طاغوتی احکام ماننا ہی طاغوت کو مانتا ہے

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلیَ الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُْوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُظِلَّہُمْ ضَلَالًا بَعِیْدًا(النساء:60)
ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے و مقدمات طاغوت کے پاس لے جائیں جبکہ انہیں حکم یہ دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہت بڑی گمراہی میں مبتلا کر دے۔

آیت سے استدلال نمبر1۔ جب بندوں کی عبادت کابیان ہو اور اس کے بعد صنم یا طاغوت کاذکر ہو پھر اس سے اجتناب اور اس سے انکار کاحکم ہوتو اس حکم کاماننا بھی عبادت ہے اور ایسی عبادت کہ جو صرف ایک اللہ کے لئے کرنی ہے یہ کام غیر اللہ کے لئے کرنے والا شرک اکبر کا مرتکب شمار ہوگا۔
شیخ سلیمان بن عبداللہ آل الشیخ فرماتے ہیں اس آیت میں دلیل ہے کہ طاغوت یعنی کتاب و سنت کے علاوہ کسی حکم کوترک کرنا فرائض میں سے ہے اگر کوئی ایسے احکام کو تسلیم کرتا ہے تو وہ مؤمن بلکہ مسلمان بھی نہیں ہے ۔
2۔ جس نے طاغوت کا حکم تسلیم کیایا اپنا مطالبہ فیصلہ و مقدمہ طاغوت کے پاس لے گیا تو گویا اس نے طاغوت کاانکار نہ کیا اور جس نے طاغوت کاانکار نہیں کیا تو وہ اس پر ایمان لانے والا شمار ہوگا جیسا کہ علامہ محمد جمال الدین قاسمی ﴿
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلیَ الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُْوْا بِہٖ﴾کی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔
طاغوت کے پاس اپنا فیصلہ لیجانا طاغوت کا حکم تسلیم کرنا اس پر ایمان لا نا ہے اور طاغوت پر ایمان لانے والے کے کفر میں کوئی شک نہیں جس طرح کہ طاغوت کا انکار کرنے والا اللہ پر ایمان لانے والا شمار ہوتا ہے ۔
شیخ عبدالرحمن بن حسن آل شیخ ۔
فمن یکفر بالطاغوت……..
اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ طاغوت کاحکم ماننا یا اس کے پاس مقدمات لیجانا اس پر ایمان لانا ہے۔(فتح المجید ص345)۔
یُرِیْدُ الشَّیْطَانَ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلَالاً بَعِیْدًا
والی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ شرک اکبر بہت بڑی گمراہی اور ہدایت سے محرومی ہے اس لئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد یہ بھی ہے۔
وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیْدًا (النساء:116)۔
جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیاوہ بڑی گمراہی میں جاپڑا۔
نیز فرمایا :
یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَا یَنْفَعُہٗ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ
اللہ کے علاوہ ان کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔(الحج:12)۔

جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارا تو وہ گمراہ ہے اس لئے کہ غیر اللہ کو پکارنا شرک اکبر ہے ۔جس نے اللہ کی شریعت کے بجائے کسی اور قانون کو فیصلہ کرنے کامجاز سمجھا وہ بھی بڑی گمراہی میں ہے اس لئے کہ غیر اللہ کے حکم کو تسلیم کرنا بھی شرک اکبر ہے ۔
دوسری دلیل : اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا ِﷲِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہٗ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ
حکم صرف اللہ کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کو پکارو یہی صحیح دین ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف:40)۔

آیت سے استدلال : اللہ نے پہلے ایک بات ذکر کر دی کہ
﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ ِﷲِ﴾حکم صرف اللہ کا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ احکام اور قوانین دینا صرف اللہ کاحق ہے یہ ربوبیت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ قانون سازی اور حکم صادر کرنا اللہ کے ان افعال میں سے جن کا تعلق ربوبیت سے ہے لہٰذاربوبیت پر ایمان لانا فرض ہے اسی طرح توحید الوہیت پر بھی ایمان لازم ہے اللہ کے افعال میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رزق دیتا ہے نفع نقصان کا اختیار رکھتا ہے اب عبادت یہ ہے کہ رزق فریاد دعااسی ایک اللہ سے کی جائے اس لئے کہ وہی نفع و نقصان کامالک ہے جب بندہ اس بات پر یقین کر لیتا ہے کہ وہی اللہ رازق اور فریاد قبول کرنے والا ہے اور پھر یہ بندہ پیروں مزاروں سے دعائیں اور فریادیں کرے تو اس کو اللہ کی ربوبیت کا اقرار اور اللہ کی صفات کا اقرار کوئی فائدہ نہیں دے گا اس لئے کہ اللہ کی ربوبیت کو اس نے تسلیم کر لیا مگر الوہیت میں شرک کیاکہ اس نے عبادت کی ایک قسم دعا اور فریاد غیر اللہ کے لئے کر لی ۔ اس طرح اگر کوئی شخص تسلیم کرتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی حکم کرنے کا اختیار رکھتا ہے وہی احکام صادر کرنے کامجاز ہے تو اس بندہ پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کرے اور اگر مقدمات اور فیصلے غیر اللہ (یعنی کتاب و سنت کے علاوہ کسی اور قانون)کی طرف لے گیا تو یہ شرک فی الالوہیت کا مرتکب ہوا لہٰذااب اس کو اللہ کے حاکم ہونے کا اقرار و یقین کوئی فائدہ نہیں دے گا اسلئے کہ کچھ افعال اللہ کے ہیں کچھ بندے کے ہیں اللہ کاکام حکم صادر کرنا اور قانون بنانا ہے او ربندے کا کام ہے ان احکام کی طرف فیصلے لیجانا۔ جس طرح اللہ کا کام ہے رزق دینا اور بندے کا کام ہے دعا کے ذریعے اس سے رزق طلب کرنا۔ اللہ رازق ہے لہٰذا اس سے دعا کرنا عبادت ہے اور جب یہ عبادت غیر اللہ کے لئے کی جائے تو یہ شرک اکبر ہوگا اور اللہ حاکم ہے لہٰذااس کے حکم کے مطابق فیصلے کرنا کرانا عبادت ہے جب یہ عبادت غیر اللہ کے لئے کی جائے تو شرک اکبر ہوگا اس میں کوئی مسلمان فرق نہیں کرتا۔
اللہ کے فرمان
﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ ِﷲِ﴾میں یہی بات واضح کی گئی ہے اس آیت میں اللہ تعالی نے ربوبیت کا ذکر کیا اور اس کے فورا بعد الوہیت کا ۔فرمایا :
وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَا لَا یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ(النحل:73)
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اسکی عبادت کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں ر کھتا اور نہ ان کے پاس طاقت ہے ۔

نیز فرمایا :
وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعَہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ھٰؤُلَاءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اﷲِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اﷲَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (یونس:18)
اللہ کو چھوڑ کر اسکی عبادت کرتے ہیں جو انکو نقصان دے سکتا ہے نہ فائدہ )اے محمد ﷺ)ان سے کہہ دو کیاتم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو)گویا وہ (نہیں جانتا آسمانوں اور نہ زمینوں میں وہ پاک ہے ان کے شرک سے ۔

اللہ کے افعال میں سے یہ ہے کہ وہ رزق دیتا ہے لہٰذاعبادت یہ ہے کہ اس سے طلب رزق کی دعا کی جائے۔
اللہ کے افعال میں سے یہ بھی ہے کہ وہ حکم کرتا ہے اور عبادت یہ ہے کہ حکم اسی کا مانا جائے صرف اس کی شریعت تسلیم کی جائے مگر موجودہ دور میں یہ بات لوگوں کو سمجھانا بہت مشکل کام ہے جیسا کہ شیخ عبدالرحمن السعدی آیت الم تر الی الذین یزعمون……..کے ضمن میں فرماتے ہیں جس نے غیر اللہ کے حکم کو تسلیم کیا اور اپنا مقدمہ و فیصلہ اللہ کے بغیر کسی اور قانون کے پاس لے گیا تو اس شخص نے اسی کو رب بنایا اور طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانے والا شمار ہوگا۔
تیسری دلیل : نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ترجمہ:اے اللہ تیری ہی تعریفیں ہیں توزمین آسمانوں کا اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے تیری تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کو تھامنے والا ہے تیری تعریف ہے توحق ہے تیرا وعدہ حق ہے تیری ملاقات حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے نبی سارے حق ہیں قیامت حق ہے محمد ﷺ حق ہے اے اللہ میں تیرے سامنے سر جھکاتا ہوں تجھ پر ایمان لاتا ہوں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تیری طرف رجوع کرتا ہوں تیرے سہارے پر جنگ لڑتا ہوں تیری طرف اپنا فیصلہ لاتا ہوں تو بخش دے میرے اگلے پچھلے چھپے ظاہر سارے گناہ تو ہی میرا معبود ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔(رواہ بخاری و مسلم)۔
اس دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے ابن قیم جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی ﷺنے اللہ کی حمد و ثناٗ اور عبودیت کے توسل سے دعا اور مغفرت طلب کی ہے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس دعا میں تین امور کا تذکرہ کیاہے اللہ کی حمدو ثناٗ کا وسیلہ اللہ کی عبودیت کا اقرار اور عبودیت توکل انا بۃ اور تحاکم کو قرار دیا ہے۔ پھر مغفرت طلب کی ہے یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ توکل اور انابۃ کی طرح تحاکم یعنی اللہ کے احکام کو نافذ کرنا، ماننا اس کے مطابق حکومت اور فیصلے کرنا بھی عبادت ہے۔(المدارج 1/32)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s