علماء کے اجماع سے طاغوت کے مددگاروں اور حمایتیوں کے کفر کے دلائل

کافروں کو دوست بنانے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرنے والے کے کفر پر بعض علماء نے اجماع نقل کیا ہے:
1۔ امام ابن حزم ﷫المحلیٰ بالآثار 138/11میں فرماتے ہیں :صحیح طور پر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان :
وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ۔
’’او رتم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہے ‘‘۔
(المائدة:51)

اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی وہ کافر ہے کافروں میں سے ہے اور یہ بات حق ہے اس کے حق ہونے میں دو مسلمان بھی آپس میں اختلاف نہیں رکھتے ۔

2۔ علامہ عبداللطیف بن عبدالرحمن بن حسن آل شیخ ﷭کفار سے دشمنی رکھنے کے واجب ہونے کے متعلق گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
’’توجوان کی مدد کرے یا انہیں مسلمانوں کے ملکوں میں کھینچ لائے اور ان کی تعریفیں کرے یا انہیں مسلمانوں سے زیادہ معتدل (عدل کرنے والا)قرار دے اور ان کے علاقوں ،رہائشگاہوں اور ان کی دوستی اوران کے غلبے کو پسند کرے اسکے متعلق کیا ہوسکتا ہے اس کے صریح ارتداد ہونے پر سب کا اتفاق ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبَطَ عَمَلُہٗ وَھُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔’’اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کے اعمال برباد ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں سے ہوگا‘‘۔(الدررالسنیة:326/8)

3۔ فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن حمید ﷫نے فرمایا:
’’اور تولّی یعنی ان کی عزت کرنا ،ان کی تعریف کرنا ۔ان کی مسلمانوں کے خلاف مدد اور معاونت کرنا ،اور ان کے ساتھ زندگی بسر کرنا ،اور ان سے براء ت کااظہار نہ کرنا تویہ کام کرنے والامرتد ہے اس پر مرتد کے احکام لاگو کرنا واجب ہے جیسا کہ کتاب وسنت اور ائمہ ہدی کے اجماع سے ثابت ہے‘‘۔ (الدررالسنیة:479/15)

4۔ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ﷫(سابق مفتی اعظم سعودیہ)نے فرمایا:
’’علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ جومسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے اورکسی بھی طرح ان کو سہارا دے تو وہ انہی کی طرح ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآءَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اِنَّ اﷲَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔
’’اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ اور تم میں سے جوانہیں دوست بنائے گا تو وہ انہی کی طرح ہے بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ‘‘۔
(المائدة:51 فتاوی بن باز ﷫274/1)

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اورمعاونت اوران سے دوستی کرنے والے کے مرتد ہونے سے متعلق ائمہ دین﷭کے اقوال
1 ۔حافظ ابن حجر ﷫فتح الباری 61/13میں ابن عمر سے مروی حدیث مرفوع کہ
(اذا انزل اﷲ بقوم عذابا اصاب العذاب من کان منھم ثم بعثوا علی اعمالھم)’’جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو اس قوم کے ہر فرد تک وہ عذاب پہنچتا ہے پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘‘کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافروں اور ظالموں سے بھاگ جانا مشروع ہے کیونکہ ان کے ساتھ رہنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور یہ بھی اس صورت میں ہے جبکہ وہ ان کے افعال سے نہ تو خوش ہو نہ ہی ان کے ساتھ تعاون کرتاہو اور اگر وہ ان کے افعال سے راضی ہو اور ان کے ساتھ تعاون کرتا ہوتو وہ انہی میں ہے‘‘۔

2۔ فضیلۃ الشیخ عبدالباری اھدل اپنی کتاب ’’السیف البتار علی من یوالی الکفار ویتخذھم من دون اﷲ ورسولہ والمومنین انصار‘‘کے صفحہ 175پر فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
’’آپ کے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے حتی کہ آپ کو اپنے آپس کے اختلاف میں حاکم مان لیں پھر اپنے دلوں میں آپ کے فیصلے سے تنگی محسوس نہ کریں اور مکمل طور پر تسلیم کرلیں‘‘۔
(نساء:65)

کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا کہ ہم کفار کو کسی صورت میں بھی دوست نہیں بناسکتے اب جو اس کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے وہ مومن کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اللہ نے اس سے ایمان کی نفی کردی اور انتہاء درجے کی تاکیدی نہی لے کر آیا اور اوپر سے اس پر قسم بھی اٹھائی ۔

3 ۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫مجموع الفتاویٰ(530/28)میں تاتاریوں کے معاونین کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جو بھی ان کی (تاتاریوں)یعنی ان کے امیر لشکر یا دیگر امراء کی طرف بڑھے گا تو ان دونوں کا حکم ایک ہے اور وہ اپنے انحراف کے مطابق دین اسلام سے مرتد شمار ہوگااور سلف صالحین نے تو منکرین زکاۃ کو مرتد قرار دیا جبکہ وہ روزے رکھتے اورنماز پڑھتے تھے اور مسلمانوں سے لڑتے بھی نہ تھے تو جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے جاملے مسلمانوں سے لڑنے والابن جائے اس کا کیا حکم ہوسکتا ہے؟‘‘۔

4۔ امام ابن القیم الجوزی﷫احکام اہل الذمہ(195/1)میں فرماتے ہیں :
’’اللہ سبحانہ نے فیصلہ فرمادیا اور اس کے فیصلے سے بہتر فیصلہ ہوہی نہیں سکتا کہ یہود ونصاریٰ کو دوست بنانے والا انہیں میں سے ہوگا‘‘۔

5۔ فضیلۃ الشیخ محمد امین الشنقیطی ﷫نے اپنی تفسیر میں کفار سے دوستی سے روکنے والی چند آیات ذکر کیں اور پھر فرمایا:
’’ان آیات کے ظاہری معانی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو جان بوجھ کر اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کافر سے دوستی کرے اور ان میں رغبت رکھے وہ انہی کی طرح کافر ہے‘‘۔ (تفسیر اضواء البیان:111/2)

خلاصہ :یہ ہواکہ کفار کے حامی ومددگار لامحالہ کافر ہیں کیونکہ اپنے قول وفعل کے ذریعے کافر اورمرتد حکام کی مدد کرتے ہیں اور ایسا کرنے والا مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنے والا شمار ہوتا ہے نیز ائمہ دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد کرنا اور انہیں غالب کرنا نواقض اسلام (وہ امور جو اسلام کو توڑ ڈالتے ہیں اور ان کا اعتبار ختم کردیتے ہیں)میں سے ہے جیسا کہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب النجدی ﷫نے ’’نواقض اسلام ‘‘ذکرکرتے وقت بیان کیا ہے ملاحظہ ہو (الدررالسنیۃ:92/10)۔

نیز فرمایا:
”جان لوکہ اللہ اور اس کے رسول اور اہل علم کے کلام میں ’’ایسے نیک مسلمان جو اللہ کے ساتھ شرک کربیٹھے یا مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ مل جائے اگرچہ خود شرک نہ بھی کرے ‘‘کے کافر ہونے کے اس قدر دلائل ہیں جو شمار نہیں کئے جاسکتے۔ (الدررالسنیة:8/10)

نیز فرماتے ہیں:
’’کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے علماء نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے اور کفار سے دوستی کرنابھی کفر ہے‘‘۔ (الدررالسنیة:38/10)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s