علمائے اسلام کی ذمہ داری

عبدالقادر عودۃ شہیدرحمۃ اﷲ علیہ


آج ہم جس مصیبت میں گرفتار ہیں اور اسلام کو جو نقصان پہنچ رہا ہے ‘اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری اور الزام علماءکے سر آتا ہے بلکہ ہمارا استعمار پرست(حکومتی)طبقہ اسلام سے بے خبر یا باغی ہونے کی وجہ سے جو کچھ کررہا ہے اس کی بھی تمام ذمہ دای علماء پر عائد ہوتی ہے ۔
درحقیقت علماء اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو یہ الزام دیا جائے اس لئے کہ وہ جب مسلم ممالک کی غاصب وجابر حکومتوں کے استعمار پرستا نہ کاموں کی تائید کرتے ہیں یا کبھی ان کی ایسی کاروائیوں پر خاموش رہتے ہیں تو یہ دراصل استعمار کی پشت پناہی ہے یا کم ازکم اس کو برداشت کرنے کے مترادف ہے ۔دوسرے مسلم عوام کی جہالت اور غفلت کے ذمہ دار بھی علماء ہی ہیں ۔اس لئے علماء نے عوام کو ان معاملات کے بارے میں نہ اسلامی احکام بتائے ہیں اور نہ کبھی ان کو یہ بتایا ہے کہ دراصل اسلام ہے کیا اور چاہتا کیا ہے ۔
بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت خود علماء کرام اسلام اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہوگئے ہیں اس لئے کہ انہوں نے کبھی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ غیر ملکی استعمار پسندوں کے بارے میں اسلام کے احکام کیا ہیں اور نہ انہوں نے یہ بتایا کہ جو حکومتیں بیرونی استعمار کی پشت پناہی او رمسلمانوں کے دشمنوں سے دوستی کرتی ہیں ان کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے ‘اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے استعمار (غیر اﷲ کے نظام وقانون)کو برداشت کرلیا ہے اور استعمار پرست حکومتوں کی اطاعت کررہے ہیں ۔علماء کرام کی خاموشی نے اسلام کو تباہ کردیا ہے اور عوام نے نہ صرف اس تباہی کو قبول کیا ہے ۔بلکہ ایک طرح سے وہ بھی اس میں ممدومعاون بن گئے ہیں دراصل عوام کو علماء کے متعلق یہ یقین ہے کہ جو بات اسلام کے خلاف اور اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو اس علماء ہر گز خاموش نہیں رہ سکتے ۔اس لئے ہماری حکومتیں جو کچھ کررہی ہیں وہ اسلام کے خلاف نہیں ہیں۔
علمائے کرام نے اپنی آنکھیں اور کان بند اورمنہ سی رکھے ہیں اور کئی صدیوں سے اسلام کی طرف سے بے پرواہ ہوکر غفلت کی نیند سورہے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام بھی غافل اور بے نیاز ہوگئے ہیں اس لئے کہ عوام خیال کرتے ہیں کہ اگر اسلام محفوظ نہ ہوتا تو علماء خاموش نہ رہ سکتے تھے ۔
علمائے اسلام کا خواب غفلت طویل مدت سے جاری ہے اور اس دوران انہوں نے نہ تو اسلام کے خلاف جاری ہونے والے کسی حکم کو رکوایا اور نہ خلاف اسلام رسوم واطوار واوضاع پر ٹوکا اور نہ کبھی اس مقصد سے متحد ہوئے کہ احکام اسلام کی بحالی کی اجتماعی جدوجہد کریں ۔
حاکموں نے بڑے بڑے مظالم کئے ۔حرام کاموں کو حلال قرار دے دیا ‘انسانی خون بہایا ‘شرفاء کی عزتوں سے کھیلے ‘زمین میں فساد برپا کیا ‘حدود اﷲ پر دست درازی کی ‘یہ سب کچھ ہوا لیکن علماء کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔نہ تو ظلم دیکھ کر حرکت میں آئے اور نہ حرام کے حلا ل کئے جانے پر ان کی رگ حمیت پھڑکی ۔گویا نہ تو اسلام کا علماء سے کوئی مطالبہ ہے اور نہ ان پر کوئی فرض عائد ہوتا ہے ‘نہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر ان کی ذمہ داری ہے اور نہ حکام کونصیحت کرنا ان پر واجب ہے اورنہ احکام اسلامی کی بحالی کی جدوجہد ان کا فریضہ ہے ۔اسلامی ممالک غلام بنالئے گئے تب بھی علماء کی حمیت جوش میں نہ آئی نہ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ قرآن مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حملہ آور دشمن سے جہاد کرنے اور غلامی کے خلاف مزاحمت کرنے کا کتنا شدید حکم ہے اورنہ حملہ آوروں اور ان سے دوستی کرنے کے بارے میں اسلامی احکام بیان کئے ۔
اسلامی ممالک میں مغربی قوانین نافذ کئے گئے جو اسلام کے احکام سے متضاد ہیں او رنتیجۃً اسلام معطل ہوگیا ۔اﷲتعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام قرار پاگئیں اور جن چیزوں کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کیا تھا حلا ل ہوگئیں لیکن ہمارے علماء نہ تو اسلام کی پامالی پر بے قرار ہوئے اور نہ انہیں اپنے مستقبل کی بربادی سے پریشانی لاحق ہوئی ۔حالانکہ ان کا مستقبل ان کا کھانا پینا اور زندہ رہنا سب اسلام کے سبب اور اسلام کے نام کی برکت سے ہے ۔اس کے باوجود انہوں نے اپنے اور اسلام کے مستقبل کے تحفظ کے لئے نہ کبھی باہم مشورہ کیا اور نہ کوئی اجتماعی کوشش کی ۔
اسلامی ممالک میں ہر طرف فسق وفجور اورلاقانونیت کا دور دورہ ہے ‘شراب خانے اور رقص گاہیں کھل گئی ہیں ۔مسلمانوں حکومتوں نے مسلمان لڑکیوں کو بدکاری کی اجازت دے دی ہے ‘لوگ اعلانیہ اسلام کے خلاف کام کرنے لگے ہیں لیکن ہمارے علماء سمٹے سکڑے بیٹھے ہیں اور ان تمام مکروہات ومحرومات پر صرف سر ہلاکر اور منہ بناکر رہ جاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ علماء ایک خدمت یہ بھی انجام دیتے رہے ہیں کہ جب بھی کسی حکوت کا معاملہ عوام کی نظروں میں بگڑنے لگتا ہے تو وہ حکومت علماء کا سہارا لیتی ہے اور علماء فوراً اس کی مدد کو پہنچتے ہیں اور مسلم عوام کو اس حکومت کی اطاعت وفرماں برداری کا درس دیتے ہیں جو شراب ‘زنا اور ہر قسم کے فسق وفجور بلکہ کفر تک کو جائز قرار دیتی رہی ہے اور پھر اسلام کے نام کی برکت سے لوگوں کے ذہن بدل دیتے ہیں اور حکومت اور حکومتی جماعت کو لاحق خطرہ ٹل جاتا ہے ۔مسلمانوں کے ساتھ علماء کا یہ مذاق طویل مدت سے جاری ہے اور کیفیت یہ ہوگئی ہے کہ مسلم عوام یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ جس بدکرداری اور اسلام سے انحراف کی زندگی وہ گزار رہیں ہیں وہ اصلی اسلام ہے ۔علماء کی روش سے اسلامی احکام بحال کرنے کی کوششوں سے بے اعتنائی برتنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف فسق وفجور کا دور دورہ ہے اور اصلاح احوال مفقود ہے۔
علماء انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں ان کو کسی طرح یہ زیب نہیں دیتا کہ نیابت انبیاء کے منصب کا اس طرح غلط استعمال کریں ۔ اسلام نے علماءپر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کی ذمہ داری ڈالی ہے ۔اب اگر علماء کرام ہی اس فرض کو ادا نہ کریں تو دوسرا کون کرے گا ۔
علمائ کرام! اپنے اور اسلام کے معاملے میں جو اقدام کروخوف اﷲ کے ماتحت کرو۔اے حضرات علماء آپ کا طبقہ حکومتوں اور حاکموں کی نظر میں صرف اس لئے ذلیل ہو گیا ہے کہ آپ نے اسلام کا احترام وتحفظ نہیں کیا آپ حضرات کی عزت اسلام کی عزت سے وابستہ ہے ۔آپ کی قوت اسلام ہے اگر آپ ان لوگوں کو اپنی عزت وقوت کا کچھ بھی خیال ہے تو اسلام کی عزت وقوت کے لئے کام کیجئے ۔
حضرات علماء !آپ کا احکام الٰہی بیان کرنے سے باز رہنا اور دشمنانِ اسلام کی طرف سے شعائر اﷲ کی تذلیل ہوتے دیکھ کر بھی چشم پوشی کرتے رہنا ہرگز اسلام پر عمل کرنا نہیں ہے ۔اسی طرح آپ کا اپنے مدارس میں طلبا کو اسلامی احکام کی تعلیم دینا جب کہ حکومتیں اسلامی احکام نافذ کرنے پر تیار نہیں ہیں ‘کسی طرح اسلام کی خدمت نہیں ہے ۔
حضرات علماء !اسلام یہ نہیں ہے کہ آپ منبروں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اخلاقیات و عبادات کی تلقین کریں لیکن حکومت اور حاکموں سے متعلق نیز قانون ‘عدالتی امور ‘اقتصادی اور اجتماعی مسائل اور دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں اسلام کے جو احکام و فرامین اور رجحانات ہیں ان سے لوگوں کو بے خبررکھیں ۔
آپ لوگ کھل کر ہر بات لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے جب کہ آپ کا کام ہی دوسروں کو ہر وہ بات بتانا ہے جو وہ نہ جانتے ہوں ۔
آپ حضرات عوام کو کیوں نہیں بتاتے کہ غلامی کے بارے میں اسلام کے کیا احکا م ہیں اور ان لوگوں کے متعلق اسلا م کیا حکم دیتا ہے جو غلامی کو پسند کرتے ہیں اور غلام بنانے والوں سے دوستی کرکے اپنی اسلام سے نفرت اور دشمنی کا اظہار کرتے ہیں ۔آپ حضرات مسلمانوں کو وہ احکام کیوں نہیں بتاتے جو اسلام ان حاکموں کے بارے میں بتاتا ہے جو مسلمانوں پر خلافِ اسلام احکام مسلط کرتے ہیں کیا اسلام ان لوگوں کی اطاعت اور ان کی ذاتی اغراض ومفادات کی پیروی کا حکم دیتا ہے یاان کی مخالفت کرنے اور ان کے خلاف بغاوت کرنے کا حکم دیتا ہے ؟آپ لوگوں کو مغربی قوانین کے سلسلے میں یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اسلام ان کو ماننا ضروری قرار دیتا ہے یا ان سے سرتابی اور بغاوت کا حکم دیتا ہے ۔
اے علماء کرام! میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ آپ میں ایک چھوٹی سی بہت ہی قابل احترام اقلیت ایسی موجود ہے جو پوری طرح کتاب اﷲ پر عمل کرتی ہے اور احکام قرآنی پر استقامت سے جمی ہوئی ہے اور آپ میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اپنا علم‘اپنی قوتیں اور اپنی پوری زندگی احکام قرآنی کو قائم اور بحال کرنے میں صرف کردی ہے اور اﷲ کے کاموں سے کسی قسم کا خوف ان کو باز نہیں رکھ سکا ۔لیکن یہ لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر یہ خود کو علماء کہلانے اور آپ لوگوں کی طرف انتساب کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے ۔ان چند منتخب اورممتاز لوگوں کا عمل آپ لوگوں کی کوتاہیوں کامداوا نہ بن سکے گا اور نہ آپ کی ذمہ داری کے بوجھ کو کم کرسکے گا نہ آپ پر سے بے اعتدالی اور بے عملی کے الزام کو دور کرسکے گا ۔
اس لئے اے علماء کرام ااپ سب کو ان نیک لوگوں کی مانند کام کرنا ‘ان کے نقشِ قدم پر چلنا اور اسلام کی کچھ خدمت کرنا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s