جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے پیدا کئے جانے والے مختلف شبہات کا رد

جہادفی سبیل اللہ کے جن حوالوں سے یہ ’’آئمة المضلّین‘‘عوام کے ذہنوں میں مختلف شبہات وتردد پیدا کرتے ہیں تاکہ جو اس راہ کی طرف آنے کی خواہش بھی رکھتا ہو وہ بھی مایوس اور بد دل ہوکر اس طرف آنے کا خیال بھی نہ لائے :


•جہاد فی سبیل اللہ کے ’’شرعی و اصطلاحی ‘‘معانی سے اعراض کرکے لغوی معنی پر احکامات کا استنباط کرنا۔
•جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے فرضِ عین یا فرضِ کفایہ کی واضح اصطلاحوں کے حوالے سے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنا۔
•جہاد فی سبیل اللہ کو موجودہ دور میں مختلف باطل اور مردود تاویلات کے ذریعے ناممکن قرار دینا۔

لہٰذا عوام الناس اور عامۃ المسلمین کو چاہیے کہ ان’’آئمة المضلّین‘‘ کو اُن کے اپنے حال پر چھوڑ کر گمراہی وضلالت کی وادیوں میں بھٹکنے دیں اور جہاد فی سبیل اللہ اور دین کے دیگر بنیادی احکامات کے بارے میں صرف سلف و صالحین کے فتاویٰ اور مؤقف پر یقین پر بھروسہ کریں جو کہ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کردیئے کیونکہ ان معاملات میں ان’’آئمة المضلّین‘‘سے استفتاء لینا ، ان کی باتوں پر یقین کرنا دین و ایمان کی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ ابو محمد عاصم المقدسی ھداہ اللہ فرماتے ہیں:


’’ایک موحد بندے کو یہ بات جاننی چاہیے کہ وہ گمراہ علماء جو حکومتوں کا دفاع کرتے رہتے ہیں اور ان کے مال کا دودھ پیتے ہیں ،ان کا کیا مقام ہے………؟حق کی بات ان لوگوں کے بارے میں یہ ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کے پاس جاکر علم حاصل نہ کیا جائے اور ان سے بالکل فتویٰ طلب نہ کیاجائے ۔بعض سلف کا قول ہے کہ ’’علم ہی دین ہے پس آدمی کو دیکھنا چاہیے کہ وہ دین کس سے لے رہا ہے‘‘۔پس لوگوں پر واجب ہے کہ وہ انہیں چھوڑ دیں حتیٰ کہ وہ مداہنت اور بادشاہوں اور سلاطین کی بے جاحمایت ترک کردیں اور ان کے لئے جھگڑا کرنا چھوڑ دیں چنانچہ ان تنخواہ داروں کے سامنے صر ف دو ہی راستے ہیں :


٭ یا تو وہ حق کی بات کہیں اور طاغوتوں کی برائیوں اور خامیوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں اور یہی اعلیٰ وارفع بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ طریقہ اور یہ رستہ تکلیفوں اور اذیتوں سے بھرا ہواہے لیکن اس کے آخر میں فوز وفلاح ہے ،جنت عدن ہے اوران کے اس عمل میں امت کے لئے نصیحت ہے اور حق کا اظہار ہے۔

٭ لیکن اگر وہ اس اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کرنے میں کمزوری کا اظہار کریں تو کم از کم انہیں چاہیے کہ وہ حکومتوں سے علیحدہ ہوجائیں اور تدلیس و تلبیس (غلط اور شیطانی تاویلات)اور گمراہی کے ذریعے ان کی مدد سے باز آجائیں اور حکمرانوں کے قبیح اعمال کو ’’شریعت کا جبہ‘‘پہنانے کی کوشش نہ کریں۔

لیکن اگریہ اپنی پہلی روش پر ہی گامزن رہیں تو ان سے الگ رہنا اور ان کے ساتھ تعامل نہ کرنا اور ان سے کسی قسم کا فتویٰ طلب نہ کرنا، واجب ہے۔خصوصی طور پر ایسے لوگوں سے ’’السیاسۃ الشرعیۃ ‘‘اور ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کے مسائل میں با لکل بھی فتویٰ طلب نہیں کرنا چاہیے ۔یہ کوئی ہماری اختراع نہیں بلکہ سلف و صالحین کا وطیرہ بھی یہی تھا۔کتنے ہی اقوال ہمیں ملتے ہیں ان کے جو انہوں نے ایسے علماء کے بارے میں کہے جو بادشاہوں سے تحفے تحائف وصو ل کرتے تھے یا ان کے پاس آتے جاتے تھے ،اور کتنا ہی زیادہ کلا م اور جرح و تعدیل کی اُ س شخص کے بارے میں جو بادشاہ کے پاس جاتا یا اُن کی ’’ولایت ‘‘ کا دم بھرتا تھا۔لیکن سوچئے کون سے بادشاہ و سلاطین؟حالانکہ ان سلاطین کے جو محض ’’ظلم ‘‘کے مرتکب تھے تو غور کیجئے کہ ’’سلاطین کفروشرک والحاد ‘‘کا کیا حکم ہوگا؟چنانچہ ایسے علماء کی اکثریت جو حکومت کے چرنوں میں بیٹھی ہے، یہ بات کسی طرح معقول نہیں کہ ان سے فتویٰ مانگا جائے یا سوال کیا جائے سیاستِ شرعیہ ،یا فوج و پولیس میں بھرتی ہونے سے متعلق یا ان کی اسمبلیوں ،پارلیمنٹوں میں جانے سے متعلق ؟ان کے متعلق اب ایک مسلمان کی کم از کم یہ ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے فتوے ان سے طلب کرنے کے معاملے میں بچنا چاہیے ۔ جبکہ ان کا حکم یہی ہے کہ جو ہم نے اوپر بیا ن کردیا ہے کہ ان سے دوررہاجائے بلکہ ان کے (علمی )حلقوں سے بھی علیحدگی اختیار کی جائے تاکہ وہ کم از کم حکومتوں سے دور رہیں‘‘۔ (بحوالہ الکواشف الجلیہ :للشیخ ابومحمد عاصم المقدسی ھداہ اللہ ۔)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s