جہاد فی سبیل اللہ کا حکم قیامت تک کے لئے

مسلم معاشرے کو اور’’عمرانی ارتقاء‘‘کو بنیاد بناکر موجودہ دور کے جدیدیت پسنداور مغرب کی طاقت سے مرعوب، ریسرچ اور تحقیق میں اپنی حدوں کو پھلانگ جانے والے دانشوروں اور اسکالروں نے موجودہ دور میں :
(۱) اوّل مسلمان ہونے کی بناء پرظالم حکمران کے خلاف ’’خروج‘‘اور
(۲) دوم موجودہ زمانے میں عددی قوت اور ٹیکنالوجی کے فرق کی بنیاد پر

فی زمانہ ’’قتال‘‘ کو ناقابل عمل (Infesable)سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے لئے یہ ’’راہِ عمل ‘‘تجویز کررہے ہیں کہ:
’’ وقت کے دریا میں سے بہت سا پانی گذرگیا ہے اور حالات میں بہت تبدیلی آچکی ہے جس کی وجہ سے دین حق کی اقامت اور طاغوت کی حکمرانی سے نجات اور مسلمانوں کو کفار و مشرکین سے نجات دلانے کے لئے ’’قتال ‘‘کے حوالے سے اجتہاد کی ضرورت ہے۔چنانچہ اب قتال کی جگہ انتخابات ، پُر امن مظاہروں اوردیگر جمہوری طریقوں سے جدوجہد کی جائے ۔‘‘

جان لیجئے !یہ بات قرآن و حدیث میں مذکور اللہ اور اس کے رسول ﷺارشادات اور سلف وخلف کے متفقہ فتاویٰ و اقوال سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اس کے بالکل برخلاف جاتی ہے ۔چنانچہ :
(1) اوّل بات کی پوری طرح وضاحت ان شاء اللہ ’’طاغوت‘‘اور ’’الولاء والبراء‘‘کے عنوان میں سمجھیں گے ۔ مختصر یہ کہ ’’خلافت ‘‘کے ادارے کی موجودگی میں اگر کوئی مسلم حکمران مسلمانوں پر ظلم و ستم کرے اور مسلمانوںکا نظامِ حکومت کو صحیح انداز سے نہ چلائے تو اس صور ت میں اس کے خلاف’’خروج ‘‘کی شروط اور اس کے ساتھ صحابہ کرام اور سلف وصالحین کا مؤقف اور طرزِ عمل میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر جیسے یزید کے معاملے میں نواسہ رسول حضرت حسین اور حضرات صحابہ مثلاً حضرت عبد اللہ بن زبیر ،حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمر کا طرزِ عمل اور حجاج بن یوسف کے معاملے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت عبد اللہ بن عمر کا خروج میں اختلاف ۔مگر وہ حکمران جوکہ خلافت کی موجودگی میں بحیثیت خلیفہ’’کفر بواح ‘‘یعنی وہ اقوال و افعالِ کفر جن کی قرآن و سنت میں صریح دلیل موجود ہے اور جن کا مرتکب کوئی بھی شخص، دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ،اس کے خلاف بااتفاقِ صحابہ کرام اور سلف و صالحین ’’خروج ‘‘ فرضِ عین ہوجاتا ہے۔چہ جائیکہ نہ آج ’’خلافت‘‘قائم ہے اور اس کے ساتھ بلادِ اسلامیہ حکومت کرنے والے اکثر حکمران اللہ کے نازل کردہ قانونِ شریعت کو چھوڑ کر اپنے وضع کردہ یا کہیں اور سے درآمد شدہ قوانین کو رائج کریں اور ان کی اہل ایمان اور دین اسلام سے دشمنی اور یہودونصاریٰ سے دوستی جیسے ’’کافر ومرتد ‘‘بنادینے والے اعمال بھی آج کسی سے بھی پوشیدہ نہ ہوں پھر بھی وضع الشیئ فی محلہ ’’یعنی ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا‘‘کے اصول کے برعکس ان پر ’’ظالم مسلمان خلیفہ‘‘کے احکامات لگاتے ہوئے ’’خروج ‘‘ کی بحث کرنا کم عقلی و کم علمی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔شایدایسی سوچ رکھنے والے لوگوں سے ہی دینی معاملات میں رہنمائی لینے سے خبردار کرتے ہوئے رسول اللہﷺنے فرمایا تھا:
’’یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ لوگ (اپنے دینی معاملات میں )جاہلوں سے علم حاصل کریں گے‘‘۔


((اِتَّخَذَالنَّاسُ رَءُوْساً جُھَّالًا،فَسُئِلُوْا فَاَفْتَوْابِغَیْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوْاوَاَضَلُّوْا))
’’لوگ جہلا کواپنا بڑا بنالیں گے اور ان جاہلوں سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے جاری کریں گے ۔پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘۔
(رواہ الطبرانی واسنادہ صحیح ۔)

(2) دوم یہ کہ آج کے دور کے حوالے سے جس عددی قوت اور ٹیکنالوجی کی کمی کو بنیاد بناکر قتال کے مرحلے کے حوالے سے ’’اجتہاد‘‘ کی بات کی جاتی ہے اور یہ کہاجاتا ہے کہ آج ہمارے پاس وہ عددی قوت اور ٹیکنالوجی نہیں جس کے ذریعے ہم باطل سے پنجہ ٔ آزمائی کریں۔چنانچہ موجودہ دور میں صر ف یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ’’الیکشن ‘‘یا ’’پُرامن احتجاجی مظاہروں‘‘کے ذریعے مسلمانوں کویہودونصاریٰ اور ان کے پروردہ حکمرانوں کے ظلم وستم سے نجات دلائی جائے ۔

جان لیجئے!یہ بہت بڑا شیطان کا دھوکہ ہے اور آنکھوں کو دھوکہ دینے والاسراب ہے ۔اس کے برعکس ہمیں قرآن و حدیث میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ارشادات اور سلف وخلف کے طرزعمل سے یہ بات صراحت کے ساتھ ملتی ہے کہ تا قیام قیامت ’’قتال ‘‘ہی وہ واحد طریقہ ہے جو کسی بھی کافر یا زبانی مسلمان حکمران کے خلاف فتنوں کو رفع کرنے اور غلبۂ دین حق کے لئے کیا جاتاہے ۔چنانچہ اب کسی ’’اجتہاد‘‘ کی یا عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ (لَااِجْتَھَادَ مَعَ النَّصِّ)’’نص کی موجودگی میں کوئی اجتہاد نہیں‘‘۔

ہاں البتہ یہ بات بھی واضح رہے کہ ’’قتال‘‘کے لئے مقدور بھر تیاری کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ احادیث میں واضح طورپر دیا ہے ۔لیکن یہ کہیں نہیں کہ قتال یا اس کی مقدور بھر تیاری کرنے کے بجائے کوئی اورجمہوری یا اپنے عقل و دانش کی وضع کردہ دوسری راہ اختیار کرلی جائے۔

’’قتال کی حجیت تاقیام قیامت‘‘قرآن کی روشنی میں:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُم وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ ْوَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
’’ تم پرقتال کاکرنا فرض کردیا گیا ہے اگر چہ وہ تمہیں کتنا ہی نا پسند ہو اور ممکن ہے تم کسی چیز کو نا پسند کر تے ہو حالا نکہ وہ تمہا رے لئے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسندکر تے ہو اور وہ تمہا رے لئے شر ہو اور اﷲ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جا نتے ہو‘‘

الحمد للہ !تمام مسلمانوں کا اس بات پر ایما ن ہے کہ قرآن کریم میں بیا ن کردہ کسی بھی شعبے میں رہنمائی ،قیامت تک کیلئے قابل عمل ہے اوراس میں کسی تردّد کی گنجائش نہیں۔چنانچہ نے قتال کے مرحلے کے لئے رہنمائی دیتے ہوئے قرآن کریم نے حضرت طالوت کالشکر جوکہ جالوت کے لشکر سے نبرد آزماہونے کے لئے کھڑاتھا،کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا :
فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ قَالُوْا لاَ طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٍ کَثِیرَة بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہ،ُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ
’’پھر جب طالوت اور اس کے مسلمان ساتھی دریاپار کرکے آگے بڑھے ،تو انہوں نے طالوت سے کہاکہ ’’آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔لیکن وہ لوگ جن کو اس بات کا یقین تھا کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے ،انہوں نے کہا :’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اِذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
(سورة البقرة :۲۴۹۔)

سورۃالاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمادیا:
وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا
’’اوراللہ تعالیٰ کافی ہے مومنوں کی طرف سے جنگ کے لئے ا ور اللہ تعالیٰ بڑی قوت والااور زبردست ہے‘‘
(سورةالاحزاب:۲۵۔)

اس طرح سورۃ النسآء کی آیت ۴۸ میں اللہ رب العزت نے رسول ﷺکومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لاَ تُکَلَّفُ اِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّکُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاللّٰہُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْکِیْلاً
’’پس تم جنگ کرو اللہ کی راہ میں،تم اپنی ذات کے سواکسی کے ذمہ دار نہیں ۔البتہ مومنوں کو قتال پر ابھاریئے۔اللہ سے امید ہے کہ وہ کافروں کے زور کوتوڑدے گا اور اللہ سب سے زیاہ زور والااور سب سے سخت سزا دینے والا ہے‘‘

اس آیت کے حوالے سے حضرت براء بن عازب کی روایت منقول ہے کہ :
’’ابو اسحاق ﷫فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب سے پوچھا :اگر ایک شخص تنہا ہی مشرکوں پر کو د پڑے،تو کیا اس کایہ فعل اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے متراد ف ہے.؟حضرت براء بن عازب نے فرمایا :
((لَا!لِاَنَّ اللّٰہَ بَعَثَ رَسُوْلِہ، فَقَالَ: فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لاَ تُکَلَّفُ اِلاَّ نَفْسَکَ))
’’نہیں(ایسا نہیں ہے)کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکوبھیجا اور فرمایا :’’پس تم جنگ کرو اللہ کی راہ میں،تم اپنی ذات کے سواکسی کے ذمہ دار نہیں ۔‘‘
(الفتح الربانی :۱۴/ ۸،رواہ احمد و صححہ الحاکم ووافقه الذھبی۔)

موجودہ دور کے مادہ پرستانہ مفکرین کفار سے ’’قتال ‘‘کے لئے ان کے مساوی قوت و استعداد کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں ،وہ تو شاید قیامت تک بھی مسلمانوں کوحاصل نہ ہوسکے سوائے اللہ کی مدد ونصرت کہ،پھر تاریخ اسلام ا س بات کی شاہد ہے کہ اہل ایمان نے کبھی جنگوں میں کامیابی اپنی قوت و استعداد کی بناء پر حاصل نہیں کی اور نہ ہی کبھی ان کو کفار کے مساوی طاقت و استعداد حاصل رہی،سوائے چند ایک استثناء کہ ،ہمیشہ ان کو فتح و کامرانی جزبۂ جہاد ، مقدوربھر تیاری اور پھر اللہ پر کامل توکل کی بنیاد پر ملی۔

غزوۂ حنین کے موقع پر جب مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد اور اپنی طاقت و استعداد پر تھوڑا سا ناز ہوگیا تھا ،تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً تنبیہ اس صورت میں آئی کہ لشکر اسلام کے عارضی طورپر قدم اکھڑنے لگے۔مگر بعد میں اللہ کی نصرت ومدد سے فتحیا بی نصیب ہوئی۔
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَةٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُولِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ
’’بے شک اللہ نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور غزوۂ حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی کثرتِ تعداد پر ناز تھا ،مگر وہ تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ۔پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول ﷺ پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اُتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے اُن لوگوں کا جو حق کا انکا رکریں‘‘۔
(التوبة:۲۴،۲۶۔)

آج بھی اگر اہل ایمان کا اللہ کی مددو نصرت پر اور معجزات پر کامل یقین ہواور کفار کے مساوی نہیں بلکہ اپنی مقدور بھر تیاری کے ساتھ میدان میں اُتریں، تو اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ
’’(اے کافرو!)تمہاری جمیعت ،خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی(کیونکہ)اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔
(الانفال:۱۹۔)

فضائے بدر پیدا کر کہ فرشتے تیری نصرت کو
گردوں سے اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار اب بھی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s