مرتد ہونے کے اسباب کیا ہیں ؟ علماء کی آراء

اس بحث کے آخر میں ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ کچھ علماء کی آراء مع دلائل پیش کر دیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کون سے افعال ، اقوال یا اعتقادات ہیں جو کسی کو اسلام سے خارج کرنے کا سبب بنتے ہیں تاکہ ہر مسلمان ان سے واقف ہو سکے اور ان سے بچنے کی کوشش کرتا رہے اور دوسروں کو بھی ان سے محفوظ رہنے کی تاکید کرتا رہے۔  ان اسباب میں سے اکثر ایسے ہیں جن پر علماء کا اتفاق ہے اور بہت کم باتیں ہیں جن میں علماء نے اختلاف کیا ہے ۔

کتاب ’’الزواجر عن ارتکاب الکبائر ‘‘میں امام ابن حجر الہیثمی ؒ نے کہا ہے کہ کفر و شرک کی اقسام میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی زبان سے یا دل سے اس بات کو تسلیم کرے جو عقلی لحاظ سے محال ہو تو ایسا شخص کافر کہلائے گا یا ایسی بات کا عقیدہ رکھے جو عقلی طور پر محال چیز کے وجوب کے عقیدہ پر دال ہو یا اس کا فعل یا الفاظ اس بات پر دلیل ہو ۔ خواہ وہ فعل اعتقادً اہو،یا عناد کے طور پر ہو،یا مذاقاً ہو۔ مثلاً کوئی شخص عالَم کے قدیم ہونے کا عقیدہ رکھے یا ان صفات کی نفی کرے جو بالاجماع اﷲ کے لئے ثابت ہیں جیسے اﷲ کا علم یا اس کی قدرت یا اس کا عالِم بالجزئیات ہونے کا انکار یا اﷲ سے جس چیز کی نفی ضروری ہے اسے ثابت مانے جیسے اﷲ کے لئے رنگ ثابت کرنا کہ اس کا رنگ ایسا ہے ۔ اس کے بعد اس بات کی تفصیل انہوں نے یوں بیان کی ہے کہ جو شخص ایسا کوئی عمل کرے جو صرف کسی کافر سے ہی سرزد ہوتا ہے (تو یہ شخص کافر کہلائے گا )اگرچہ اسلام کا اظہار کرتا ہو ۔ مثلاً ایک مسلمان کہلانے والا عیسائیوں کے ساتھ ان کے طور طریقے اپنا کر صلیب گلے میں لٹکا کر گرجا میں جاتا ہو یا قرآن جس کاغذ پر لکھا ہو یا اﷲ کا نام لکھا ہو اسے گندگی میں کوڑے میں پھینکتا ہو یا کسی ایسے نبی کی نبوت میں شک کرتا ہو جس پر اجماع ہو چکا ہو یا کسی کتاب کے نزول کا انکار کرتا ہو جیسے تورات ، انجیل ، زبور ، صحفِ ابراہیم یا قرآن کی کسی آیت کا انکار کرتا ہو یا اس آدمی کے کافر ہونے میں شک کرتا ہو جو پوری امت کو گمراہ سمجھتا ہے یا صحابہ کرام کو کافر قرار دیتا ہو یا کوئی شخص مکہ ، کعبہ، مسجد حرام ، حج کے طریقوں یا ان کی مشہور کیفیت میں شک کرتا ہو ، یا روزہ ، نماز کی فرضیت میں شک کرے یا حرام کو حلال سمجھے ۔ جیسے بغیر وضوء کے نماز کو جائز سمجھنا ۔ یا کسی مسلمان یا ذمی کو بغیر کسی شرعی جواز کے سزا دینا جائز سمجھتا ہو (صرف اپنے اعتقاد کی بنیاد پر ) ۔ یا کسی حلال چیز کو حرام سمجھے جیسے نکاح ، تجارت وغیرہ یا جناب محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہے کہ ان کا رنگ کالا تھا یا ان کی وفات داڑھی نکلنے سے پہلے ہو گئی تھی یا یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریشی نہیں تھے یا عربی یا انسان نہیں تھے ۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی کوئی صفت بیان کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی نہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن صفات پر اجماع ہو چکا ہے ان میں سے کسی صفت کا انکار بھی کفر ہے ۔ جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کا عقیدہ ۔ یا کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مبعوث ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال مدینہ میں ہوا وغیرہ ۔یا کوئی شخص یہ کہے کہ نبوت اکتسابی چیز ہے ( یعنی کوئی بھی شخص اپنی محنت و صلاحیت سے نبوت حاصل کر سکتا ہے )یا تزکیۂ نفس کے ذریعے سے نبوت کے درجے تک پہنچا جا سکتا ہے یا یہ کہے کہ ولی کا رتبہ نبی سے بڑھ کر ہے اور ولی کو بھی وحی ہوتی ہے مگر وہ اس کا دعویٰ نہیں کرتا یا یہ کہ ولی مرنے سے پہلے ہی جنت میں جا سکتا ہے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور نبی یا فرشتوں کی طرف کسی عین کی نسبت کرتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر (نعوذ باﷲ)لعنت کرتا ہو یا گالیاں دیتا ہو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کرتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب پر کسی قسم کا الزام لگاتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں عیب نکالتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرتا ہو جو آپ کی شان کے منافی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بے عقلی کی باتیں کرتا ہو یا بدزبانی کرتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تکالیف و آزمائشیں آئی ہیں ان کو عار کا سبب سمجھتا ہو یا بشری عوارض جو کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز تھے ان پر اعتراضات کرتا ہو ، ان مذکورہ اقوال ، اعمال ، اعتقادات میں سے کسی کا بھی ارتکاب کرے تو وہ شخص بالاجماع کافر ہے ۔ اسے قتل کر دیا جائے گا ۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ اس کو توبہ کی بھی مہلت مت دو ۔ خالد بن ولید رضی اﷲعنہُ نے اس شخص کو قتل کر دیا تھا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ لفظ استعمال کیا تھا ’’عند صاحبکم ‘‘اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص مراد تھی (حالانکہ بظاہر لفظ میں کوئی برائی نہیں تھی اس کا معنی ہے: تمہارے ساتھی کے پاس ) مگر اس شخص نے ایسے موقع پر استعمال کیا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہو رہی تھی ۔

ابن حجر ہیثمی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

’’ کوئی شخص کفر پر راضی ہو اگرچہ ضمناً ہو مثلاً کسی کافر کو اشارۃً منع کر دے کہ مسلمان نہ ہونا یا کسی کے لئے کافر ہونے کی دعا کرے یا کسی مسلمان کو ( بلاتاویل ) کافر کہے(تو ایسا شخص بھی کافرہے) اس لئے کہ اس نے اسلام کو کفر قرار دے دیا۔ یا اﷲ تعالیٰ کے نام یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مذاق اڑائے ، ان کی توہین کرے یا اﷲ تعالیٰ یا اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم ، وعدے ، وعید کا مذاق اڑائے ۔ مثلاً یہ کہے کہ اگر اﷲ نے مجھے جنت دے دی تو میں اس میں نہیں جاؤں گا (اس کی اہمیت سے انکار کی بنا پر ، اسے معمولی سمجھتے ہوئے یا انکار کرتے ہوئے ) یا یہ کہے کہ میں بیمار ہوں اس لئے نماز نہیں پڑھ سکتا اب اگر اﷲ نے مجھ سے اس کا مواخذہ کیا تو یہ ظلم ہوگا ۔یا اگر کوئی مظلوم کسی ظالم سے کہے کہ تیرا ظلم تو اﷲ کی مقرر کردہ تقدیر کی وجہ سے ہے اور اس کے جواب میں ظالم کہے کہ میں اﷲ کی تقدیر کے بغیر ظلم کر رہا ہوں تو یہ (ظالم )کافر ہوگا اپنے اس قول کی وجہ سے ۔(کیونکہ یہ اﷲکی تقدیرکاانکارہے)۔ یا کوئی شخص کہے کہ میرے پاس گواہی کے لئے فرشتہ یا کوئی نبی آجائے میں پھر بھی نہ مانوں گا یا یہ کہے کہ اگر فلاں شخص نبی ہوتا تو میں اس پر کبھی ایمان نہ لاتا ۔یا یہ کہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فلاں قول سچا ہے تو پھر ہم کامیاب ہیں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کے قول کی سچائی میں شک کا اظہار کرے ) ۔یا کسی شخص سے کہا جائے کہ ناخن کاٹو ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے تو وہ یہ کہے کہ اگرچہ سنت ہے میں پھر بھی نہیں کاٹوں گا ۔ یا یہ کہے کہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ کہنے سے بھوک تو نہیں مٹ سکتی یا کسی بھی ذکر اذکار کے بارے میں ایسی کوئی بات کرے ۔یا اذان سن کر یہ کہے کہ مؤذن جھوٹ بول رہا ہے ۔ یا کفار اپنی عبادات کی طرف بلانے کے لے جو آوازیں لگاتے ہیں یا کوئی چیز بجاتے ہیں ان جیسی آواز نکالے یا اذان کی توہین و تحقیر کرے یا بطور استہزاء کے حرام چیز پر اﷲ کا نام لے (ذبح کرنے یا کھانے کے لئے )یا استہزاء ً کہے کہ میں قیامت سے نہیں ڈرتا یا اﷲ کے بارے میں یہ کہے کہ وہ چور کا پیچھا نہیں کر سکتا ( وہ عاجز ہے )یا یہ کہے کہ فلاں چیز یا فعل حرام کر کے اﷲ نے ظلم کیا ہے۔ یا کافروں کے دین سے متاثر ہو کر ان کا لباس اختیار کرے یا اسے پسند کرتا ہو یا یہ کہے کہ مسلمانوں سے یہودی بہتر ہیں۔ یا کسی سے پوچھا جائے کہ ایمان کیا ہے تو وہ کہے کہ مجھے نہیں معلوم (اور یہ بات وہ تحقیر کے طور پر کہہ رہا ہو ) ۔ صحابہ کرام میں سے ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کے صحابی ہونے کا انکار کرے یا حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہ پر بہتان لگائے ۔ ایسا شخص اس لئے کافر ہے کہ وہ قرآن کی تکذیب کر رہا ہے ۔ یا ، مذاق میں بھی اگر کہتا ہے کہ میں اﷲ ہوں یا یہ کہے کہ میں اﷲ کا حق نہیں جانتا اور اس بات سے مراد اﷲ کے فرض کردہ امور کا انکار ہو یا یہ کہے کہ حشر جہنم کی کیا حیثیت ہے ؟ (بطور تحقیر یا انکار کے ) یا تحقیر کے طور پر یہ کہے کہ قرآن سے یا نماز یا ذکر اﷲ سے میرا پیٹ بھر گیا ہے (یعنی اب مجھے مزید کی ضرورت ہی نہ رہی بہت کر لیا یہ سب کچھ) یا یہ کہے کہ تمام جہاں پر لعنت ہے اس میں چونکہ انبیاء اور ملائکہ بھی آجاتے ہیں لہٰذا یہ شخص کافر ہے ۔یا یہ کہے کہ اس شریعت (اسلام) کی کیا حیثیت ہے ؟ (توہین آمیز انداز سے کہے)یا یہ کہے کہ جب ربوبیت ظاہر ہو جاتی ہے تو الوہیت ختم ہو جاتی ہے یعنی احکام کی پابندی کی ضرورت نہ رہی۔ یا یہ کہے کہ میں صفتِ ناسوتیت سے لاہوتیت میں فنا ہو چکا ہوں (ناسوتیت کا معنی ہے انسانیت ، لاہوتیت کا مطلب ہے خدائی صفات یا الوہیت ) ۔یا یہ کہے کہ میں نے اﷲ کو دنیا میں ظاہری حالت میں دیکھا ہے یا اﷲ نے مجھ سے براہِ راست بات کی ہے یا وہ خوبصورت شکل میں حلول کرتا ہے یا یہ کہے کہ اﷲ نے مجھ سے احکام کی پابندی ختم کر دی ہے یا یہ کہے کہ بندہ عبودیت کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے اور طریقے سے اﷲ تک پہنچ سکتا ہے یا یہ کہے کہ روح ، اﷲ کے نور کا حصہ ہے اور جب نور نور سے ملتا ہے تو ایک ہی چیز بن جاتی ہے(تو ایساشخص یقینا کافرہے)۔ ‘‘

امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ قرآن کی آیت{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲ ُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ}(المآئدۃ : ۴۴)’’ جو اﷲ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ (حکومت )نہیں کرتے وہ لوگ کافر ہیں ‘‘کے ضمن میں لکھتے ہیں :

’’اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ جو شخص اﷲ کے اپنے رسول پر نازل کردہ احکام کو لازمی اور واجب نہیں سمجھتا وہ شخص کافر ہے ۔ اس لئے کہ جو بھی قومیں ہیں وہ اکثر عادلانہ فیصلے کرتی ہیں بلکہ عدل اکثر ان کے دین میں ہوتا ہے اور ان کے اکابر بھی یہی کہتے ہیں بلکہ اکثر لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں وہ بھی اپنی قوم کے طریقوں پر فیصلے و حکومتیں کرتے ہیں اﷲ کے احکام کے مطابق نہیں کرتے ۔ جیسے گائوں دیہاتوں کے باشندے ۔اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہی صحیح اور بہتر ہے جبکہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔یہی دراصل کفر ہے ۔ اس لئے کہ اکثر لوگ اسلام لانے کے باوجود فیصلے اور حکومتیں اپنی سابقہ عادات و اطوار کے مطابق کر رہے ہوتے ہیں جن کا حکم ان کے سرداروں نے دیا ہوتا ہے ۔ ان لوگوں کو جب یہ معلوم بھی ہوتا ہے کہ فیصلہ صرف اﷲ کے نازل کردہ احکام کے مطابق کرنا چاہئے پھر بھی اسے نہیں اپناتے بلکہ جائز سمجھتے ہیں کہ اﷲ کے احکامات کے خلاف فیصلہ کریں۔ لہٰذا یہ لوگ کافر ہیں ۔ ‘‘ (منہاج السنۃ النبویہ )

اس مضمون کے ضمن میں عقیدہ طحاویہ کے شارح کہتے ہیں کہ یہاں ایک اہم امر ہے جسے سمجھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اﷲ کے حکم کو چھوڑ کر کسی اور طریقے پر فیصلہ یا حکومت کرنا کفر ہے ۔ امت سے یہی بات منقول ہے ۔ مگر کفر کا فتویٰ حاکم کی حالت و کیفیت کے مطابق لگایا جائے گا ۔ مثلاً اگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ کے احکام کے مطابق فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے اور مجھے فیصلہ و حکومت اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار ہے یا اسے یہ تو یقین ہے کہ فیصلے اﷲ کے احکام کے مطابق ہونے چاہئیں مگر وہ اس کو اہمیت نہیں دیتا تو ایسا حکمران اور فیصلہ کرنے والا بڑا کافر ہے ۔ ‘‘(شرح عقیدۃ الطّحاویۃ ، صفحہ ۳۶۳)

علامہ ابن کثیر رحمہ اﷲ، آیت{اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ}(المآئدۃ :۵۰) ’’کیا یہ لوگ جاہلیت کے دور کے فیصلے تلاش کر رہے ہیں ؟ ‘‘ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں :’’اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کی بات اور فیصلوں کو رد کر رہا ہے جو اﷲ کے محکم فیصلہ کو چھوڑ کر ، جس میں ہر قسم کی بھلائی موجود ہے اور جو ہر شر سے محفوظ ہے ، کسی اور قسم کی آراء اور خواہشات کی طرف جاتے ہیں اور ان اصلاحات و قوانین کی طرف رجوع کرتے ہیں جو لوگوں نے وضع کئے ہیں جن کی بنیاد شریعت پر نہیں ہے۔ جیسا کہ اسلام سے قبل دور ِجاہلیت میں ہوتا تھا کہ وہ اپنی گمراہ کن آراء کے مطابق فیصلے کرتے تھے جن کی بنیاد صرف ان کی خواہشات ہی تھیں ۔ اور جس طرح کے فیصلے تاتاری اپنے زیر قبضہ ممالک میں کرتے تھے۔ اور یہ فیصلے انہوں نے اپنے بادشاہ چنگیز خان سے لئے تھے جس نے ان لوگوں کے لئے ’’الیاسق ‘‘نام سے قوانین کا مجموعہ بنایا تھا جو مختلف شرائع سے ماخوذ تھا یعنی یہودیت ، نصرانیت اور اسلام وغیرہ ۔ اس یاسق میں بہت سے احکام ایسے بھی تھے جو کسی شریعت سے ماخوذ نہ تھے بلکہ صرف اور صرف چنگیز خان کے اپنے خیالات و خواہشات سے بنے تھے ۔ اس کے بعد آنے والی اس کی اولاد نے اسے شریعت کا درجہ دے دیا اور کتاب اﷲ و سنت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم پر اس کو مقدم سمجھنے لگے ۔ جس جس نے بھی یہ کام کیا ہے وہ کافر ہے ۔ اس کے خلاف اس وقت تک قتال کرنا چاہئے جب تک وہ اﷲ اور رسول کے احکام کی طرف رجوع نہ کر لے اور کوئی بھی فیصلہ بڑا ہو یا چھوٹا اﷲ و رسول کے احکام کی روشنی میں نہ کرنے لگے ۔ ‘‘   (ابن کثیر ، جلد ۲ ، صفحہ ۶۷)

ابنِ کثیر رحمہ اﷲ کے اس کلام کے ضمن میں شیخ احمد شاکر فرماتے ہیں :

’’ کیا اﷲ کی شریعت کی موجودگی میں یہ جائز ہے کہ مسلمان اپنے ملکوں مین خود ساختہ یا کسی اور سے لئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلے اور حکومتیں کریں یا غیر مسلموں کے ایسے قوانین اپنائیں جن میں لوگوں کی ذاتی آراء و خواہشات کا دخل ہوتا ہے اور جب چاہیں وہ اپنی خواہشات و مفادات کے لئے ان قوانین میں ترامیم کرتے رہیں اور ان قوانین کو اپنانے والے کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ اسلامی شریعت کے مطابق ہیں یا مخالف ؟

مسلمانوں میں یہ خرابی جو آئی ہے کہ وہ شریعتِ اسلامی کی موجودگی میں لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہیں یہ تاتاریوں کے مظالم کی وجہ سے آئی ۔ اس لئے کہ یہ دور مسلمانوں پر بہت سخت آزمائش کا تھا انہوں نے بہت سختیاں برداشت کیں مگر مسلمان پھر بھی تاتاریوں کے ماتحت نہ ہوئے بلکہ اسلام نے ہی تاتاریوں پر غلبہ حاصل کر لیا ۔ اسلام نے ان کو مسلمانوں میں شامل کر لیا اور انہیں اپنے قوانین کے تابع کیا اور تاتاریوں نے اپنے قوانین جو نافذ کئے تھے وہ رفتہ رفتہ ختم ہو گئے جس طرح کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ حکمرانوں کے بزورِ طاقت نافذ کردہ احکام ان حکمرانوں کے زوال کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح تاتاریوں کا غلبہ جب ختم ہوا تو ان کے قوانین پر بھی زوال آگیا ۔ یہ قوانین صرف حکمران طبقہ کے ہاں پسندیدہ تھے ورنہ عوام مسلمانوں کے ہاں انہیں کسی قسم کی پذیرائی نہ ملی تھی نہ ان مسلمانوں نے ان قوانین کو سیکھنے ، یاد کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ بہت جلد ہی ان قوانین کا خاتمہ ہو گیا ۔

آپ نے دیکھا کہ ابنِ کثیر رحمہ اﷲ نے ان وضعی قوانین کی قوت و طاقت کا جو تذکرہ کیا ہے جنہیں اسلام کے دشمن چنگیز خان نے وضع کیا تھا کس طرح حکمرانوں کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کا بھی نام و نشان مسلمانوں کے ہاں سے مٹ گیا ۔ اس لئے کہ عوام مسلمان تو پہلے بھی تمام تر آزمائشوں اور تکلیفوں کے باوجود ان قوانین کو اپنانے پر راضی نہ تھے سوائے حکمران طبقہ کے ۔ اسی لئے حکمرانوں کے زوال کے ساتھ ہی ان قوانین کا بھی بہت جلد خاتمہ ہو گیا ۔ اس آزمائش کے دور میں تو مسلمانوں نے غیر اسلامی احکام کو نہیں اپنایا مگر موجودہ دور کے مسلمان جو ایسی کسی آزمائش سے دوچار نہیں ہیں پھر بھی خلافِ شریعت احکام کو اپنانے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ موجودہ دور کے قوانین بھی ’’یاسق ‘‘کے مشابہ ہی ہیں ۔ اب وقت ایسا آچکا ہے کہ مسلمان ممالک میں بھی ’’یاسق ‘‘ کی طرح غیر مسلموں بلکہ اسلام دشمنوں کے بنائے ہوئے احکامات کو اسلامی احکام کا نام دے دیا گیا ہے اور انہیں مسلمان بچوں بچیوں کو پڑھایا سکھایا جاتا ہے اور پھر ان پر نسل در نسل فخر بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارا باپ جج تھا یا وکیل تھا یا اسمبلی ممبر تھا ۔ یہ باتیں فخریہ بیان کی جاتی ہیں اور یہ قوانین جو کہ موجودہ دور کے ’’یاسق ‘‘ہیں ان کی مخالفت کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، انہیں رجعت پسند ، دقیانوس کہا جاتا ہے ۔

اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ نام نہاد قانون دان شریعتِ اسلامی پر بھی ہاتھ ڈالنے لگے ہیں اور اسے اپنے ’’یاسق ‘‘کے مطابق کرنا چاہتے ہیں، کبھی اسلامی احکام میں نرمی پیدا کرنے کے نام پر اور کبھی دیگر حیلے بہانوں سے جو بھی ان کے بس میں ہے ہر طریقہ و طاقت استعمال کر رہے ہیں ۔ اس بات کا علی الاعلان اظہار بھی کرتے ہیں ۔ انہیں ذرہ برابر شرم بھی نہیں آتی کہ یہ لوگ دین و حکومت کو الگ الگ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کیا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ اس جدید دین کی اطاعت کرے ؟ (جو کہ سراسر دینِ اسلام کے خلاف ہے )یا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ اس جدید یاسق کے مطابق کئے ہوئے فیصلوں کو تسلیم کرے؟ ان پر عمل کرے ؟ اور واضح اسلامی شریعت سے منہ موڑ لے ؟ میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان جو اپنے دین کو سمجھتا ہے اور اس پر مکمل ایمان رکھتا ہے یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ قرآن اﷲ کی نازل کردہ کتاب ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اور اس میں کہیں سے بھی غلط بات کا دخل نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے۔ اور جویہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس قرآن کی اطاعت اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے جو اس قرآن کو ہم تک پہنچانے والے تھے ، ایسا مسلمان کسی قسم کا تردد یا شک اس بات میں نہیں کرے گا کہ موجودہ دور کے قاضیوں اور حکمرانوں کے فیصلے مکمل طور پر باطل ہیں ۔ ان میں کسی قسم کی صحت و جواز کا شائبہ تک نہیں ہے ۔ ان خود ساختہ قوانین کی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ قوانین صراحتاً کفر ہیں ۔ ان کے کفر میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں ہو سکتا ۔ اور کسی بھی مسلمان کہلانے والے کا کوئی عذر قبول نہیں اگر وہ ان قوانین کوعمل کرنے یا ان کی اطاعت کرنے یا ان کو صحیح قرار دینے کے لئے پیش کرتا ہے ۔ ہر شخص کو    اپنے انجام کا خیال کرنا چاہئے۔ ہر شخص خود اپنا محاسبہ کرے ۔ ‘‘ (احمد شاکر ۔ عمدۃ التفسیر ، صفحہ ۱۷۱)

اسی طرح شیخ احمد شاکر نے حدِّ سرقہ کے انکار کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:’’چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، اس کے لئے قرآن میں صراحت کے ساتھ لفظ وارِد ہے جس میں کسی قسم کے شک یا تاویل کی گنجائش نہیں ہے ۔ اس کی دلالت اور ثبوت کسی قسم کے شک کا متحمل نہیں ۔ اسی طرح نبیﷺ کا بھی یہی حکم ہے اور آپ انے مردوں اور عورتوں پر اﷲ کا یہ حکم نافذ کیا ہے ۔یہاں تک کہ آپ ا کا ارشاد ہے : (( لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا )) ’’اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی (بالفرضِ محال )چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا ۔ ‘‘

اب ہمارے ان دشمنوں ( حکمرانوں ) کی حالت دیکھو جو استعمار کے آلۂ کار ہیں اور ہمیں ترقی کی خوشخبریاں سنا رہے ہیں اور ہمارے دین سے کھیل رہے ہیں ۔ ہم پر غیر اسلامی قابل لعنت قوانین مسلط کر رہے ہیں ۔ ان قوانین کے ذریعہ سے وہ اﷲ اور اس کے رسول ا کے احکامات کو منسوخ کر رہے ہیں ۔ ہمارے درمیان ہی کچھ ایسے لوگ پرورش پا چکے ہیں جو خود کو ہم میں سے ہی شمار کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں (اﷲ و رسول کے )اس حکم کی نفرت بیٹھ چکی ہے اور ان کی زبانوں سے یہ کفریہ الفاظ نکلتے ہیں کہ یہ (چور کا ہاتھ کاٹنا ) بہت سخت سزا ہے اس زمانے سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ ان لوگوں نے اﷲ کے اس حکم کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے ایک ملک میں ہزاروں چوروں سے جیلیں بھر گئی ہیں ۔ یہ ان خود ساختہ قوانین کی چور کے لئے مقرر کردہ سزا کی وجہ سے ہے ۔ ان سزاؤں کی وجہ سے چوری کا جرم ختم نہیں ہو رہا اور کبھی بھی ختم نہیں ہوگا ۔ یہ قوانین ان پھیلتی ہوئی خرابیوں کا علاج کبھی بھی نہیں بن سکیں گے ۔

پھر ان لوگوں نے جدید ذہن کے حامل لوگوں کی عقلوں میں (خصوصاً ان لوگوں کے دلوں میں جو ان غیر اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہیں ) یہ بات انڈیل دی کہ چوری کرنا دراصل نفسیاتی بیماری ہے اس لئے اس کا علاج بھی نفسیات کے علم کے مطابق ہونا چاہئے۔ حالانکہ نفسیات کوئی علم نہیں ہے بلکہ یہ علم سے مشابہت تک نہیں رکھتا۔ یہ صرف متعارض و متضاد خواہشات کا مجموعہ ہے ۔ کفر کے جو سرخیل ہیں ان میں سے ہر ایک کی علمِ نفسیات کے بارے میں الگ الگ رائے ہے اور ہر ایک کی رائے دوسرے کے بالکل الٹ و متضاد ہے ۔ اب لوگ علمِ نفسیات کے ذریعہ سے ہر چور کے عمل کی تطبیق و توجیہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تو یہاں تک نوبت پہنچ چکی ہے کہ چوروں سے ان کے خیالات معلوم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنی اس عادت کی وجوہات پیش کریں تاکہ ان کی بنیاد پر انہیں سزا سے بچایا جا سکے اور وکلاء ان کی نفسیات کی روشنی میں ان کا دفاع کر سکیں اور انہیں اس سزا سے بچا سکیں جو ان کو ملنی چاہئے ۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جرم ثابت ہو چکا ہے ۔ اس کے ثبوت سے انکار نہیں کرتے مگر کوشش کرتے ہیں کہ اس جرم کو نفسیات کی آڑ لے کر معمولی بنا دیا جائے ۔ میں نے اس نفسیات کے بڑے بڑے ماہرین سے گفتگو کی ہے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ یہ سزا اس زمانے کے لحاظ سے بہت سخت ہے اور چوری کرنے والا مجرم نہیں بلکہ مریض ہے ، اسے سزا کی نہیں علاج کی ضرورت ہے ، مگر یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم بھول جاتے ہیں :

{جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اﷲِ} (المآئدۃ : ۳۸ )

’’یہ ان کے جرم کی سزا ہے اﷲ کی طرف سے عبرت کے طور پر ۔ ‘‘

اﷲ تعالیٰ خالق ہے وہ اپنی مخلوق (کی نفسیات ) سے بخوبی واقف ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے۔ وہ تو اس سزا کو عبرت بنا رہا ہے اور یہ حکم قطعی دلیل ہے اس سزا پر ۔ اب ان لوگوں کی باتوں کا کیا اعتبار ہے؟

ہمارے نزدیک مسئلہ کی نوعیت ؟ ہم مسلمان ہیں ۔ یہ مسئلہ ہمارے عقیدے اور ایمان کا مسئلہ ہے  ۔یہ نام نہاد مسلمان جو کہ چوری کی حد کے منکر ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کیا تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس بات کو مانتے ہوکہ وہ خالق ہے تمام مخلوق کا ؟ یہ لوگ ہاں میں ہی جواب دیں گے ۔ تو ہم پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارا ایمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماکان و مایکون کا علم رکھتا ہے اور وہ مخلوق کو اتنا جانتا ہے کہ جتنا مخلوق اپنے بارے میں خود بھی نہیں جانتی اور اس مخلوق کے لئے کیا مفید و کیا نقصان دہ ہے سب کچھ خوب جانتا ہے ؟ یہاں بھی ان کا جواب اثبات میں ہوگا ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارا اس بات پر ایمان ہے کہ اﷲ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، انہیں ہدایت و دین حق عطا کیا ہے ، ان پر قرآن نازل کیا ہے جو لوگوں کی رہنمائی اور ان کے دینی و دنیاوی اصلاح کا ذریعہ ہے ؟ یہ جواب اثبات میں دیں گے ۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ آیت اسی طرح قرآن میں موجود ہے ؟

{وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیَہُمَا}  ( المآئدہ : ۳۸ )

’’چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو ۔ ‘‘

اس کا جواب بھی اثبات میں ہوگا تو ہم کہتے ہیں کہ پھر تم یہ سب کچھ چھوڑ کر کس طرف جا رہے ہو ؟ کس شریعت کے پیروکار بنے ہو ؟

اب اگر کسی مسلمان کہلانے والے نے ان سوالوں میں سے کسی سوال کے جواب میں ’’نہیں ‘‘ کہا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ یہ کیا ہے اور اس کا آخری ٹھکانہ کونسا ہے ۔ اور ہر مسلمان چاہے وہ عالم ہو یا ان پڑھ وہ یقین کر لے گا کہ یہ شخص اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور مرتدین کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے ۔ اور اگر کوئی غیر مسلم ان سوالوں کے جواب نفی میں دیتا ہے یا ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے تو ہماری ان سے کوئی بحث نہیں ہے اس لئے کہ وہ تو اس ( شریعت )پر ایمان ہی نہیں رکھتے جس پر ہمارا ایمان ہے۔ اور وہ تو ہم سے صرف اس صورت میں ہی راضی و خوش رہ سکتے ہیں جب ہم ان کی ہاں میں ہاں ملائیں گے اور یہ کسی مسلمان سے نہیں ہو سکتا ۔ ( العیاذ باﷲ من ذٰلک )

اگر ان نام نہاد مسلمانوں کے پاس عقل ہوتی تو یہ سمجھ جاتے کہ اگر ہر سال چند چوروں کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں تو ہمارے شہر اور ملک چوروں کے گروہوں سے پاک صاف ہو جائیں ۔ صرف سالانہ چند چوریاں ہی ہو سکیں گی ۔ ہماری جیلیں ان سینکڑوں ہزاروں قیدیوں سے خالی ہو جائیں جو کہ جرائم کی باقاعدہ درسگاہیں بن چکی ہیں ۔ اگر انہیں عقل ہوتی تو یہ کام ضرور کرتے مگر یہ اپنے غلط نظریات پر اڑے ہوئے ہیں تاکہ ان کے غیر مسلم آقا ان سے خوش ہوں (حالانکہ یہ بھی بہت مشکل ہے ) ۔ ‘‘(عمدۃ التفسیر ، جلد ۴ ، صفحہ ۱۴۶ )

اب ہم مرتد ہونے والوں کے بارے میں علماء کی رائے پیش کر رہے ہیں اور اس بارے میں ابن تیمیہ کا فتویٰ (جو انہوں نے النصیریہ نامی فرقہ سے متعلق سوال کے جواب میں دیا تھا )نقل کرتے ہیں :

’’تمام تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں ۔ یہ لوگ جو نصیریہ کہلاتے ہیں یا ان جیسے اور قرامطہ اور باطنیہ کہلانے والے یہود و نصارٰی سے بھی بڑھ کر کفار ہیں بلکہ یہ تو مشرکین سے بھی بڑھ کر کافر اور امتِ محمدیہ پر تاتاریوں اور انگریزوں سے بھی بڑھ کر ظلم کر رہے ہیں ۔اس لئے کہ یہ لوگ عام مسلمانوں کے سامنے خود کو مسلمان اور سیدناعلی رضی اﷲ عنہ کے ساتھی اور اہل ِبیت کے حمایتی ظاہر کرتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا نہ اﷲ پر ایمان ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ، نہ اﷲ کی کتاب پر ۔ نہ اﷲ کے حکم کو مانتے ہیں ، نہ اس کی نہی کو ، نہ ثواب کو ، نہ عِقاب کو ، نہ جنت کے قائل ہیں ، نہ جہنم کے ، نہ کسی رسول کو مانتے ہیں ، نہ سابقہ امتوں میں سے کسی امت کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ یہ کتاب اﷲ اور رسول اﷲ ا کے کلام کو لے لیتے ہیں جو عام مسلمانوں کے ہاں مشہور و معروف ہو اور پھر اس میں اپنی مرضی کی تاویلیں کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ علمِ باطن ہے ۔ اور اﷲ کے اسماء و آیات میں اور رسول ا کے کلام میں جو تحر یف کر رہے ہیں اس کی تو حد ہی نہیں ہے ۔ ‘‘

مزید فرماتے ہیں کہ:

’’ہمیں معلوم ہے کہ نصارٰی نے شام کے ساحلوں پر جو قبضہ کیا وہ انہی لوگوں کی مدد سے کیا اور یہ لوگ ہر مسلم دشمن کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے مخالف اور نصارٰی کے ساتھی ہیں اور ان کی مدد سے ہی نصارٰی نے مسلمانوں پر تاتاریوں سے بڑھ کر ظلم کئے ہیں۔ اور جب نصارٰی نے مسلمان ممالک کی سرحدوں پر حملے کئے تو یہی لوگ ان کے سب سے بڑے مدد گار تھے ۔ اسی دوران نصارٰی نے سب سے زیادہ قبضے کئے ۔ انہی کی مدد سے نصارٰی نے القدس پر قبضہ کیا ۔ یہ لوگ ان نصارٰی کا سب سے بڑا سہارا و ذریعہ بنے اور جب اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے نور الدین زنگی شہید و صلاح الدین ایوبیؒ اور ان کے ساتھیوں نے نصارٰی سے اسلامی ساحل و علاقے واپس لئے تو اس وقت یہ لوگ نصارٰی کے ساتھ مل جل کر ان مقامات پر رہ رہے تھے ، ان کا آپس میں اتحاد و اتفاق تھا ۔ مسلمانوں نے ان سے جہاد کر کے اسلامی ممالک آزاد کرائے۔ ‘‘

مزید لکھتے ہیں :

’’جب تاتاری اسلامی ممالک میں داخل ہوئے اور بغداد کے خلیفہ اور دیگر مسلمان حکمرانوں کو قتل کر دیا تو یہ سب کچھ بھی انہی ( باطنیوں ، قرامطہ ، نصیریہ )کے تعاون اور پشت پناہی کی وجہ سے  تھا  ۔مسلمانوں کے ہاں ان کے مشہور القاب ہیں کبھی انہیں ’’ملاحدہ ‘‘ کہا جاتا ہے کبھی ’’قرامطہ ‘‘ کبھی ’’ باطنیہ ‘‘ کبھی ’’اسماعیلیہ ‘‘ کبھی ’’الخرمیہ ‘‘ کبھی ’’ المحمرہ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ ان کے عام نام ہیں ان میں سے کچھ مزید خاص فرقے دیگر ناموں سے بھی ہیں ۔

اس بات میں کبھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنا اور ان پر حدود جاری کرنا اﷲ کی سب سے بڑی اطاعت اور ( مسلمانوں کا ) سب سے بڑا فریضہ ہے اور ان سے جہاد کرنا زیادہ افضل ہے بنسبت ان مشرکین و اہل کتاب کے جو مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتے ۔ ان سے جہاد کرنا ایسا ہے جیسا مرتدین سے جہاد کرنا ۔ وہ مرتدین جو ابوبکر صدیق کے زمانہ میں مرتد ہوئے تھے اور صحابہ کرام نے کفار و اہل کتاب سے پہلے ان مرتدین سے جہاد کیا تھا ۔ اسی طرح یہ لوگ مسلمانوں کے لئے ان (غیر مسلموں کی بنسبت ) زیادہ نقصان دہ ہیں ۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری حسبِ استطاعت پوری کرے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے بارے میں جو کچھ جانتا ہے وہ چھپائے رکھے بلکہ اسے چاہئے کہ اسے ظاہر کرے تاکہ مسلمان ان لوگوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں ۔ کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کے بارے میں اﷲ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احکام ہیں ان کے نفاذ سے خاموشی اختیار کرے (یعنی ان کے خلاف جہاد وغیرہ )اور ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے باہمی تعاون نہ کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ ان کو ہدایت کی طرف لانے کے لئے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرے ۔ اس میں جتنا ثواب و اجر ہے اس کا اندازہ صرف اﷲہی کو ہے ۔ ‘‘  (مجموع الفتاوٰی ، جلد ۲۵ ، صفحہ ۱۴۹)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s