لا الہ الا اللہ ۔قول وعمل/مسلمان اور مشرک میں امتیازی فرق/ دین کی بنیاد

اللہ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے اس پر اطاعت لازم قرار دی ہے ان عبادات میں سے پہلے نمبر پر لا الہ الا اللہ کو قولا و عملا سمجھنا ہے اس بارے میں اللہ تعالی کاارشاد ہے ۔
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران:103)
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو سب مل کر اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:
شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَاوَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ (الشوری:13)
تمہارے لئے )اللہ نے(دین میں سے وہ شریعت بنائی ہے جسکی تاکید نوح علیہ السلام کو کی تھی اور جسکی وحی آپﷺکو کی ہے اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم علیہ السلام ، موسی علیہ السلام، عیسی علیہ السلام کو کی تھی کہ دین کو قائم کرو اسمیں تفرقہ مت ڈالو۔

اللہ نے اپنے بندوں کو جس بات کی تاکید کی ہے وہ کلمہ توحید ہے جو کفر و اسلام میں فرق کرنے والا ہے۔ کلمہ توحید سے جہالت یا بغاوت یا عناد لوگوں میں تفرقہ کا سبب ہے ان خرابیوں کو ختم کرکے امت کو متحد رکھنے کا ذریعہ صرف یہی کلمہ ہے۔
اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ۔
کہ دین کو قائم کرو اس میں تفرقہ مت ڈالو ۔

اور
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْ اِلَی اﷲِ عَلٰی بَصِیْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَ سُبْحٰنَ اﷲِ وَمَا اَنَا مِنَ الَمُشْرِکِیْنَ (یوسف:108)
(اے محمد ﷺ)کہہ دیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کی بنیاد پر بلا رہا ہوں اور میرے متبعین بھی (ایسا ہی کرتے ہیں)اور اللہ کی ذات پاک ہے میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

اب جو شخص توحید کو سمجھ جائے اس کا اقرار کرلے تو اس پر لازم ہے کہ اس توحید سے دلی محبت رکھے اس کی مدد کرے اپنے ہاتھ اور زبان سے جس طرح بھی ممکن ہو اس توحید کے مدد گاروں کی بھی مدد کرے جب کوئی بندہ شرک کو پہچان لے تو اس پر لازم ہے کہ اس سے دلی طور پر نفرت کرے تب وہ ان لوگوں کی لڑی میں پرویا ہوا شامل ہوگاجن کے بارے میں اللہ نے فرمایا :
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۔
اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔

ہمارا خیال ہے کہ امت مسلمہ میں کسی کو بھی اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ توحید کے لئے دلی طور پر علم زبانی اقرار اور اوامر و نواہی کے نفاذ کے لئے عمل ضروری ہے اگر ان میں سے کوئی بھی چیز کم ہوئی تو آدمی مسلم نہیں کہلائے گا ۔اگر زبان سے توحید کا اقرار کرلے مگر عمل نہ کرے تو ایسا شخص کافر، توحید سے بغض رکھنے والا شمار ہوگا ۔ جیسے فرعون اور ابلیس اور اگر توحید پر ظاہری عمل کرتا ہے مگر باطن میں اسکا اعتقاد نہیں رکھتا تو ایسا شخص منافق ہے کافر سے بھی زیادہ اسلام کے لئے نقصان دہ ہے ۔
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔ توحید کی دو قسمیں ہیں توحید ربوبیت توحید الوہیت۔
توحید ربوبیت: توحید ربوبیت کا اقرار مسلم و کافر دونوں کرتے ہیں کفر اور اسلام میں فرق توحید الوہیت کا ہے اس لئے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان دونوں قسم کی توحید کو سمجھے اور یہ بھی یاد رکھے کہ کفار اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہی خالق رازق اور عالم کی تدبیر کرنے والا ہے ۔
قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اﷲُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(یونس:31)
(اے محمد ﷺ)اگر آپ ان (کافروں)سے پوچھیں کہ تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے یا کون سماعت و بصارت کا مالک ہے کون زندہ کو مردہ سے مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے کون امور کی تدبیر کرتا ہے؟تو یہ لوگ فورا کہیں گے کہ اللہ ۔آپ کہہ دیجئے کہ تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں ؟

دوسری جگہ ارشاد ہے:
وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمَ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوَلُنَّ اﷲُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ
(اے محمد ﷺ)اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند سورج کو تابع کیا ہے یہ )کافر(کہیں گے اللہ نے ۔یہ کس طرف جارہے ہیں ۔ (العنکبوت:61)

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ کافر بھی توحید ربوبیت کااقرار کرتے تھے تو پھر کسی شخص کا یہ کہنا کہ خالق رازق تدبیر کرنے والا صرف اللہ ہے اس کو مسلمان نہیں بناسکتا جب تک کہ لا الہ الا اللہ کے معنی پر عمل نہ کرے ۔ اللہ کی یہ صفات یعنی خالق ، رازق مدبر۔ان کے کچھ خاص معانی ہیں جن کی وجہ سے یہ صفات صرف اللہ کے لئے ہی مختص ہوجاتی ہیں جب کوئی مسلمان کہتا ہے کہ اللہ خالق ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہی اکیلا اللہ ہے جس نے تمام مخلوق کو انصاف سے پیدا کیا ہے جب رازق کہاجائے تو اس کا معنی ہوگاجب اللہ نے مخلوق کو وجود بخشا تو ان کے لئے رزق بھی مہیا کر دیا۔ مدبر کا معنی ہوگاکہ وہ اللہ جو اپنی تدبیر سے آسمان سے زمین پر فرشتے اتارتا ہے اسی کی تدبیر سے وہ فرشتے آسمان پر چڑھتے ہیں وہ بادلوں کو اپنی تدبیر سے چلاتا ہے ہوائیں اس کی تدبیر کے ماتحت ہیں اسی طرح ساری مخلوق اس کی تدبیر کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے ۔یہ صفات توحید ربوبیت سے متعلق ہیں ان کا اقرار کفار بھی کرتے ہیں اور توحید الوہیت کا معنی ہے کہ لا الہ الا اللہ کے معنی کو بھی اس طرح سمجھنا ہے جس طرح ربوبیت سے متعلق مذکورہ صفات کا مطلب ہے۔ لا الہ الا اللہ کا معنی ہے نفی و اثبات یعنی کہ ہر چیز سے الوہیت کی نفی کرکے صرف اللہ کے لئے ثابت کی جائے۔ الٰہ کا مطلب ہے ایسا معبود کہ اس کے بغیر کسی اور کے لئے عبادت جائز ہی نہ ہواور ایسا معبود صرف اللہ اکیلاہی ہے لہٰذاجو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے نذر مانے یا ذبح کرے تو یہ اس کی عبادت کہلائے گی اسی طرح دعا بھی غیر اللہ سے کرنا اسکی عبادت شمار ہوتی ہے اللہ کا فرمان ہے :
وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکارو جو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اگر آپ نے ایسا کیا تو ظالموں میں سے ہوگے ۔ (یونس:106)

اسی طرح جس نے اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو واسطہ بنالیا اور اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا کہ وہ مجھے اللہ کے قریب کردے گا تو یہ بھی اس کی عبادت شمار ہوگی جیسے کہ اللہ نے کافروں کے بارے میں فرمایا ہے :
وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعَہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ھٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَاﷲِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اﷲَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (یونس:18)
یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو انکو نہ نقصان دے سکتے ہیں نہ فائدہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں آپﷺ کہہ دیجئے کیاتم اللہ کو ایسی بات کی خبر دے رہے ہو کہ (گویا)وہ نہیں جانتا آسمانوں یازمینوں میں وہ اللہ پاک ہے ان سے جو یہ لوگ شریک کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی کاارشاد ہے :
اَلاَ ِﷲِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اﷲِ زُلْفٰی اِنَّ اﷲَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اِنَّ اﷲَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ۔(الزمر:3)
باخبر رہو کہ اللہ کیلئے ہے خالص دین اورجولوگ اللہ کے علاوہ دوست بناتے ہیں (کہتے ہیں )ہم انکی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے ہاں مرتبے میں قریب کر دیں اللہ ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ اس کو ہدایت نہیں کرتا جو جھوٹا او رناشکرا ہو۔ (مجموعۃ الفتاوی الدررالسنیۃ 2/124)

مسلمان اور مشرک میں امتیازی فرق
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مجھ سے بعض دوستوں نے مطالبہ کیا کہ وہ چار مسائل قلمبند کروں جن کی بنا پر مسلم اور مشرک میں امتیاز کیاجاسکتا ہو ۔میں ان کی بات کو رد نہ کر سکا لہٰذاوہ مسائل پیش خدمت ہیں ۔
1۔ جس (اللہ )نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہماری صورتیں بنائی ہیں ہمیں بے کار نہیں چھوڑا بلکہ ہماری طرف رسول بھیجا جس کے پاس رب کی کتاب ہے۔
اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔ (مزمل:15)
ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا تم پر گواہ ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ۔

2۔ اللہ سبحانہ نے مخلوق کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس اکیلے کی عبادت کریں اور اس کے دین کو خالص رکھیں۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الزاریات:56)
میں نے جن اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

فرمایا :
وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوالزَّکٰوةَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ (البینۃ :5)
ان کو صرف اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے یکطرفہ ہوکر نماز قائم کریں زکاۃ دیں یہ قائم رہنے والا دین ہے ۔

3۔ جب شرک کسی کی عبادت میں داخل ہوجائے تو عبادت باطل ہوجاتی ہے ۔درجہ قبولیت حاصل نہیں کرتی ہر گناہ کی معافی کی امید رکھی جاسکتی ہے سوائے شرک کے ۔
وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
تیری طرف وحی کی گئی ہے اور تجھ سے پہلے انبیاء کو بھی کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگے۔(الزمر:65)

نیز فرمایا:
اِنَّ اﷲَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدِ افْتَرٰی اِثْمًا عَظِیْمًا (النساء:48)
اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیاجائے اور اس کے علاوہ بخشتا ہے جسے چاہے جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔

اسی طرح فرماتا ہے :
اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدْ حَرَّمَ اﷲُ عَلَیْہِ الْجَنَّةَ وَمَاْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصِارٍ۔(المائدہ:72)
بات یہ ہے کہ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے اسکا ٹھکانہ جہنم ہے (ایسے)ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔

4۔ اگر کسی آدمی کا عمل صحیح ہے مگر خالص نہیں ہے توبھی مقبول نہیں ہوگا اور اگر خالص ہے مگر صحیح نہیں تب بھی غیر مقبول ہے لہٰذاعمل کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ صحیح ہو یعنی شریعت محمدی ﷺکے مطابق ہو اور خالص ہو یعنی صرف اللہ کے لئے ہو ۔ اللہ تعالی نے اہل کتاب کے عبادت گذاروں کے بارے میں فرمایا ہے ۔
قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (کہف:103-104)
کہہ دیجئے (اے محمدﷺ)کیا میں تمہیں عملاً خسارے میں جانے والوں کے بارے میں بتاؤں؟جنکی دنیا میں کوشش برباد گئی اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بہترین عمل کر رہے ہیں۔

دوسری جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً (الغاشیہ:2)
بہت سے چہرے قیامت کے دن جھکے ہوئے ہوں گے (ایسے لوگوں کے) کہ عمل کرتے کرتے تھک جانے والے ۔بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

یہ آیات صرف اہل کتاب یہودو نصاری کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ ہر وہ شخص جو کسی علم یا عمل میں کوشش کرتا ہے مگر وہ شریعت محمدی ﷺ کے موافق نہ ہوتو وہ اس عمل میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے جنکا ذکر آیت میں ہوچکا ۔اگرچہ ایسا آدمی کتنا ہی ذہین فطین اور زہدو تقوی والا کیوں نہ ہو یہ سب کچھ عذاب سے نجات اور اخروی سعادت کے لئے کسی قسم کافائدہ نہیں دیں گے ۔جب تک کہ کتاب و سنت کی پیروی نہ ہو جوشخص علمی فضیلت اور عملی مقام و مرتبہ رکھتا ہو مگر شریعت محمدی ﷺکے مخالف ہوتو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔(مجموعۃ الفتاوی)۔
دین کی بنیاد
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے یعنی اسلام میں دو چیزوں کی بڑی اہمیت ہے ۔
1۔ اکیلے اللہ کی عبادت کاحکم اور یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیاجائے اس بات پر دوسرے مسلمانوں کو بھی آمادہ کیاجائے یہ کام کرنے والوں سے دوستی رکھنا اور جو شخص اس )توحید ( کو چھوڑ دے اسے کافر شمار کرنا۔
2۔ اللہ کی عبادت میں شرک کرنے سے لوگوں کو ڈرانا خبردار کرنا اس کام میں سختی کرنا شرک کرنے والوں سے دشمنی رکھنا اور انہیں کافر سمجھنا ۔
ان دونوں اعمال کی مخالفت بھی لوگ کرتے ہیں اور یہ مخالفت کرنے والوں کی کئی اقسام ہیں سب سے زیادہ سخت مخالفین وہ ہیں جو تمام مطلوبہ امور کی مخالفت کرتے ہیں پھر درجہ بدرجہ ہیں مثلاً
1۔ ایسے لوگ جو ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں مگر شرک کا انکار نہیں کرتے اور نہ مشرکوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔
2۔ شرک کرنے والوں سے دشمنی رکھتے ہیں مگر انہیں کافر نہیں سمجھتے ۔
3۔ توحید سے محبت نہیں کرتے مگر اس سے نفرت بھی نہیں کرتے۔
4۔ شرک کرنے والوں کوکافر قرار دیتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ یہ نیک لوگوں کوگالی دینے کے مترادف ہے۔
5۔ شرک سے نہ بغض نہ محبت رکھنے والے ۔
6۔ شرک کو جانتے نہ اسکا انکار کرتے ہیں ۔
7۔ توحید کو نہیں جانتے نہ اسکا انکار کرتے ہیں ۔
8۔ سب سے زیادہ نقصان دہ بات یہ ہے کہ توحید پر عمل تو کیاجائے مگر یہ پتہ نہ ہو کہ توحید کیا ہے؟اور توحید کو چھوڑنے والوں سے بغض نہ رکھے اور ان کو کافر نہ سمجھے ۔
9۔ جو شرک کو چھوڑ دے اس سے نفرت کرے اس کی قدر نہ جانے شرک کرنے والوں سے نہ دشمنی رکھے نہ انہیں کافر سمجھے تو یہ لوگ انبیاء کی لائی ہوئی شریعتوں کے مخالفین شمار ہوں گے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
جس شخص پر اللہ نے یہ احسان کیاہے کہ اسے مسلمان پیدا کیا یا اسلام لانے کی توفیق دی اور وہ شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے تو ایسا شخص یہ نہ سمجھے کہ صرف یہی باتیں حق ہیں میں انہیں اپناتا ہوں مگر میں مشرکین کے خلاف کچھ نہیں کہوں گا۔اس طرح کہنے والا یہ نہ سمجھے کہ وہ اسلام میں داخل ہوگیا ہے بلکہ مشرکین سے دشمنی اور بغض اور ان مشرکین سے محبت رکھنے والوں سے بغض و دشمنی لازمی ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والداوراس کے ساتھیوں سے کہاتھا ۔
اِنَّا بُرَاءَ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَحْدَہ، (الممتحنہ:4)
ہم تم سے اور اللہ کے علاوہ تمہارے معبودوں سے بری ہیں ہم تمہارے ان اعمال )اور عقائد( سے انکار کرتے ہیں ہمارے اور تمہارے درمیان نفرت اور دشمنی ظاہر ہوچکی ہمیشہ کے لئے جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔

دوسری جگہ فرمایا:
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةُِ الْوُثْقٰی
جس نے طاغوت کاانکارکیا اور اللہ پر ایمان لایا تو اس نے مضبوط کڑا تھام لیا(البقرہ:256)

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوْا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔ (النحل:36)
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا )وہ ان سے کہتا تھا (اللہ کی عبادت کرو طاغوت سے اجتناب کرو۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نبیﷺ کی اتباع کرتاہوں اور آپ ﷺحق پر ہیں لیکن میں لات اور عزی یاابو جہل وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ان کے بارے میں کچھ کہنا یا کسی قسم کی رائے میرے لئے اہم نہیں یا میری ذمہ داری نہیں تو ایسے شخص کااسلام صحیح نہیں ہے۔(مجموعۃ الفتاوی ص126)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s