سنت ثابتہ سے طاغوت کے مددگاروں اور حمایتیوں کے کفر کے دلائل

دلیل نمبر1    حسن بن محمد کہتے ہیں مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ :
بعثنی رسول اﷲﷺانا والزبیر والمقداد بن الاسود قال انطلقوا حتی تاتوا روضة خاخ فان بھا ظعینة ومعھا کتاب فخذوہ منھا۔فانطلقنا تعادی بنا الخیل حتی انتھینا الی الروضة فاذا نحن بالظعینة فقلنا:اخرجی الکتاب ،فقالت:مامعی من کتاب من کتاب فقلنا لتخرجن الکتاب او لتلقینا الثیاب فاخرجتہ من عقاصھا ، فاتینا بہ رسول اﷲﷺفاذا فیہ من حاطب بن ابی بلتعة الی اناس من المشرکین من اھل مکة یخبرھم ببعض امر رسول اﷲﷺفقال رسول اﷲﷺیا حاطب ما ھذا؟ قال یا رسول اﷲ لا تعجل علی انی کنت امرا ملصقا فی قریش ولم اکن من انفسھا وکان من معک من المھاجرین لھم قرابات بمکة یحمون بھا اھلیھم واموالھم فاحببت فاذا فاتنی ذلک من النسب فیھم ان اتخذ عندھم یدا یحمون بھا قرابتی وما فعلت کفرا ولا ارتداد ولا رضا بالکفر بعد الاسلام فقال رسول اﷲﷺلقد صدقکم قال عمر یا رسول اﷲ دعنی اضرب عنق ھذا المنافق قال انہ شھد بدرا وما یدریک لعل اﷲ ان یکون قد اطلع علی اھل بدر فقال اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم۔
’’رسول اللہ ﷺنے مجھے اور زبیر اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنہم کو بھیجا اور فرمایاجاؤ اور جب آڑو یا یُلم کے باغ تک پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بڑھیا ہوگی اور اس کے پاس ایک خط ہوگا وہ اس سے لے لو ،ہم چلے گھوڑے ہمیں لے کر دوڑتے رہے حتی کہ ہم باغ تک پہنچ گئے توہمارے سامنے ایک بڑھیا تھی ہم نے کہا خط نکال اس نے کہا میرے پاس خط نہیں ہے ہم نے کہا توخط نکال دے وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے ،لہٰذا اس نے وہ خط اپنے موباف (بالوں کو باندھنے کا بند)سے نکال دیا،ہم وہ لے کر رسول اﷲﷺکے پاس آئے تو اس میں لکھا تھا ’’حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ  کی طرف سے مکہ کے مشرکین کی طرف‘‘وہ انہیں رسول اﷲﷺکی بعض باتوں کی خبر دے رہاتھا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اے حاطب یہ کیا ہے؟اس نے کہا یا رسول اللہ میرے خلاف فیصلے میں جلد بازی مت کیجئے گا واقعہ یہ ہے کہ میں قریش کے ساتھ آملا تھا جبکہ میں ان میں سے نہ تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی مکہ میں رشتہ داریاں ہیں جن کی بناء پر وہ (اہل مکہ)ان کے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں لہٰذا میں نے چاہا کہ میرا ان سے نسبی تعلق نہیں ہے چنانچہ میں ان پر کوئی احسان کردوں جس کی بناء پر وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کرتے رہیں اور میں نے ایسا کفر یا ارتداد کی بناء پر نہیں کیا اورنہ ہی اسلام لانے کے بعد کفر سے راضی ہوکر رسول اﷲﷺنے فرمایا:اس نے تم سے سچ کہا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا یہ بدر میں شامل تھا اور تجھے کیا معلوم ؟شاید اللہ نے اہل بدر پر جھانکا اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
(صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الجاسوس حدیث نمبر 2845،باب اذا اضطر الرجل الی النظر فی شعور اھل الذمة والمومنات اذا عصین اﷲ وتجریدھن حدیث نمبر 2915،کتاب المغازی باب فضل من شھد بدرا حدیث نمبر 3764،باب غزوة الفتح وما بعث بہ حاطب بن ابی بلتعة الی اھل مکة یخبرھم بغزوة النبی ﷺ حدیث نمبر 4025،کتاب التفسیر باب لایتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء حدیث نمبر4608،کتاب الاستئذان باب من نظر فی کتاب من یحذر علی المسلمین لیستبین امرہ حدیث نمبر 5904،کتاب استتابة المرتدین والمعاندین باب ماجاء فی المتأولین حدیث نمبر 6546نیز صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل اھل بدر رضی اﷲ عنھم وقصة حاطب بن ابی بلتعة حدیث نمبر 2494۔)

میں کہتا ہوں:کہ حاطب بن ابی بلتعۃ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ کفار کی مدد کرنا ،ان کے ساتھ تعاون کرنا اور مسلمانوں کے خلاف انہیں فتح مند کرنا کفر ہے اور دین سے مرتد ہوجانا ہے اور ا س کی چند وجوہات ہیں :

پہلی وجہ:حاطب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ ’’اورمیں نے ایسا کفر یا ارتداد کی بناء پر نہیں کیا اورنہ ہی اسلام لانے کے بعد کفر سے راضی ہوکر‘‘صحیح بخاری باب فضل من شھد بدراً میں یہ الفاظ ہیں (واﷲ ما بی ان لا اکون مومنا باﷲ ورسولہ )’’اللہ کی قسم مجھے کیا پڑی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان نہ رکھوں‘‘بخاری ہی میں باب غزوة الفتح میں یہ الفاظ ہیں(ولم افعلہ ارتداد عن دیني ولا رضا بالکفر بعد الاسلام)’’اور میں نے ایسا اپنے دین سے مرتد ہونے یا اسلام لانے کے بعد کفر کے ساتھ راضی ہونے کی بناء پر نہیں کیا‘‘اور بخاری ہی میں باب لایتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء میں یہ الفاظ ہیں (وما فعلت ذلک کفرا ولا ارتداد عن دینی)’’اور میں نے ایسا اپنے دین سے کفر یا ارتداد کرتے ہوئے نہیں کیا‘‘اور بخاری ہی میں باب من نظر فی کتاب یحذر علی المسلمین لیستبین امرہ میں یہ الفاظ ہیں (ما بی ان لا اکون مومنا باﷲ ورسولہ وما غیرت ولا بدلت)’’مجھے کیا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا نہ بنوں اور میں نہ بدلا ہوں نہ ہی میں نے کچھ بدلا ہے‘‘اور بخاری ہی میں باب ماجاء فی المتأولین میں یہ الفاظ ہیں (یا رسول اﷲ مالی ان لا اکون مومنا باﷲ ورسولہ)’’یارسول اﷲمجھے کیا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا نہ رہوں‘‘۔

ان تمام الفاظ پر غور وفکر کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہ جن میں حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں کفارکی مدد کرنا ،ان کے لئے جاسوسی کرنا ،اور ان کے سامنے مسلمانوں کے راز فاش کردینا اور ان کے ساتھ تعاون کرنا اور مسلمانوں کے خلاف انہیں فتح مند کرنا ان تمام امورکو دین اسلام سے مرتد ہوجانا اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفرکرنا شمار کرتے تھے ۔

دوسری وجہ:عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ ’’یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن ماردوں‘‘نیز صحیح بخاری ہی کے باب اذا اضطر الرجل الی النظر فی شعور اھل الذمة میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس طرح ہیں (دعنی اضرب عنقہ فانہ قد نافق)’مجھے چھوڑ دیجئے میں اس کی گردن ماردو کیونکہ یہ منافق ہوچکا ہے‘‘نیز صحیح بخاری کے باب فضل من شھد بدراً میں الفاظ اس طرح ہیں (یا رسول اﷲ قد خان اﷲ ورسولہ والمومنین فدعنی فلاضرب عنقہ)’’یا رسول اللہ اس نے اللہ اور اس کے رسول اورمومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے سو مجھے چھوڑدیں تاکہ میں اس کی گردن ماردوں‘‘نیز صحیح بخاری باب من نظر فی کتاب من یحذر علی المسلمین لیستبین امرہ میں یہ الفاظ ہیں (انہ قد خان اﷲ ورسولہ والمومنین فدعنی فاضرب عنقہ)’’اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے مجھے اجازت دیجئے پس میں اس کی گردن ماردوگا‘‘نیز صحیح بخاری باب ماجاء فی المتأولین میں یہ الفاظ ہیں(یا رسول اﷲ قد خان اﷲ ورسولہ والمومنین دعنی فاضرب عنقہ ، ثم قال فعاد عمر فقال:یا رسول اﷲ قد خان اﷲ ورسولہ والمومنین دعنی فلاضرب عنقہ)’’یا رسول اللہ اس نے اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی ہے مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں اس کی گردن ماردوں راوی کہتا ہے عمر فاروقرضی اللہ عنہ نے یہ بات دومرتبہ کہی ‘‘ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار کی مسلمانوں کے خلاف مدد کرنا ۔ان کے لئے جاسوسی کرنا ۔اور ان کے ساتھ تعاون کرنا ،یہ تما م امور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نزدیک کفر اور دین اسلام سے ارتداد اور اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت شمار ہوتے تھے جیسا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول سے مکمل طور پر واضح ہے۔

تیسری وجہ:یہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺنے عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تردید نہیں کی البتہ ان سے حاطب رضی اللہ عنہ کے عذر کی سچائی کو بیان کیا جیسا کہ فرمایاکہ ’’اس نے تم سے سچ کہاہے‘‘اور ایک حدیث کے الفاظ ہیں (صدق لا تقولوا لہ الا خیرا)’’اس نے سچ کہا تم اس کے لئے سوائے خیر کے اور کچھ نہ کہو‘‘ایک حدیث میں ہے کہ (انہ قدم صدقکم)’’اس نے تم سے سچ ہی کہا ہے‘‘ایک حدیث کے الفاظ ہیں(فصدقہ النبیﷺ)’’نبی ﷺنے اسے سچا قرار دیا‘‘۔

چوتھی وجہ:یہ ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا فعل مذکور فی الحقیقت توکفر ہی ہے لیکن حاطب رضی اللہ عنہ نے کفر نہیں کیا کیونکہ اس کی نیت کفرکرنے کی نہ تھی جیسا کہ ان کے قول ’’اور میں نے ایسا اپنے دین سے کفر یا ارتداد کرتے ہوئے نہیں کیا‘‘سے سمجھ میں آتا ہے اور پھر انہوں نے ایساکرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ قریش پر ایک احسان کرکے اس کے ذریعے مکہ میں موجود اپنے رشتہ داروں کی حفاظت چاہتے تھے لیکن اس کے باوجود حاطب رضی اللہ عنہ کے لئے یہ وجہ قابل قبول عذرنہ بن سکی اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور کے لئے عذر بن سکتی ہے البتہ حاطب رضی اللہ عنہ چونکہ متأول (تاویل کرنے والا)تھے اس لئے ان سے کفر کی نفی ہوگئی ۔یہی وجہ کہ حافظ ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری( 634/8)میں فرماتے ہیں :’’حاطب رضی اللہ عنہ نے جس عذر کو ذکرکیا توانہوں نے ایسا تاویل کی بناءپر کیا کہ ایسا کرنے سے کچھ نقصان نہیں ہے‘‘۔

پانچویں وجہ:ابن حجر فتح الباری(634/8)میں فرماتے ہیں :’’طبری نے یہ قصہ حارث عن علی رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا(أ لیس قد شھد بدرا قال ھل ولکنہ قد نکث وظاھر اعدائک علیک)’’کیا یہ بدر میں حاضرنہ تھا ،عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں لیکن اس نے عہد شکنی کی اور آپ کے خلاف آپ کے دشمن کی مدد کی ‘‘ان الفاظ سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی مددکرنا ،ان کے ساتھ تعاون کرنا ،عہد شکنی اور ارتداد اور کفر صریح ہے۔

چھٹی وجہ:حاطب رضی اللہ عنہ نے ہرموقع پر اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے اللہ کے رسول ﷺکی مددکی اور آپ کے ساتھ بدر ،حدیبیہ وغیرہ تمام غزوات میں موجود رہے اس کے باوجود عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کہا کہ :’’اس نے اللہ اور اس کے رسول اورمومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے‘‘بلکہ ان کے اس فعل کو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد اور ان کے لئے جاسوسی قرار دیا جبکہ حاطبرضی اللہ عنہ نے ایسا اس گمان کی بناء پر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بہر صورت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی مددکرے گا اور اگروہ مشرکین کو نبی کی ان کے خلاف جنگ کی تیاری کی خبر کربھی دیں تو اس سے اللہ کوکچھ نقصان نہ پہنچ سکے گانہ ہی اس کے رسول کا کچھ بگڑے گا جیسا کہ ابن مردویہ نے یہ قصہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نقل کیااور پھر علی رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بیان کیا اور اس میں اس طرح ہے کہ نبی ﷺنے حاطب رضی اللہ عنہ سے پوچھا (یاحاطب ما دعاک الی ما صنعت فقال یا رسول اﷲ کان اھلی فیھم فکتبت کتابا لایضر اﷲ ولا رسولہ)’’اے حاطب تونے جو کیا اس پر تجھے کس نے آمادہ کیا انہوں نے کہا یارسول اﷲ میرے گھر والے ان (مشرکین مکہ)کے درمیان رہتے ہیں لہٰذا میں نے خط لکھا جو اللہ اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ‘‘نیز ابن شاہین اور بارودی اور طبرانی اور سمویہ نے زہری عن عروۃ عن عبدالرحمن بن حاطب (ان کے والد)اہل یمن سے ہیں یہ زبیر کے حلیف تھے اور رسول اﷲﷺکے صحابہ میں سے تھے اور بدر میں حاضر تھے جبکہ ان کے بیٹے اور بھائی مکہ میں تھے توحاطب رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے قریش کے سرداروں کی طرف ایک خط لکھا جس میں و ہ ان کے لئے خیر خواہی کررہے تھے …………پھر مکمل حدیث ذکرکرتے ہیں جس کے آخر میں ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا(واﷲ ما ارتبت فی اﷲ منذ اسلمت ولکننی کنت امرا غریبا ولی مکة بنون واخوة…………الحدیث)’اللہ کی قسم جب سے مسلمان ہوا ہوں کبھی اللہ کے متعلق شک نہ کیا لیکن میں اجنبی شخص ہوں اور مکہ میں میری اولاد اور بھائی ہیں …………الحدیث‘‘اس روایت کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ (فانزل اﷲ تعالیٰ یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ)’’پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کردیں اے ایمان والو!میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ…………الآیات‘‘۔نیز ابن مردویہ نے یہ حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اس میں بھی آیات کے نزول کا تذکرہ ہے اور ابن شاہین نے یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قوی سند سے روایت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو الاصابة فی تمییز الصحابة لابن حجر العسقلانی 300/1طبع دار صادر ۔ حاطب بن ابی بلتعۃ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی۔)

تمام روایات کے مطابق خلاصہ یہ ہو ا کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی طرف وہ خط لکھ کر ان پر احسان کرنا چاہا تاکہ وہ ان کے گھر والوں کو کچھ نقصان نہ پہنچائیں نیز انہوں نے ایسا کفر یا ارتداد یا نفاق کی بناء پر نہیں کیا بلکہ وہ سچے مومن تھے اور اس خط میں بھی انہوں نے اللہ کے رسول کو اللہ کا رسول ہی لکھا اور مشرکوں کو مشرک ہی لکھا ان تمام امور سے ان کی نیت اور ان کا مقصد واضح ہے اور نبی نے بھی ان کی نیت کی بناء پر انہیں سچا قرار دیا اور انہوں نے اپنے اس فعل کی جو توجیہ اور تاویل کی کہ یہ خط اللہ اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہرحال اپنے رسول اور مومنوں کی مددکرے گاہی اس توجیہ کو بھی قبول کیا یہ تمام باتیں حقیقت کے اعتبار سے ہیں لیکن ظاہر کے اعتبار سے انہوں نےتو اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی تھی اور مشرکین کی خیرخواہی او رمسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کی تھی اور یہ تمام کام صحابہ رضی اللہ عنہم کفر ونفاق اور ارتداد شمار کرتے تھے ،اسی لئے عمر رضی اللہ عنہ نے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے ان کے قتل کی اجازت چاہی لیکن اللہ کے نبی نے حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے اجازت نہ دی بلکہ ظاہر کے اعتبار سے بھی ان کے بدری ہونے کا تذکرہ کردیا اور ان کے متعلق سخت گفتگوکرنے سے سے منع فرمادیا لیکن اس کے باوجو د اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ نازل کردی (حقیقت کے اعتبار سے حاطب کامشرکین کی طرف جھکاؤ نہ تھا۔واللہ اعلم ۔ازمترجم)لیکن جو شخص واقعتا کفار کو اپنا دوست بنالے اورمومنوں کا دشمن بن جائے اور طاغوت کی مدد کرنے لگے اور مجاہدین کے خلاف جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دے اور طاغوت اسے مسلمانوں اور تحریکوں پر امریکی غلبے اور کنٹرول کے لئے استعمال کرے تو وہ کافر اور مرتد کیوں نہ ہو وہ تو بالاولیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر کافر اورمرتد ہونے کاحکم لگایاجائے۔

ساتویں وجہ:حاطب رضی اللہ عنہ نے جو خط مشرکین کی طرف لکھا اس کے الفاظ میں مشرکین کی کسی بھی طرح مدد نہ تھی اس خط کے الفاظ یہ تھے :
’’اما بعد یا معاشر قریش فان رسول اﷲ ﷺجاءکم بجیش کاللیل یسیر کالسیل فواﷲ لو جاء کم وحدہ لنصرہ اﷲ وانجز لہ وعدہ فانظروا لانفسکم والسلام۔‘‘
’’حمد وصلاۃ کے بعد اے قریش کی جماعت !اللہ کے رسول ﷺتمہارے پاس رات کی مانند ایک لشکر لے کر آرہے ہیں جو سیلاب کی رفتار سے رواں دواں ہے اللہ کی قسم اگر وہ اکیلے ہی تمہارے پاس آجائیں تو اﷲ ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان سے اپنا وعدہ ضرور نبھائے گا سو تم اپنی خیر مناؤ۔والسلام ‘‘۔

امام سہیلی ﷫نے اسی طرح نقل کیا ہے ملاحظہ ہو فتح الباری (521/7)اس خط کے الفاظ سے معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے مشرکین کی مسلمانوں کے خلاف کچھ مدد کی ہو لہٰذا یہ خط زیادہ سے زیادہ ایک نافرمانی شمار ہوگااور اس نافرمانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کی بناءپر معاف فرمادیا۔

آٹھویں وجہ:حاطب رضی اللہ عنہ نے یہ نہ تو نفاق کی وجہ سے کیا نہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی جاسوسی میں بلکہ یہ حیلہ ان پر احسان کرنے کے لئے اختیارکیا اور یہ فعل اپنی ذات کے اعتبار سے کفر شمار ہوگالیکن حاطب نے اسے کفرنہیں سمجھاتھا۔ابن اسحاق﷫ کی روایت میں ہے انہوں نے کہاکہ (وکان لی بین اظھرھم ولد واھل فصانعتھم علیہ)’’اورمیری اولاد اور گھر والے ان کے (مشرکین مکہ)کے درمیان رہ رہے تھے لہٰذا میں اس بناء پر ان کے ساتھ جعلسازی/بناوٹ/حیلہ کیا‘‘۔نیز واقدی نے مرسل سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حاطب نے سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ اور عکرمہ کی طرف لکھا کہ :’’رسول اﷲﷺنے لوگوں میں اعلان جنگ کردیا ہے اور میرے گمان میں وہ تمہارے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں رکھتے لہٰذا میں نے مناسب جانا کہ تم پر میرا ایک احسان ہوجائے‘‘(فتح الباری:521/7)نبی﷪نے ان کے پیش کردہ عذر کو اس لئے قبول کیاتھا کہ وہ اس میں سچے تھے ۔

دلیل نمبر2   جریر بن عبداللہ البجلی ر ضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں:
(اتیت النبی ﷺوھو یبایع فقلت یا رسول اﷲ ابسط یدک ابایعک واشترط علی فانت اعلم قال ابایعک علی ان تعبداﷲ وتقیم الصلاة وتودي الزکاة ونناصح المسلمین وتفارق المشرکین)
’’میں نبی ﷺکے پا س آیا آپ بیعت لے رہے تھے میں نے کہا یا رسول اﷲ!ہاتھ بڑھائیے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں اور مجھ پر کوئی شرط رکھ دیں ،آپ زیادہ جانتے ہیں ۔فرمایا :میں تجھ سے بیعت لیتا ہوں کہ تو اللہ کی عبادت کرے گا اور نماز قائم کرے گا اور زکاۃ ادا کرے گا اور مسلمانوں کی خیر خواہی کرے گا اور مشرکین سے الگ رہے گا ‘‘۔
(مسند احمد : 365/4،سنن نسائی کبری:148/7،سنن البھیقی:13/9 علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے السلسلة الصحیحة:230/2حدیث نمبر636۔)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مشرکین سے الگ رہنا فرض ہے اور نبی ﷺلوگوں سے بیعت لیتے وقت یہ شرط رکھتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مشرکین کسی طرح بھی مدد کرنا ،اس شرط کو توڑ دیتاہے اور اس کا اعتبار ختم کردیتا ہے ۔

دلیل نمبر3   بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا:
(قلت یا نبی اﷲ ما اتیتک حتی حلفت اکثر من عددھن لاصابع یدیہ الا آتیتک ولا اتی دینک وانی کنت امرا لا اعقل شیئا الا ما علمنی اﷲ ورسولہ وانی اسالک بوجہ اﷲ عزوجل بما بعثک ربک الینا قال بالاسلام قال قلت وما آیات الاسلام قال ان تقول اسلمت وجھی الی اﷲ عزوجل وتخلیت وتقیم الصلاة وتودی الزکاة کل مسلم علی مسلم محرم اخوان نصیران لا یقبل اﷲ عزوجل من مشرک بعد ما اسلم عملا او یفارق المشرکین الی المسلمین)
’’میں نے کہا یا نبی اللہ !میں آپ کے پاس آگیا ہوں اور اس سے پہلے میں اپنی انگلیوں کی تعداد کے برابر قسم اٹھاچکا ہوں کہ نہ تو آپ کے پاس آؤں گا نہ آپ کے دین کے پاس اور میں ایسا شخص تھا جسے کچھ معلوم نہ تھا مگر جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھادیا ہے اور میں آپ سے اللہ عزوجل کے چہرے کے واسطے سے پوچھتاہوں کہ آپ کے رب نے آپ کو ہماری طرف کس شئے کے ساتھ بھیجا ہے؟آپ نے فرمایا:اسلام ۔کے ساتھ کہتے ہیں میں نے کہا:اور اسلام کی نشانیاں کیاہیں؟آپ نے فرمایا:یہ کہ توکہے میں نے اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا فرمانبردار کرلیا اور تو سب سے الگ رہ (یعنی شرک اورشرکاء سے )اور تونماز پڑھتا رہ اور توزکاۃ دیتا رہ ہرمسلمان دوسرے مسلمان پر حرام کردیاگیا ہے دونوں بھائی ایک دوسرے کے مددگار ہیں اللہ عزوجل اسلام لانے کے بعد کسی شرک کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا یا وہ مشرکین سے جدا ہوکر مسلمانوں کی طرف آجائے‘‘۔
(مسند احمدد:4/5،سنن النسائی:358/1،مستدرک حاکم:600/4اسے امام حاکم نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور علامہ البانی نے اسے سلسلة الصحیحةمیں حسن قراردیاہے99/1حدیث نمبر369۔)

ہمارے موقف (یعنی طاغوت کے حامی اورمددگار بھی اسی کی طرح کافر اور مرتدہیں )کی دلیل حدیث مذکور کے یہ الفاظ ہیں ’’اللہ عزوجل اسلام لانے کے بعد شرک کرنے والے کے کسی عمل کو قبول نہیں کرتا یا وہ مشرکین سے جدا ہوکر مسلمانوں کی طرف آجائے‘‘ان سے معلوم ہوا کہ اسلام لانے کے بعد بھی اگر کوئی مشرکین سے الگ نہ ہو تو اللہ عزوجل اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا اور اس کے ایمان کے صحیح ہونے کی شرط ہی یہ ہے کہ وہ مشرکین سے الگ ہوکر مسلمانوں سے آملے جبکہ کفار کی مدد کرنے یا قول یا فعل کے ذریعے ان کے ساتھ تعاون کرنے سے یہ اصول پاش پاش ہوجاتا ہے۔

دلیل نمبر4   جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
(ان رسول اﷲﷺ بعث سریة الی خثعم فاعتصم ناس بالسجود فاسرع فیھم القتل فبلغ النبیﷺفامر لھم نصف العقل وقال انی بری من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین قالوا یا رسول اﷲ ولم؟ قال لا ترایا ناراھما)
’’اللہ کے رسول ﷺنے قبیلہ خثعم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تولوگ سجدوں کے ذریعے پناہ مانگنے لگے لہٰذا ان میں بڑی تیزی سے قتل کیا گیا ،پھر یہ بات نبی ﷺکو معلوم ہوئی توآپ نے ان کے لئے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہ رہاہو ،لوگوں نے کہا یا رسول اﷲ!کس لئے ؟فرمایا:وہ دونوں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں‘‘۔
(ترمذی کتاب السیر باب ماجاءفی کراھیة المقام بین اظھرالمشرکین:133-132/4حدیث نمبر1604،ابوداؤد کتاب الجھاد باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود:46/3حدیث نمبر 2645اس کی سند صحیح ہے۔)

اس حدیث کے مطابق مشرکین کے درمیان رہنے والے مسلمان تک سے رسول ﷺنے بری الذمہ ہونے کا اعلان فرمادیا ،توجومسلمانوں کے خلاف ان کا معاون ومددگار ہواس سے کیونکر بری الذمہ نہ ہوں گے ؟اس کا حکم تو لامحالہ اس سے بھی زیادہ شدیدہوگا۔
دلیل نمبر5   سمرۃ بن جندب سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
(لاتساکنوا للمشرکین ولا تجامعوھم فمن ساکنھم او جامعھم فھو مثلھم)
’’مشرکین کے ساتھ مت رہو نہ ان کے ساتھ اکھٹے ہو جو ان کے ساتھ رہا یا اکھٹا ہوا وہ انہی کی طرح ہے‘‘۔
( ترمذی کتاب السیر باب ما جاء فی کراھیة المقام بین اظھر المشرکین:133/4حدیث نمبر 1605۔)

اس حدیث کے مطابق ان کے ساتھ محض رہنے اور اکٹھا ہونے والا ان کی طرح ہے توجومسلمانوں کے خلاف ان کامعاون ومددگار ہو اور جاسوس ہو وہ بالاولیٰ ان کی طرح کافر ہوا۔

(مترجم کہتا ہے کہ :جو حکام یہود ونصاریٰ وہنود ومجوس کفار سے دوستیاں کرتے ہیں اور مسلمان مجاہدین سے نفرت کرتے ہیں اورانہیں اپنا اور اپنے وطن کا دشمن قرار دیتے ہیں اور ان کے جہاد کوفساد سے تعبیر کرتے ہیں اور اللہ کے نازل کردہ دین اور قوانین کے مطابق فیصلہ جات نہیں کرتے بلکہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کو محترم جانتے ہیں اور انہی کے مطابق حکومت اور فیصلہ جات کرتے ہیں اورانہیں ہی نافذ بھی کرتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دیتے ہیں اور اگر مسلم عوام ان سے نفاذ شریعت کا مطالبہ کرے تو اس مطالبے کو صرف اپنے کافر دوستوں کو خوش رکھنے کے لئے مسترد کردیتے ہیں اور اگر کوئی اس مطالبے کو منوانے کے لئے تحریک چلائے تو اسے بغاوت قرار دیکر کچل ڈالتے ہیں اور اگر کبھی کوئی قانون شریعت کے مطابق نافذ بھی کرتے ہیں تو وہ بھی اس لئے نہیں کرتے کہ کتاب اللہ کا حکم یہی ہے بلکہ وہ بھی اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا دستور اور قانون اس کی اجازت دے رہا ہوتا ہے گویا وہ شرعی حکم کو تابع اور ماتحت کی حیثیت سے لیتے ہیں جبکہ فوقیت پھر بھی ان کے دستور اور قانون کو ہی حاصل ہوتی ہے ،تو ایسے حکام کے ’’طاغوت‘‘ہونے میں کوئی بھی مسلمان شک نہیں کرسکتا اور وہ تمام لوگ جو اس ظلم اور کتاب اللہ اور سنت رسول سے بغاوت پر ان کا کسی بھی طرح معاون یا مددگار ہو مثلاً اراکین پارلیمنٹ ،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ،وزیر مشیر،ججز،وکلاء فورسز،قانون نافذ کرنے والے ادارے ،اس قانون کی حفاظت کرنے والے ادارے وغیرہ وغیرہ یہ تمام طاغوت کے حامی اور معاون ہونے کی بناء پر اسی حکم میں داخل ہوگئے جو خودطاغوت کا حکم ہے کیونکہ المرء مع من احب ’’ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوتا ہے‘‘اورطاغوت کا حکم یہ ہے کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے جیسا کہ سورۃ بقرۃ کی آیت نمبر 256سے واضح ہے نیز ایسے حکام کو معزول کرنا واجب ہے اگر اس کی استطاعت ہو اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے حکام کے خلاف خروج واجب ہے اگر اس کی استطاعت ہو اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ان کے خلاف خروج کی تیاری یعنی اعداد اس وقت تک واجب ہے جب تک خروج یعنی بغاوت کی استطاعت وصلاحیت حاصل نہ ہوجائے پھرخروج واجب ہے نیز استطاعت یا عدم استطاعت ہر دوصورتوں میں ان حکام سے براء ت اور عداوت کا اظہارکرنا اور ان سے نفر ت کرنا ہر حال میں واجب ہے اور یہ ہر ایک پر بلاتمیز واجب ہے۔’’ولیس وراء ذلک حبة خردل من الایمان‘‘اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔نیز مؤلف ﷫نے سنت سے صرف پانچ دلائل پر اکتفاء کیا اگرچہ ماننے والے کے ایک دلیل بلکہ ہلکا سا اشارہ بھی کافی ہوتا ہے پھر بھی ان پانچ دلائل کے علاوہ اور بھی بہت سے احادیث ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کے طاغوت کے ساتھ ساتھ اس کا حامی اور معاون بھی کافر ومرتد ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے اور وہ ان سے بری ہیں مثلاً سنن نسائی کتاب البیعة باب من لم یعن امیرا علی الظلم میں کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا:سنوکیا تم نے سنا ہے کہ میرے بعد حاکم آئیں گے جو ان کے پاس آیا پھر ان کے جھوٹ کو سچ مانا اور ان کے ظلم پر ان کے ساتھ تعاون کیا وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں اور وہ میرے پاس حوض کو ثر پر نہ آسکے گا اور جوان کے پاس نہ آیا نہ ہی ان کے جھوٹ کو سچ جانا اور نہ ہی ان کے ظلم پران کے ساتھ تعاون کیا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئے گا ۔)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s