتوں کی آرزو شہادتوں کی جستجو
تو پھر چلو محاذ کی طرف یہ انتظار کیا

غلام جسکے ہو چلے اسی کے ہاتھ فیصلہ
رضائے حق کی راہ میں یہ قید کیا یہ دار کیا
کریں گے بس جہاد ہم حالات جس طرح بھی ہوں
اگر ہیں سازگار کیا نہیں ہیں سازگار کیا

خزاں نے ہم کو جو زخم دئیے ہیں وہ تو یاد ہیں
نہیں خبر تو یہ کہ ہے وہ نغمہ بہار کیا
لٹا چکے جان و دل نوید وصل پہ ہم
تڑپ رہے ہیں شوق میں سکون کیا قرار کیا

ہے کتنی اپنی بندگی تو کتنا رب کا ہے کرم
جب اس قدر عطا ہوں تو سجود کا شمار کیا
وہ جسکے ہم تھے منتظر وہی بلا رہا ہے اب
اِدر اُدر یہ دیکھنا جمیل بار بار کیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s