محبت اور عشق میں فرق

از قلم: محمد زبیر شیخ…. متعلم مرکز اہل الحدیث ملتان

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔

آئیے اس فرق کو جاننے کےلیے مستند عربی لغات کی طرف چلتے ہیں تاکہ حق معلوم ہونے کے بعد ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے رجوع کرکے صحیح بات کی طرف پلٹیں۔

محبت کا معنی:

امام اللغۃ مجد الدين أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادى (المتوفى: 817ھ) اپنی کتاب القاموس المحیط میں تحریر فرماتے ہیں: «الحُبُّ: الوِدادُ، كالحِبابِ والحِبّ، بكسرهما، والمَحَبَّةِ والحُبابِ بالضم» ’حُبّ‘ کا مطلب ہے محبت۔ حِبابِ، الحِبّ، المَحَبَّةِ، الحُبابِکے بھی یہی معنی ہیں۔ جس سے محبت کی جائے، اسے محبوب کہتے ہیں۔

(القاموس المحیط ج: ا، ص: 70، ط: الرسالة, بيروت)

محمد بن مكرم بن على، أبو الفضل، جمال الدين ابن منظور الأنصاري الرويفعى الإفريقى (المتوفى: 711ھ) اپنی کتاب لسان العرب میں رقم طراز ہیں: ’حُبّ‘ کا متضاد بغض ہے۔ حُبّ کے معنی پیار و محبت ہیں۔ حُبّ کو حِبّ بھی کہتے ہیں ۔ محبت کرنے والے کو مُحِبّ کہا جاتا ہے۔ جس سے محبت کی جائے، اسےمحبوب یا مُحَبّ کہتے ہیں۔

(لسان العرب ، ج: 1، ص: 289، ط: دار صادر – بيروت)

أبو نصر إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي (المتوفى: 393ھ) نے بھی اپنی کتاب الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية میں ایسی ہی بات لکھی ہے۔

(الصحاح للجوہری، ج: 1، ص: 105، ط: دار العلم للملايين – بيروت)

امام أبو القاسم الحسين بن محمد المعروف بالراغب الأصفهانى (المتوفى: 502ھ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں محبت کی تعریف یوں کرتے ہیں: «المحبَّة: إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا» کسی چیز کو اچھا اور مفید سمجھ کر اس کا ارادہ کرنا، اسے چاہنا محبت ہے۔ (ج: 1، ص: 214، ط: دار القلم، الدار الشامية – دمشق بيروت)

عشق کا مفہوم:

آئیے اب لفظ عشق کا معنی و مطلب دیکھتے ہیں:

امام فیروز آبادی لکھتے ہیں: « عُجْبُ المُحِبِّ بمَحْبوبِه، أو إفْراطُ الحُبِّ، ويكونُ في عَفافٍ وفي دَعارةٍ، أو عَمَى الحِسِّ عن إدْراكِ عُيوبِهِ، أو مَرَضٌ وسْواسِيٌّ يَجْلُبُه إلى نَفْسِه بتَسْليطِ فِكْرِهِ على اسْتِحْسانِ بعضِ الصُّوَر۔»محب کا اپنے محبوب کو بہت زیادہ پسند کرنا، یا محبت میں غلو کرنا۔یہ محبت پاک بازی کی حدود میں بھی ہوسکتی ہے اور بدکاری میں بھی۔ یا پھر عشق کہتے ہیں: محبوب کے عیوب دیکھنے کی حس سے محروم ہوجانا۔ یا پھر عشق ایک مرض ہے جو عاشق کو خیالوں کی وادی میں دھکیل دیتا ہے کہ بعض صورتیں اس کو اچھی لگنے لگتی ہیں۔ (القاموس المحیط ، ج: 1، ص: 909)

لسان العرب میں تقریباً یہی مفہوم موجود ہے۔ (ج: 10، ص: 251)

اور یہی مفہوم امام جوہری کی الصحاح میں ہے۔ (ج: 4، ص: 1525)

امام ابن فارس اپنی کتاب مقاییس اللغۃ میں لکھتے ہیں: عشق محبت کی حدود کو پھلانگنے کا نام ہے۔(ج: 4، ص: 321، طبع: دار الفكر)

امام ابن ابی العز شرح عقیدہ طحاویہ میں فرماتے ہیں کہ عشق اس بڑھی ہوئی محبت کو کہتے ہیں جس میں عاشق کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جس میں شہوت ہوتی ہے۔

محبت اور عشق میں فرق:

محبت اور عشق میں جو فرق ہے، اسے امام أبو هلال الحسن بن عبد الله بن سهل بن سعيد بن يحيى بن مهران العسكري (المتوفى: قریباً 395ھ) یوں بیان کرتے ہیں:

ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ عشق کہتے ہیں معشوق سے اپنی مراد ومطلوب حاصل کرنے کی خواہش۔ اسی لیے اچھا کھانے کی چاہت کو عشق سے تعبیر نہیں کیا جاتا ۔

اسی طرح عشق اس خواہش کو بھی کہا جاتا ہے جو حد سے بڑھ جائے اور عاشق اگر اسے پورا نہ کرسکے تو وہ خواہش اسے مار ڈالتی ہے۔

(الفروق اللغویۃ ، ج: 1، ص: 122، ط: دار العلم والثقافة القاهرة)

محبت اور عشق میں فرق اس انداز سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ محبوب محبوب ہی رہتا ہے، کوئی محبّ ہویا نہ ہو جبکہ معشوق معشوق نہیں ہوتا جب تک کوئی عاشق نہ ہو۔

محبت کا تعلق اور نسبت رب، رسول کی اور ہر ایک کی طرف کی جاسکتی ہے جبکہ عشق کا تعلق صرف معشوق سے ہوتا ہے۔

محبّ ساری دنیا کےلیے سکون کا طلب گار ہوتا ہے جبکہ عاشق صرف اپنی جنسی تسکین چاہتا ہے۔ (ملخصاً از: میں محبت کس سے کروں, از: الشیخ عظیم حاصل پوری، ص: 23)

معلوم ہوا کہ عشق ایک مذموم فعل ہے جبکہ محبت ایک پسندیدہ فعل ہے۔

عشق کی شرعی حیثیت:

قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف علیہ السلام سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔

ایک اشکال:

بعض لوگ عشق کے ثبوت میں ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: «من عشق، فعف، وكتم، وصبر، ثم مات كان شهيداً» جس نے عشق کیا، پھر پاک دامن رہا، اسے چھپایا اور صبر کیا، پھر مر گیا تو وہ شہید ہوگا۔

ازالہ:

یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیےسلسلۃ الضعیفۃ للألبانی رحمہ اللہ، ح: 409۔معلوم ہوتا ہے کہ ان عُشَّاق (بروزن فُسَّاق) نے احادیث کو بھی معاف نہیں کیا اور اپنے پاگل پن کا ثبوت دینے کےلیے نبیﷺ پر جھوٹ بولنے سے بھی پرہیز نہیں کیا اور یوں نبیﷺ کی اس حدیث کا مصداق بنے کہ : «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

(صحیح البخاری: 3461)

عشق عقل کے میزان میں:

عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔ مثال درکار ہو تو لیلی کے مجنوں کو دیکھ لیجئے، سسی کے پنوں کا جائزہ لیجئے، ہیر کے رانجھے کی داستان پڑھیے۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد پھرتے، آہیں بھرتے، رت جگا کرتے، ہر شے سے بےخبر، بس اک معشوق میں مگن کسی نوجوان کو دیکھ لیجئے جو آپ کو عین انہی صفات کا حامل نظر آئے گا جو اوپر درج کی گئی ہیں۔

مُحِبّ رسولﷺ یا عاشق رسولﷺ؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مؤمن ومسلمان کو سب سے زیادہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت ہونی چاہیے جیسا کہ قرآن کی آیات اور احادیث اس کی وضاحت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر محبت الہٰی کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:

‹وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلہِ› [البقرۃ: 165]

ایمان والے اللہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔

اور محبت رسولﷺ کے بارے میں پیارے پیغمبر جناب محمد رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

«لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (صحیح البخاري: 15)

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سےزیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ ایک روایت میں نبی کریمﷺ نے یہ بات قسم اٹھا کر بھی فرمائی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس شدید اور سب سے زیادہ محبت کو ظاہر کرنے کےلیے لفظ عشق کا استعمال صحیح ہے؟ تو اس کا صاف، سیدھا ، واضح اور دو ٹوک جواب یہی ہے کہ نہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً:

1 لفظ عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ رسول اللہﷺ سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں جو محبت ہوتی ہے، وہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔

2 اگر اس معنی سے صرف نظر کرلیا جائے اور بڑی بڑی پگڑیوں والے اپنے آپ کو عاشق کہلوابھی لیں تو کیا خواتین کےلیے اس لفظ کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی کہ وہ بھی عاشقان رسول کہلوا لیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا خواتین کےلیے الگ اسلام ہے اور مردوں کے لیے الگ؟

3 اہل بیت سے محبت ، عقیدت اور ان کی عزت کا خیال رکھنے کا ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم: 2408) اہل بیت میں ازواج مطہرات اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن بھی شامل ہیں، کیا ان کےلیے بھی یہی لفظ استعمال کیا جائے گا؟ جو لوگ ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج سمجھتے ہیں اور پنجتن پاک کا نعرہ لگاتےہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں پنجتن پاک سے محبت اور عشق ہے، کیا وہ اس پنجتن کے ایک ایک فرد کا نام لے کر عاشق ہونے کا اظہار کرسکتے ہیں؟ مثلاً: عاشق رسول، عاشق علی، عاشق حسن، عاشق حسین تو ہر کوئی کہلوانے کو تیار ہوجاتا ہے لیکن عاشق فاطمہ لوگ نہیں کہلواتے۔ کیوں؟ وجہ ظاہر ہے کہ سب سمجھتے ہیں کہ لفظ عشق کا استعمال مقدس ہستیوں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

4 ہر شخص یہ بات کہتا ہے کہ مجھے اپنے اہل خانہ سے محبت ہے۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔ کیا کوئی شخص اس بات کو زبان پر لا سکتا ہے کہ میں اپنی والدہ یا بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں؟ اگر نہیں تو کیا اللہ اور نبیﷺ کی ذات مبارک ہی اتنی گئی گزری ہے کہ بےتکلف لوگ اپنے آپ کو عشق الہٰی میں غرق اور عاشق رسول کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟

عشق کا جواز اقبال سے:

بعض لوگ جب کوئی اور چارہ نہیں دیکھتے تو فوراً کہتے ہیں کہ دیکھو جی! علامہ اقبال نے بھی تو اپنی شاعری میں لفظ عشق کو استعمال کیا ہے اور بےتحاشا کیا ہے۔ کیا وہ بھی غلط تھے؟

اشکال کا حل:

اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ ہوں یا کوئی اور صاحب علم ودانش، ہمارے لیے اصل دلیل قرآن وحدیث ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ علامہ صاحب نے اسے اس کے مروجہ معانی ومفاہیم سے نکال کر ایک نئے معنی یعنی جوش، جنوں، انجام کی طرف دھیان دیے بغیر کام کرجانا وغیرہ میں استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:

؎ بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

مذکورہ بالا شعر میں وہ لفظ عشق کو عقل کے مقابلے میں لے کر آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عقل انسان کو آگ میں چھلانگ لگانے سے روکتی ہے ، لیکن یہ ابراہیم علیہ السلام کا جذبہ ایمانی ہی تھا جس نے انہیں عقل کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے رب کی خاطر آگ میں کود جانے پر آمادہ کیا۔

معلوم ہوا کہ علامہ صاحب کے طرز عمل سے استدلال غلط ہے اور صحیح بات وہی ہے کہ اس لفظ کا استعمال عموماً اور اللہ اور رسولﷺ کی طرف نسبت کرکے استعمال کرنا خصوصاً غلط اور ناجائز ہے۔

سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں:

ہمارے ہاں اکثر گلیوں، بازاروں میں دیواروں پر اور دکانوں اور گھروں میں کیلنڈرز وغیرہ پر یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ

؎ سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

میرے گھر میں بھی چراغاں ہوجائے یا رسول اللہﷺ

یہ شعر، اگر اسے شعر کا نام دیا جانا درست ہو، بالکل غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سنی سنائی بات ہے ، کوئی پختہ اور مضبوط بات نہیں جیسا کہ ’شاعر‘ موصوف کا اقبالی بیان ہے۔ اور سنی سنائی بات کا شریعت میں جو مقام ہے، وہ اس حدیث سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ» یعنی کسی بھی شخص کے جھوٹا ہونے کےلیے اتنا ہی کافی کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔ (صحیح مسلم: 5)

پھر یہ سنی سنائی بات قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی وفات کا تذکرہ کیا ہے۔ اور احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ نبیﷺ فوت ہوگئے ہیں۔ اور وفات کے بعد نبیﷺ کا مقام اور ٹھکانہ احادیث کی رو سے جنت ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ایک لمبی روایت موجود ہے کہ دو فرشتوں نے خواب میں نبیﷺ کو چند ایک مقامات کی سیر کروائی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ذرا اوپر نظر اٹھا کر تو دیکھیے۔ آپﷺ نے جب دیکھا تو ایک محل نظر آیا جو سفید بادلوں جیسا تھا۔فرشتوں نے جب بتایا کہ یہ آپ کا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: مجھے اس میں جانے دو۔ اس پر فرشتوں نے جواب دیا: «إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ»

ابھی آپﷺ کی عمر کے کچھ سال باقی ہیں۔ جب وہ پورےہوجائیں گے تو آپﷺ اپنے اس محل میں تشریف لے جاسکیں گے۔ (صحیح البخاری: 1386)

معلوم ہوا کہ نبیﷺ اب اپنی حیات دنیوی پوری کرنے کے بعد جنت میں اپنے محل میں تشریف فرما ہیں۔ اور جنت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کے قید خانے میں کون آنا چاہے گا؟ جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:«الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ» دنیا مؤمن کےلیے قیدخانہ ہے۔ (صحیح مسلم: 2956)

اسی طرح رسول رحمت ﷺ فرماتے ہیں : «مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ، لَهُ عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ، يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلَّا الشَّهِيدَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى»

مرنے کے بعد جس بندے کےلیے اللہ کے ہاں خیر وبھلائی ہوگی، وہ کبھی بھی دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے ساری دنیا ہی کیوں نہ وقف کردی جائے۔ سوائے شہید کے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ اس نے شہادت کی جو فضیلت دیکھی تھی، وہ اسے آمادہ کرے گی کہ وہ دنیا میں لوٹ آئے اور دوبارہ اللہ کے راستے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردے۔ (صحیح البخاری: 2795)

ان احادیث کے پیش نظر یہ کہنا کہ ’’سنا ہے آپﷺ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں‘‘ بالکل غلط ثابت ہوتا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح کے یہ عاشق ہیں، نبیﷺ تو انہیں دیکھنا ہی پسند نہ فرمائیں گے کیونکہ شرک وبدعات میں یہ ڈوبے ہوئے،فرائض کے تارک اور سنتوں کا مذاق اڑانے والےہیں، ان کے گھر تشریف لانا تو دور کی بات ہے!!!

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن وحدیث پر چلنے اور سیرت کے اصل پیغام ’توحیدوسنت‘ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s