قانون ساز اسمبلیوں میں شرکت کوجائز سمجھنے والوں کے شبہا ت اور ان کا ازالہ

شبہ نمبر 1۔کتاب مشروعیة الدخول الی المجالس التشریعیةکے ص 42پر مصنف لکھتے ہیں کہ اگر اسلام کی شرائط اور لوازمات میں سے یہ ہوتا کہ کفار کے ساتھ کسی بھی فیصلہ کرنے والی کمیٹی یا اسمبلی سے دور رہنا ہے تو پھر نجاشی کی تعریف نبیﷺکبھی نہ کرتے کہ آپ ﷺنے اسکی وفات کے موقعہ پر کہاتھا کہ رجل صالح نیک آدمی تھا۔
ازالہ: ایسا لگتا ہے کہ مصنف کے پاس کوئی مضبوط دلیل یا عذر نہیں تھا اس لئے یہ دلیل پیش کر دی اس لئے کہ یہ دلیل نہیں بلکہ دین سے ناواقفیت ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کفار کے ساتھ عدم شراکت اسلام کے لوازمات میں سے نہ ہو جبکہ قرآن میں صراحت کے ساتھ اللہ کے احکام کو چھوڑ کر فیصلہ کرنے والوں کو ظالم فاسق کافر کہاگیا ہے اسی طرح اللہ نے ان لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے جو دعوی تو اللہ کے نازل کردہ پر ایمان کا کرتے ہیں مگر فیصلے طاغوت کے پاس لیجاتے ہیں کفار کے ساتھ فیصلوں میں مشارکت سے گریز اسلام کے لوازمات میں سے کیسے نہیں ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کفار اور جن چیزوں کی اللہ کے علاوہ پوجا ہوتی ہے ۔ ان سے بیزاری و دوری کو واجب قرار دیا ہے اب کسی مسلمان کے لئے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسی اسمبلی کارکن بنے جو خود کو قانون ساز کہتی ہوجبکہ اللہ نے قانون ساز کو شریک اور رب کہا ہے مسلمان کے لئے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کے خلاف کسی اور قانون کے پاس اپنا فیصلہ لے جائے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس تحاکم کو عبادت قرار دیا ہے او رجوشخص طاغوت کے پاس فیصلے لے جاتا ہے اسے مشرک کافر قرار دیا ہے اس لئے کہ غیر اللہ کے پاس اپنے فیصلے لیجانا کفر اکبر ہے اللہ نے ہمیں طاغوت کے انکار کا حکم دیا ہے اور اس کاطریقہ یہ بتایا ہے کہ اس کے پاس فیصلے نہ لیجائیں اب جو شخص طاغوت کے پاس فیصلہ کرانے جائے گا تو وہ طاغوت کا منکر نہیں کہلائے گا اسلئے کہ طاغوت کے انکار کی شرط یہ ہے کہ اس کے پاس فیصلے نہ لیجائے جائیں ۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں طاغوت کے انکار کی صورت یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ غیر اللہ کی عبادت باطل ہے اسے چھوڑ دے اس سے نفرت کرے اور اس کو ماننے والوں کو کافر سمجھے ان سے دشمنی رکھے۔ (مجموعۃ التوحید)اب جو شخص غیر اللہ کی عبادت کو باطل سمجھتا ہے مگر اسے چھوڑتا نہیں تو وہ طاغوت کا منکر نہیں کہلا سکتا۔ جو شخص اس کو باطل سمجھے اور اسے چھوڑ دے مگر پھر اسے پسند کرتا رہے اس سے نفرت نہ کرے تو وہ بھی طاغوت کا منکر نہیں ہے ۔
شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ جو شخص کتاب و سنت کے علاوہ کسی اور طرف فیصلے لیجاتا ہے جبکہ اسے سب معلوم ہے تو وہ کفر کر رہا ہے ۔(الدرر السنیۃ 10/426)۔
مؤلف کتاب کو اللہ کا خوف کرنا چاہیئے کہ اس اہم مسئلے میں کسی کمزور دلیل کو بنیاد بنا رہے ہیں اگرچہ انکی نیت اچھی ہوگی اور ارادہ اصلاح کا ہوگا مگر اس طرح کی باتیں اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گی اس طرح کی باتوں سے بہت بگاڑ پیداہوتا ہے بلکہ ہوا ہے یہ باتیں عدالتوں میں اور قانون پڑھانے والے اداروں تک اپنے اثرات پہنچا چکی ہیں اور اب وہاں (غیر اسلامی قوانین میں )کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا اب ہم اللہ کا نام لیکر اس شبہے کاازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس ازالے کی متعدد صورتیں ہیں مثلاً
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (البقرہ:111)
(اے محمد ﷺ)ان سے کہدو کہ اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل لاؤ۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ نجاشی طاغوتی فیصلے کرتا تھا)پھر بھی نبی ﷺ نے اسکی تحسین فرمائی تو ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے دعوی کے ثبوت کے لئے کوئی صحیح متصل سند والی خبر سے یا اجماع سے کوئی دلیل لائیں ان صحابہ کرام کا قول پیش کریں جو نجاشی کے ساتھ رہے اور انہیں نجاشی کے بارے میں تمام معاملات کا علم تھا یا یہ بتا دیں کہ نجاشی اسلام قبول کرنے کے بعد بھی طاغوتی فیصلے کرتا تھا کوئی ایک فیصلہ ہی ایسا ثابت کر دیں؟(ورنہ دعوی بلا دلیل قبول نہیں کیاجاتا)۔
نجاشی کے واقعہ سے استدلال کرنا صرف قیاس ہے جبکہ قیاس کے لئے ضروری ہے کہ کسی نص میں کوئی مسئلہ بیان ہوا ہو اور اس کی علت کے اشتراک کی بناپر کوئی مسئلہ غیر منصوصہ اس پر قیاس کیاجائے اور ان دونوں مسئلوں میں کوئی فارق بھی نہ ہو اور یہ بھی قیاس کے لئے شرط ہے کہ مقیس)فرع( کوئی نص بھی نہ ہو جبکہ یہاں تو بہت سے نصوص موجود ہیں کہ اللہ کے حکم کو معطل کرنا یا اسے حکم وضعی سے بدلنا کفر باللہ ہے بلکہ اللہ کی شریعت کے ہوتے ہوئے کسی اور طرف فیصلے لیجانا ایمان بالطاغوت ہے جیسا کہ پہلے آیت گذر چکی ہے ۔
اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ……(النساء:60)
اور
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اﷲَ وَاَطِیْعُوالرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ(النساء:59)
ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ تنازعات میں فیصلے اللہ کی شریعت کے پاس نہیں لیجاتے وہ حقیقت میں مسلمان نہیں ہیں بلکہ ان کا ایمان طاغوت پر ہے ۔ (تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام العنان(1/398)
جب ہمارے پاس واضح نصوص دلائل موجود ہیں توہم کس طرح قیاس کو لے لیں جبکہ اصول یہ ہے کہ نص کے مقابلے پر قیاس سے استدلال کرنا باطل ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قیاس کے شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ اصل حکم اور فرع میں فارق نہ ہو جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ اصل نجاشی کے عمل کو بنایا گیا ہے اور فرع اسمبلیوں میں داخلے کو جہاں کہ اللہ کے احکام کومعطل کیاجاتا ہے اور شریعت کے بجائے انسانوں کی مرضی پر قانون بنتے ہیں کہتے ہیں کہ نجاشی نے مصلحت کی بنا پر شریعت محمدی ﷺ کے مطابق فیصلے نہیں کئے لہٰذا ہم بھی مصلحت کی وجہ سے پارلیمنٹ میں جاتے ہیں (یعنی پارلیمنٹ میںجانا نجاشی کے عمل پر قیاس کیاگیا ہے)اس کا رد اس طرح کیاجاسکتا ہے کہ جب ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ قیاس صحیح کے لئے ضروری ہے کہ اصل اور فرع میں فارق نہ ہوتو ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ قیاس فاسد ہے اس لئے کہ دونوں صورتوںمیں فوارق موجود ہیں مثلاً
1پہلا فارق ۔نجاشی کا انتقال اسلام کے قوانین مکمل ہونے سے قبل ہوگیا تھا اور اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمَ دِیْنِکُمْ ……(المائدہ:3)آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے بطور دین اسلام کو پسند کرلیا ہے یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی 13ھ میں جبکہ نجاشی کا انتقال فتح مکہ سے قبل ہواتھا گویا نجاشی کی زندگی میں بہت سے اسلامی قوانین نازل و نافذ نہیں ہوئے تھے مثلا ًسورہ مائدہ کو لے لیں جس میں اکثر احکامات ہیں دیگر صورتوں کی بنسبت اور اسی میں یہ حکم ہے کہ جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے یہ سورت نجاشی کے انتقال کے بعد نازل ہوئی ہے ا سلئے کہ یہ آخری سورہ ہے نزول کے لحاظ سے اب نجاشی کے عمل پر جو کہ شریعت اسلامی کی تکمیل سے پہلے کا ہے یہ اسمبلی کو کیسے قیاس کر سکتے ہیں جو کہ اسلامی شریعت کی تکمیل کے بعد وجود میں آرہی ہے۔
2دوسرا فارق۔جب نبی ﷺنے بادشاہوں اور حکمرانوں کو اس بات کا پابند نہیں کیاتھا کہ وہ اللہ کی شریعت کے بغیر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں اس سے پہلے ہی نجاشی کاانتقال ہوگیا تھا یا جن بادشاہوں کو جزیہ کا حکم دیاگیا تھا جیسا کہ مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے قیصر و کسری اور نجاشی کو لکھا کہ اسلام کی دعوت قبول کر لیں یا جزیہ دیں (یہ وہ نجاشی نہیں ہے جسکی نبی ﷺنے تعریف کی ہے)۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نجاشی کو نبی ﷺنے جزیہ کا اسلام قبول کرنے کا خط لکھا تھا وہ نجاشی دوسرا تھا اور جوآپﷺپر ایمان لایا آ پﷺکے صحابہ کی تکریم و توقیر کی وہ نجاشی دوسرا ہے بعض راویوں نے ان دونوں میں فرق نہیں کیا جو کہ ان کی سہو ہے۔(زادالمعاد3/690)۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ ﷺ نے بادشاہوں کو خطوط لکھے واقدی کے بقول یہ ذی الحجہ 6ھ میں تھا جب عمرہ حدیبیہ ہوچکا تھا بیہقی کہتے ہیں یہ غزوہ موتہ کے بعد کا واقعہ ہے ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے اس لئے کہ یہ سلسلہ خط و کتابت فتح مکہ سے پہلے تھا اس لئے کہ ابو سفیان نے ہرقل کے سامنے کہاتھا (جب اس نے پوچھا کہ محمدﷺغداری یا وعدہ خلافی کرتاہے )ہمارا ان سے ایک مدت تک معاہدہ ہے اب دیکھتے ہیں کہ وہ (محمد(ﷺ)کیاکرتے ہیں بخاری میں ہے کہ یہ وہ وقت تھا جس میں نبیﷺکا ابو سفیان سے معاہدہ تھا )البدایہ والنہایۃ 298( پھر ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے نجاشی کو بھی خط لکھا (جس میں اسلام قبول کرنے یا جزیہ کامطالبہ تھا مگر یہ وہ نجاشی نہیں ہے جس کی نماز جنازہ نبی ﷺنے پڑھائی تھی)۔
3تیسرافارق ۔نجاشی ایک ایسی (آسمانی)شریعت پر قائم تھا جس کے اکثر احکام میں تحریف نہیں ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ۔
وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَہُمُ التَّوْرٰةُ فِیْہَا حُکْمُ اﷲِ (المائدہ:43)
یہ اہل کتاب آپ ﷺکو کیسے حکم بناتے ہیں جبکہ انکے پاس توراۃ ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے ۔

جبکہ موجودہ اسمبلیوں کی یہ حیثیت نہیں ہے ۔ جب اصل اور فرع میں یہ تینوں فارق پائے گئے تو یہ قیاس کو باطل کرنے کے لئے کافی ہیں اور اس طرح یہ قیاس فاسد قرار پاتا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s