طاغوت کے مددگاروں کی اقسام

باتوں کے ذریعے اس کی مدد کرنے والے

یعنی جو لوگ باتوں اور اقوال کے ذریعے طاغوت کی مدد کرتے ہیں ان میں سرفہرست وہ نام نہاد علماءسوء ہیں جو کافر حکام کے حق میں شریعت اسلامیہ کا دائرہ وسیع تر کردیتے ہیں اور ان پر کفر کے الزام کا دفاع کرتے ہیں اور جو مسلمان مجاہدین ان کے خلاف بغاوت کریں انہیں بے وقوف اورخارجی اور گمراہ قراردیتے ہیں ان کے ذریعے حکام کو خوب بے وقوف بناتے ہیں ۔نیز اس قسم میں وہ رائٹرز،صحافی اور رپورٹر بھی شامل ہیں جو بذاتِ خود یہ خدمت سر انجام دیتے ہیں ۔

  عملی طور پر مددکرنے والے

ان میں سرفہرست کافر حکام کے سپاہی ہیں خواہ فوجی ہوں یا پولیس آفیسر ہوں یا رنگروٹ یہ سب ان ممالک کے دستور اور قانون کے مطابق چند امور کے لئے تیار کئے جاتے ہیں :
الف: مملکت کے عام نظام کی حفاظت :یعنی اپنی طرف سے بنائے گئے دساتیر (جمع دستور)اور قوانین پر عمل کروانا اور ان کی خلاف ورزی یا ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزائیں دینا ۔

ب: دستوری قانونی شکل (آئین )کی حفاظت کرنا:گویا یہ کافر ہی کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ یہ ان کے نزدیک دستور کے مطابق ایک قانونی حاکم شمارکیا جاتا ہے کیونکہ اس کا تقرر اور قیام وضعی دستور (انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کا مجموعہ)میں بیان کردہ اقدامات کے عین مطابق ہوتا ہے۔

ج: قانون کی حکمرانی کویقینی بنانا:یعنی دستور اور قانون کو نافذ العمل کرنا نیز وہ فیصلہ جات جو طاغوتی دستور ی عدالتیں صادر کرتی ہیں انہیں نافذ کرنا بھی اسی میں داخل ہے ۔

قول اور فعل کے ذریعے طاغوت کے ان مددگاروں میں ہمارے ذکر کردہ افراد کے علاوہ ہر وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے قول وفعل کے ذریعے اس کی مددکرے حتی کہ اگر کسی دوسرے ملک کی حکومت بھی اس کی مدد کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے یہ ہیں طاغوت اور اس کے مددگار ۔ (الجامع فی طلب العلم الشریف از عبدالقادر عبدالعزیز ص :544.)

نیز حامیان ومددگار ان طاغوت اس کے دفاع اور اس کی حاکمیت کو برقراررکھنے کی خاطر جان کی بازی تک لگادیتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کفر وگمراہی کے امام اور سر بر آوردہ شخصیات ان حامیوں اور مددگاروں کے بغیر کسی بھی جگہ پنپ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ کفر،ظلم وفساد اور گمراہی پر ان کی مدد وحمایت نہ کریں لہٰذا طاغوت کے یہ مددگارہی درحقیقت ان حکام کے (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق حکومت نہیں چلاتے )مقرب،حاشیہ برداراور خاص لوگ ہوئے یہی انہیں (’’زبانیہ‘‘ان فرشتوں کو کہتے ہیں جو لوگوں کو جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے)جہنم میں گھسیٹ کرلے جائیں گے اور ان حامیوں ومددگاروں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے اقوال کے ذریعے ان کی حمایت کرتے ہیں مثلاً علماء سوء (درباری ملا)بعض صحافی ،رپورٹرز جو ان کے کارناموں اور ترقیاتی منصوبوں کا خوب ڈھنڈوراپیٹتے ہیں اور وہ شعراء ،ادباء اور رائٹرز بھی کہ جن کی زبانیں اورقلم ہر وقت ان کی تعریفات میں تر رہتے ہیں جو ان کے عدل واستقامت کی داستانیں وضع کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں لوگوں سے جھوٹ بیان کرکے انہیں شکوک وشبہات میں مبتلا کردیتے ہیں ۔نیز انہیں مشوروں سے نوازنے والے اور ان کی حوصلہ افزائیاں کرنے والے بھی اسی قبیل میں شامل ہیں جو لوگوں کو حقائق سے گمراہ کردیتے ہیں اور اس قسم میں بیان کردہ لوگ بہت زیادہ ہیں اللہ ان میں اضافہ نہ کرے ۔(آمین)

اور ان مددگاروں وحامیوں میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جو عملی طور پر ان کی مدد وحمایت کرتے ہیں مثلاً فوجی ،سپاہی ،فورسز،اسپیشل فورسز،جمہوریت پسند،امن قام کرنے والے اور سراغ رساں افراد ،پولیس ،وزراء،لیڈرز،اور وہ ارکان سلطنت جن سے مرتد حکام خفیہ ریاستی امور میں مشاورت کرتے ہیں یہ تمام طاغوت کے حامی اور مددگار ہیں جو نہ صرف اس کی بلکہ اس کی سلطنت ،اس کے بنائے گئے کفریہ قوانین ودستور کی بھی حفاظت کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جوعوام الناس اور اللہ کے قانون کے مطابق حکومت کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں بلکہ یہ لوگ توطاغوت اورطاغوتی نظام کے دفاع اور حفاظت میں سردھڑ کی بازیاں لگادیتے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر غداری کا الزام لگاکر انہیں سزائے موت دیتے ہیں ۔اگر یہ سب نہ ہوتے تو وہ مرتد حکام بھی نہ ہوتے یہ ان کی بقاء اور ان کی حکومت کی بقاءکی ضمانت ہیں یہی اصل سبب ہیں سو جب ان حکام کو مرتد اور کافر قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق حکومت نہیں کرتے توہر وہ شخص جو ان کی کسی بھی طرح مادی یا معنوی مدد یاحمایت کرے یا کسی بھی طرح ان کا دفاع کرے وہ بھی انہی کی طرح کافر ومرتد ہوا کیونکہ یہی طاغوت اور طاغوتی نظام کا (بلاواسطہ)اولین حامی ومددگار ہے اورمسلمانوں پر ان کے ملکوں میں ان مرتد حکام کے وضع کردہ کفریہ قوانین کونافذ کرکے ان ملکوں میں کفر بواح (ایسا کفر جو انسان کو اسلام کی حدود سے نکال دیتا ہے)کو ظاہر کرنے کا اولین سبب ہے۔اور فقہاء جانتے ہیں کہ کسی بھی شئے سے بلاواسطہ تعلق رکھنے والے اور اس شئے کاسبب بننے والے کابھی شرعاً وہی حکم ہوتا ہے جو خود اس شئے کا ہوتا ہے۔لہٰذا اس اصول کی رو سے طاغوت کے حامی ،مددگار ،معاونین بھی طاغوت اور اس کی طرح کافر ومرتد ہوئے علاوہ ازیں کتاب وسنت میں موجود دلائل سے بھی یہی ثابت او رمتحقق ہوتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s