دوسرا رکن ۔ﷲ پر ایمان لانا

توحید کے ارکان میں سے دوسرا رکن ہے ایک اﷲ پر ایمان لانا ۔
اﷲ پر ایمان کا مطلب ہے کہ ایک اور اکیلے اﷲ پر ہر قسم کا یقین اور اس کو تمام افعال ربوبیت میں اسماء و صفات میں ۔عبادت کی تمام اقسام میں اکیلا ماننا اﷲ پر ایمان کی تین قسمیں ہیں ۔
اﷲ کی ربوبیت پر ایمان لانا۔ یعنی اﷲ کے ان افعال پر ایمان جو اس کی ربوبیت کے ساتھ خاص ہیں جیسے پیدا کرنا۔رزق دینا ۔قانون و شریعت بنانا ان سب میں اﷲ کو ایک ماننا ان میں کسی بھی شیئی کو اﷲ کے علاوہ کسی اور کے لئے ثابت نہ ماننا ۔
اﷲ تعالی کافرمان ہے :
اَﷲُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمَ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ھَلْ مِنْ شُرَکَاءِ کُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَئْیٍ سُبْحٰنَہُ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ (الروم : 40)
اﷲ وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر مار دے گا پھر زندہ کردے گا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو یہ کام کر سکے پاک ہے اﷲ اور بلند ہے ان سب سے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ۔

اﷲ کے ناموں اور صفات پر ایمان لانا ۔ یعنی جو صفات یا اسماء اﷲ نے اپنے لئے بیان کئے ہیں یا، رسول اﷲﷺنے اس کے لئے بیان کی ہیں وہ ثابت ماننا بغیر کسی کیفیت ، تعطیل ، تحریف، اور تمثیل کے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے :
لَیْسَ کَمِثْلِہٰ شَیْئٌ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔(شوری:11)
اس (اﷲ)کے مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

اس طرح اﷲ کو اکیلا اور ایک ماننا ان اسماء اور صفات میں جو صرف اسی کے لئے لائق ہیں ۔
قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبِ اِلَّا اﷲُ (نمل:65)
کہہ دیجئے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اﷲ کے علاوہ کوئی غیب نہیں جانتا۔

اﷲ کی الوہیت پر ایمان لانا ۔یعنی اس بات کا اقرار و یقین کہ ایک اکیلا اﷲ ہی الہ اور معبود ہے اور جتنی بھی عبادات ہیں دعاء ، رکوع، سجود، نذر و نیاز وغیرہ صرف اسی کا حق ہے ان تمام عبادات میں اسکو اکیلا ماننا ان میں سے کوئی عمل کسی او رکے لئے نہ کرنا ۔
وَاعْبُدُوْا اﷲَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا(نساء:36)
اوراﷲ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو۔

بندہ موحد کس طرح بنتا ہے ؟
کوئی بھی شخص موحد نہیں بن سکتا جب تک کہ دو خوبیاں اسمیں نہ پائی جائیں ۔
1۔اﷲ کا حق پہچانے اور وہ حق صرف اسی اﷲ کے لئے ثابت مانے اسمیں کسی اور کوشریک نہ کرے ۔
اﷲ کے حقوق تین ہیں ۔
پہلا حق: وہ افعال جو اسکی ربوبیت کے ساتھ خاص ہیں صرف اس کے لئے ہیں اس میں کسی اور کو شریک کرنا کسی انسان کے لئے جائز نہیں ہے نہ کسی نبی کے لئے نہ فرشتے کے لئے ۔
وہ افعال یہ ہیں کہ اﷲ نے مخلوق کو انصاف سے پیدا کیا ہے انصاف سے رزق دے رہا ہے زندگی دیتا ہے موت اس کے اختیار میں ہے نفع، نقصان کامالک ہے تمام امور کائنات کی تدبیر کرتا ہے احکام جاری کرتا ہے قوانین دیتا ہے ہر چیز کااختیار اس کے ہاتھ میں ہے ۔
دوسرا حق: وہ اسماء و صفات جو اﷲ کے لئے خاص ہیں ان میں کسی اور کو شریک نہ کیاجائے کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ یہ صفات کسی اور کے لئے ثابت مانے چاہے کوئی فرشتہ ہو یا کوئی نبی کسی میں اﷲ کی صفات نہیں پائی جاسکتیں اﷲ کے خاص اسماء یہ ہیں اﷲ ، الاحد، الصمد، الرحمن، القدوس وغیرہ البتہ اﷲ کے دیگر نام جیسے الکریم الرحیم الملک تو وہ اﷲ اور بندوں میں مشترک مستعمل ہیں ۔
اسی طرح جو صفات صرف اﷲ کے ساتھ خاص ہیں وہ یہ ہیں کہ اﷲ کی قدرت کاملہ کہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کمال العلم کہ ہر چیز تک اسکا علم محیط ہے علم غیب بھی اسکی خاص صفت ہے کمال السمع یعنی قریب و بعید سب سنتا ہے اسی طرح کی وہ صفات کمال جو اﷲ کے علاوہ کسی اور کے لئے ثابت کرنا منع ہے ۔
تیسرا حق: عبادات صرف اﷲ کے لئے خاص ہیں یہ اﷲ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ عبادات صرف اﷲ کے لئے کریں اور ان عبادات میں اسے اکیلا سمجھیں اس لئے کہ اسی اﷲ نے انہیں پیدا کیا ہے انہیں رزق دیا ہے وہی ان کو موت اور مرنے کے بعد زندگی عطا کرے گا ۔
اَﷲُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمَ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ھَلْ مِنْ شُرَکَاءِ کُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَئْیٍ سُبْحٰنَہُ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔(الروم : 40)
اﷲ وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر تمہیں موت اور اس کے بعد زندگی دے گا کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام کر سکے وہ اﷲ پاک ہے ا س سے جسے یہ لوگ شریک بناتے ہیں ۔

سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں :
میں نبی کریم ﷺکیساتھ سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا تھا آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا معاذ تم جانتے ہو کہ بندوں پر اﷲ کا کیا حق ہے؟اور بندوں کا اﷲ پر کیاحق ہے؟ میں نے کہا اﷲ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا بندوں پر اﷲ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اﷲ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جنہوں نے شرک نہیں کیا ۔ میں نے کہا اﷲ کے رسول میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ دوں ؟آپ نے فرمایا نہیں ورنہ وہ اس پر بھروسہ کرکے بیٹھ رہیں گے (بخاری و مسلم)
جو عبادات اﷲ کے لئے خاص ہیں وہ یہ ہیں دعاء،رکوع، سجدہ، محبت ، تعظیم، خوف، امید، رجوع، (اﷲ کی طرف)رغبت ، ڈرنا، عاجزی، خشیت، بھروسہ، فریاد کرنا، مدد مانگنا، پناہ مانگنا، نذر، ذبح، طواف، فیصلے ، احکام ماننا، ان کے علاوہ بھی عبادات کی جو اقسام ہیں وہ سب صرف اﷲ کے لئے ہیں ان میں سے کوئی بھی عبادت کسی او رکے لئے جائز نہیں جو ایسا کرے گا وہ مشرک شمار ہوگا چاہے وہ نماز پڑھے روزے رکھے حج کرے اور خود کومسلمان سمجھتا رہے ۔
دوسری خوبی:جو موحد بننے کے لئے لازمی ہے :کہ اپنے عقیدے ، قول و فعل سے اﷲ کو ایک مانے اس لئے کہ اﷲ کی عبادت اور توحید کی بنیاد دو ارکان پر ہے ۔
پہلا رکن: کفر بالطاغوت اور دوسرا رکن ہے ایک اﷲ پر ایمان۔
کفر بالطاغوت ارکان توحید میں سے پہلا رکن ہے اوریہ رکن تب ہی صحیح ہوگا جب بندہ اپنے عقیدے ، عمل اور عبادت سے ثابت کر دیگا اس وقت طاغوت کا منکر شمار ہوگا اگر ان تینوں سے(عقیدہ ، عبادت ، عمل) میں سے کسی ایک میں بھی کمی کردی تو طاغوت کا منکر نہیں کہلائے گا۔اس بات کی دلیل اﷲ کا یہ فرمان ہے۔
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوْا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل:36)
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اﷲ کی عبادت کرو طاغوت سے اجتناب کرو۔

اور سابقہ سطور میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ طاغوت کا انکار عقیدہ ، عبادت، اور عمل سے ہوتا ہے ۔ اسکی مثال یہ ہے کہ اگر ایک انسان یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ صرف اﷲ ہی قانون ساز ہے اور اس عقیدے کا زبان سے اقرار بھی کرتا ہو مگر عملی طور پر وہ کوئی کفریہ کام کرے یعنی ایسا عمل کرے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اس نے کسی اور کو قانون ساز تسلیم کر لیااور اسے بنانے کا اتنا اختیار دیدیا جتنا کہ صرف اﷲ کا حق ہے تو ایسا شخص اس وقت مشرک شمار ہوگایعنی اﷲ کی ربوبیت میں شرک کررہا ہے ۔
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں :
یہ بات یاد رکھو کہ اﷲ کے دین کا مطلب ہے دل سے اعتقاد محبت بغض اور زبان سے اقرار اور زبان کو کفریہ کلمات سے محفوظ رکھنا۔ اعضاء سے ارکان اسلام کو بجالانا اور ان افعال کو نہ کرنا جن سے کفر لازم آتا ہے اگر ان تینوں میں سے کسی ایک میں کمی ہوگئی تو انسان کافر اور مرتد ہوجاتا ہے صرف ایک اﷲ پر ایمان لانا ارکان توحید میں سے دوسرارکن ہے مگر یہ رکن اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک بندہ اپنے رب پر اعتقادی ، قولی اور فعلی ایمان نہ لائے جب یہ سب کرے گا تو تب مومن شمار ہوگا اگر ان تینوں لازمی امور میں سے کوئی ایک بھی کم ہو تو بندہ مومن شمار نہیں ہوگا۔ (الدرر السنیۃ کتاب الحکم المرتد 8/87)
اس بارے میں امام آجری نے اپنی کتاب :الشریعہ میں باب باندھ کر لکھا ہے ۔باب القول ……..کہ ایمان دل کی تصدیق زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ہے اور انسان اس وقت مومن کہلا سکتا ہے جب اس میں یہ تینوں خوبیاں جمع ہوجائیں لہٰذاکوئی بھی انسان دو امور کی وجہ سے موحد کہلاسکتا ہے ۔
1۔اﷲ کا حق پہچان لے(یہ حقوق ہم پہلے بیان کر چکے ہیں)۔
2۔عقیدہ ، قول اور عمل سے اﷲ کو ایک مانے ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اعتقاد ، قول اور عمل سے اﷲ کی عبادت کی کیفیت کیا ہے ؟یعنی یہ کہ انسان میں کفر بالطاغوت اور ایمان باﷲ کی تمام شرائط مکمل طور پر پائی جائیں۔
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنے رسالہ کشف الشبھات میں فرماتے ہیں اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ توحید اعتقاد ، قول اور عمل کانام ہے اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو انسان مسلمان نہیں کہلائے گا۔
نیز فرماتے ہیں کہ امت میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ توحید کے لئے ضروری ہے کہ وہ دل سے ہو یعنی اس سے مراد علم ہے زبان سے یعنی اقرار اور عمل سے یعنی اوامر و نواہی کا نفاذ اعضاء سے اگر ان تینوں میں سے کسی ایک میں کمی آگئی تو آدمی مسلمان نہیں کہلائے گااگر توحید کا اقرار کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ کافر ہے فرعون و ابلیس کی طرح۔ اور اگر ظاہری طور پر توحید پر عمل کرتا ہے اور دل میں اسکا اعتقاد نہیں رکھتا تو وہ پکا منافق ہے اور کافر سے بھی بدتر ہے۔ (الدرر السنیۃ 2/124)
شیخ عبداﷲ بن عبدالرحمن ابابطین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جب مسلمان اس کلمہ کی عظمت کو پہچان لے اور اس کے اقرار سے جو پابندیاں اس پر عائد ہوتی ہیں انہیں بھی جان لے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ دل میں اس پر عقیدہ رکھے، زبان سے اقرار کرے اعضاء سے عمل کرے اگر ان تینوں میں سے کوئی بھی کم ہو تو آدمی مسلمان نہیں کہلائے گااگر آدمی مسلمان بن جائے اور ارکان پر عمل بھی کرے مگر پھر اس سے کوئی عمل قول یا اعتقاد اس طرح کا سرزد ہوجائے جو ان کے منافی ہوتو یہ سب کچھ اسے فائدہ نہیں دے گا ۔جیسا کہ اﷲ تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا جنھوں نے غزوہ نبوت کے بارے میں نازیبا کلمات منہ سے نکالے تھے۔
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (توبہ:66)
بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔

دوسروں کے بارے میں فرمایا:
وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَةَ الْکُفْرِ وَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِہِمْ (توبہ:73)
انہوں نے کفریہ بات کی ہے اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا ہے ۔(مجموعۃ التوحید الرسالۃ الثامنۃ)

سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا الہ الا اﷲ کی گواہی میں ضروری ہے کہ دل سے اعتقاد زبان سے اقرار اور اعضاءسے عمل ہو اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہوئی تو آدمی مسلمان نہیں رہے گا جب آدمی مسلمان ہوارکان پر عمل پیرا ہو اور پھر اس سے کوئی ایسا عمل، قول، یا اعتقادی کام سرزد ہوجائے جو اس اقرار کے منافی ہوتو صرف لا الہ الا اﷲ کا اقرار کوئی فائدہ نہیں دے گا قرآن و سنت اور ائمہ کے اقوال میں اس بات پر بے شمار دلائل ہیں۔ (الدررالسنیۃ 2/350)
علامہ عبدالرحمن بن حسن کہتے ہیں :
فقہاء نے مرتد کے حکم کے بارے کہا ہے کہ آدمی اگرچہ لا الہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ کا اقرار کررہا ہو روزے رکھتا ہو نماز پڑھتا ہو صدقات دیتا ہومگر کوئی ایک قول یا عمل اسکو مرتد (کافر)بنا دیتا ہے اور اس کے تمام اعمال باطل ہوجاتے ہیں خاص کر اس صورت میں کہ اگر وہ اس حالت پر مرگیا البتہ اگر مرنے سے پہلے کسی نے توبہ کر لی تو اس کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔(الدررالسنیۃ :11/586)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s