شہید کا ہے مقام

 

شہید کا ہے مقام کیسا؟ افق کے اُس پار جا کے دیکھو
حیاتِ تازہ کیا مزے ہیں ؟ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو

یہ حسنِ فانی کی کیا طلب ہے؟خدا کے عاشق بنو تو تب ہے
گلاب بن کے مہک اٹھیں گے، جگر پہ یہ زخم کھا کے دیکھو

کسی کے دل پہ گمان نہیں، نا خبر ذراچشم و گوش کو ہے
شہید پر جو عنایتیں ہیں،کتاب و سنت کو اُٹھا کے دیکھو

نکھرتا جائے گا تن بدن اور جمال آئے گا خال و خط پہ
بڑھے گا حسن و جمال کتنا؟ ذرا لہو میں نہا کے دیکھو

وہ باغِ جنت کی نازنیں، جو تمہاری دلہن بنی کھڑی ہیں
تمہی تو دلہا ہو ،دیر کیسی؟ یہ سرخ مہندی لگا کے دیکھو

نہیں ناداں کو کچھ خبر یہ شعور والے ہی جانتے ہیں
خدا کی جو میزبانیاں ہیں،وفا کی رسمیں نبھا کے دیکھو

غرور تم کو نہیں ہے زیبا، اسے نہ اوڑھو خدا کا حق ہے
ملیں گے عظمت کے تاج کیا کیا؟ ذرا سا خودکو مٹا کے دیکھو

یہ تیرو تلوار اور خنجر، تمہارے زیور ہیں اے جوانو!
حسین لگتے ہو کس قدرتم، یہ اسلحہ تو سجا کے دیکھو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s