جہاد فی سبیل اللہ کے’’ شرعی واصطلاحی ‘‘معانی

اس سلسلے میں جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے قرآن و حدیث کی بنیادی نصوص اور سلف وصالحین کی بیان کردہ ’’شرعی و اصطلاحی ‘‘معانی کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ امت مسلمہ کو کوئی بھی محقق یا مدبر کھڑا ہوکر جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔
اب چند تعریفات آپ کے سامنے پیش خدمت ہیں ۔سب سے پہلے میں رسول اللہﷺکی زبانِ مبارک سے کی گئی جہادکی تعریف سن لیجئے:

((قال فای الھجرة افضل؟قال الجھاد،قال وماالجھاد؟قال ان تقاتل الکفاراذا لقیتھم ولاتغل ولاﺗﺠﺒﻦ))
’’(ایک)صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!سب سے افضل ہجرت کون سی ہے؟رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بہترین ہجرت جہاد کی ہجرت ہے۔صحابی نے پوچھا کہ جہاد کیا چیزہے؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
’’ جہاد یہ ہے کہ تم بوقتِ مقابلہ کفار سے لڑو اور اس راستے میں خیانت نہ کرواور نہ بزدلی دکھاؤ‘‘۔
(کنزالعمال ج۱ص۷۲۔)

((قیل وماالجھاد ؟قال ان تقاتل الکفاراذالقیتھم ۔قیل فای الجھاد افضل؟قال من عقر جوادہ واھریق دمہ))
’’پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!جہاد کیا چیز ہے؟رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جہادیہ ہے کہ تم مقابلے کے وقت کفار سے لڑو،کہا گیا افضل ترین جہاد کون سا ہے ؟رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اس شخص کا جہاد جس کا گھوڑا کٹ مرے اور خود اس کابھی خون گرجائے(یعنی وہ شہید ہوجائے)‘‘۔
(کنز العمال ج۱ص۲۷۔)

((وفی الحدیث الصحیح الذی رواہ الامام احمد :((قیل یا رسول اللّٰہ ماالجھاد فی سبیل اللّٰہ؟قال قتال الکفار))
’’مسند احمد کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ اللہ کے راستے کا جہاد کیا ہوتا ہے؟رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ’’کافروں سے لڑنے کا نام جہاد ہے‘‘۔

چاروں آئمہ اربعہ ،فقہا اور سلف و صالحین نے متفقہ طور پر اس سے کیا سمجھا؟
الجھاد بکسرالجیم اصلہ لغةہوالمشقةوشرعاًبذل الجھدفی قتال الکفار
’’جہاد کسرۂ جیم کے ساتھ لغت میں بمعنی محنت و مشقت ہے اور اصطلاحِ شریعت میں کفار سے لڑنے میں اپنی پوری طاقت کو استعمال کرنے کا نام جہاد ہے‘‘۔
(الفتح الباری ج۶ص۴۔)

الجھاد ھو القھرالاعداء ای المحاربة مع الکفار
’’دین کے دشمنوں کو مغلوب کرنے کے لئے کفار سے لڑنے کا نام جہاد ہے‘‘۔
(شرح شرعة الاسلام ص۵۱۷۔)

’’الجھادأیی قتال فی سبیل اللّٰہ ‘‘
’’جہاد کے معنی قتال کرنا اللہ کی راہ میں‘‘۔
(امام الباجوری ،ابن القاسم ج۲ص۲۶۱۔)

’’قتال الکفار‘‘
’’جہاد کفار سے قتال کا نام ہے‘‘۔
(مطالب أولی النھیٰ ج ۲ ص ۴۹۷۔)

’’الجھاد :القتال وبذل الواسع منہ لاعلاءکلمة اللّٰہ تعالیٰ‘‘
’’جہاد دراصل قتال ہے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے تمام تر کوشش کرنے صرف کرنا ہے‘‘۔
(عمدۃ الففقہ ص۱۶۶،منتھی الارادات ج اول ص ۳۰۲۔)

صاحبِ ’’مجمع الانھر‘‘فرماتے ہیں:
’’والمراد الاجتھاد فی تقوة الدین بنحو قتال الحربین ،والزمین،والمرتدین الذین ھم أ خبث الکفار لانکار بعد الایمان،والباغین‘‘
’’گویا جہاد سے مراد یہ ہے کہ دین کی تقویت کی خاطر جہاد کرتے ہوئے حربی کافروں سے قتال کرنا ،(معاہدہ شکن)ذمیوں سے قتال کرنا،مرتدین سے قتال کرنا جو درحقیقت کفار کی خبیث ترین قسم ہیں کیونکہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد اس کاانکار کیا اور اسی طرح باغیوں سے‘‘۔
لہٰذا جو شارع نے سمجھایا اور پھر سلف نے سمجھ کر اس کی تعریف کی ہے اوروہ سلف کی کتابوں میں موجود ہے تو اسی پر اعتماد رکھئے اور کسی کے ’’زورِخطابت ‘‘سے دھوکہ نہ کھائیے ۔
(مجمع الانھرشرح ملتقی الابحر :کتاب السیر۔)

اس ضمن میں ایک ضروری اور اساسی بات سمجھنے کی ہے ،وہ یہ جیسا کہ ہم سمجھ چکے ہیں کہ ’’جہاد‘‘ کے لغوی معنی تو ’’بھرپور کوشش اور جدوجہد ‘‘ہی کے ہیں لیکن شریعت کی اصطلاح میں ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘سے مراد ’’بذل الجھد فی قتال الکفار‘‘یعنی کفارکے خلاف جنگ میں اپنی پوری قوت کھپادینا ہے۔لفظ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے الفاظ قرآن و حدیث میں جہاں مطلقاًاستعمال ہوئے ہیں، اس کے یہی معنی ہے۔لفظ ِجہاد جب بھی ہمارے سامنے آئے گا ہم اس سے یہی مراد لیں گے۔اگرچہ قرآن و حدیث میں بعض جگہ یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں بھی آیا ہے۔ لیکن چند جگہوں پر لفظِ جہاد کا لغوی استعمال اس کے اصلی اصطلاحی معنی کو نہیں بدلتا اور نہ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی مشروعیت پر کوئی اثر پڑتا ہے۔کیونکہ اگر ہم اس کے لغوی معنی پر احکاما ت کا استنباط اور اس کو اخذ کریں گے تو پھر کوئی بھی شخص ’’صلوٰۃ ‘‘کو کبھی اپنی مرضی سے دُعاء مراد لے گا اور کبھی نماز لے گا،لفظ ’’زکوٰۃ ‘‘ کو کبھی اپنی مرضی سے تزکیہ مرادلے گااور کبھی اگر دل چاہے گا تو شریعت کی طرف سے مقرر کردہ زکوۃ مراد لے لے گااور اسی طرح ’’حج‘‘کو کبھی اپنے گھر کے قصد کے لیے قیاس کرلے گا اور کبھی اس کو ’’حج بیت اللہ ‘‘مراد لے لے گا۔لہذا جوکوئی بھی دین میں ایسی تعریفات کرے توجا ن لیجئے کہ اس سے بڑھ کر دین میں فساد ڈالنے والا کوئی نہیں اور ایسے لوگوں سے بچنا ہر مسلمان کے لئے واجب ہے۔

اسی طرح ایک ضروری بات یہ بھی سمجھ لیں کہ جہاد کی تعریف میں بعض علماء نے جہاد کی بعض انواع کا ذکر بھی کیا ہے یعنی ایک نوع جہاد بالمال ہے، دوسری نوع جہاد باللسان ہے اور تیسری نوع جان سے جہاد کرنا ہے۔عرض یہ ہے کہ’’جہاد باللسان‘‘ وہ ہے کہ جس سے جہاد کا فائدہ ہو یعنی جہاد کی ترغیب ہو،تقریر ہو،فضائل جہاد کا تذکرہ ہو،جہاد سے متعلق جوشیلے اشعار ہوںاور جان دار نظمیں ہوں،کفار کو دھمکی ہو،للکارہو۔

یہ جہاد باللسان ہے ،نہ یہ کہ دو گھنٹے کی تقریروبیان کھانے پینے اور پہننے کے آداب پر ہو اور پھر کہا جائے کہ میں نے جہاد باللسان کیا ۔یہ نیک کام تو ہوسکتا ہے لیکن جہاد باللسان نہیں ۔اسی طرح ’’جہاد بالمال‘‘یہ ہے کہ آپ کے مال سے میدانِ جہاد اور مجاہدین کو فائدہ پہنچے، نہ یہ کہ آپ نے کسی فقیر کو پیسہ زکوٰۃ اداکیا اور پھر کہا کہ میں نے جہاد بالمال کیا ،یہ نیک کام تو ہے لیکن جہاد بالمال نہیں۔امام کاسانی ﷫فرماتے ہیں:
’’بذل الواسع والطاقة بالقتال فی سبیل اللّٰہ عزوجل بانفس والمال وغیر ذلک‘‘
’’اللہ کے راستے میں جنگ کے لئے نفس ،مال اور زبان وغیرہ کی پوری طاقت لگادینا‘‘۔
(امام کاسانی ،بداع ج:۹ص:۴۲۹۹۔)

غرضیکہ ہر وہ کوشش جو کہ جہاد فی سبیل اللہ کی مددو نصرت کے لئے کی جائے ،چاہے وہ جہاد کے لئے لوگوں کو تیار کرنا ہو،یا مجاہدین کے لئے سامانِ حرب ورسد کا فراہم کرنا ہو۔رسول اللہﷺنے فرمایا:
((ان اللّٰہ عزوجل یدخل بالسھم الواحد ثلاثة نفرالجنة ؛صانعہ الذی یحتسب فی صنعتہ الخیر، والذی یجھز بہٖ فی سبیل اللّٰہ ،والذی یرمی بہٖ فی سبیل اللّٰہ))
’’بے شک اللہ عزوجل ایک تیر سے تین بندوں کو جنت میں داخل فرماتے ہیں ۔تیر بنانے والا جو اسے بنانے میں بھلائی کا ارادہ رکھتا ہو،اللہ کی راہ میں وہ تیر(مجاہد کو)مہیا کرنے والا ،اور اللہ کی راہ میں وہ تیر چلانے والا‘‘۔
(مسند احمد۔)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s