نواقض توحیدیعنی لا الہ الا اﷲ کے منافی امور

نواقض کہتے ہیں کسی عمل کو خراب ، فاسد ، باطل کرنے والے امور عمل ، قول کو۔ہر مسلمان موحد پر اسی طرح لازم ہے کہ وہ ایسے اعمال و اقوال اور امور سے واقف ہوجو توحید کو فاسد یا باطل کرنے والے ہیں جس طرح کہ نماز کو باطل کرنے والے اعمال سے ایک نمازی کو واقف ہونا چاہیئے جس طرح بعض اعمال جیسے کھانا پینا ہنسنا نماز کو باطل کر دیتے ہیں اسی طرح توحید کو باطل کرنے والے بھی کچھ اعمال ہیں جب کوئی موحد ان میں سے کسی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسکی توحید باطل ہوجاتی ہے وہ مشرک کافر بن جاتا ہے ۔
توحید کے نواقض مندرجہ ذیل ہیں :
اﷲ کے ساتھ شرک کرنا۔
وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
(اے محمدﷺ)آپ کو اور آپ سے پہلے والے(انبیاء کو)وحی کی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کیاتو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوگے۔(الزمر:65)

2۔ اپنے اور اﷲ کے درمیان واسطے بنانا ان کوسفارشی بنانا ان پر بھروسہ کرنا ۔
وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعُہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ھٰؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَاﷲِ۔
یہ لوگ اﷲ کے علاوہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نقصان دے سکتے ہیں نہ فائدہ۔ کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ (یونس :18)

یہی حال و حکم ان لوگوں کا بھی ہے جو قبروں اور مزارات پر حاضریاں دیتے ہیں وہاں وہ عبادات بجالاتے ہیں جو صرف اﷲ کے لئے لائق ہیں جیسے دعا، نذر ، ذبح فریاد کرنا ، قبروں کے گرد طواف کرنا یہ سب کام وہ اس امید پر کرتے ہیں کہ یہ قبروں اور مزاروں والے اﷲ کے ہاں ان کی شفاعت کریں گے
جو شخص مشرکوں کو کافر نہیں سمجھتا یا ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھتا ہے تو یہ شخص کافر ہے شک کا مطلب یہاں یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس شخص کے کافر ہونے میں شک کرے جسے امت محمدیہ نے بالاتفاق کافر قرار دیا ہو جیسے عیسائی ، مشرکین وغیرہ۔
مشرکین سے مراد دور جاہلیت کے مشرکین بھی مراد ہیں جو خود کو مشرک ہی قرار دیتے تھے اور موجودہ دور کے مشرک بھی مراد ہیں جو دعوی تو اسلام اور ایمان کاکرتے ہیں مگر اﷲ کا حق غیروں کو دیتے ہیں ۔
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔شرک چند مخصوص چیزوں کانام نہیں بلکہ شرک یہ ہے کہ اﷲ کے لئے جو اعمال و صفات خاص ہیں وہ کسی اور کیلئے ماننا اُسے آپ چاہیں تو جاہلیت کانام دیدیں یاکوئی سا بھی نام رکھ لیں۔(الدرء النضیہ ضمن الرسائل السلفیۃ ص 18)۔
جس نے رسول اﷲ ﷺ کے دین میں سے کسی ثواب یا عذاب کا مذاق اڑایا ۔
قُلْ اَبِا اﷲِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِؤُنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ۔
(اے محمد ﷺ )ان سے کہہ دیجئے کیااﷲ یا اس کی نشانیوں اور اس کے رسول ﷺ کا تم مذاق اڑاتے ہو؟بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ (توبہ:66)

جادو۔ اس میں وہ سارے اعمال ، تعویذات شامل ہیں جو دو افراد یعنی میاں بیوی میں نفرت یا جدائی پیداکرتے ہوں ۔ یا ایسے تعویذ گنڈے جو دو افراد میں محبت پیداکرنے کے لئے کئے جاتے ہیں یہ سب اعمال جادو میں شمار ہوتے ہیں یہ شرکیہ اعمال ہیں اس لئے کہ ان کو نفع و نقصان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اﷲ کے علاوہ کسی اور سے نفع یا نقصان کی توقع رکھنا شرک وکفر ہے ۔
وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ (بقرہ:102)
وہ )ہاروت ماروت(کسی کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم فتنہ ہیں تم کفر مت کرو۔

مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد کرنا۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ اِنَّ اﷲَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔(مائدہ:51)
جس نے تم میں سے ان کافروں سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہوگا۔اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔(مجموعۃ التوحید)۔

بت یا کسی اور غیر اﷲ کی قسم کھانا یا لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق حکومت چلانا یا عمل کرنا۔
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اﷲ کا دین دلی اعتقاد محبت و نفرت اور زبان سے اقرار کفر سے انکار اعضاء سے عمل کفریہ اعمال کے ترک کا نام ہے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کم ہوتو آدمی کافر و مرتد بن جائے گا۔(الدررالسنیۃ 8/81)
اپنے رسالہ کشف الشبہات میں لکھتے ہیں جب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ منافقین نبی ﷺکے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے مگر ایک کفریہ کلمہ کی وجہ سے کافر قرار پائے حالانکہ انہوں نے مزاح میں منہ سے ایسا کلمہ نکالا تھا تو جو شخص کفریہ باتیں کرتا ہے یا کسی مالی یا دیگر منفعت کی خاطر کفریہ عمل کرتا ہے یا کسی کو خوش کرنے کے لئے ایسی بات کرتا ہے تو منافقین کی باتوں کی بنسبت یہ زیادہ مزاح کرنے والا ہے (لہٰذااس کے بارے میں حکم کیاہونا چاہیئے یہ ہر مسلمان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے )۔
کوئی بندہ محبت میں اﷲ کے ساتھ شریک یا ساجھی بنائے (یعنی اﷲ کے ساتھ ساتھ کسی اور کے ساتھ بھی محبت رکھے)امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اﷲ کے ہاں سب سے بڑا گناہ شرک ہے اور شرک یہ ہے کہ اﷲ سے محبت میں کسی اور کو شریک کیاجائے ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اَنْدَادًا یُحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اﷲِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ
کچھ لوگ ایسے ہیں جو اﷲ کے علاوہ شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کی جاتی ہے اور مومن اللہ سے شدید محبت کرنے والے ہیں (الجواب الکافی۔البقرہ:165)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s