کفر عملی اور کفر قولی کی تحقیق

سب سے پہلے یہ جان لیں کہ یہ شبہ کوئی نیا شبہ نہیں بلکہ بہت پرانا ہے اور اسے ان مقلد اور جاہل لوگوں نے اپنے شیوخ اور گمراہ اور بھٹکے لوگوں سے وراثت میں لیا ہے۔جیسے کہ جہم بن صفوان اور بشر بن غیاث المریسی اوران جیسے دوسرے کہ یا تو مرجئۃ العصر نے ان کی کتابیں پڑھیں ہیں یا یہی مرجئہ قدیمہ والی بات انھوں نے شیطان سے لی ہے۔بشر بن غیاث سے منسوب اقوال میں سے اس کا یہ قول کہ ’’سورج اور چاند کو سجدہ کرنا کفر نہیں بلکہ کفر کی علامت ہے ‘‘ معلوم ہوا کہ (مرجئۃ العصر والا عقیدہ)جہم اور اس پیروکاروں کا عقیدہ ہے ،اسی لئے امام ابن حزم ﷫نے اپنی کتاب ’’المحلی ‘‘ کے صفحہ نمبر ۴۹۸ جلد ۳ پر اﷲکوگالی دینے کے بیان میں فرمایا’’اﷲکو گالی دینے کے معاملہ میں زمین پر کوئی بھی ایسا مسلم نہیں جو اس کے کفر مجرد ہونے میں اختلاف کرے ،مگر جھمیہ اور اشعریہ دونوں فرقوں نے اس بات کو نہیں ماناوہ اسی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اﷲکو گالی دینا اور کفر کا اعلان کرنا کفر نہیں،کچھ نے کہا کہ :یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کفری عقیدہ رکھتا ہے لیکن وہ یقینی طور پر گالی دے کر کافر نہیں ہوتا ۔میں کہتا ہوں :کہ آپ ذرا اس بات پر اور ان سرکش داعیوں کی بات پر غور فرمائیے کہ جن کاہم نے ابھی ذکر کیا ۔
اَتَوَاصَوْابِہٖ بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ. (الذاریات:۵۳)
’’کیایہ لوگ اس بات کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں ؟بلکہ یہ گمراہ وسرکش قوم ہے۔‘‘
ابن حزم ﷫نے فرمایا’’ان کی بات کی بنیاد ہی غلط ہے جو اہل اسلام کے اجماع سے خارج ہے۔اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں’’ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام اگرچہ کفر کا اعلان ہو۔
اور صفحہ ۴۹۹پر فرمایا ’’کہ ان سے کہا جائے کہ جب اﷲکو گالی دینا تمہارے نزدیک کفرنہیں توپھر تم یہ کیسے کہتے ہوکہ یہ کفر کی دلیل ہے ؟اگر وہ اس کے جواب میں کہیں کہ :یہ کہنے والے پر اس قول کی وجہ سے کفر کا حکم لگادیا گیا ہے تو ان سے یہ کہاجائے کہ:کفر کا حکم صرف یہی بات کہنے پر دیا گیا ہے نہ اس غائب بات پر جس کا علم اﷲ کے علاوہ کسی کو نہیں بلکہ اس پر تو صرف اس کہنے سے ہی کفر کا حکم لگادیا گیا تو اس کایہ کہنا ہی کفر ہے اﷲایسے لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے کہ جواپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جو ان کے دل میں نہیں تھی ان کے قول کی وجہ سے وہ کافر ہوئے جیسے کہ یہود،جنھوں نے محمدﷺ کی نبوت کی صحت کو جان لیا تھا جیساکہ وہ اپنے بیٹوں کوپہچانتے تھے ،اور وہ اس کے باوجود وہ قطعی اور یقینی طورپر کافر تھے اس لیے انھوں نے کلمہ کفر کااعلان کردیا تھا اور کلمہ کفر قول ہی ہوتا ہے۔اس جگہ ابن حزم ﷫ نے فرمایا’’اور ان مرجئہ میں اس بات میں اختلاف نہیں کہ کتاب اﷲمیں کافر اورکفرکا حکم اسی پر لگایا گیا جس نے ایسے کلمات کہے جیساکہ اﷲکا ارشاد ہے:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ . (المائدۃ:١٧)
’’البتہ تحقیق ایسے لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ بے شک مسیح ابن مریم اﷲہیں‘‘
اور اﷲنے فرمایا:
وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَةَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِھِمْ. (التوبۃ:۷۴)
’’بے شک انہوں نے کلمۂ کفر کہا اور اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے۔‘‘
اس سے ثابت ہوا کہ صرف کوئی کفریہ بات کرنا بھی کفرہوتا ہے۔اور ابن حزم ﷫نے اپنی کتاب:(الفصل فی الملل والاھواء والنحل:طبعة دارالجیل مجلد۵صفحة۷۵)میں کہا کہ اشعریہ کہتے ہیں کہ :بے شک ایسے آدمی کو جو اﷲاور اس کے رسول کے لئے اسلام کا اظہار کرے اُسے گالی دینا اور اﷲاور رسول کو زبان سے جھٹلانابغیر تقیہ اورحکایتًا کسی اور کا قول نقل کرنا جبکہ وہ دین اﷲاپنانے کا اقرارکرتا ہوان میں سے کوئی بھی بات کفر نہیں ہے(پھر انہیں ڈر ہوا کہ کہیں تمام اہل اسلام ان کی مخالفت کریں گے تو فوراًکہا کہ:لیکن یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں کفر ہے،بلکہ اسی جگہ اشعریہ کا ایک اور قول ذکرکیا ہے کہ ’’ابلیس آدم کو سجدہ نہ کرکے اﷲکا حکم نہ مان کر کافر نہیں ہوانہ ہی یہ کہہ کے کہ میں اس سے بہتر ہوں۔بلکہ وہ تو اس انکار کی وجہ سے جو اس کے دل میں اﷲ کے لئے تھا)کافر ہوا۔پھر آپ نے آگے فرمایا :یہ قرآن کے خلاف ہے اور کہانت ہے ،اسے وہی جان سکتا ہے جسے شیطان نے خود بتایا ہو۔کہ اس اشعری کا شیخ جو کہ ابلیس ہے اور جنھوں نے اس اشعری کو یہ خبر دی ہے کہ جب وہ سجدہ سے انکار کرتے تھے تو وہ انکار کی وجہ سے کافر نہیں ہوئے بلکہ اس کفر کی وجہ سے کافر ہوئے جو اس ابلیس کے دل میں تھا اس سے انکار نہیں کہ یہ خبر اس اشعری کو ابلیس نے دی ہے مگر ابلیس غیر ثقہ راوی ہونے کی وجہ سے اس کی روایت ضعیف ہے۔ اور صفحہ ۷۶پرکہتے ہیں ’’ہم نے اس ملعون مقالہ لکھنے والوں پر ردّکیا ہے اور اس کتاب کا نام (الیقین فی النقض علی الملحدین المحتجبین عن ابلیس اللعین وسائر الکافرین)رکھا ۔یہ کتاب توہمیں دستیاب نہ ہوسکی البتہ شیخ نے جو ردّاسی میں سے،یعنی جو ردّانھوں نے مرجئہ پرکیاہے اس میں سے ان کا یہ قول بھی ہے: کہ مرجئہ کی یہ بات کہ :’’اﷲاور رسول کو گالی دینا کفرنہیں مگر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں کفر ہے‘‘ان کے اس قول پرتبصرہ کرتے ہوئے ابن حزم ﷫کہتے ہیں :کہ یہ دعوٰی ہے ، مرجئہ نے جو بات کہی ہے اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ایک دعوٰی بلادلیل ہے بلکہ دلیل ان کے مخالف ہے جو کہ انھوں نے ذیل میں دی ہے :
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ.(التوبۃ:۷۴)
’’اپنے قول پر اﷲکی قسم کھاتے ہیں اور البتہ تحقیق انھوں نے کفریہ بات کہی ہے۔‘‘
اﷲنے کہہ دیا کہ کچھ کلمات کفریہ بھی ہوسکتے ہیں :
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ. (النساء: ١٤٠)
’’جب تم سنو کہ اﷲکی آیات کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے یا مذاق اڑایا جاتا ہے توپھر ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھویہاں تک کہ وہ اپنا موضوع سخن بدل نہ لیں ورنہ تم بھی ان جیسے ہوجاؤگے ۔‘‘
اس سے ثابت ہوا کہ کچھ باتیں جو سنی جاتی ہیں جو اﷲکی آیا ت کے بارے میں کہی جاتی ہیں وہ بذات خودکفرہوسکتی ہیں۔
اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ oلا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً(توبہ)
’’(اے محمدﷺ)کہہ دیجئے ،کیا اﷲاور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ تم مذاق کرتے ہو،معذرت نہ کرو تحقیق تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو،ہم اگر ایک گروہ کو معاف کریں گے تو دوسرے کو عذاب بھی دیں گے۔‘‘
اﷲنے اس پر نص قرآنی نازل فرمادی کہ اﷲ،اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا ایمان سے خارج کرنے والا کفر ہے ،اﷲ نے یہ نہیں کہا کہ میں جان گیا ہوں کہ ان کے دل میں کفر ہے بلکہ ان کو صرف استہزاء کی وجہ سے کافر قرار دیا۔ لہٰذا وہ اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو انھوں نے نہیں کہا ہے اور اللہ پر جھوٹ بول رہا ہے ۔ابن حزم ﷫نے اپنی کتاب(الفصل:۳/۲۵۳)میں ان مرجئہ کے ردّ میں فرماتے ہیں:کہ اگر کوئی شخص محمدﷺ اور ان کے پیرو کاروں کو (نعوذباﷲ)کافر کہے اورخاموش رہے اگرچہ دل میں اس سے مراد وہ طاغوت کے منکر لیتا ہو۔
جیساکہ اس آیت میں فرمایا:
لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لا انْفِصَامَ لَهَا.(البقرۃ:۲۵۶)
’’پس جو طاغوت کا کفر کرے اور اﷲپر ایمان لائے حقیقت میں اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا جو ٹوٹنے والی نہیں۔‘‘
توکوئی بھی مسلمان اس کوکافر قراردینے میں اختلاف نہیں کرے گا۔اسی طرح اگراس کے (دل)کا ارادہ یہ ہو کہ (فرعون،شیطان اور ابوجہل)مؤمن ہیں (مگر)کفار کے دین پر ،یعنی انھوں نے کفار کے دین پر ایمان لایا ہے پھر بھی اس کے ظاہری قول کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔ثابت یہ ہوا کہ ہم نے اُسے صرف اس کے قول اور بات کے سبب کافر کہا اور اس میں اس کے دلی اعتقاد کاکوئی دخل نہیں۔اسی طرح جو بھی کفریہ قول یا عمل کا اظہارکرے گا ہم اُسے محض اس کے قول اور عمل کی وجہ سے کافر کہیں گے جبکہ دلی اعتقاد توصرف اﷲہی جانتا ہے۔
رسول اﷲﷺنے فرمایا:
(انی لم أبعث لأشق عن قلوب الناس) (بخاری:۴۰،۶۰)
’’ میں اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ لوگوں کے دل چیرکو دیکھتا رہوں۔‘‘
اس کے خلاف دعوٰی کرنے والااصل علم غیب کا مدعی ہے اوراور علم غیب کا مدعی بلاشک جھوٹا ہے۔ اﷲنے اس بات کی گواہی دی ہے کہ اہل کتاب حق کو پہچانتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ حق ہے اورمحمدرسول اللہ حق ہے۔ مگر اپنی زبانوں سے اس کے برعکس اظہار کرتے ہیں اﷲنے بھی انہیں صرف اسی بات پرکافر کہا جس کا انہوں نے اپنی زبانوں اور افعال سے اظہار کردیا ۔(کتاب الفصل:۳/۲۵۹)
اﷲنے فرمایا:
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ.(النمل )
’’جب ان تک ہماری آیات روشن کردینے والی وضاحت کرنے والی آگئیں توکہنے لگے یہ توکھلاجادو ہے۔اور انھوں نے ان کا انکار کیا ظلم اورتکبر میں جبکہ ان کے نفس ان پر مطمئن تھے۔‘‘
ابن حزم﷫ کہتے ہیں ’’یہ بھی بالکل واضح نص ہے جس میں تأویل کا کوئی احتمال نہیں کہ کفار نے اپنی زبانوں سے انبیاء﷩کی لائی ہوئی آیات کا انکار کیا ،دل میں انہیں یقین تھا کہ وہ آیات حق ہیں۔‘‘(کتاب الفصل: ۲۴۳/۳)
اورابن حزم﷫نے فرمایا:
مرجئہ میں سے بعض نے اخطل النصرانی کے اس قول سے دلیل لی ہے ۔
ان الکلام لفی الفؤاد وانما جعل اللسان علی الفؤاد دلیلا
’’بے شک بات تو دل میں ہوتی ہے زبان صرف اس پر دلالت کرتی ہے‘‘
ابن حزم﷫کہتے ہیں:اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ یہ شعر کہنے والا بھی ملعون ہے اور وہ بھی ملعون ہے جو اس عیسائی کے ایک شعر کو اﷲکے دین میں دلیل مانتا ہو۔عقل اور حس بھی اس شعرکی تکذیب کرتے ہیں جبکہ یہ شرعی اورمعاملہ مسئلہ ہے اور(اخطل کے شعر سے دلیل لینا)لغت کے اس باب میں سے بھی نہیں جس میں کسی عربی شخص (کے کلام سے )دلیل لیا جاسکتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو کیونکہ(اس طرح کی دلیل)عقلی معاملے میں (کسی کافر عربی شخص کے کلام سے جو بنی عباس کے دور کے پہلے کا ہولیا جاسکتا ہے )اورہمارا یمان ہے کہ اﷲتعالیٰ اس عیسائی ملعون سے بہت زیادہ سچا ہے ،وہ کہتا ہے ۔
يَقُولُونَ بِأَفْواهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ.(آل عمران:۱۷۶)
’’اپنے منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔‘‘
اﷲنے بتادیا کہ کچھ لوگ اپنے منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی جبکہ اخطل ملعون کہتا ہے کہ جو کچھ دل میں ہوتا ہے زبان اس پر دلالت کرتی ہے ۔ہم اﷲکو سچا اور اخطل کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور اﷲاس پر بھی لعنت کرے جو اخطل کو دین اسلام میں حجت بنائے ۔(حسبنا اﷲونعم الوکیل)
اور ابن حزم﷫نے کہا ہے ۔
اﷲنے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ oذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الأمْرِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ oفَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ oذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ.(محمد:۲۸،۲۵)
’’بے شک جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے بعد مرتد ہوگئے ،شیطان نے ان کے لئے گھڑا اور بیان کیا ،یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے ایسے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری پیروی بعض چیزوں میں کریں گے جنھوں نے اﷲکے نازل کردہ کو کراہت سے دیکھا ،اور اﷲ ان کے اسرار جانتا ہے،تو پھر ان کا کیا حال ہوگا جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہوئے اور ان کے چہرے اور پشت پرماریں گے ،یہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اﷲنے ناپسند کیا اور اﷲکی مرضی کو مکروہ سمجھا پس ان کے اعمال ضائع کردئیے ۔‘‘
ابن حزم ﷫فرماتے ہیں:اﷲ نے انہیں کافر قراردیا بعد اس کے کہ انہیں حق کا علم ہوچکا تھا اور ہدایت واضح ہوچکی تھی ،صرف ان کے اس قول کی بناپر جو انھوں نے کفار کو کہا تھا انہیں کافر کہا گیاہے۔اور اﷲنے ہمیں بتادیا کہ وہ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے ،اور اﷲنے یہ نہیں کہا کہ یہ انکار یا تصدیق ہے بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ ان کے باطن میں تصدیق ہے ،کیونکہ ہدایت ان پر واضح ہوچکی تھی اور جس پر ہدایت واضح ہوجائے تو اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ دل سے اس کا انکار کرسکے ۔
ابن حزم﷫اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ.(التوبۃ: ۷۴)
’’ اپنے قول پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں اور البتہ تحقیق انھوں نے کفریہ بات کہی ہے اور کافر ہوئے ہیں مسلمان ہونے کے بعد۔‘‘
یہ بات نص قرآنی سے ثابت ہوگئی کہ جو کوئی تقیہ کے بغیر کلمہ کفر کہے گا تو اس نے اسلام کے بعد کفر کیا ،اوریہ بھی ثابت ہوا کہ جو اعتقادِ ایمانی رکھے اورکلمۂ کفر کہے تو وہ اﷲکے ہاں بھی قرآن کی دلیل سے کافرہوا ۔(کتاب الدرہ فیما یجب اعتقادہ:۳۳۹)
اﷲکافرمان ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ.
’’اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آوازبلند نہ کرو اورنہ ہی اپنے قول کو اونچا کرو جیساکہ آپس میں کرتے ہوکہیں تمہارے اعمال نہ ضائع ہوجائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔‘‘(الحجرات:۲)
یہ مؤمنین کوواضح خطاب ہے کہ ان کاایمان مکمل باطل اور اعمال ضائع ہوجائیں گے اگرانھوں نے اپنی آواز نبیﷺکی آواز سے اونچی کی،اور ان کی طرف سے انکارنہیں ہوا،اگر انکار ہوتا تو انہیں اس کا احساس ہوجاتا،جبکہ اﷲبتارہاہے کہ مؤمنوں کو اعمال باطل ہونے کا احساس بھی نہ ہوگا۔ثابت ہوا کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جوکہ کفر ہیں اور ان کے کرنے والے کا ایمان مکمل طور پر باطل کردیتا ہے اور کچھ ایسے ہیں کہ جو کفر تو نہیں ہیں مگر اﷲنے ان کے بارے میں جو حکم لگادیا ہے اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔
میں کہتا ہوں:یہ وہ حق ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔اسی طرح خوارج کایہ قول غلط ہے کہ ہرقسم کاگناہ کفر ہے ایمان کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے۔موجودہ دور کے مرجئہ کی بات بھی غلط ہے کہ تمام اعمال اور گناہ اس وقت تک کافرنہیں کرتے جب تک اس میں اعتقاد نہ شامل ہو۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کچھ اعمال ایمان کو باطل اورمنہدم کرنے والے ہیں ،جیساکہ پہلے بیان ہوچکا اور آیات سے ثابت کیاگیا۔اور کچھ اعمال ایسے ہیں جو کمالِ ایمان کے منافی ہیں اور اُسے ناقص کرتے ہیں مکمل طور پر ختم نہیں کرتے جب تک ان میں انکار یااستحلال شامل نہ ہوجائے ۔یہ تفاصیل خوارج نے اپنے افراط کی وجہ سے ضائع کردیں اور مرجئہ نے ان سے اعراض کیا اپنی تفریط کی وجہ سے ،اور دونوں گمراہ جماعتیں ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ارجاء کا فتنہ (پہلے پہل)حکمرانوں کے خلاف خروج اور اس پر مرتب ہونے والی سزاؤں کا ردّ عمل کا نتیجہ تھامگر یہ ایسا ردّ عمل تھا جو اصولوں کے ساتھ منضبط نہیں تھا (بلکہ حکمرانوں کی خوشامد کی وجہ سے اس ارجاء کو اختیار کیا گیا تھا)اس زمانے کے مرجئہ کا بھی اپنی ان جہالتوں پر مبنی بحثوں میں یہ حالت ہے کہ جن کا غالب حصہ تکفیرین کا بلکہ ان اہل حق کا ردّعمل ہے جو ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں جن کو اللہ و رسول ﷺنے کافر کہا ہے دلیل کے ساتھ تو جو مداہنت اور میلان ان مرجئہ میں تھا بالکل وہی مداہنت اور میلان طاغوت حکمرانوں کی طرف ان میں ہے تو یہ غالبًا ردّ عمل ہے (اس زمانے میں )اہل توحید کو اِن طاغوت حکمرانوں کے سزاؤں کا ، ان کوقید کرنے کا اور ان کو عذاب دینے کا(مگر یاد رکھو ) کہ حق کے طالب میں اس طرح کے عکسی ردّ عمل حکومت نہیں کرتی ،بلکہ وہ تو نبیﷺکی اس حدیث کو ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتا ہے جس میں ایک غالب اور مدد کی ہوئی جماعت کا ذکر ہے ’’لَایَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ وَلَا مَنْ خَذَلَھُمْ‘‘ نہ کسی کی مخالفت ان کونقصان پہنچاسکتی ہے نہ کسی کاچھوڑنانہ تو وہ نقصان پاتا ہے نہ منحرف ہوتا ہے نہ افراط کرنے والوں سے متاثر ہوتا ہے اورنہ تفریط کرنے والوں سے ،بلکہ وہ ہمیشہ اس صاف اور سیدھے راستے پر قائم وثابت رہتا ہے جس پر نبیﷺ نے چھوڑدیا ہے اس وقت کہ یہ اللہ سے ملے۔
٭ ابراہیم نخعی﷫نے کہا ہے کہ :ازارقہ کے فتنہ سے زیادہ مرجئہ کا فتنہ اس امت کیلئے خطرناک ہے۔(کتاب السنۃ عبداﷲ بن احمد۱/۳۳۷)
٭ اور انہی کاقول ہے کہ ’’خوارج مرجئہ سے زیادہ میرے نزدیک معذور ہیں‘‘۔(کتاب السنۃ عبداﷲ بن احمد۱/۳۱۸)
٭ امام اوزاعی ﷫کہتے ہیں:یحییٰ اور قتادہ (تابعین﷮)کہتے تھے :اس امت کے لئے ارجاء سے زیاد ہ بدعات میں سے کوئی اور چیزخطرناک نہیں۔(کتاب السنۃ عبداﷲ بن احمد۱/۳۱۸)
جب ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو اس کے ردعمل میں ارجاء وجود میں آیا۔کہ اس بغاوت میں قتل،قید اور دیگر آزمائشیں آئیں۔پہلی مرتبہ ارجاء کا ظہواور اس کا پھیلاؤعبدالرحمن بن اشعث کی وجہ سے ہوالیکن یہ ردّعمل شریعت کے ضابطوں کے مطابق نہیں تھا جیسا کہ دور حاضر کے مرجئہ کا ارجاء ہے جسکا اظہار یہ اپنے اقوال میں کرتے رہتے ہیں یہ ردّعمل ہے موجودہ دورکے غلو کرنے والے تکفیریوں کا بلکہ ان اہل حق کا ردعمل ہے جو ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں جنہیں اﷲاور رسول ﷺ نے کافرکہا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ مرجئہ طاغوت حکمرانوں کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ سرکش حکمران اہل توحیدکو سزائیں دیتے ہیں ۔قیدوبند کی تکالیف دیتے ہیں۔حق کا طالب کبھی بھی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے سامنے رسولﷺکی وہ حدیث رکھتا ہے جس میں طائفہ منصورہ کی تعریف کی گئی ہے۔کہ اس گروہ منصورہ کو کسی کی مخالفت نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔طالب حق کبھی افراط وتفریط کرنے والوں سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ واضح راستے پر قائم رہتا ہے۔ نبیﷺکاراستہ ہے۔
امام ابن حزم ﷫ کی تفصیلی گفتگو نقل کرنے کے بعداب ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫کی رائے پیش کرتے ہیں:اس سے ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ مرجئہ عصر کی گمراہیوں کا قلع قمع کیاجائے ۔مرجئۃ العصر شیخ الاسلام ﷫کے بعض کلام سے زبان درازی کرکے استدلال کرتے ہیں ۔ ،ہمارے لئے نہ تو شیخ الاسلام﷫ کاکلام حجت ہے اورنہ ابن حزم﷫بلکہ اصل حجت تو اﷲکے کلام اور رسولﷺکے فرمان میں ہے،اور جس آدمی کو اﷲکا کلام اور رسول ﷺکا فرمان کافی نہ ہوتو ایسے کے ساتھ ہم اپنی جان کیوں تھکائیں ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے۔
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ. (الجاثیۃ :۶)
’’اﷲاور اس کی آیات کو چھوڑ کر یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘

ابن قیم﷫نے کیا خوب کہا ہے:
جس کو یہ دونوں (کتاب وسنت)شفا نہ دیں جس کو یہ دونوں کافی نہ ہوں
جس کویہ دونوں کفایت نہ کریں یہ باتیں سمجھدارو ں کے لئے ہیں
تو اُسے اﷲ قلبی وبدنی شفا نہ دے تو اﷲاُسے زمانے کی برائیوں کے لئے کافی نہ ہو
اﷲ رب العرش اُسے محروم وتنگ دست بنادے ان بے وقوف جانوروں کے لئے نہیں ہیں
شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫اپنی کتاب (الصارم المسلول)میں رقم طراز ہیں:اﷲاور رسول کو گالی دینا ظاہری اورباطنی کفر ہے ۔چاہے گالی دینے والا یہ اعتقاد رکھے کہ یہ حرام ہے یا حلال ہے یا بغیر اعتقادکے ،یہ مذہب ان فقہاء اور تمام اہل سنت کا ہے جو کہتے ہیں کہ ’’ایمان قول وعمل کانام ہے‘‘اسی طرح ہمار ے ساتھیوں اور دوسروں نے کہا ’’جس نے اﷲکو گالی دی کافر ہوا چاہے مذاق میں ہویا سنجیدگی میں ‘‘آپ ﷫ نے فرمایا’’یہی صحیح اورکھری بات ہے۔
قاضی ابویعلی ﷫ اپنی کتاب (المعتمد)میں فرماتے ہیں ۔’’جس نے اﷲیا اس کے رسول کو گالی دی وہ کافر ہوجائے گاچاہے وہ گالی کو حلال جانے یا نہ سمجھے ،اگر وہ کہے کہ میں اسے حلال نہیں سمجھتا تو اس کی یہ بات نہ مانی جائے گی۔اورفرمایا(ص:۵۱۵پر)’’یہ بات ضرور معلوم ہونی چاہیے کہ یہ کہنا کہ گالی دینے والے کا کافر ہونا درحقیقت اس کا اس گالی کو حلال سمجھنے کی وجہ سے ہے ،بڑی منکر اوربہت بڑی جسارت ہے۔اس گمراہی کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ انھوں نے آخر دور کے متکلمین جھمیہ سے لیا وہ جھمیہ اولیٰ کے اس مذہب سے متأثر ہو کر کہ ایمان صرف دل کے اندر موجود تصدیق کانام ہے ۔اور آپ نے فرمایا(ص:۵۱۷پر):کہ فقہاء سے مذکورہ حکایت کہ اگر وہ گالی کو حلال سمجھتا تھا توکافر ورنہ نہیں ‘درست نہیں اور اس کی کوئی اصلیت نہیں بلکہ اسے صرف قاضی نے بعض متکلمین کی کتابوں سے نقل کیا ہے ۔
فرمایا :یہ اعتقاد رکھنا کہ گالی حلال ہے کفر ہے ،چاہے گالی دی جائے یا نہ دی جائے ۔
اور فرمایا:اگر اس (گالی)کے حلال ہونے پر اعتقاد پر کافر ہو تو پھر گالی میں توایسی کوئی بات واضح نہیں ہوتی کہ گالی دینے والا اس کو حلال جانتا ہے ،تو لازمی ہے اس کوکافرنہ کہا جائے خاص طورپراس صورت میں کہ گالی دینے والاجب یہ کہتا ہوکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ یہ حرام ہے۔
پس غصہ یا بے وقوفی یا ایسے ہی نکل گئی ،جیساکہ منافقین نے کہا :
اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبْ.(التوبۃ:۶۵)
’’ہم تو صرف اٹکھیلیاں کرتے اور کھیلتے تھے۔‘‘

تو اگر یہ کہا گیاکہ وہ کافر نہیں ہوں گے ۔تویہ نص قرآن کے خلاف ہے۔اور اگر یہ کہا گیا کہ ’وہ کافر ہوجائیں گے‘تو یہ تکفیر کسی سبب کے بغیر ہوگی ،اگر آپ نے گالی ہی کو تکفیر کا سبب نہ بنایا،اور قائل کی یہ بات کہ ’میں اس کی بات کوسچ نہیں جانتا‘صحیح نہیں،کیونکہ تکفیر کسی احتمال والی بات میں نہیں ہوتی ،اگر اس نے یہ کہا ہواہو کہ ’میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ (یہ غلط،گناہ ہے اورمیں نے کیا ہے)تو اُسے کس طرح کافر کہا جائے گا اگر وہ کفر ہوہی نہ،اسی لئے اﷲنے فرمایا:
لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ. (توبۃ:۶۶)
’’اب معذرت نہ کرو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو۔‘‘

یہ نہیں کہا کہ ’تم نے اپنی بات میں جھوٹ بولا ہے کہ ’ہم تو آپس میں کھیل کود کرتے تھے‘ان کے اس عذر میں جھوٹا نہیں کہا جیساکہ ان کے باقی تمام اعذار میں جو انھوں نے پیش کئے کہا ،جو کہ اگر سچ ہوتے تولازماً کفر سے بری کردیتے بلکہ یہ بیان کیا کہ انھوں نے ایمان کے بعد کفر کیا ،اس کھیل کود کی وجہ سے ،اور جب یہ واضح ہوگیا کہ اسلافِ امت اور ان کے پیروکار ں کا یہ مذہب ہے کہ ’یہ قول بذاتِ خود کفر ہے ‘چاہے صاحب قول اس کو حلال کہے یا حرام ،ان سب کی دلیل ہم نے ذکر کردی ہے۔(الصارم المسلول:۵۱۷)
اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:
مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِصَدْرًا..(النحل ۱۰۶:)
’’جس نے ایمان لانے کے بعد اﷲ کے ساتھ کفرکیا مگر وہ جسے مجبور کیا گیا اور اس کادل ایمان پرمطمئن تھا لیکن جس نے اپناسینہ کفر کیلئے کھول دیا ۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اگر کفریہ بات کہنا کفرنہ ہو تا سوائے اس کہ کہ کہنے والاپورے شرح صدر کے ساتھ کہے تواس سے مجبور آدمی کو مستثنیٰ نہ کرتے اور جب مجبور کو مستثنیٰ کیا تو معلوم ہوا کہ مجبورآدمی کے علاوہ جوبھی کفریہ بات کہے گا گویا اس نے شرح صدر سے کہا کہ یہ شرح صدر والی بات جو آیت میں کہی گئی ہے یہ حکم ہے حکم کے لئے قیدنہیں (کہ شیخ الاسلام﷫کی)آخری بات کو غور سے پڑھو وہ بہت اہم ہے ۔لہٰذا بغیر عذر شرعی کے کلمۂ کفر کا اعلان کرنے والا کافر ہے اس لیے کہ ا س نے اپنا سینہ کفر کے لئے کھول دیا ،اب اس میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ ہم غورکریں گے کہ اس کے دل میں کیاہے۔کیا وہ اس کا معتقد ہے یا اسے حلال سمجھتا ہے یا نہیں ؟’اسی طرح اﷲاور اس کے رسول کو گالی دینے والا اور دین کو گالی دینے والا اپنے دل کو کفر کیلئے کھول کریہ کہتا ہے ،چاہے وہ ہمیں اس بارے میں نہ بتائے۔اسی طرح بت کے لیے اپنی مرضی سے سجدہ کرنے والے نے بھی اپنا سینہ کفر کے لیے کھول دیا ہے اب اس میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ ہم دیکھیں گے کہ اس نے یہ حلال سمجھ کرکیا یا حرام ،کیونکہ یہ تمام اعمال بذاتِ خود کفریہ ہیں ،اسی طرح اﷲکی شریعت میں ملاوٹ کرنے والا یا اﷲ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کرکے حاکم تلاش کرنے والا یا مشرع اور معبود ڈھونڈنے والا سب لوگ حقیقت میں اپنے دلوں کو کفر کے لئے کھول چکے ہیں جب انھوں نے طاغوت کو معبود بنالیا یاطاغوت کی پیروی کی اور شریعت میں اسے حاکم بنایا ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے اسے پورے اعتقاد کے ساتھ حلال سمجھا یاحرام،اسی طرح اﷲ کے دین سے مذاق کرنے والا اس مذاق کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے، اس نے اپنا سینہ کفر کیلئے کھول دیا ہمیں بتائے یانہ بتائے،ہم اُسے صرف اس مذاق پرکافر کہیں گے اور اس میں توقف نہیں کریں گے کہ اسے پوچھیں کہ تم نے اعتقاد رکھاتھا یا حلال سمجھاتھا ؟یا نہیں بلکہ اگر وہ یہ کہہ بھی دے کہ میں نے اعتقاد اور حلال سمجھے بغیر کہا تھا تو پھر بھی ہم اسے کافر کہیں گے اور اُسے ویسے ہی جواب دیں گے۔ جیسا اﷲنے کہا:
لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ. (توبۃ:۶۶)
’’بہانے مت بناؤ تم نے ایمان لانے کے بعدکافرہوچکے ہو۔‘‘

یہ حکم ہے کفر کا جیساکہ شیخ الاسلام ﷫نے ذکرکیاہے ،کفر کے لیے قید نہیں جیساکہ مرجئۃ العصر نے اسے بنایا ہے ،اور اگر اس طرح کے غیبی اورپوشیدامور کو کفر کے لیے قید اعتبار کیے جائیں ان اعمال میں جو کافر بنانے والے ہیں تو پھر اﷲ کا دین ہرزندیق کے ہاتھ میں کھلونا بن جائے گا ،ہرکافر اورمشرک یہ سمجھتا ہے کہ وہ احسان ،توفیق ،ایمان اورہدایت کو (اپنے دل میں)پوشیدہ رکھتا ہے۔
شارع حکیم نے احکام شریعت کو جن میں تکفیر بھی ہے ۔دنیا میں ظاہری اور سیدھے اسباب وعلل کے ساتھ باندھا ہے اور انھیں پوشیدہ اور غیبی یا باطنی اسباب کے ساتھ نہیں باندھاہے ،انہیں پوشیدہ اور غیبی یا باطنی اسباب کی وجہ سے نافذ نہیں کیا ،یہ تمام چیزیں آخرت کے احکام کے تابع ہیں، پھر کفرِ تکذیب وانکار کفر کی اقسام میں سے صرف ایک قسم ہے’’ایسانہیں ہے کہ یہی ایک قسم (تکذیب وانکار کفر )ہو (دوسری کوئی قسم کفر کی نہ ہو)جیسا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫(فتاوی:۷/۵۶۰)میں مزید فرماتے ہیں:’جہم اور صالحی کے قول پرچلنے والے صراحت کرتے ہیں کہ اﷲورسول کو گالی ،تثلیث کی بات کرناتو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تین ہیں اور تثلیث کی بات کرتا ہے اورکہتا ہے کہ ایک اللہ اللہ خود ہے دوسرا مریم ﷥تیسرا عیسیٰ وہ دل میں یہ عقیدہ رکھے یا نہ رکھے مگر اس کی زبان سے کہی ہوئی یہ بات اس کو کافر بنانے کے لیے کافی ہے۔ اورہرکفریہ کلمہ کہنا باطن میں کفر نہیں ہے۔ لیکن وہ ظاہراًکفر کی دلیل ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی جائز ہے کہ یہ گالی گلوچ کرنے والاباطن میں اﷲکوجاننے والامؤحداورمؤمن ہو،پس جب ان پر نص یا اجماع کے ذریعہ حجت بن جائے کہ یہ شخص باطنی اور ظاہری طور کافر ہے۔
وہ کہتے ہیں:’’یہ اس چیز کا متقاضی ہے کہ یہ حجت تکذیبِ باطن پر لازم آتی ہے ۔توان سے کہا جائے گاکہ ہم جانتے ہیں کہ جس نے اﷲاور رسول کو جان بوجھ کر بغیر اکراہ کے گالی دی ،بلکہ جس نے کلماتِ کفر جان بوجھ کر بغیر اکراہ کے کہے اور جس نے اﷲاور اس کی آیات اور اس کے رسول سے مذاق کیا ،وہ ظاہراًاورباطناًکافرہوا،اور یہ کہ جویہ کہے کہ اس (قول کے کہنے والے)کی طرح کاباطن میں اﷲپرایمان رکھنے والاہوسکتا ہے اوردرحقیقت وہ ظاہراًکافر ہے ،پس بے شک اس نے ایسی بات کہی ہے جس کا فاسد ہونا ضروری طور پر ہمارے دین سے (سب کو)معلوم ہے ۔اﷲنے کفار کے کلمات قرآن پاک میں ذکر کئے اور ان کے کافر ہونے کاحکم سنایا اور وعیدِ عذاب کا موجب ٹھہرایا :
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوْا اِنَّ اﷲَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ. (المائدۃ:۷۳)
’’تحقیق وہ لوگ کافر ہوئے جنھوں نے کہا کہ اﷲتین کا تیسرا ہے‘‘
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. (المائدۃ:۱۷)
’’تحقیق وہ لوگ کافرہوئے جنھوں نے کہا کہ عیسیٰ اﷲہیں۔‘‘

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫نے اسی سورہ نحل کی آیت کے بارے میں یہ بھی فرمایا:’’یہ جان رکھیں کہ یہاں صرف اعتقادِ قلب کوکفر نہیں کہا گیا،کیونکہ اس پر آدمی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ،اور ا ﷲنے آیت(نحل:۱۰۶)میں مجبور کو مستثنیٰ قراردیا ہے ،اور نہ ہی ایسے آدمی کا بیان ہے جس نے کہا اور اعتقاد بھی رکھا۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے مجبور کو مستثنیٰ کیا ہے،اور وہ آدمی قصدارادے اور عقیدے اور قول پرمجبور نہیں کیاجاسکتا ،بلکہ صرف قول پرمجبورکیا جاسکتا ہے۔تومعلوم ہوا کہ آیت میں وہ آدمی مرادہے جس نے کلمۂ کفر کہا ۔اُس پراﷲکا غضب ہوگااور اس کیلئے دردناک عذاب ہے،اور وہ اس قول کے ساتھ کافر ہوگا،مگر جسے مجبور کیا جائے اور اس کادل ایمان پرمطمئن ہے۔لیکن مجبور کئے ہوئے لوگوں میں سے جس نے اپنا سینہ کفر کے لئے کھول دیا وہ بھی کافر ہے ،پس جس نے کلمۂ کفرکہا کافرہوا سوائے اس کے جس کومجبور کیا گیا ہو،اس نے زبان سے کلمۂ کفر کہا مگر اس کا دل ایمان پرمطمئن تھا،اﷲتعالیٰ مذاق کرنے والوں کے بارے میں کہتا ہے۔
لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ. (توبۃ:۶۶)
’’اب معذرت نہ کرو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو۔‘‘

اس آیت میں اﷲنے وضاحت کردی کہ وہ لوگ فقط قول کی وجہ سے کافر ہوئے باوجود اس کے کہ وہ اس قول کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔کہ یہ(تکفیر) کا باب بڑا وسیع ہے۔ (الصارم المسلول:ص ۵۲۴)
اور شیخ الاسلام﷫’’الصارم المسلول‘‘میں رقم طراز ہیں ’’اگرکسی مسلم سے نبی ﷺ کو تکلیف دینا یا آپ ﷺکی زندگی میں آپ کی موت کی دعاکرنا جیسی حرکات سرزد ہوجائیں تو ان کے ذریعے وہ مرتد ہوجاتاہے ۔نبیﷺکا قتل کفرکی بڑی انواع میں سے ہے،اگر چہ قاتل یہی کہے کہ اس نے حلال سمجھ کر قتل نہیں کیا،آپ نے اسحاق بن راہویہ ﷫کے حوالے سے ذکرکیا کہ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔اور اسی کتاب کے صفحہ ۱۷۸ پرکہتے ہیں’غرض کہ جس نے کچھ ایسا کہا یا کیا جو کفر ہے تو اس سے وہ کافر ہوا ،اگرچہ وہ کافر ہونے کاقصد نہ بھی کرے کیونکہ کوئی بھی کفر کا ارادہ نہیں کرتا اِلَّا یہ کہ اللہ چاہے ۔ان باتوں سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن کا حکم ہم نے ابن حزم ﷫کے کلام میں ذکرکیا ۔جس نے کفرکااعلان کیا یا تقیہ کرتے ہوئے کہا یا کسی کا کفریہ قول بیان کیایا ان کے علاوہ جن کو بھی شارع نے مستثنیٰ کیا ،اب اگر مرجئہ عصر چیخیں اور کہیں کہ :ذراٹھہرو !یہ کیسا استثناء اور کس نے اس جگہ پر کفر کہنے والے کو(اس حکم سے)خارج کیا ہے ،جبکہ تم نے پہلے کہا تھا کہ کفریہ بات کہنے والا یا کفریہ عمل کرنے والا کافر ہے چاہے اعتقاد نہ بھی رکھے۔
ہم جواب دیں گے:ان جگہوں پروہ اﷲکے کلام کی نص کی رو سے مستثنیٰ ہے۔اور اﷲہی جسے چاہے جو کچھ قراردے ۔پس جس نے ایسے شخص کوجو کفریہ اقوال کہے یا اعمال کرے کافرکا نام دیا ،اسی ذات نے ان جگہوں کو مستثنیٰ کیا ،اور تم (مرجئہ)اور تمہارے شیوخ اور اسلاف پر اس شبہ کے حوالے سے امام ابن حزم﷫ نے ردّکیاہے۔آپ﷫نے(الفصل:۳/۲۵۰)پرفرمایا:
کسی کو کافر یا مسلم قراردینے کا اختیار ہمیں نہیں بلکہ یہ اختیار تو اﷲکے پاس ہے جب اﷲنے ہمیں تلاوتِ قرآن کا حکم دیا ،اور اس میں اہل کفر کی باتیں بیان کیں ،اور ہمیں اﷲنے بتادیا کہ وہ اپنے بندوں کے لئے کفر پر راضی نہیں ہوتا ،تو قرآن پڑھنے والااس تلاوت کے ذریعے کفر سے نکل کر اﷲکی رضا اور ایمان میں داخل ہوگیا،اور جب اﷲنے حق کی گواہی دینے کا حکم دیا اور فرمایا:
إِلا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ. (الزخرف:۸۶)
’’سوائے اس کے جس نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے ہیں۔‘‘

یہ گواہی دینے والے اور کافر کے کفر کے بارے میں بتانے والا اس سے خارج ہوا کہ وہ کافر ہے اور اﷲکی رضااور ایمان میں داخل ہوا۔
اور جب اﷲ نے فرمایا:
مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا..(النحل:۱۰۶)
’’مگر جس کو مجبور کیاگیا اور اس کا دل ایمان پرمطمئن ہے لیکن جس نے کفر کیلئے اپنا سینہ کھول دیا (وہ کافر ہوا)‘‘

جس کا مجبور ہونا ثابت ہو گیا و ہ اظہار کفرکی وجہ سے کافرہونے سے نکل کر اﷲکی رخصت اور ثباتِ ایمان میں داخل ہوگیااب وہ شخص قرآن کی نص ،رسول اللہ ﷺکے حکم اوراجماع امت کے ساتھ اپنے کفر پر باقی رہا اور کافر ہوا جس نے کفر کا کلمہ کہا اور ایسی حالت میں کفر کا اظہار کیا کہ وہ نہ کفر کے کلمہ کا پڑھنے والا ہو،نہ( کسی کافر کی کفری کلمہ کے)گواہی کے (طور پر بیان)کرنے والا ہو،نہ قصہ بیان کرنے والا ہو اور نہ مجبور کیا ہوا ہو۔ اور اﷲعزوجل کی اس آیت:
﴿وَلَکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا.(النحل:۱۰۶)کے بارے میں جس طرح یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ صرف اعتقادِ کفر کے بارے میں ہے ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جو ایسی بات کہے جس کے کہنے پر اہل اسلام کے نزدیک اس پر حکمِ کفر لگ سکے (نہ کہ گواہ ،نہ مجبور،نہ حکایت کرنے والااور نہ پڑھنے والا)تواس نے اپنا سینہ کفر کیلئے کھول دیاہے ۔مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا سینہ اس کفر کے قبول کرنے کے لیے کھول دیا جس کا کہنا (اور اقرار کرنا)اہل اسلام اور اہل کفر دونوں پر حرام ہے ۔چاہے اعتقاد رکھیں یا نہ رکھیں ۔اس مسئلے سے متعلق دیگر ائمہ کے اقوال بھی پیش کرنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
٭ ابن قیم﷫اپنی ’’کتاب الصلاۃ‘‘میں فرماتے ہیں،ایمان کے حصے دوقسموں پرہیں!قولی اور فعلی ،اسی طرح کفر کے حصے دوقسموں پرہیں :قولی اورفعلی۔ایمان کے قولی حصے میں سے ایک حصہ کے زائل ہونے سے ایمان زائل ہوجاتا ہے اسی طرح فعلی حصے میں سے ایک حصہ زائل ہونے سے ایمان زائل ہوجاتا ہے۔اسی طرح کفر کے قولی اور فعلی حصے ہیں ،پس جس طرح کفریہ کلمہ کہنے سے کافرہوتا ہے جوکہ کفر کے حصوں میں سے ہے،اسی طرح وہ اس کے ہر ہر حصہ کے ذریعے کافرہوگا جیسے کہ بت کو سجدہ اور قرآن کی بے ادبی وغیرہ۔
اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ (عملی کفر)اہل علم کے نزدیک سب کا سب چھوٹانہیں ہے ،بلکہ اس میں سے ایسا بھی ہے جوکہ ملت سے خارج کرنے والا کفرہے،اس (فکر )کے خلاف جس کو ہمارے زمانے کے مرجئہ رواج دے رہے ہیں ۔
ابن الوزیر﷫ اپنی کتاب (ایثارالحق علی الخلق فی رد الخلافات الی المذہب الحق:ص ۳۹۵) میں کہتے ہیں:’’شیخ ابوہاشم اور ان کے ساتھیوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ:﴿وَلَکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا.(النحل: ۱۰۶)﴾یہ آیت اس پردلالت کرتی ہے کہ جو اعتقاد کفر نہ رکھے اورکفرکو صراحت کے ساتھ کہا اور رسولوں کوگالی دی اور ان سے براء ت کا اظہارکیا اور ان کوجھٹلایا اور وہ اس پرمجبور نہیں تھے اورجانتے تھے کہ یہ کفر ہے ،اس سے وہ کافر نہیں ہونگے اور یہی (رائے )زمخشری نے اپنی (تفسیر)کشاف میں ظاہراًاختیار کی ہے کہ شرح صدرکامطلب دل کی خوشی اوررضامندی سے کفرکرنا یہ تمام باتیں درست نہیں اور اس کی دووجوہات ہیں :
پہلی وجہ: ان کی یہ بات اﷲکے قول کے خلاف ہے :﴿لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوْا اِنَّ اﷲَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ.(المائدہ:۷۳)﴾پس اللہ نے بغیر شرط کے فیصلہ کردیا اس کے بارے میں کہ جس نے یہ کہا )کہ اللہ تین میں سے ایک ہے اللہ نے اس کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ یہ آدمی اس شرط کے ساتھ کافر ہوگا کہ جب وہ اس بات کا عقیدہ بھی رکھے گا بلکہ بغیر کسی شرط کے یہ فیصلہ دیا کہ وہ اسی قول کے ساتھ کافر ہوا ۔مجبور آدمی نص اور اجماع کے ذریعے سے اس قید سے خارج ہوا اور اس کے علاوہ تمام اس حد میں آئے،پس اگر مکلف اورمختار آدمی بغیر مجبوری کے عیسائیوں کایہ قول کہے جس کو قرآن نے کفرکہا ہے ،اور جو اس نے کہا اس کی صحت کا اُسے یقین بھی نہ ہو،اوریعنی قول ثالث ثلاثہ وہ اسے کافر بھی نہ بنادے مع اس قول کی قباحت کا اندازہ ہے توضروری ہے کہ یہ بعض وجوہات سے بڑا گناہ ہو، کہ یہ بعض وجوہات سے بڑاگناہ ہوسکتاہے جیساکہ اﷲ نے فرمایا:﴿وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾’’اور وہ جانتے ہیں‘‘(الزخرف:۸۶)۔انہوں نے اسے الٹاکردیا اورکہنے لگے کہ اپنے گناہ سے لاعلم آدمی کافر ہے اور علم رکھنے والااور اپنی زبان سے علم کے باوجود انکار کرنے والامسلمان ہے۔
دوسری وجہ: ان کی دلیل دو ایسے ظنی دلالتوں کے درمیان دائر ہے کہ جن میں فروع ظنی کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
پہلی دلالت: عمدًا کہنے والے کو مجبور پرقیاس کرنا ،اور یہ کہنا کہ اکراہ کی شرط بے فائدہ چیز ہے،مثلاً تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے کا عیسائی ہونا ،اوریہ دلیل بہت کمزور ہے۔ایسی دلیلیں ظنی فروع میں قابل قبول نہیں۔
دوسری دلالت : ﴿وَلَکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا﴾(النحل:۱۰۶)کاعمومی مفہوم ومطلب ہے اس آیت کے لفظی معنی میں تودلیل بن ہی نہیں سکتی اور اگر مفہوم مخالف سے دلیل لیتے ہیں تومفہوم مخالف کے دلیل ظنی ہونے میں اختلاف ہے البتہ اس پرسب کااتفاق ہے کہ مفہوم مخالف قطعی دلیل نہیں بن سکتا ،پھراثبات عموم میں بھی خلاف ہے ۔ان کی یہاں دلالت عام معنی سے ہے جوکہ پہلی دلیل سے بھی کمزور ہے۔
٭ ابن قدامہ المقدسی﷫ اپنی کتاب (المغنی :۸/۱۱۵)میں کہتے ہیں :جادوسیکھنا اور سکھانا حرام ہے۔ہم نہیں جانتے کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہو۔ہمارے ساتھی کہتے ہیں ’جادو گرجادو سیکھنے اورکرنے سے کافر ہوجاتا ہے چاہے اس کو حرام سمجھے یا حلال ۔

٭ اورکتاب (الحاوی للفتاوی)میں ہے جس نے زبان سے اپنی مرضی سے کلمۂ کفر کہا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا وہ کافرہوا ،اﷲکے ہاں مؤمن نہیں ۔یہ بات شیخ الاسلام ﷫کے اس قول کے موافقت رکھتی ہے جو انہوں نے سورہ نحل کی تفسیر میں کہی ہے۔
٭ شیخ محمد بن عبدالوہاب﷫کتاب(کشف شبھات ص:۲۲)میں ان لوگوں پر ردّکرنے کے بعدجو کہتے ہیں کہ کفر صرف تکذیب اور انکار ہے فرماتے ہیں پھر اس باب کا کیامطلب کہ کفر صرف تکذیب اور انکار سے ہی واقع ہوتا ہے، کہتے ہیں ’پھر اس باب کا کیا مطلب ہواجو ہرمذہب کے علماء نے باندھا ہے ؟(باب حکم المرتد)اور وہ مرتدایسا مسلمان ہوتاہے جو اسلام لانے کے بعدکافر ہوجاتاہے۔پھر بہت ساری اقسام ذکر کیں ،ان میں سے ہرقسم کافر کرتی ہے،اور آدمی کا مال اور خون (کافرہونے کی وجہ سے)حلال کرتی ہے۔یہاں تک کہ علماء نے چھوٹی چیزیں بھی ذکر کیں جو کہ کی جاتی ہیں ۔جیساکہ وہ بات جو دل کے علاوہ صرف زبان سے کہی جائے۔یا وہ بات جو صرف مذاق یا کھیل کھیل میں کہی جائے۔اورایسے لوگوں کے بارے میں کہا جائے گا جن کے بارے میں اﷲنے کہا:
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ.(التوبۃ:۷۴)
’’اﷲکی قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں کہا حالانکہ انھوں نے کلمۂ کفرکہا اور اسلام لانے کے بعد کافرہوئے۔‘‘

کیا آپ نے نہیں سنا کہ اﷲنے ان کی بات کی وجہ سے انہیں کافر کہا باوجود اس کے کہ وہ رسول اﷲﷺ کے زمانے میں تھے اور آپ کے ساتھ جہادمیں شریک تھے ان کے ساتھ نماز پڑھتے تھے زکاۃ دیتے تھے حج کرتے تھے اور توحید پرتھے؟اسی طرح وہ لوگ جن کے بارے میں اﷲ نے کہا کہ :
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ oلا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ.(التوبۃ :۶۶-۶۵)
’’(اے محمدﷺ)کہہ دیجئے کیا تم اﷲاور اس کی آیات اور اس کے رسول سے مذاق کرتے تھے؟اب معذرت نہ کرو تحقیق تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔‘‘

تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے صراحت سے کہا ہے کہ انھوں نے ایمان کے بعد کفر کیا باجود اس کے کہ وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے ،انھوں نے ایسی بات کہی تھی جس کے بارے میں انھوں نے اقرار کیا تھا کہ اسے انھوں نے مزاح کے طور پر کہا ہے۔اور آپ نے کتاب (الشبہات:۲۹)پرفرمایا’’ہرمسلمان پرلازم ہے کہ قرآن کی ان دوآیتوں کوسمجھے ،پہلی آیت جو اوپرگزری ہے۔
﴿لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾(التوبۃ :۶۶)پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ بعض لوگ جنھوں نے رسول اﷲﷺکے ساتھ غزوہ روم میں شرکت کی ،وہ اس کلمۂ کفر کی وجہ سے کافرہوگئے جو انھوں نے مذاق اورکھیل میں کہا ،آپ پرواضح ہوگیا کہ جو کفریہ بات کہے گا یا کفر پرنقص مال یا عزت کی وجہ سے عمل کرے گا ،یاکسی کی دلجوئی کی وجہ سے کرے گا یہ بات اس سے بہت بڑی ہے کہ کوئی مذاق میں (کفریہ کلمہ )کہے۔
دوسری آیت اﷲکافرمان ہے:
مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا..(النحل:۱۰۶)
میں اﷲنے کسی کو بھی معذور نہیں کہا سوائے اس کے جس کا دل ایمان پرمطمئن تھا اور اسے مجبوراً کہنا پڑا،اس کے علاوہ کوئی بھی ہو وہ ایمان کے بعدکافر ہوا ۔چاہے اس نے خوف یا دلجوئی کی وجہ سے کیا ہو،یا اپنے وطن کی وجہ سے ،یا اپنے اہل وعیال یا مال کی وجہ سے یا مذاق کے طور کیا ہو ،یا اس کے علاوہ کوئی اوربات ہو ،سوائے مجبور آدمی کے ،آیت اس بات پر دوطرح سے دلالت کرتی ہے ۔
1 یہ فرمان کہ :﴿اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ﴾تو اس فرمان نے سوائے مجبور کے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا ،اور یہ بات معلوم ہے کہ انسان صرف عمل یا بات پرمجبور کیاجاسکتا ہے ،اور دلی عقیدے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
2 آیت :﴿ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الآخِرَةِ ﴾(النحل:۱۰۷)
’’یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے آخرت پردنیاوی زندگی کو پسند کیا ۔‘‘

نے اس بات کی صراحت فرمادی کہ یہ کفر اورعذاب اس اعتقاد یاجہل کی وجہ سے نہیں تھا ،یا دین کے لئے بغض اور کفر کے ساتھ محبت کی وجہ سے نہیں تھا ،بلکہ یہ تو اس وجہ سے تھا کہ دنیاوی زندگی میں اُسے بہت آسائش نظر آئی اس لئے آخرت پراُسے ترجیح دیا۔
٭ شیخ محمد بن عبدالوہاب﷫ کے پوتے سلیمان بن عبداﷲ﷮اپنی کتاب (التوضیح عن توحید الخلاق فی جواب اھل العراق ص:۴۲)پرمرتد کی شرعی لحاظ سے تعریف کرتے ہیں کہ :جو اسلام کے بعد زبانی یا اعتقادی یا عملی طور پرکافر ہوجائے اس کو مرتد کہتے ہیں اور(ص:۱۰۱)پرفرماتے ہیں :جس طرح کفر اعتقا د کے ذریعے ہوتا ہے اسی طرح قول کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے ۔جیسے اﷲیا رسول یا دین کو گالی دینایا ان کامذاق اڑانا ۔
اﷲنے فرمایا:
قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَoلا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ.(التوبۃ :۶۶-۶۵)
’’(اے محمدﷺ)کہہ دیجئے کیا تم اﷲاور اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے ہواب معذرت نہ کرو تحقیق تم ایمان لانے کے بعد کفر کرچکے ہو۔‘‘

حقیقت میں ہے بھی ایسا ہی۔جیسے قرآنی اوراق کو گندگی میں ڈالنا اور غیر اﷲکو سجدہ کرنا وغیرہمایہ ان دونوں میں اگرچہ عقیدہ موجود ہے مگر قول اور فعل ان کی ظاہری صور ت میں غالب ہیں ۔
شیخ﷫اپنی کتاب )الدلائل(میں فرماتے ہیں ۔تحقیق علماء کا اس بات پراجماع ہے کہ جس نے کفریہ بات مذاق میں بھی کہی وہ کافرہوگیا۔
٭ شیخ حمد بن علی بن عتیق﷫ان کے ردّ میں فرماتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جو کفریہ بات کہے وہ کافر نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ اس کا اعتقاد بھی رکھے اور ا س کے لئے رضامند بھی ہواور اس پر اس کانفس مطمئن ہوااللہ تجھے برباد کرے اے حیوان ا گرتویہ سمجھتا ہے کہ وہ اس شرح صدرکے بغیر کافرنہیں ہوگا توپھر کوئی اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی کو عقیدہ بدلنے پرمجبور کرسکے اوراس کاسینہ کفر کیلئے کھول دے (سورۃ النحل کی آیت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں)اورعنقریب ہم بیان کریں گے کہ یہ آیت اس کے کفر پردلیل ہے جس نے کفر کہا یا کیا چاہے باطن میں اُسے ناپسند ہی کیوں نہ کرتا ہواگر وہ مجبور نہیں ،اور اگر اس نے اپنا سینہ کفر کیلئے کھول دیا اور اس کا نفس اس پر خوش رہا تو یہ تو مطلق کافر ہے چاہے وہ مجبور ہویا نہ ہو۔(رسالة الدفاع اہل السنة والاتباع حمد بن عتیق ؒکے مجموعات رسائل میں سے ۔نشر دارالھدایة۔الریاض سعودی عر ب ص:۴۸)
اور اسی قول کو باطل کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اور یہ عقل صریح،نقل صحیح اورمؤمنوں کے راستے پر چلنے کی مخالفت ہے ۔اﷲکی کتاب نبی کی سنت اور امت کا اجماع اس بات پر متفق ہیں کہ جس نے کفرکہا یاکیا وہ کافرہوا۔اور اس میں اشراحِ صدر کی شرط نہیں ،اور اس میں سے صرف مجبورآدمی مستثنیٰ ہے،اور جس نے اپنا سینہ اس کے لئے وسیع کردیا یعنی کھول دیا اور اس کا نفس اس پر خوش اور راضی ہوا تو ایسا آدمی کافر ہے اﷲاور رسول ﷺ کا دشمن ہے۔چاہے وہ زبان سے نہ کہے اورعملی طور پرنہ کرے۔(ص:۵۹)
٭ شیخ عبدالرحمان بن حسن بن الشیخ محمد بن عبدالوہاب ﷭کتاب(الدررالسنیة جزء مختصرات الردود ص:۲۱۴)میں فرماتے ہیں :’’اسی طرح فقہاء نے مرتد کے حکم میں ذکرکیا ہے کہ آدمی قول یا عمل سے کافرہوجاتاہے اگرچہ وہ کلمہ ٔ توحیدپڑھتا ہواورنمازروزہ رکھتا ہواورصدقہ کرتا ہووہ مرتد ہوگا۔اس کے اعمال اس قول اور عمل کی وجہ سے ضائع ہوجائیں گے ۔خصوصًا اگر وہ اسی حالت پر مرگیا۔تواجماعاً اس کے اعمال ضائع ہوں گے‘‘۔
٭ القنائی(حقیقۃ الایمان ص:۹۰)پرلکھتے ہیں:’پھر ان لوگوں نے بغیر کسی معتبر دلیل کے کہا ہے کہ مسلمان جتنے بھی اعمال کرلے ان سے وہ کافر نہیں ہوتا جب تک اس کااعتقاد صحیح ہے ‘یہ قاعدہ یااصول انھوں نے تمام اعمال میں یکساں جاری رکھاہے۔انھوں نے کفریہ اورگناہ والے اعمال میں کوئی فرق نہیں رکھا۔اور عقیدہ کے خراب ہونے کوانھوں نے کفرکی شرط کہا ہے ۔چاہے وہ اعمال کسی بھی طرح کے ہوں،سچ تو یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تفصیلی کلام کی ضرورت ہے ۔مسلمان کو چاہیے کہ ہر وہ ایسے اعمال جن کے کرنے سے آدمی کافر ہو اور ایسے اعمال جو صرف گناہ ہیں ان میں فرق ملحوظ رکھے بغیر کسی عذر کے ایسے اعمال کا ارتکاب جو صریحاً ملت سے خارج کرنے والے ہوں۔یہ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ان اعمال کے مرتکب کا اعتقاد خراب ہے چاہے وہ اس کا اقرار نہ بھی کرے ۔یا چاہے وہ اس کا ارادہ بھی نہ کرے ۔شریعت کے اعتبار سے ان اعمال ہی سے ظاہر وباطن کے باہمی ربط کا پتہ چلتا ہے(اگر عمل غلط ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عقیدہ بھی غلط ہے اب غلط عقیدے کا اظہار زبان سے کرنا ضروری نہیں غلط عمل نے اس کی نشان دہی کردی ہے)
آپ غورکیجئے ! اس میں اورقول مرجئہ میں کیا فرق ہے ؟یہاں حکم لگایاجارہاہے اورمرجئہ اس )فسادِ اعتقاد(کومقید کرتے ہیں اور کفر کی شرط کہتے ہیں۔اور یہاں فسادِ عقید ہ کاذکرکیا گیا ہے۔اور علماء اس میں تصدیق میں اضافہ کیلئے عملِ قلب کو داخل کرتے ہیں۔جبکہ مرجئہ اسے صرف فسادِ تصدیق کہتے ہیں۔جو ان کے نزدیک انکاراورتکذیب کا نام ہے۔یہ ایک تفصیل طلب مسئلہ ہے ۔اگر ہم اسی کے بارے میں لکھیں تو بات بہت طویل ہوجائے گی اور یہ اوراق اس کے لئے ناکافی ہوں گے۔یہ معاملہ اہل علم کی کتابوں میں بہت مشہور ومعروف ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ نئے لوگوں سے کچھ پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ تعصب ہے اورخواہشات اسے اندھا اوربہرانہ کردیں ۔
٭ مثال کے طورپراحناف (اس بات سے قطع نظر کہ وہ جمہور علماء کے برعکس عمل کو ایمان کی تعریف میں داخل نہیں سمجھتے )بہت ساری ایسی چیزیں جو آدمی اپنی زبان سے کہتااور اعضاءسے کرتا ہے کی وجہ سے اس کو کافرکہتے ہیں:جیسے کوئی عیسائیوں کی مذہبی نشانی جینؤ(زنار)باندھے یا مجوس کے تہوار جشن نوروز والے دن اُسے انڈہ ہدیہ کرے۔یا اﷲکاکلام اپنی بات کے بدلے استعمال کرے جیسے کوئی لوگوں کے اجتماع کیلئے کہے :
فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا.(الکہف:۹۹)
’’ہم نے ان سب کو اکھٹا کردیا۔‘‘

یامالی جھگڑے میں اس کویوں کہاجائے کہ ’لاحول ولاقوۃ الا باﷲ‘تو وہ جواباً کہے ’میں لاحول کا کیا کروں گا؟ اس سے روٹی تونہیں کھاسکتایایوں کہے کہ :چوری کی پلیٹ علم حاصل کرنے سے بہتر ہے ۔یا یہ کہے کہ: میں حاضر ہوں ۔ا س آدمی کو جواُسے کافریا یہودی کہہ کربلائے۔یا وہ اپنے بچے سے کہے :اے یہودی کے بچے یا مجوسی کی اولاد یا کہے:عیسائی مسلمانوں سے بہتر ہیں۔یایہ کہے کہ :ہمارے زمانے کے حکمران عادل ہیں(جبکہ ہمارے حکمران ظالم وجابر ہوں تو ایسے میں وہ ظلم وزیادتی کو عدل کہہ رہاہے )یا وہ کہے کہ :اگر فلاں جنت میں گیا تومیں داخل نہیں ہوں گا۔ایسی اور بہت سی مثالیں ان کی کتابوں میں موجود ہیں ۔یہ لوگ اس باب میں سب سے زیادہ سوچ بچارکرنے والے ہیں۔ان میں سے اکثراقوال کو محمد بن اسماعیل الرشید الحنفی نے اپنی کتاب(البدرالرشید فی الالفاظ المکفرات)میں جمع کیا ہے جہاں اس مسئلے کی تفصیل ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
٭ شافعیہ کے یہاں بھی ایسی بہت سی مثالیں ہیں ۔تقی الدین ابوبکر بن محمد الحسینی الشافعی اپنی کتاب (کفایة الاخیار فی حل غایة الاختصار)میں ارتداد کے بارے میں لکھتے ہیں :وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹنے اور اسلام سے قطع تعلق کانام ہے ۔کبھی یہ قول کے ذریعے ہوتا ہے کبھی فعل اور کبھی عقیدہ کے ذریعہ ،اور ان تینوں اقسام کے مسائل ان گنت ہیں۔جن میں سے چند اقوال اور افعال جو ہم نے آپ کیلئے احناف کے قول میں ذکر کئے وہ اس کتاب میں بھی ہیں ۔ان اقوال میں سے یہ بھی ہے کہ: اگر مسلمانوں نے کسی عمل کو بالاتفاق کافروں کا عمل قراردیا ہو تو اس عمل کا مرتکب کافر قرارپائے گا اگرچہ وہ خود کو مسلمان کہلاتا ہوکسی عمل کے متعلق مسلمانوں نے اجماع کیا ہوکہ کافر کے علاوہ یہ عمل کسی اور سے صادرنہیں ہوتا تواس عمل کا مرتکب کافر قرار پائے گا اگرچہ جیسے صلیب کو سجدہ یا عیسائیوں کے گرجا گھر میں جاناااور ان گرجا گھر والوں کے ساتھ ان کے لباس میں جیسا زنار وغیرہ یہ سب کافرکردیتے ہیں ۔
٭ ابن حجر ہیثمی الشافعی﷫نے مکفرات کے موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام (اعلام بقواطع الاسلام)ہے۔ اس میں انھوں نے اس بارے میں مذہب شافعیہ سے بہت کچھ ذکرکیا ہے۔اورمالکیہ حنابلہ اور حنفیہ کے بھی بہت سے اقوال نقل کیے ہیں۔
مالکیہ میں سے قاضی عیاضؒنے کتاب(الشفا بتعریف حقوق المصطفی)کے آخر میں بہت سے الفاظِ مکفرہ ذکر کیے ہیں اور ان پر اجماع نقل کیا ہے ۔اسی طرح حنابلہ نے بھی مرتد کے حکم میں بہت سے ابواب لکھے ہیں۔جو ا س مرتد کے اقوال اور افعال کے نتیجے میں اُسے کافر کاحکم دیتے ہیں اس بارے میں کتاب (الاقناع)اور اس کی شرح کامطالعہ کیجئے جس میں نواقضِ اسلام اور حکمِ مرتد کے بارے میں بحث ہے ۔اس میں ایسے ۰۰۴ سے زیادہ اقوال وافعال کا تذکرہ ہے جن سے اسلام ٹوٹ جاتا ہے اور ان کامرتکب مرتد قرارپاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s