ایمان کو ضائع کر دینے والے امور کی اقسام

جو امور ایمان سے خروج کا سبب بنتے ہیں ان کی کئی اقسام ہیں اور سب کی بنیاد اسی قاعدہ کلیہ پر ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ پھر ہر ایک قسم کی بہت سی صورتیں اور تفصیلات ہیں جن کا شمار بہت مشکل ہے ۔ہم مختصراً ان تفصیلات کو چار قسموں میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں ۔

۱۔   اﷲ کی ربوبیت کا انکار یا اس پر اعتراض و اشکال ۔

۲۔   اﷲ کے اسماء و صفات پر اعتراضات و اشکالات

۳۔   اﷲ کی الوہیت پراعتراضات و اشکالات

۴۔   رسالت کا انکار یا صاحبِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص

یہ چار بڑی اقسام ہیں پھر ان میں سے ہر قسم کی ، افعال اقوال و اعتقادات کے لحاظ سے بہت سی صورتیں بنتی ہیں اور ہر صورت کا لازمی نتیجہ شہادتین سے خروج ہے جس سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ ان صورتوں میں سے ہر ایک کی تفصیل اور مثالوں کے ساتھ وضاحت پیش کی جاتی ہے :

پہلی قسم :اللہ کی ربوبیت کا انکار یا اس پر اعتراض و اشکال

   جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ توحید کی تمام اقسام میں پہلی قسم توحید ِرَبوبیت ہے یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اﷲ تعالیٰ اکیلا ہی تمام کائنات کا ربّ و مالک ہے ۔ وہی ہر چیز کا خالق و رازق ہے ۔ ان تمام چیزوں میں تغیر و تبدیلی کے اختیارات صرف اﷲ کے پاس ہیں ۔ یہ تمام تغیرات اﷲ کی مشیئت ، حکمت اور علم کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور ہر وہ عقیدہ یا قول جس سے اﷲ کی یہ مذکورہ خصوصیات یا ان میں سے چند خصوصیات کا انکار لازم آتا ہو وہ قول و اعتقاد، کفر و ارتداد ہے اور خالق کا انکار ہے ۔ کسی چیز کو اﷲ سے مقدم ماننا یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو اﷲ نے پیدا نہیں کی اور وہ اﷲ سے بھی پہلے موجود تھی ، یا اﷲ کے علاوہ کسی اور کو خالق یا کائنات میں تصرف و تدبیر کرنے والا ماننا ، یا اﷲ کی ملکیت کو عام و مکمل نہ سمجھنا ، یا رزق کا مختار و مالک کسی اور کو سمجھنا، یا اس میں اﷲ کے ساتھ کسی اور کو شریک سمجھنا ، یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اﷲ نے ہر چیز پیدا تو کر دی ہے مگر اب انہیں (یا ان میں سے کسی کو )بیکار چھوڑ رکھا ہے اور ان میں اب تصرف نہیں کر رہا ۔ نہ ان کی حفاظت کر رہا ہے نہ ان کی تدبیر کر رہا ہے ۔ یا اور کوئی اس طرح کا عقیدہ جس سے اﷲ کی ربوبیت کی خصوصیات پر حرف آتا ہو ، ارتداد شمار ہوگا ۔ اسی طرح کفر و ارتداد اس کو بھی کہیں گے کہ کوئی شخص ان خصوصیات میں سے کسی ایک یا کئی خصوصیات کا اپنے آپ میں ہونے کا دعویٰ کرے ، جیسا کہ فرعون نے کہا تھا :{اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی}(النازعات :۲۴)’’میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ۔‘‘ یا خود کو مالک ، رازق یا تدبیر ِعالم میں سے کسی تدبیرکے سرانجام دینے کا دعویٰ کرے ۔ایسا شخص خود بھی کافر ہے اور اس کو اس دعویٰ میں سچا ماننے والا بھی کافر و مرتد ہے ۔

دوسری قسم:اللہ کے اسماء و صفات پر اعتراضات و اشکالات

       اﷲتعالیٰ نے اپنے لئے کچھ اسماء و صفات ثابت کی ہیں اور کچھ اسماء و صفات کی نفی کی ہیں ۔ اسی طرح اس کے رسول ا نے بھی اﷲ کے لئے کچھ اسماء و صفات ثابت کی ہیں اور کچھ کی نفی کی ہے ۔ اب اگر کوئی شخص ثابت شدہ اسماء و صفات کی نفی کرے یا نفی کردہ صفات کو ثابت مانے تو یہ بھی کفر شمار ہوگا ۔ اس کو ہم دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں ۔  ۱۔  کفر ِنفی  ۲۔  کفر ِاثبات            

 کفر ِنفی: کفر ِنفی میں یہ باتیں شامل ہیں :

             اﷲ کی صفات میں سے کسی کی نفی کرنا ۔ مثلاً اﷲ کے کامل علم یا قدرت ، زندگی ، قیومیت ، سماعت ، بصارت ، استواء علی العرش ، کلام ، رحمت ، کبریائی وغیرہ میں سے جو بھی کتاب و سنت سے ثابت ہے ان میں سے کسی کا انکار کرنا یا تاویل کرنا یا اﷲ کی کسی صفت کو محدود یا ناقص و نامکمل سمجھنا ، جیسے ایک شخص اﷲ کے علم کا اقرار کرتا ہے مگر اس کے علم کو اجمالی قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جزئیات و تفصیلات تک اﷲ کا علم نہیں ہے ۔یا کوئی شخص اﷲ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیتا ہے کہ اﷲ کا سننا اور دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے انسانوں کا دیکھنا و سننا،وغیرہ ۔

 کفر ِاثبات: کفر ِاثبات میں یہ باتیں شامل ہیں :

               کسی ایسی صفت کو اﷲ کے لئے ماننا جس کی نفی اﷲ نے خود کی ہو یا ا سکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو ۔ جیسے اﷲ کے لئے بیٹے یا بیٹیاں یا بیوی یا نیند ، غفلت ، موت یا کسی بھی ایسے نقص کو اﷲ میں موجود ماننا جو کہ انسانوں میں پائے جاتے ہیں ۔

     اسی طرح وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا جو اﷲ کی صفات میں سے کسی صفت کو اپنے لئے یا مخلوق میں سے کسی کے لئے ثابت کرتا ہو۔ ایسے شخص کے اس دعوے کی تصدیق کرنے والا بھی کافر ہوگا ۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ میں بھی ایسا ہی عالم ہوں جس طرح اﷲ عالم ہے یا فلاں شخص کے پاس ایسی ہی حکمت ہے جس طرح اﷲ کے پاس ہے ۔ ایسا شخص اور اس کی تصدیق کرنے والا دونوں کافر ہیں اس لئے کہ اﷲ کی صفات میں شریک کرنا اﷲ کی صفات کی تنقیص ہے اور جو شخص بھی اﷲ کی صفات کو ناقص مانتا ہے وہ کافر و مرتد ہے ۔

تیسری قسم :اللہ کی الوہیت پر اعتراضات و اشکالات

        ہر وہ قول ، فعل یا عقیدہ جو توحید کی قسم ثالث یعنی توحید الوہیت میں طعن یا تنقیص کا سبب ہو، نواقض الایمان کی تیسری قسم میں شمار ہوتا ہے ۔ توحیدِ الوہیت کا مقصد ہے اﷲ تعالیٰ کو اکیلا معبودِ برحق ماننا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اﷲ کے علاوہ کوئی بھی چیز عبادت کے لائق نہیں ہے ۔ اب اگر کوئی شخص اِسکے مخالف عقیدہ رکھے ،یا اسکا کوئی قول یا فعل اس اقرار کے منافی ہو یا ان میں سے کسی بھی چیز میں تنقیص کا سبب ہو ،یا اﷲ کے ساتھ ان صفات میں کسی اور کو شریک مانتا ہو، تو ایسا شخص کافر و مرتد شمار ہوگا ۔

     زیادہ تر لوگوں کے کافر یا مرتد ہونے کا تعلق بھی اسی قسم کی توحید کے ساتھ ہے ۔ اکثر لوگ اﷲ کے وجود ، اس کے خالق ، رازق ، قادر ، محی و ممیت (زندہ کرنے والا اور مارنے والا )ہونے کے پہلے بھی قائل تھے اور اب بھی ہیں ۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کے بارے میں فرمایا :

{وَلَئِنْ سَاَلَتْہُمْ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اﷲُ} ( زخرف : ۸۷ )

’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (کُفّارِ مکہ )سے پوچھیں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اﷲ نے ۔ ‘‘

اسی طرح فرمایا :

{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَلْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ}(زخرف : ۹)

’’ اگر آپ ا  ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ یہی کہیں گے کہ اﷲ نے جو  غالب اور عالم ہے ۔ ‘‘

اس اقرار کے باوجود اکثر کو کافر اس بنیاد پر کہا گیا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو اکیلا عبادت کا مستحق نہیں سمجھتے تھے اور اﷲ کے اس (تنہامعبودہونے کے )استحقاق کا انکار کرتے تھے ۔ یہ انکار بھی قولی ، فعلی یا اعتقادی میں سے کسی قسم کا ہوتا تھا۔ اور چونکہ دوسروں کو بھی اﷲ کے اس حق میں شریک سمجھتے تھے اس لئے انہیں کافر قرار دیا گیا ۔ یہ شرک بھی خواہ قولی ہو یا فعلی یا اعتقادی ، کفر و ارتداد کا سبب تھا اور ہوگا ۔ اس لئے کہ جو شخص یہ مانتا ہو کہ اﷲ خالق ہے ، مالک ہے ، ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے اسی طرح اﷲ کی تمام جلالی و کمالی صفات کا معترف ہو تو اس اعتراف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ الوہیت میں بھی اﷲ کو اکیلا ہی سمجھے اور عبودیت کا مستحق بھی صرف اسی اکیلے اﷲ کو سمجھے ۔ اگر وہ اس کا انکار کرتا ہے اور اﷲ کے ساتھ یا اﷲ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو اس کا یہ اعتراف (یعنی اﷲ کی ربوبیت کا )باطل ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ جیسا کہ صنعانی رحمہ اﷲ نے اپنی کتاب تطہیر الاعتقاد میں لکھا ہے :

’’جو شخص اﷲ کی توحید ربوبیت کا اعتراف کرتا ہے تو اس کو چاہئے کہ اﷲ کو عبادت میں بھی اکیلا سمجھے۔ اگر اس طرح نہیں کرے گا تو اس کا پہلا اقرار بھی باطل ہے ۔ ‘‘

یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اﷲ تعالیٰ نے بندوں کے امتحان کا ذریعہ توحید الوہیت کو بنایا ہے ۔ اﷲ فرماتا ہے :

{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ}  (الذاریات : ۵۶)

’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ‘‘

یہاں ایک اور بات کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ لا الہ الا اﷲ کے منافی دو امور ہیں:

(۱)  خالق کے حق کی نفی کی جائے یعنی کسی بھی قسم کی عبادت ہو اﷲ کو اس کا مستحق نہ مانا جائے ۔

 (۲)  یہ حق کسی اور کے لئے ثابت کیا جائے یعنی مخلوق میں سے کسی کو عبادت کا مستحق مانا جائے ۔

اب ہر قول یا عمل یا اعتقاد جس میں ان دو امور میں سے کوئی امر پایا جائے وہ عمل ، اعتقاد یا قول کفر میں داخل کرنے کا سبب ہوگا اور ایسا قول، عمل یا اعتقاد رکھنے والا مرتد شمار ہوگا ۔

     جو امور اﷲ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہیں وہ یہ ہیں : عاجزی ، انکساری ، اطاعت ، جھکنا ، محبت ، ڈرنا ، مدد طلب کرنا ، دعا کرنا ، بھروسہ کرنا ، امید رکھنا ، رکوع ، سجدہ ، روزہ ، ذبح ، طواف وغیرہ ۔

     جو شخص اپنے قول یا عمل یا اعتقاد کے ذریعہ سے ان امور میں سے کسی ایک کی بھی اﷲ کے لئے نفی کرے گا تو یہ قول ، عمل یا اعتقاد کفر ہے ۔ مثلاً ایک شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اﷲ سے ڈرنا نہیں چاہئے یا اس سے دعا نہیں کرنی چاہئے یا اس سے مدد نہیں مانگنی چاہئے یا اس کے سامنے رکوع نہیں کرنا چاہئے (یا مذکورہ اعمال یا اُن میں سے کوئی بھی ایک اﷲ کے لئے کرنا ضروری نہیں )، یا ان اعمال میں سے کسی عمل کے کرنے والے کا مذاق اڑائے ، یا رکوع ، سجود ، روزہ ، حج وغیرہ یا کسی بھی ایسے قول یا عمل کا مذاق اڑائے جسے شریعت نے عبادت کا درجہ دیا ہو تو یہ بھی کفر و ارتداد ہے ۔ اس لئے کہ ان اعمال کا یا ان کے کرنے والے کا مذاق اڑانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص اﷲ کو ان عبادات کا مستحق نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا جو اﷲ کو اور اس کے احکام کو قابلِ اطاعت نہیں سمجھتا یا اﷲ کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ضروری نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ کی ایک شریعت (قانون)ہے جو اس کی کتاب میں موجود ہے اور اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے ۔ اب جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اﷲ کی اس شریعت میں سے کوئی حکم ماننا ضروری نہیں ہے یا اس دور میں ان احکام پر عمل نہیں ہو سکتا یا اس جیسی کوئی بات کرتا ہے تو وہ شخص کافر شمار ہوگا ۔ اس لئے کہ الوہیت کی خاصیت یہ ہے کہ وہ حکم کرے اور شریعت بنائے ۔

{اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ ﷲِ} (یوسف :۴۰)

 ’’حکم کرنا صرف اﷲ کا استحقاق ہے ۔ ‘‘

اور عبودیت کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اطاعت و فرمانبرداری کرے ۔

     اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا جو ان عبادات میں سے کسی عبادت کو غیر اﷲ کے لئے ثابت مانے یا جو شخص خود کو عبادت کا مستحق سمجھ کر لوگوں کو اپنی عبادت بجا لانے کا حکم کرے ۔ ایسے شخص کی تصدیق کرنے والا بھی کافر ہوگا اور اس کی عبادت بجا لانے والا بھی ۔ وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ پسند کرے کہ ان عبادات میں سے کوئی عبادت اس کے لئے بجا لائی جائے اگرچہ کسی کو ایسا کرنے کا حکم نہ بھی کرے ۔ جیسے کہ کوئی شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس سے مدد مانگی جائے ۔ اس پر بھروسہ کیا جائے ، اس سے ڈرا جائے یا اس سے امید رکھی جائے ۔ (ایسا خوف اور امید جس طرح اﷲ سے رکھی جاتی ہے ،جو انسان کے قدرت سے باہر ہو ۔ انسان کے اختیار میں جو قوت و غلبہ ہے اگر اس سے کوئی شخص ڈرتا ہے یا امید رکھتا ہے تو یہ کفر نہیں ہے ) یا کوئی شخص یہ حکم کرے یا چاہت رکھے کہ اسے سجدہ کیا جائے یااس کے سامنے جھکا جائے یا ایسا کوئی بھی کام جو صرف اﷲ کے لئے کیا جانا خاص ہو وہ اپنے لئے کرنے کا حکم کرے یا خواہش کرے تو یہ کفر کے زمرے میں شامل ہوگا ۔

     اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا جو یہ دعویٰ کرے کہ مجھے قانون و شریعت بنانے کا حق ہے اگرچہ اﷲ کے احکام کے مخالف ہی کیوں نہ ہو ۔یایہ کہے کہ کیو نکہ اُس کے پاس حکومت یا فیصلے کے اختیارات ہیں اس لئے اب اسے یہ حق حاصل ہے کہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دے ۔ مثلاً کوئی حکمران ایسے احکامات جاری کرے یا قوانین وضع کرے جن سے زنا، سود ، بے پردگی کا جواز پیدا ہوتا ہو یا اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود و سزاؤں میں تغیّر لازم آتا ہو یا زکٰوۃ کے لئے شریعت کے مقرر کردہ نصاب میں یا میراث ، کفارہ اور عبادات وغیرہ میں تبدیلی آتی ہو تو اس طرح کے قوانین بنانے والا اور اس کو صحیح تسلیم کرنے والا دونوں کافر شمار ہوں گے۔ اس لئے کہ یہ غیر اﷲ کی الوہیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲ َ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ}(نحل : ۳۶)

’’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا (جو انہیں یہ حکم کرتا تھا کہ )اﷲ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو ۔ ‘‘

دوسری مقام پر فرمایا :

{فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَاانْفِصَامَ لَہَا وَاﷲ ُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ }( بقرۃ : ۲۵۶ )

’’جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں ۔ اور اﷲ سننے والا جاننے والا ہے ۔ ‘‘

مضبوط کڑے سے مراد لا الہ الا اﷲ کی شہادت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادات کی غیر اﷲ سے نفی کی جائے اور تمام عبادات کا مستحق صرف اﷲ کو مانا جائے ۔

     اب اگر کوئی حکمران اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں کتاب و سنت سے ثابت شدہ قوانین کے معارض قوانین بنا سکتا ہوں جن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا جاتا ہو تو ایسا حکمران کافر و مرتد ہے اس لئے کہ اس کا عقیدہ یہ بن چکا ہے کہ اس کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ اﷲ کی شریعت کی بجائے اپنی شریعت اپنے قوانین بنا سکتا ہے ۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے ۔ (بلکہ یہی شحض طاغوت ہے)

      البتہ اس سے وہ قانون سازی مستثنیٰ ہے جس میں قرآن و سنت کی نصوص واضح نہیں ہیں یعنی قرآن و سنت میں کوئی قانون نہ ہویا مجتہدین نے کسی مسئلہ میں اختلاف کیا ہو تو اس میں حکومت کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے بشرطیکہ قرآن و سنت کے معارض و مخالف نہ ہو ۔ لہٰذا جو شخص ایسا کوئی قانون بنائے جس سے زنا ، سود یا ہر وہ چیز یا عمل جسے اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کا جواز پیدا ہو رہا ہو تو ایسا قانون ساز بھی کافر ہے اور اس کے ساتھ اس عمل میں حصہ لینے والے بھی کافر ہیں ۔ البتہ ایسا شخص جو ملکی معاملات یا لوگوں کی سیرت و کردار کو بہتر کرنے کے لئے قانون بناتا ہو یا اشیاء کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہوںتو یہ جا ئزہے کیونکہ یہ قرآن و سُنَّت کے مخالف نہیں ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے اس سے بھی منع کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے لئے اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنا جائز نہیں ہے ۔ مگر ان علماء کی بات صحیح نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قیمتیں مقرر کرنا اجتہادی مسئلہ ہے اور بعض فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے ۔

     اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ حکمرانوں کو خلافِ قرآن و سنت قانون سازی کا اختیار حاصل ہے تو ایسا شخص بھی کافر ہے اور وہ شخص بھی کافر ہے جو خلافِ شرع فیصلے کرنے والوں سے اپنے فیصلے کرواتاہے ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلَا لًا بَعِیْدًا}( النسآء : ۶۰ )

’’ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا یہ خیال ہے کہ وہ آپ پر اور آپ سے قبل نازل کردہ ( کتب و شرائع )پر ایمان لائے ہیں مگر وہ چاہتے یہ ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت سے کروائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت سے کفر کریں ۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت بڑی گمراہی میں مبتلا کر دے ۔ ‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے :

{اَمْ لَہُمْ شُرَکَآءُ شَرَعُوْا لَہُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ بِہِ اﷲ ُ} (شورٰی : ۲۱)

’’کیا ان کے ایسے بھی شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین میں وہ قوانین بنا دئیے ہیں جن کی اجازت اﷲ نے نہیں دی ۔ ‘‘

چوتھی قسم :رِسالَت یا صاحبِ رِسالَتصلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص

       ہر وہ قول ، عمل یا عقیدہ جو رسالت یا صاحبِ رسالت  ا میں عیب و نقص پیدا کرنے یا اعتراض کا سبب ہو ، انسان کے اسلام سے خارج کر دینے کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسا فعل ، قول یا اعتقاد مُحَمّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ کی شہادت کے منافی ہے ۔ اس شہادت کا مقصود یہ ہے کہ جو کچھ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ حق سچ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام صلاحیتوں اور صفات سے نوازا تھا جو رسالت کو مکمل طور پر پہنچانے کے لئے ضروری تھیں ۔

اب اس شہادت کو ختم کرنے والے امور دو ہیں :

(۱)  رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگانا ۔

(۲)   آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں میں سے کسی بات کا انکار کرنا یا اُس پر اعتراض کرنا ۔

    پہلے امر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اگر کوئی بھی عیب والی بات منسوب کر دی گئی تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ گویا ( نعوذ باﷲ )اﷲ تعالیٰ نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے لئے منتخب کر کے غلطی کی ہے ۔ لہٰذا ہر وہ شخص کافر ہے جو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت و صلاحیت اور عقل پر اعتراض یا اُس کاانکار کرتا ہے ۔

     وہ شخص بھی کافر کہلائے گا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو یا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرے ۔

     دوسرے امر میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کی خبر دی ہے ان میں سے کسی کا انکار کیا جائے ۔ مثلاً بعثت (قیامت کے دن اٹھایا جانا)، میزان ، حساب ،پُل صراط ، جنت ، جہنم وغیرہ ۔ جو شخص قرآن کی کسی آیت یا حکم کا انکار کرتا ہے وہ بھی کافر ہے اس لئے کہ قرآن کی جتنی آیات ہیں ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ سب اﷲ کا کلام ہے ۔ اب جو شخص بھی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے تو وہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتا ہے ۔ اسی طرح قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی حکم کا انکار بھی کفر ہے ۔ مثلاً کوئی شخص نماز یا زکٰوۃ کی فرضیت یا زنا و چوری کی حرمت کا انکار کرے یا کسی نماز میں رکعات کے اضافہ کا دعویٰ کرے یا بغیر وضو کے نماز کو جائز قرار دے تو ایسا شخص کافر کہلائے گا ۔ البتہ کوئی شخص اگر ایسے حکم یا مسئلے کا انکار کرتا ہے جو زیادہ مشہور نہیں ہے اور صرف چند علماء کو اس کا پتہ ہے تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا ۔ اسی طرح وہ شخص بھی کافر شمار نہیں ہوگا جو ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے جس میں مجتہدین کا اختلاف ہو اور اس پر اجماع نہ ہوا ہو ۔

     امام نووی شارح صحیح مسلم فرماتے ہیں :

’’اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے جس پر امت کا اجماع ہے اور وہ مشہور بھی ہے جیسے پانچ نمازیں ، رمضان کے روزے ، جنابت کا غسل ، شراب اور زنا کی حرمت ، ذی محرم سے نکاح کی حرمت وغیرہ (تو ایسا شخص کافر ہے )۔ہاں اگر ایسا شخص نیا نیا مسلمان ہوا ہے اور وہ اسلام کی مکمل معلومات نہیں رکھتا اگر وہ لاعلمی کی بنیاد پر انکار کرتا ہے تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا ۔ اگر مسئلہ ایسا ہو کہ اجماع تو اس پر ہو چکا ہے مگر یہ خواص کو (یعنی علماء کو ) معلوم ہے جیسے چچی بھتیجی یا خالہ بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا یا قتلِ عمد کا مرتکب وراثت سے محروم ہوتا ہے یا دادی کے لئے میراث میں چھٹا حصہ ہے یا دیگر اس جیسے احکام میں سے کسی کے انکار پر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے کہ اس کو علم نہیں اور یہ مسئلے عوام میں مشہور بھی نہیں ہیں ۔ ‘‘  (شرح صحیح مسلم ، ج ۱ ، صفحہ ۲۰۵ )

     وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا جو قرآن کی کسی آیت یا قرآن کی غیب سے متعلق دی ہوئی کسی خبر کا انکار کرے چاہے وہ خبر ماضی سے متعلق ہو یا مستقبل سے ۔

     اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھیجے گئے رسولوں میں سے کسی کی رسالت کا انکار کرتا ہے ۔ یا ان کی اقوام کے بارے میں جو قصے اور واقعات مذکور ہیں ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے ۔ اسی طرح اﷲ نے مخلوق کی ابتداء کی جو کیفیت ذکر کی ہے اسکا انکار کرے یا اپنی طرف سے کسی اور کیفیت کو بیان کرے جو قرآن کے بیان کے مخالف و متضاد ہو، یا جنات ، شیاطین ، کرسی ، عرش ، لوح ، قلم وغیرہ یا قرآن نے کسی تاریخی شخصیت کا تذکرہ کیا ہو یا کسی کو رسول شمار کیا ہو ان میں سے کسی کا بھی انکار کرے وہ کافر کہلائے گا ۔ یا کسی رسول کے بارے میں یہ اعتراض اٹھائے کہ یہ رسول بنائے جانے کا مستحق نہیں تھا یا یہ بات کرے کہ جن رسولوں کے نام قرآن میں ذکر ہیں ان کے علاوہ اور کوئی رسول یا نبی اﷲ نے نہیں بھیجا ۔

اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا جو قرآن کے اعجاز (معجزہ ہونے )کا انکار کرے ۔ اس لئے کہ قرآن کا معجزہ ہونا اﷲ کے کلام اور تاریخی واقعات سے ثابت ہے ۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا اور اس دعوے دار کی تصدیق کرنے والا دونوں کافر ہیں اس لئے کہ قرآن نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s