قرآن کریم سے طاغوت کے مددگاروں اور حمایتیوں کے کفر کے دلائل

اولاقرآن کریم سے :
واضح رہے کہ کسی بھی مسئلے کا شرعی حکم معلوم کرنے کے تین ذرائع ہیں :
•   قرآن کریم ۔
•      سنت ثابتہ ۔
•      اجماع ۔

٭   اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْ م بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا
’’پس جو طاغوت کے ساتھ کفر کرے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا تو اس نے مضبوط کڑے کو پکڑلیا جو ٹوٹ نہیں سکتا‘‘۔(بقرہ:256.)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے صحیح ہونے کے لئے شرط رکھی کہ طاغوت کے ساتھ کفر کیاجائے ،لہٰذا جو طاغوت کے ساتھ کفرنہیں کرتا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں الّا یہ کہ وہ طاغوت کے ساتھ کفرکردے اور طاغوت کا حامی اورمددگار طاغوت کے ساتھ کفرنہیں کرتا ۔لہٰذایہ اس پر ایمان لانے والا ہوا اور طاغوت کے ساتھ کفر نہ کرنے والا اور اس پر ایمان لانے والا’’کافر‘‘ ہے ۔

٭   فرمایا:
اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَوْلِیٰٓؤُھُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِِھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ
’’اللہ مومنوں کا دوست ہے انہیں اندھیروں سے روشنی میں نکالتا ہے او رکافروں کے دوست طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہی جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔(بقرہ:.257)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ طاغوت کے دوست کافر ہیں ،دوست سے اس کے محبوب ،اس کے معاونین ومددگار وحامی مراد ہیں ثابت ہواکہ جو بھی طاغوت کا حامی ہو یا مددگار وہ بھی انہی کی طرح کافر ہے۔

٭   فرمایا:
بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمَا، نِالَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّة فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا
’’اے نبی منافقوں کو خوشخبری دے دیں کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مومنوں کوچھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا وہ ان کے پاس بلند مرتبہ چاہتے ہیں تو یقینا ساری کی ساری عزت محض اللہ کے لئے ہے ‘‘۔(نساء:139-138.)

اس آیت میں منافقین کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ مومنوں کوچھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں اور طاغوت کے مددگار وحامی طاغوت کے دوست بھی ہوتے ہیں جیسا کہ واضح ہے لہٰذا طاغوت کے مددگار اور حامی منافقین کی طرح اور یہ دونوں کفر میں برابر سرابر ہوئے۔

٭   فرمایا:
لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اﷲِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰةً وَ اِلَی اﷲِ الْمَصِیْرُ
’’مومن لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جس نے ایسا کیا وہ اللہ کی جانب سے کسی بھی شئے میں نہیں الّایہ کہ تم ان سے بچ کررہو اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجاناہے‘‘۔( آل عمران:28.)

یہ آیت بھی طاغوت کے حامیوں اور مددگاروں کے کافر ہونے پر دلیل ہے جیسا کہ فرمایاکہ ’’وہ اللہ کی جانب سے کسی بھی شئے میں نہیں ‘‘یعنی وہ اللہ سے اور اللہ اس سے بری ہے کیونکہ وہ مرتد ہوکر کفر میں داخل ہوچکاہے۔مذکورہ تفسیر رئیس المفسرین ابن جریر الطبری ﷫نے بیان کی ہے۔ (الطبری:228/3.)

نیز اس آیت کے سبب نزول کے متعلق شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫منھاج السنة النبویة طبع مکتبہ ابن تیمیہ میں فرماتے ہیں کہ مقاتل بن حیان اور مقاتل بن سلیمان دونوں سے منقول ہے کہ یہ آیت حاطب بن ابی بلتعہ وغیرہ کے متعلق نازل ہوئی جو کفارمکہ سے اظہار محبت کرتے تھے ،تواللہ نے انہیں اس سے روک دیا۔(228/3)

٭   فرمایا:
یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآءَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اِنَّ اﷲَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
’’اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بنانا وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہوگا اور اللہ ظالموں کو یقینا ہدایت نہیں دیتاہے‘‘۔(المائدة:51.)

اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ چونکہ طاغوتی حکمران یہود ونصاریٰ کو دوست بناتے ہیں لہٰذا انہی کی طرح کافر ہوئے جیسا کہ فرمایا:’’اور تم میں سے جوانہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہوگا‘‘اور جو یہود ونصاریٰ کے دوستوں کو دوست بنائے وہ بھی اسی سلسلہ دوستی میں داخل ہوا معلوم ہوا کہ طاغوت کے مددگار بھی کافر ہیں کیونکہ طاغوت کے دوست ہیں ۔اس طرح یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے وہ انہیں میں سے ہوگا‘‘کے عموم کے تحت داخل ہوئے ۔

نیز امام ابن جریر﷫ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’اور جو بھی مومنوں کے سوا یہود ونصاریٰ کو دوست بنائے گا و ہ انہی میں سے ہوگا ۔اللہ تعالیٰ کی مراد ہے کہ جو انہیں دوست بنائے اور مومنوں کے خلاف ان کی مدد کرے تو وہ انہی کے دین کا ماننے والا ہوا کیونکہ کسی کو دوست بنانے والا اسی کے دین کو ماننے والا ہوتا ہے اور اس کی ہر بات سے راضی ہوتا ہے تو جب وہ اس سے اور اس کے دین سے راضی ہوگیا تو لا محالہ جس سے وہ اختلاف وناراضگی رکھتا ہے یہ بھی اس کے مخالف ہی شمار ہوا لہٰذا جو حکم اس کا ہے وہی حکم اس سے دوستی کرنے والے کا بھی ہوا۔ (تفسیر طبری:277/6.)

٭   فرمایا:
یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ وَاتَّقُوا اﷲَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
’’اے ایمان والو تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب (توراۃ ،انجیل)دی گئی انہیں او رکفار کو جو کہ تمہارے دین کو مذاق اور کھیل سمجھتے ہیں دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو‘‘۔(مائدة:57.)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو دوست بنانا کفر ہے جو دینِ اسلام کو کھیل اورمذاق سمجھیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ یہ کام طاغوت کرتا ہے وہ اللہ کے دین کو کھیل او رمذاق بنالیتا ہے معنی یہ ہوا کہ طاغوت کے حامی و مددگار اسی کی طرح کافر ہیں ۔

نیز فضیلۃ الشیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن آل شیخ ﷫نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’اور اللہ سے ڈر و اگر تم واقعی مومن ہو‘‘میں غور کیجئے اس لفظ یعنی اِنْ(اگر)جو کہ شرط کے لئے آتا ہے کا تقاضا ہے کہ جب شرط (یعنی اگر تم واقعی مومن ہو )کی نفی ہوجائے توجواب شرط (اس جملے سے پہلے والے الفاظ جن میں اہل کتاب اورکفار کے ساتھ دوستی لگانے سے منع کیا گیا ہے)کی بھی نفی ہوجاتی ہے پھر معنی یہ بنتاہے کہ جو انہیں دوست بنائے وہ مومن نہیں ہے‘‘۔ (الدررالسنیة:288/8.)

٭   فرمایا:
وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ النَّبِیِّ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآءَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ
’’اور اگر وہ واقعی اللہ اور نبی اور جو اللہ نے اس کی طرف نازل کیا پر ایمان رکھتے توانہیں دوست نہ بناتے لیکن ان کی اکثریت فاسق ہے ‘‘۔(المائدة:81.)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫مجموع الفتاویٰ (17/7)میں فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے یہاں جملہ شرطیہ ذکرکیا یعنی جب یہ شرط پائی جائے تومشروط بھی پایاجائے گا اور حرف شرط لَوْ ’’اگر‘‘ہے جس کا تقاضا ہے شرط کی نفی ہو تومشروط کی بھی نفی ہوجائے فرمایا کہ’’اور اگر وہ واقعی اللہ اور نبی اور جو اللہ نے اس کی طرف نازل کیا پر ایمان رکھتے ہوتے تو ان کو دوست نہ بناتے ‘‘یہ طرز اس بات کی دلیل ہے کہ ’’ایمان مذکور‘‘انہیں دوست بنانے کی نفی کرتا ہے اور اس کی ضد ہے لہٰذا کسی دل میں ایمان اور ’’انہیں دوست بنانا‘‘جمع نہیں ہوسکتے ۔

اور اس آیت سے اس بات کی دلیل کہ طاغوت کے حامی ومددگار بھی انہی کی طرح کافر میں یہ ہے کہ اگر وہ واقعی اللہ اور نبی اور قرآن پر ایمان رکھتے ہوتے تو طاغوت کو دوست نہ بناتے ،ان کامومنوں کو چھوڑ کر انہیں دوست بنانا ،ان سے ایمان کی نفی کررہاہے کیونکہ کسی مومن کے دل میں ایمان اور طاغوت سے دوستی جمع نہیں ہوسکتے ۔

٭   فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ
’’او رجن لوگوں نے کفرکیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم نے ایسا نہ کیا توزمین میں فتنہ اور بڑافساد ہوگا‘‘۔(انفال:73.)

یہ آیت بڑی واضح ہے کہ کافروں سے دوستی کرنے والے انہی میں سے ہیں انہی کی طرح برابرسرابر کافر ہیں اسی لئے فرمایا’’’وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘لہٰذا طاغوت کے حامی ومددگارجب تک ان کے دوست ہیں توکفر میں بھی انہی کی طرح ہیں کیونکہ اللہ نے کافروں کو ایک دوسرے کا دوست قرار دیا ہے اور مومنوں سے ان کی دوستی کا تعلق کاٹ ڈالاہے اور اللہ کا یہ فرمان کہ ’’اگرتم نے ایسانہ کیا توزمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا‘‘اس کی تفسیر میں فضیلۃ الشیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن بن حسن آل شیخ ﷭فرماتے ہیں :
’’فتنے سے سوائے شرک کے کچھ اور مراد نہیں لیا جاسکتا اور بڑے فساد سے مراد ہے اسلام کی گرہ کھول دینا اور اللہ نے قرآن میں جو احکامات اور نظام دیا ہے اسے توڑڈالنا‘‘۔
(نیز ’’اگر تم نے ایسا نہ کیا ‘‘سے مراد ہے کہ اگر تم نے اس کے مطابق نہ کیایعنی چونکہ کفار باہم دوست ہیں لہٰذا تم انہیں دوست نہ بناؤ اور اگر تم نے انہیں دوست بنایا توفتنہ وفساد ہوگا۔واللہ اعلم ۔مترجم)

٭   فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الھُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ وَ اَمْلٰی لَھُمْ،ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِھُوْا مَا نَزَّلَ اﷲُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَاﷲُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ
’’بے شک جو لوگ اپنی پشتوں کے بل مرتد ہوگئے جبکہ ان کے لئے ہدایت واضح ہوچکی تھی درحقیقت شیطان نے انہیں خوشنما کرکے دکھایا اور اس نے انہیں آسرے دیے اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کرتے تھے کہا کہ عنقریب بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ اللہ ان کے دلوں کے راز تک جانتا ہے‘‘۔(محمد:26-25.)

اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ مرتدین ان لوگوں سے جو اللہ کا نازل کردہ دین ناپسند کرتے تھے کہا کہ ’’بعض معاملات میں ہم عنقریب تمہاری بات مان لیں گے ‘‘توجب وہ بعض معاملات میں ان کی اطاعت کرنے کے سبب مرتد قرار پائے جبکہ انہوں نے تمام معاملات میں ان کی اطاعت نہ کی تو جو تمام معاملات میں ان کی اطاعت کرنے بلکہ ان کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کرنے اور انہیں سہارادے اور ان کی بادشاہت وریاست کو مضبوط کرے اور ان کی مکمل حمایت کرے جو ایسا ہو تو وہ بالاولیٰ کافر ومرتد ہوا۔

٭   فرمایا:
یٰآَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ بَلِ اﷲُ مَوْٰلکُمْ وَ ھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ
’’اے ایمان والو اگرتم کافروں کی اطاعت کرنے لگے تووہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل پلٹادیں گے بلکہ اللہ ہی تمہارا مددگار ہے اور وہ بہترین مددگار ہے‘‘۔(آل عمران:150-149.)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اگر مومن کفار کی اطاعت کرنے لگے تو وہ انہیں مرتد بناکر ہی چھوڑیں گے کیونکہ ان کی چاہت ہی یہ ہے کہ وہ انہی کی طرح کفر کرنے لگیں اسی لئے اللہ نے ان کی اطاعت کی اجازت نہ دی ،اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا مددگار ہے اوربہترین مددگار ہے تومعلوم ہوا کہ کافروں کی اطاعت کرنا اسلام سے مرتد ہوجانا ہے جیسا کہ فرمایا’’وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل پھیر دیں گے‘‘۔

٭   فرمایا:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَ لاَ نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَ اﷲُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ
’’کیا آپ منافقوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تمہیں جلاوطن کیاگیا توہم بھی تمہارے ساتھ نکل پڑیں گے اور تمہارے سلسلے میں ہم کسی کی بھی ہرگز اطاعت نہ کریں گے اور اگر تم سے مقابلہ کیا گیا تو ہم تمہاری مدد ضرور کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں‘‘۔(حشر:10.)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ منافقین کافروں کے بھائی ہوتے ہیں کیونکہ وہ انہیں خفیہ طور پر وعدے دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے مقابلے کی صورت میں ان کے ساتھ مقابلے میں نکلیں گے اور ان کے سوا کسی کی نہیں مانیں گے اورجنگ وجدال میں ان کی مدد بھی کریں گے ۔یہ سب خفیہ وعدوں کی صورت میں ہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے نفاق اورکفر شمار کیا تو صدقِ دل سے اعلانیہ اس کا نہ صرف اظہارکرے بلکہ اس پر جان کی بازی بھی لگادے تو وہ منافق اور کافر کیوں نہ ہو؟اہم بات یہ ہے کہ طاغوت کے دوست ،مددگار ،حامی سب ہی کافرہیں کیونکہ شیطان کے دوستوں کی راہ میں لڑرہے ہوتے ہیں ۔(العیاذ باللہ من ذلک)

٭   فرمایا:
وَ لاَ تَرْکَنُوْآ اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ
’’اور ان لوگوں کی طرف جھکاؤ مت رکھو جنہوں نے ظلم ڈھائے پس تمہیں آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست نہیں پھر تمہاری مددبھی نہ کی جائے گی ‘‘۔(ھود:113.)

اس آیت میں ظالموں کی طرف رکون (معمولی جھکاؤ)پر شدید ترین وعید بیان کی گئی ہے جبکہ یہ مداہنت (مکمل میلان ،چاپلوسی)کی ایک نوع ہے توجو ان کے کفر پران کی اتباع کرے اور ان کے کاموں سے خوش ہو اور ان کے ساتھ تعاون کرے ،ان سے محبت اور ان کی مدد کرے اللہ کی قسم وہ کفر میں اس وقت تک انہی کی مثل ہے جب تک ان کے کاموں پر راضی رہے ۔نیز اللہ کے اس فرمان ’’اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست نہیں پھر تمہاری مدد بھی نہ کی جائے گی‘‘پر غورر وفکر کریں کہ ظالموں کی طرف میلان رکھنے اور مدد مانگنے والوں تک سے اللہ نے اپنی دوستی اور مدد کا تعلق ختم کرڈالا ،توجو انہیں نہ صرف دوست بنائے بلکہ ان کی مدد بھی کرے مثلاً طاغوت کے مددگار اورحامی وہ اللہ کی دوستی اور مدد کے مستحق کیونکر ہوسکتے ہیں ۔

٭   فرمایا:
یٰآَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ،وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ اٰیٰتُ اﷲِ وَ فِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاﷲِ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
’’اے ایمان والواگرتم اہل کتاب کے ایک گروہ کی اطاعت کروگے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کافر بنادیں گے اور تم کیونکر کفر کرسکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے اور جو اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرے گا وہی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیاگیا ہے‘‘۔(آل عمران:101-100.)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اگر اہل ایمان اہل کتاب کی اطاعت کرنے لگ جائیں تو وہ انہیں مرتد بناکر رہیں گے پھریہ بتایاہے کہ مومن کیونکر کفر کرسکتے ہیں (یعنی ان کے لئے کفر کرنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے)جبکہ اللہ انہیں ایمان کی راہ دکھا چکاہے اور ان میں اللہ کے رسول ﷺبھی موجود ہیں جو ان پراللہ کی آیات پڑھتے ہیں ؟پھر فرمایا کہ ’’اور جو اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرے گا وہی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیا گیا ہے‘‘اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافروں کی اطاعت کرنے والے اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے والے نہیں ہوتے کیونکہ کسی مومن کے دل میں’’ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق اور کفار کی اطاعت‘‘جمع نہیں ہوسکتے۔

اس آیت سے ہمارے موقف پر استدلال یہ ہے کہ طاغوتی حکام اپنے یہود ونصاریٰ دوستوں کی خاص طور پر امریکہ کی اطاعت کرتے ہیں لہٰذا ان کا یہود ونصاریٰ کی اطاعت کرنا ہی اسلام سے مرتد ہوجانا ہے،توجو یہود ونصاریٰ کے ان فرمانبرداروں کا اطاعت گذار ہو وہ بھی انہی کی طرح ہوا کیونکہ یہ سب ہی کفار کی اطاعت میں شریک ہوئے ۔(واللہ الموید والموفق الصواب)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s