کیا طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے سلسلے میں زبردستی یا مجبوری کا دعویٰ قابل قبول ہے ؟

سوال:

کیا اس مسئلے یعنی طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے سلسلے میں زبردستی یا مجبوری کا دعویٰ قابل قبول ہے ؟خاص طور پر جبکہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کی مدد اور حمایت اس لئے کی کہ انہوں نے ہمیں مجبور کیا لہٰذا طاغوت کی حمایت ومدد کرنے کے لئے وہ مجبوری کو عذر بناتے ہیں ۔

جواب:

ہم کہتے ہیں :اس مسئلے میں یعنی طاغوت کی مدد وحمایت کے سلسلے میں مجبوری کا عذر غیر شرعاً غیر معتبر اور ناقابل قبول ہے کیونکہ توحید طاغوت کے ساتھ کفرکرنے کے ذریعے ہی ثابت ہوتی ہے اور طاغوت کے ساتھ کفر اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست نہ بنایاجائے اور قول وفعل کے ذریعے محض انہی سے محبت اوران کی مدد نہ کی جائے اور جس قدر ممکن ہو ان کی خیر خواہی نہ چاہی جائے ایسے ہی ایمان اور توحید سے متعلق دیگرمسائل ،اقوال وافعال کو اختیار نہ کرلیا جائے ۔طاغوت کے ساتھ کفر کی حقیقت یہ ہے کہ کفر اور کافروں سے براء ت اختیار کی جائے ان سے اور ان کے دین اور عقیدے سے نفرت کی جائے اور ظاہر اور باطن ہر طرح ان سے مکمل طور پر الگ ہوجایاجائے اوران کی طرف معمولی سابھی جھکاؤ نہ ہو اورانہیں پسند نہ کیاجائے اور ظاہر وباطن ہر اعتبار سے ان کی مشابہت اختیار کرنے سے بچاجائے اور ان کی شرعی اعتبار سے مکمل مخالفت کی جائے اور ان کی نہ مدد کی جائے نہ حمایت او رمسلمانوں کے خلاف ان کی مدد یا حمایت سے مکمل اجتناب کیاجائے اور جان ،مال اور زبان کے ذریعے ان کے خلاف جہاد جاری رکھاجائے ایسے ہی اللہ کے لئے دوستی اور دشمنی کے تمام تقاضوں کو پورا کیاجائے۔

محدث ابوالوفاء ابن عقیل ﷫نے کیا خوب فرمایا کہ :
’’اگر تم اہل زمان میں اسلام کی قدرومنزلت جاننا چاہتے ہو تو مساجد میں ان کی بھیڑ اور میقات میں ان کی لبیک کی صداؤں پر مت جاؤ بلکہ دشمنان دین سے ان کی ہم آہنگی کی طرف توجہ کرو‘‘۔

علاوہ ازیں جسے مسلمانوں کے لڑنے پر مجبور کردیاجائے اس کے لئے پھر بھی جائز نہیں کہ وہ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہو کیونکہ اس کی جان اللہ کے نزدیک مجاہدین فی سبیل اللہ سے بڑھ کرنہیں ہوسکتی جن کی تعریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اﷲَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن……الآیة۔
’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے میں خرید لئے ہیں کہ ان کے لئے جنت ہوگی وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں ….الآیۃ‘‘۔

اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ خود کو نقصان سے بچانے کی خاطر دوسرے مسلمان کو نقصان میں مبتلا کردے اور علماء اصول نے یہ اصول بتایا ہے کہ الضرر لایزال بمثلہ ’’نقصان کو اس جیسے نقصان کے ذریعے زائل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

چنانچہ جب ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل پر مجبور کردیا جائے تو اس کے لئے اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے تو جو مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کفار کے ساتھ شریک ہو اس کے لئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے مجبوری کی بناء پر مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی صفوں میں محض شریک ہونا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ لڑائی جائز ہوجائے کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے عام حالات میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل پر مجبور کردیاجائے۔

امام سرخسی ﷫اس سلسلے میں ’’شرح السیرالکبیر(1517/4)میں فرماتے ہیں :
’’اور اگر وہ کفار ان (مسلمانوں )سے کہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑو وگرنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے تو ان کے لئے مسلمانوں سے لڑنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو مسلمانوں پر بعینہ حرام ہے لہٰذا قتل کی دھمکی کی بناء پر اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جیسے اگر کوئی مسلمان سے کہے کہ اس مسلمان کو قتل کردے وگرنہ میں تجھے قتل کردوں گا اسی طرح اگر کفار مسلمانوں کو دھمکی دے کر کہیں کہ ہماری صفوں میں شامل ہوجاؤ لیکن پھر وہ مسلمانوں سے لڑائی بھی نہ کریں اس صورت میں مجھے امید ہے کہ گنجائش ہے کیونکہ اس صورت میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کچھ کیا نہیں ہے لہٰذا یہ ظلم نہیں ہوگا اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ مشرکین کی صفوں میں شامل ہوکر انہوں نے مسلمانوں کی نگاہ میں مشرکین کی تعداد میں اضافہ کردیا تویہ ایسے ہی ہے جیسے کسی مسلمان کو جان کی دھمکی دے کر دیگر مسلمانوں کے مال چھیننے پر مجبور کردیا جائے اور اگر مسلمانوں کو مشرکین سے اپنی جانوں کا خوف نہ ہو تو ان کے لئے ان کے ساتھ ان کی صفوں میں شامل ہونا بھی جائز نہیں اگر چہ مشرکین اس پر مجبور کریں کیونکہ ایسا کرنے میں دیگر مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں مرعوب کرنا اور انہیں منتشر کرنا لازم آتا ہے اور کسی مسلمان کے لئے بلاضرورت ایسا کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ‘‘۔

میں کہتا ہوں:شرعی اعتبار سے ضرورت کے وقت بھی ایسا کرنے کی گنجائش نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا کرنے میں اس سے بڑے نقصان کا خطرہ ہے یعنی کسی مسلمان کا کافروں کے لشکر میں مل جانا اور طاغوت کی مددکرنا اور اس کے لئے لڑنا یہ خود اس مسلمان کے قتل یا قید یا پٹائی وغیرہ سے زیادہ بڑا نقصان ہے اسی لئے شریعت مطہرہ اس جیسی ضرور ت یا مجبوری کا اعتبار نہیں کرتی کیونکہ ایسا کرنے میں بہت سے دنیاوی اور دینی نقصانات ہوتے ہیں۔اس کی دلیل صحیح بخاری کتاب المغازی باب شہود الملائکہ بدرا کی یہ حدیث ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا کہ ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ :’’انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺسے اجازت مانگی اور کہا (ائذن لنا فلنترک لابن اختنا عباس فداء ہ قال واﷲ لا تذرون منہ درھما)’’آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑدیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کا ایک درہم بھی نہ چھوڑو‘‘ (فتح الباری:321/7حدیث نمبر4 018)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں :’’عباس سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مراد ہیں اور ان کی ماں انصاریہ نہ تھیں بلکہ ان کی دادی یعنی عبدالمطلب کی ماں انصاریہ تھیں لیکن انہوں نے عباس کی دادی کوبہن کہا کیونکہ وہ انہی کی قوم سے تھیں اور عباس کو ان کا بیٹا کہا کیونکہ وہ ان کی دادی تھیں اور ان کا نام سلمی بنت عمرو بن زید بن لبید ہے وہ بنی عدی بن نجار سے پھر بنی خزرج سے تھیں جبکہ عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام نتیلہ بنت جناب ہے جو کہ تیم اللات بن نمر بن قاسط کی اولاد سے ہیں ۔کرمانی کو وہم ہوا لہٰذا اس نے کہا کہ عباس بن عبدالمطلب کی والدہ انصاریہ تھیں اور یہ بات انہوں نے انصاریوں کے ظاہری قول ’’ہمارے بھانجے ‘‘کی بناء پر کہی ہے جبکہ حقیقت وہ نہیں جو انہوں نے سمجھی بلکہ اس سے بڑھ کر ہے جیسا کہ میں نے وضاحت کی ہے ۔ (فتح الباری:322/7)

یہ عباس رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو مکہ میں مسلمان ہوچکے تھے مشرکین مکہ انہیں اور ان کے ساتھ کچھ اور مسلمانوں کو بھی غزوہ بدر میں مسلمانوں کے مقابلے کے لئے زبردستی اپنے ساتھ لائے تھے جیسا کہ مسند احمد 89/1حدیث نمبر 676میں عبداللہ بن احمد اپنے والد احمد بن حنبل سے ’’وجادۃ‘‘(علماء مصطلحین کی ایک مخصوص اصطلاح یعنی اپنے والد کی لکھی ہوئی کتاب سے )روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول ﷺنے غزوہ بدر کے دن فرمایا (من استطعتم ان تاسروا من بني عبدالمطلب فانھم خرجوا کرھا ولم یعذرھم رسول اﷲﷺبل امرباسرھم وکان منھم العباس بن عبدالمطلب  اسرہ ابو الیسر)’’تم میں کون ہے جو عبدالمطلب کی اولاد کو قید بنائے کیونکہ انہیں زبردستی لایا گیا ہے اور نبی نے ان کا عذر نہ مانا بلکہ انہیں قید کرنے کاحکم دیا اور ان میں عباس بن عبدالمطلب بھی شامل تھے انہیں ابویسر نے قیدی بنایا‘‘۔اس حدیث کے مطابق نبیﷺ نے اپنے چچا عباس  رضی اللہ عنہ کے ساتھ کفار والا معاملہ کیا جبکہ وہ مسلمان تھے اور مکہ کے کمزور لوگوں میں سے تھے ۔

ابن اسحاق﷫نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺنے عباسرضی اللہ عنہ  سے کہا :
(یا عباس افد نفسک وابن اخویک عقیل بن ابی طالب ونوفل بن الحارث وحلیفک عتبة بن عمرو فانک ذو مال قال انی کنت مسلما ولکن القوم استکرھونی قال اﷲ اعلم بما تقول ان کنت ما تقول حقا ان اﷲ یجزیک ولکن ظاھر امرک انک کنت علینا)
’’اے عباس اپنا اور اپنے بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا فدیہ دو تم مالدار ہو انہوں نے کہا میں تومسلمان تھا او رلوگ مجھے زبردستی لائے ہیں آپ نے فرمایا اللہ ہی جانتا ہے جو تم کہہ رہے ہو اگر تم جو کہہ رہے ہو سچ ہے تواللہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی آئے تھے ‘‘۔
( فتح الباری:322/7)

اس حدیث میں نبی ﷺکا فرمان ’’بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی آئے تھے‘‘اس بارے میں صریح ہے کہ جو مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ آئے گا وہ اس کے ساتھ کفار والا معاملہ ہی کیاجائے گا اور اس کا اورکفار کا ایک ہی حکم ہوگاوہ ان کی طرح کافر ہی شمار ہوگالہٰذا وہ لشکر اور فوجی جو طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ان پر بھی مرتد ہونے کے احکام جاری ہوں گے جو مرتد حکام پرجاری ہوتے ہیں وہ یقینا انہی کی طرح کافر ہوں گے اور عباس رضی اللہ عنہ کا مذکورہ واقعہ اس بات کی انتہائی واضح دلیل ہے ۔واﷲ الموفق للصواب۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s