آج کیوں مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں؟

آج کیوں مسلمان ذلیل و خوار ہیں، آج کیوں مسلمان کافروں سے مار کھا رہے ہیں،

کبھی رات کوئی خبر آتی ہے، کبھی آہیں، کبھی سسکیاں، ہوائیں بھی غم کے پیغام دیتی ہیں، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، مائیں رو رہی ہیں، بچے تڑپ رہے ہیں، بوڑھے سسکیاں لیتے ہیں، عزتیں لوٹی جا رہی ہیں، کس لئے مسجد اقصی آج یہودیوں کے قبضے میں ہے؟، کس لئے آج برما میں آگ کے اندر مسلمانوں کو جلایا جا رہا ہے، افغانستان کے اندر مسلمان تڑپ رہے ہیں، چیچنیا کے مسلمان رو رہے ہیں، فلسطینی رو رہے ہیں، اور عراق کے اندر مسلمان، اور شام کے مسلمان، اور برما کے فلپائن کے، یمن کے، الجزائر کے، دنیا بھر کے مسلمان تکلیفوں کے اندر ہیں،

آج چھپن بت ہمارے اوپر مسلط ہیں،باطل حکمران پمارے اوپر مسلط ہیں، بدترین اور کمینے لوگ ہمارے حکمران بن چکے ہیں، کس لئے شرک ہی شرک ہے، اللہ جب تک شرک کا خاتمہ نہیں ہوگا، جب تک توحید کے پودے نہیں لگائے جائیں گے ، باطل کو گرایا نہیں جائے گا، باطل کو توڑا نہیں جائے گا، عزہ ہبل کو، موجودہ دور کے لات و منات کو توڑا نہیں جائے گا، مسلمانوں کو کبھی سکون نہیں مل ہائے گا، سکون اسی وقت ملے گا، امن اسی وقت ہوگا، دنیا میں چراغ اسی وقت روشن ہوں گے، روشنیاں اسی وقت ہوں گی، لوگ سمجھتے ہیں، مسئلہ ٹیکنالوجی کا ہے، مسلمانوں کے پاسٹیکنالوجی نہیں ہے، ارے ٹیکنالوجی بھی تھی ان کے پاس پھر کیوں روس ٹوٹ گیا تھا، پھر کیوں امریکہ بھاگ رہا ہے، افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔، منتیں کر رہا ہے، ان فدائیوں کا مقابلہ نہیں ہوسکتا،

سفر لمبا ضرور ہے مگر کافر خوفزدہ ہے، میں قسم کھا کے کہتا ہوں، توحید کی دولت ہے جو مسلمانوں کو عزت دیتی ہے، شہرت دیتی ہے، وقار دیتی ہے، رعب دیتی ہے، کالے رنگ کے بلال کے جلنے کی آواز جنت میں توحید کی وجہ سے آئی، ہمارے یہاں اکثر کلمہ پڑنے والوں کو توحید کا پتہ ہی نہیں، عقیدے کا پتہ ہی نہیں، بس کلمہ پڑھ لیا پھر چاہے فٹبال دیکھو، یا کرکٹ میں دیوانے ہو جاو، چاہے شراب ہیو یا اپنی مسلمان بہنوں کی عزتوں سے کھیلو، کہتے ہیں ہم توحید والے ہیں، ہم نے کلمہ پڑھا ہے نہیں، ایک عرب چالیس کروڑ میں سے اکثریت امریکہ کی پوجا کرتی ہے، واشنگٹن کی پوجا کرتی ہے، وائٹ ہاوس کی پوجا کرتی ہے، یہ وہ خدا ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے،

ہم سمجھتے ہیں کہ صرف قبر پر سر جھکانا ہی شرک ہے، امریکہ کی پوجا کرنا شرک نہیں ہے، ڈالر کی پوجا کرنا شرک نہیں ہے پیسے کی پوجا کرنا شرک نہیں ہے، مندروں کی پوجا کرنا شرک ہے اور مولویوں کی پوجا کرنا شرک نہیں ہے، آج توحید والوں کو توحید سمجھنے میں غلطی ہوگئی، بڑے خدا بنے ہوئے ہیں، دکانیں کھلی ہوئی ہیں، فٹ پاتھ پر، پارک میں، دوکانوں میں، ایوانوں میں،ہوٹلوں میں، توحید بیچنے کے پروگرام بنائے جا رہے ہیں، دوستوں سمجھو توحید کو، آج ہم نے توحید سے دوری اختیا رکی، اتنا بتا دو دو قومی نظریہ کہتے کس کو ہیں، یہ توحید ہے جس نے مجھے دو قومی نظریہ کا سبق دیا، ہندو مسلم ایک نہیں ہیں، مندر مسجد ایک نہیں ہیں، تورات و انجیل و بائبل اور قرآن ایک نہیں ہیں، عیسائی مسلمان ایک نہیں ہیں، اوبامہ اور عبداللہ ایک نہیں ہو سکتے،

اور یہ توحید ہمیں سکھاتی ہے، دو قومی نظریہ جو محمد ابن قاسم نے بر صغیر میں قدم رکھ کر پیش کیا تھا، دو قومی نظریہ اسماعیل شہید نے بالا کوٹ کی زمین کو اپنے خون سے رنگین کر کے دیا تھا، دو قومی نظریہ میرا آقاﷺ نے مکے کے اندر قل یا ایھا الکافرون پڑھ کے دیا تھا، دو قومی نظریہ بدری صحابہ نے بدر میں ابو جہل کے ٹکڑے کر کے دیا تھا، دو قومی نظریہ مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی کو قیدی بنا کے دیا تھا، دو قومی نظریہ بلال نے امیہ کی گردن کاٹ کے دیا تھا، دو قومی نظریہ یہ ہے کہ توحید والے اور شرک والے ایک نہیں ہو سکتے، توحید کہتی ہے کوئی وطن کا ہے، کوئی ملک کا ہے، کوئی قومیت کا ہے، لیکن میرا بھائی وہی ہے جو توحید پر عمل کرنے والا ہے،

خامی ہو سکتی ہے، سستی کاہلی ہو سکتی ہے لیکن توحید والے کبھی جدا نہیں ہو سکتے، توحید ہے تو غلبہ ہے، توحید ہے تو اخوات ہے، توحید ہے تو جیت ہے، توحید ہے تو عظمت ہے توحید والا کبھی ذلیل نہیں ہوتا، کبھی محکوم نہیں ہوتا، کبھی مغلوب نہیں ہوتا، باطل کے اور شرک کے پیروکار کبھی عزت والے نہیں ہوتے چاہے چاند ان کی پیشانی پر نکل آئے، دولت ہے، مال ہے، بتاو ابو لہب کتنا حسین تھا، کتنا جمیل تھا، گلنار چہرے والا تھا، چمکتے چہرے والا تھا، لیکن حسن و جمال یہاں کام نہیں آتا، یہاں کالے رنگ کا بلال ہی کام آتا ہے، کالے رنگ کی کملی کام آتی ہے، کالے رنگ کا غلاف کام آتا ہے، کالے رنگ کا پتھر کام آتا ہے، کالے رنگ کی عجوہ کھجور کام آتی ہے،

رب شکلیں نہیں دیکھتا، رب دل دیکھتا ہے، عمل دیکھتا ہے، کردار دیکھتا ہے۔

سارے اختیارات کا مالک اللہ ہے تو ھکم کس کا چلے گا اللہ کا، نہ مولوی کا نہ پیر کا نہ بابا کا نہ درویش کا، نہ امریکہ کا نہ اوبامہ کا نہ مودی کا نہ یو این او پلید کا اس باطل ادارے کا، قانون بھی اللہ کا زمین بھی اللہ کی، ان الحکم الا للہ ۔ جو اسے نہیں مانتا وہ کافر ہے، اسی طرح کافر ہے جیسے گستاخ رسولﷺ کافر، جیسے قادیانی کافر ہے اسی طرح توحید کو نہ ماننے والا بھی کافر ہے۔

آو دوستوں آج فلسطین کو بچائیں، آج افغانستان کو بچائیں، آج عراق کو، شام کو، الجزائر کو آج پوری اسلامی دنیا کو بچائیں، آج سے وعدہ کریں توھید کی عبادت کریں گے، امریکہ کی نہیں، یو این او پلید کی نہیں، طاغوت کی نہیں، باطل پرستوں کی نہیں،

خدارا مسلمانوں خدارا، فلسطین کے ان بچوں کا سوچو، ان ماوں کو سوچو، ان بوڑھوں کا سوچو، ان بہنوں کا سوچو، افغانستان کا سوچو، کشمیر کا سوچو، برما کا سوچو، آج انہوں نے تمہاری طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ آج انہوں نے تم کو بلانا بھی چھوڑ دیا۔ ان کو بھی یقین آگیا کہ اب امت میں کوئی ابن قاسم نہیں، کوئی ایوبی نہیں، کوئی معتصم نہیں، کوئی غزنوی نہیں کوئی طارق کوئی قاسم نہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s