جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت

شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ

[زیر نظر مضمون مصنف کے عربی فتاوی ’الدین الخالص‘ کی نویں جلد سے ماخوذ ہےِ؛ اس کی اشاعت سے مسئلہ کی اہمیت اور اس سے متعلق شرعی تعلیمات اجاگر کرنا مقصود ہے، کسی معین فرد یا گروہ پر حکم شرعی کا اطلاق پیش نظر نہیں؛ کہ اس کے لیے شرائط و موانع کا لحاظ ضروری ہے، جو علیحدہ اور مستقل موضوع ہے۔ مترجم]

سوال: اسلامی شریعت کی رو سےان لوگوں کا کیا حکم ہے، جو مسلمانوں کے خلاف اہل کفر کی امداد و معاونت کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ ان میں ایسے افراد بھی ہیں، جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نماز، روزہ اور اذان وغیرہ اعمال پر بھی کاربند ہیں۔

جواب: ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، یہ امر معلوم رہنا چاہیے کہ مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد و نصرت کرنا کفر ہے اور اس پر اہل اسلام کا اجماع و اتفاق ہے۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے نواقض اسلام کی بحث میں اسے آٹھویں ناقض کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [المائدۃ 51:5] ’’اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے، تو اس کا شمار پھر انھی میں ہے۔‘‘

اربابِ نظر اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکا اور اس کے حواری کفار و منافقین کی قیادت میں جاری صلیبی حملوں کا اصل ہدف اسلام اور مسلمان ہی ہیں؛ پس جو شخص اس جنگ میں ان صلیبیوں کی مدد کرتا ہے، وہ کفر و ارتداد کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ یہ اعانت کسی بھی نوعیت کی ہو؛ خواہ جسم سے ہویا اسلحہ سے، زبان و قلب سے ہو یا قلم و قرطاس سے، مال و دولت سے ہو یا مشورے و رائے یا اور کسی بھی دوسرے طریقےسے، ہر صورت میں اسے کفر و ارتداد ہی قرار دیا جائے گا۔والعیاذ باللہ۔

اس مسئلہ پر اہلِ علم نے متعدد دلائل ذکر کیے ہیں، جنھیں ہم بااختصار درج ذیل عنوانوں کے تحت بیان کریں گے:
1۔ اجماع امت
2۔ قرآن کریم
3 ۔ حدیث و سنت صلی اللہ علیہ وسلم
4۔ اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم
5۔ قیاس
6۔ تاریخ
7۔ علما کی آراء
8۔ اقوالِ ائمہ نجد۔

اجماع امت

امت مسلمہ اس مسئلے پر متفق ہے کہ جو اہل اسلام کے خلاف کفار کی نصرت واعانت کرتا ہے، وہ کافر و مرتد ہے۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ آیت کریمہ “وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ” کے بارے میں لکھتے ہیں:
“یہ فرمانِ الٰہی اپنے ظاہر ہی پر محمول ہے؛ یعنی کفار سے دوستی کرنے والا بھی انھی میں سے ایک کافر ہے؛ یہ بات مبنیٔ برحق ہے اور اس میں دو مسلمانوں کا بھی اختلاف نہیں ہے۔”(المحلی 138/11)

شیخ عبد اللطیف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
‘فان ھذہ ردة صریحة بالاتفاق’، یعنی “یہ عمل بہ اتفاق امت ارتدادِ صریح کے مترادف ہے۔” (الدررالسنیۃ 326/8)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (سابق مفتی اعظم، سعودی عرب) لکھتے ہیں:
“وقد أجمع علماء الإسلام على أن من ظاهر الكفار على المسلمين وساعدهم عليهم بأي نوع من المساعدة، فهو كافر مثلهم ” “تحقیق علمائے اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کی مدد کرتا ہے اور انھیں کسی بھی طرح کی اعانت فراہم کرتا ہے، وہ انھی کی مثل کافر ہے”۔ (مجموع فتاویٰ 274/1)

اہل علم کے مزید اقوال آٹھویں بحث میں آئیں گے۔ ان شاء اللہ

قرآنی دلائل


قرآن حکیم کی بہت سی آیات اس عمل کے مرتکب کے کفر پر دلالت کرتی ہیں، جن میں سے چند ایک بیان کی جاتی ہیں۔
(1) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ (المائدۃ 51:5)
”اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ بھی انھی میں سے ہو گا؛ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار باہم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، چنانچہ مومنوں سے ان کا تعلق ولایت ختم ہو جاتا ہے۔
“وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ” سے مراد یہ ہے کہ کفار سے دوستی یا ولایت رکھنے والا بھی انھی کی مانند کافر ہے۔ آیت کے آخر میں ’الظالمین‘ کا لفظ ہے، جس سے’ظلم اکبر‘ کے مرتکب مراد ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: تفسیر ابن جریر 278/6)

(2) فرمانِ الٰہی ہے:
﴿فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ﴾(المائدۃ 52:5)
“تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔”
یہاں ’مرض‘ کے معنی نفاق کے ہیں، چنانچہ آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہوا کہ ایسے لوگ منافق ہیں۔

(3) اللہ عز وجل فرماتا ہے:
﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ﴾ (المائدۃ 53:5)
“اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے: “کیا یہ وہی لوگ ہیں، جو اللہ کے نام کی کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں؟ ان کے سب اعمال ضائع ہو گئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے۔”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جو کفار سے محبت و ولایت کے جذبات رکھتا ہے، وہ مومنوں میں شامل نہیں؛ وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہے اور اس کا عمل باطل ہے۔

(4) پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ﴾ (المائدۃ54:5)
“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا….۔”
مندرجہ بالا آیت اس امر کی جانب اشارہ کناں ہے کہ اہل کفر سے محبت و ولایت کا رشتہ استوارکرنا ارتداد ہے۔

(5) اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ﴾ (المائدۃ 56:5)
“اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے، اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔”
اس میں یہ اشارہ ہے کہ کفار سے دوستی اور رفاقت رکھنے والا لشکر ابلیس کا سپاہی ہے۔

(6) ربِ کریم فرماتا ہے:
﴿لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ﴾ (آل عمران 18:3)
“مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں؛ جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔”
مراد یہ ہے کہ اللہ کے دین میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
و معنی ذلک:لا تتخذوا الکفار ظھوراً و أنصارً توالونھم علی دینھم و تظاھرونھم علی المسلمین من دون المؤمنین. [تفسیر طبری 228/3]
“اس کے معنی یہ ہیں کہ تم کفار کو اپنا پشت پناہ اور مددگار نہ بناؤ کہ ان کے دین کی بنا پر ان سے دوستی کرو اور مومنین کو چھوڑ کر اہل اسلام کےخلاف ان کی مدد کرتے پھرو۔”

ولایتِ کفار کی ممانعت پر مبنی آیات بکثرت اور معروف و معلوم ہیں اور وہ تمام آیات ایسے لوگوں کے کفر و نفاق اور ارتداد پر وضاحت و صراحت سے دلالت کرتی ہیں، جو مشرکوں کی مدد و نصرت کرتے ہیں۔

(7) ارشادِ ربانی ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ (٢٥)ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الأمْرِ ﴾ (محمد25:26)
“حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھر گئے، ان کے لیے شیطان نے اس روش کو ان کے لیے سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے؛ اسی لیے انھوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمھاری مانیں گے۔”

معلوم ہوا کہ بعض امور میں بھی اہل کفر کی اطاعت ارتداد ہے۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلائل


1 شیخین اور دیگر محدثین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے کفار قریش کو مکتوب بھیجا تھا، جس میں انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض خفیہ معاملات کی اطلاع دی تھی؛ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ‘دعنی أضرب عنق ھذا المنافق’ یعنی ‘مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کا سر قلم کر دوں’۔ ایک اور روایت میں ان کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ ‘فقد کفر’ یعنی ‘اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔’

اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی نصرت و اعانت کا اصل حکم یہی ہے کہ یہ عمل دائرہ اسلام سے خروج اور ارتداد ہے؛ اس کے تین وجوہ ہیں:
وجہ اول: یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو منافق کہہ کر ان کے قتل کی اجازت مانگی ہے اور دوسری روایت کے مطابق انھوں نے اس فعل کو کفر سے تعبیر کیا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا حاطب رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی؟ تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں! لیکن بعد میں اس نے عہد شکنی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنوں کا ساتھ دیا۔ یہ گفتگو بتلاتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ امر طے شدہ تھا کہ کفار کی امداد کرنا کفر و ارتداد کے مترادف ہے۔

وجہ دوم :یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فہم کی نفی نہیں کی، بلکہ اسے برقرار رکھتے ہوئے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا عذر بیان فرمایا ہے۔

وجہ سوم: یہ ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر یہ وضاحت پیش کی کہ میں نے ایسا کفر و ارتداد یا کفر پر اظہار رضامندی کے طور پر نہیں کیا؛ اس سے بھی یہی مفہوم نکلتا ہے کہ خود حضرت حاطب رضی اللہ عنہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ اہل کفر کی اعانت و نصرت کفر و ارتداد اور کفر پر رضامندی ہی کے ہم معنی ہے۔

قابل غور امر یہ ہے کہ جب سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ ایسے جلیل القدر صحابی کے باب میں اس کا تصور کیا جا سکتا ہے، تو اس شخص کی کیا کیفیت ہو گی جو بالفعل کفار کی معاونت کرتا اور مسلمانوں کے خلاف انھیں امداد فراہم کرتا ہے؟
بلاشبہ وہ بالاولیٰ اس حدیث میں مذکور احکام کا مصداق ہے۔

2 امام اسحاق رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں کفار کی جانب سے شریک ہوئے تھے اور انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا؛ جنگ کے بعد جب قیدی فدیہ دے کر رہائی حاصل کر رہے تھے، تو ان سے بھی فدیہ ادا کرنے کا مطالبہ ہوا؛ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بامر مجبوری اس جنگ میں شامل ہوئے تھے، چنانچہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“أﷲ أعلم بإسلامک، فإن یکن کما تقول فإن اﷲ یجزیک، و اما کان ظاھرک فقد کان علینا، فافتد نفسک و ابنی أخیک”.
“آپ کے اسلام کا علم اللہ ہی کو ہے؛ اگر آپ کی بات درست ہے، تو اللہ آپ کو اس کی جزا دے گا؛ ہم تو آپ کے ظاہر کے پابند ہیں، چنانچہ اپنا اور اپنے بھتیجوں کا فدیہ دیجیے۔”

باوجود اس کے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ مجبوراً لشکر قریش میں شامل ہوئے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر پر حکم لگایا اور ان سے دیگر مشرکوں ہی کی مانند معاملہ کیا؛ اب جو شخص اپنے اختیار و ارادہ سے کفار کی پشت پناہی اور معاونت کرتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ اس معاملہ کو باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

3 اسی حقیقت پر یہ روایت بھی دلالت کرتی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ‘الصحیح’ میں محمد بن عبدالرحمن ابوالاسود رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ:
“اہل مدینہ کو (عہد خلافت ِابن زبیر رضی اللہ عنہما میں) شام والوں کے خلاف ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا؛ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا، تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ سے ملا اور انھیں اس صورتِ حال کی اطلاع کی؛ انھوں نے بڑی سختی کے ساتھ اس سے منع کیا اور فرمایا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی تھی کہ کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کی کثرتِ تعداد کا باعث بنتے تھے۔؛ دورانِ جنگ تیر آتا اور وہ سامنے پڑ جاتے، تو انھیں لگ جاتا اور اس طرح ان کی جان جاتی یا تلوار سے (از راہِِ خطا) انھیں قتل کر دیاجاتا؛ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِم ﴾[النساء4:97] “جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے ہیں۔”

ہم قارئین کی توجہ عین اس نکتے کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ نے ظاہر ہی کی بنا پر انھیں کفار کے ساتھ ملایا ہے، حالانکہ وہ مجبور و مضطر تھے؛ اس کا سبب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اس عمل کے مرتکب کو کافر قرار دیتے تھے۔

4 حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِکَ و سَکَنَ مَعَہُ فَھُوَ مِثْلُہُ “.(ابو داؤد)
“جو شخص کسی مشرک کی صحبت اختیار کرے اور اس کے ساتھ سکونت رکھے، تو وہ بھی اسی کی طرح کا مشرک ہے۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک کے ساتھ مل جل کر رہنے اور شراکت داری رکھنے والے کو اسی مشرک ہی کی مثل بتلایا ہے، خواہ وہ اس سے موافقت نہ بھی رکھتا ہو؛ اب جو آدمی مشرکوں کا دست و بازو بنے، اس کی کیا کیفیت ہو گی؟
5 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
” أَنَا بَرِیٌٔ مِّن کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ ظَھْرَاَنی الْمُشْرِکِیْنَ”. (ابو داؤد، ترمذی)
“میں ہر اس مسلمان سے اعلانِ براءت کرتا ہوں جو مشرکوں کے مابین مقیم ہے۔”

6 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“لَا یَقْبَلُ اﷲ مِنْ مُشْرِکٍ عَمَلاً بَعْدَ مَا أسْلَمَ أوْ یُفَارِقُ الْمُشْرِکِیْنَ”.(نسائی)
“اللہ مشرک کا عمل قبول نہیں فرماتا، خواہ وہ اسلام قبول کر لے، تا آنکہ وہ مشرکین سے جدا ہو کر مسلمانوں سے آ ملے۔”

7 حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ میں اقامتِ صلوٰۃ کا اہتمام کروں گا؛ زکاۃ ادا کروں گا؛ ہر مسلمان سے خیرخواہی کروں گا اور مشرک سے الگ رہوں گا۔

یہ بات ہماری خاص توجہ کی مستحق ہے کہ جب مشرک سے علیحدہ اور جدا رہنا واجب ہے، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس کی نصرت و اعانت کس قدر سنگین جرم ہو گا؟!

اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم


(۱) اس ضمن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا قول اوپر گزر چکا ہے۔

(۲) عبد بن حمید رحمہ اللہ نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ “تمھیں اس بات سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ تم یہودی یا نصرانی ہو جاؤ اور تمھیں پتا بھی نہ چلے۔” راوی کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ اس آیت کی جانب تھا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ۔الایة﴾ (المائدۃ51:5)
“اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔”

(۳) کتب سیرت میں منقول ہے کہ جب مجاعہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ واللہ میں مسیلمہ کذاب کا پیرو نہیں ہوں، تو انھوں نے فرمایا کہ پھر تم وہاں سے نکل کر میرے پاس کیوں نہ آئے اور ثمامہ بن اثال کی مانند بات کیوں نہ کی؟

(۴) اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وہ طرزِ عمل بھی اہم ہے جو انھوں نے مسیلمہ، سجاح، طلیحہ ایسے مدعیانِ نبوت، مانعین زکاۃ اور دیگر مرتدوں کے باب میں روا رکھا کہ ان سب سے بلا تفریق جنگ کی، حالانکہ یہ احتمال موجود تھا کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں، جو فکر و عقیدہ میں ان سے اختلاف رکھتے ہوں اور محض قبائلی عصبیتوں کی بنا پر شریک قتال ہوئے ہوں؛ لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تمام افراد سے یکساں سلوک کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کفار کی مدد و نصرت کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کی نگاہ میں وہ بھی انھی کی مانند کافر ہے۔

قیاس


اس ضمن میں قیاس سے استدلال دو طریقوں پر ہے:
(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
‘مَنْ جَھَّزَ غَازِیًا فَقَدْ غَزَی’ ”یعنی”جس نے مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کیا، وہ خود جہاد میں شریک ہوا۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے اس شخص کو بھی شریک جہاد قرار دیا ہے، جو کسی مجاہد کو وسائل و سامانِ جہاد فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
“اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت کا داخلہ عطا فرمائے گا: ایک اسے بنانے والا، جو خیر و بھلائی کی نیت سے اسے بناتا ہے؛ دوسرا اس سے تیر اندازی کرنے والا؛ اور تیسرا وہ شخص، جو مجاہد کو تیر مہیا کرتا ہے۔”
ان نصوص کی روشنی میں قیاس عکس سے کام لیا جائے، تو ثابت ہو گا کہ جو کسی کافر کو آلاتِ جنگ سے آراستہ کرتا اور حرب و قتال میں اس کی نصرت و اعانت کرتا ہے، وہ سبیل طاغوت میں جاری اس کی جنگ میں شریک اور حصے دار ہے۔

(2) صحیح موقف کے مطابق کسی عمل کو براہِ راست سرانجام دینے والے اور اس کے معاون و مددگار، ہر دو کا شرعی حکم یکساں ہے، کیونکہ معاون ہی کے ذریعے تو فاعل فعل پر قدرت پاتا ہے؛ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
“جب محارب افراد ایک گروہ کی صورت میں ہوں اور ان میں سے بالفعل قتل کرنے والا تو ایک ہی ہو، جب کہ باقی اس کے معاون و مددگار ہوں، تو اس صورت میں ایک قول یہ ہے کہ صرف اسی کو قتل کیا جائے گا، جو براہِ راست قاتل ہے؛ لیکن جمہور کا مسلک یہ ہے کہ وہ تمام لوگ قتل ہوں گے، خواہ سو افراد ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ مباشر و معاون برابر ہیں؛ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے بھی یہی منقول ہے۔”

مسئلہ زیر بحث سے متعلق اسلامی تاریخ سے بھی کئی دلائل ملتے ہیں، جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔
(1) غزوہ بدر میں لشکر کفار کی کثرت بڑھانے کے باب میں روایتیں ہم نے اوپر بیان کی ہیں۔

(2) مرتدین سے قتال میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و طرزِ عمل کا تذکرہ بھی سطورِ بالا میں گزر چکا ہے۔

(3) بابک خرمی مشرکوں کے علاقے میں رہائش پذیر تھا؛ اس نے جب دیگر مسلمانوں پر حملہ کر دیا، تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں ارتداد کا فتویٰ دیا؛ میمونی رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ امام صاحب موصوف نے اس کے بارے میں فرمایا:
“خرج الینا یحاربنا و ھو مقیم بأرض الشرک، أی شیئٍ حکمہ إن کان ھکذا فحکمہ حکم الارتداد”. (الفروع 163/6)
“اس نے ہم پر چڑھائی کی اور ہم سے برسر قتال ہوا، جب کہ وہ سر زمین شرک میں مقیم ہے؛ اس کا حکم کیا ہے؟ اگر اس کی یہی کیفیت ہے، تو اس کا حکم ارتداد کا ہے۔”

(4) 480ھ کے بعد کا واقعہ ہے کہ حاکم اشبیلیہ المعتمد بن عباد، جو طوائف الملوکی کے عہد میں اندلس کا ایک فرماں رواںتھا، فرنگیوں کی مدد سے مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے نکلا؛ اس موقع پر مالکی علما نے فتویٰ دیا کہ وہ اسلام سے پھر کر مرتد ہو چکا ہے۔ (الاستقصاء 75/2)

(5) 661ھ میں حاکم کرک الملک المغیث عمر بن العادل نے ہلاکو خاں اور تاتاریوں سے خط و کتابت کی کہ وہ ان کے لیےمصر فتح کر سکتا ہے؛ ظاہر الدین بیبرس نے اس سے متعلق فقہا سے رہنمائی چاہی، تو انھوں نے فتویٰ دیا کہ یہ شخص عزل و قتل کا مستحق ہے؛ چنانچہ بیبرس نے اسے معزول کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (البدایۃ و النھایۃ 238/13؛الشذرات: 305/6)

(6) 700ھ کے آس پاس تاتاری لشکروں نے اسلامی مملکت شام اور دیگر علاقوں پر شورش کی، تو بعض نام نہاد مسلمانوں نے ان کی معاونت کی؛ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تاتاریوں کی اعانت کرنے والوں کے ارتداد کا فتویٰ دیا۔ (الفتاویٰ 530/2)

(7) 980ھ میں شاہِ مراکش محمد بن عبد اللہ السعدی نے اپنے چچا ابو مروان المعتصم باللہ کے خلاف پرتگالی بادشاہ سے مدد کی درخواست کی، تو علمائے مالکیہ نے اس پر ارتداد کا فتویٰ لگایا۔ (الاستقصاء 70/2)

(8) 1226ھ سے 1233ھ کے دوران بعض لشکر سرزمین نجد پر حملہ آور ہوئے، تاکہ توحید کی دعوت کا خاتمہ کیاجاسکے؛ خود کو مسلمان کہنے والے کچھ لوگوں نے ان جارحین کی مدد کی، جس پر علمائے نجد نے ان معاونین پر ارتداد کا حکم لگایا؛ شیخ سلیمان بن عبداللہ آل شیخ رحمہ اللہ نے ان کے کفر کے اثبات میں ‘الدلائل’ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی، جس میں اس مسئلے پر اکیس دلائل بیان فرمائے۔

(9) قریباً پچاس برس بعد پھر اسی طرح کا واقعہ رونما ہوا؛ علمائے نجد نے فتویٰ دیا کہ مشرکین کی مدد کرنے والے کافر ہیں؛ شیخ حمد بن عتیق رحمہ اللہ نے اس موضوع پر ‘سبیل النجاۃ و الفکاک من موالاۃ المرتدین و أھل الأشراک’ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔

(10) چودھویں صدی ہجری کے اوائل میں الجزائر کے بعض قبائل نے ظالم فرانسیسی فوجوں کی امداد و نصرت کی تو فقیہ مغرب ابو الحسن التسولی رحمہ اللہ نے ان کے کفر کا فتویٰ دیا۔

(11) چودھویں صدی ہجری کے درمیانی عرصے میں فرانسیسی اور برطانوی فوجیں مصر اور بعض دیگر علاقوں پر چڑھ دوڑیں، تو علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ جو کسی بھی طریقے سے جارح افواج کی مدد کرے گا، وہ کافر ہے۔ (کلمۃ الحق، ص 126)

(12) جب یہود فلسطین پر قابض ہوئے اور ننگ ملت مسلمانوں نے ان کی اعانت کی، تو شیخ عبد المجید سلیم رحمہ اللہ کی سربراہی میں ازہر کی فتویٰ کمیٹی نے 1366ھ میں ان معاونین کے کفر کا فتویٰ جاری کیا۔

(13) چودھویں صدی ہجری کے اخیر میں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں نے بلاد اسلامیہ پر یلغار کی اور تاریخ کو دہراتے ہوئے بعض غدار مسلمانوں نے ان کو امداد فراہم کی، تو علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ (مجموع فتاوی274/)

(14) پندرھویں صدی ہجری کے آغاز میں جب روس افغانستان میں اپنے لشکروں کے ساتھ آدھمکا، تو علمائے عرب و عجم نے ان لوگوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قتال کا فتویٰ دیا، جنھوں نے روس کی مدد کی تھی؛ وہ تمام لوگ اس کے تحت آتے تھے، جو افغانستان میں رہتے ہوئے روس کے معاون و مددگار تھے؛ چنانچہ مجاہدین نے ان سے جنگ کی، حالانکہ ان میں سے اکثر نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے تھے۔

(15) اللہ کے فضل اور اس کی حسن توفیق سے اب ہم یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ جو لوگ امریکیوں کے دست و بازو اور معاون و مددگار ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں، وہ بھی انھی کی مانند کافر ہیں، بلکہ اپنے نفاق اور ارتداد کی بنا پر کفر میں ان سے بھی زیادہ سخت ہیں؛ ان کے کفر کی شدت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امریکی اندھے ہیں، یہ مرتد ان کے لیے آنکھوں کا کام دیتے ہیں۔ اگر آپ غیرت و حمیت سے متصف ہیں، تو ان حقائق پر غور و فکر کیجیے اور شک و ارتیاب پھیلانے والوں کی تشکیک اور مغالطہ آفرینیوں کی جانب متوجہ نہ ہوں؛ پھرہم اپنے اس فتوے میں شذوذ و تفرد کی راہ پر نہیں ہیں، بلکہ خشیتِ الٰہی رکھنے والا ہر سلفی اور حنفی عالم یہی فتوی دے گا۔

علما کے اقوال


اب ہم زیر بحث قضیہ سے متعلق اربابِ علم و نظر کی آرا پیش کرتے ہیں:
(1) معروف حنفی فقیہ علامہ ابو بکر الجصاص رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
“فیہ نھی المؤمنین عن موالاة الکفار و نصرتھم و الانتصار بھم و تفویض أمورھم إلیھم، و إیجاب التبری منھم و ترک تعظیمھم و إکرامھم ……” (احکام القرآن 130/3)
“اللہ نے مومنوں کو اس سے منع کیا ہے کہ وہ اہل کفر سے دوستی رکھیں، ان کی نصرت کریں، یا ان سے مدد مانگیں، یا اپنے امور و معاملات کی زمام ان کے ہاتھ میں دیں؛ اللہ نے ان پر یہ لازم کیا ہے کہ وہ ان سے اظہار براءت کریں اور ان کی تعظیم و توقیر سے باز رہیں۔”

(2) علامہ ابو البرکات النسفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
“لا تتخذوھم أولیاء تنصرونھم و تستنصرونھم و تؤاخونھم و تعاشرونھم معاشرةالمؤمنین ……” (تفسیر النسفی 287/1)
“کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ، یعنی ایسا نہ ہو کہ تم ان کی مدد کرو، یا ان سے نصرت و اعانت چاہو، یا ان سے بھائی چارہ اوراہل ایمان کی سی معاشرت روا رکھو۔”

(3) مفسر قرطبی رحمہ اللہ ترقیم فرماتے ہیں:
“ومن یتولھم منکم: أی یعضدھم علی المسلمین فإنہ منھم، بین تعالٰی أن حکمہ کحکمھم۔”(تفسیر قرطبی 217/6)
“تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے، یعنی مسلمانوں کے برخلاف ان کی پشت پناہی کرے، تو وہ انھی میں سے ہے؛ اللہ نے واضح فرما دیا کہ اس کا حکم بھی انھی کفار کی مانند ہے۔”

(4) امام البرزلی رحمہ اللہ نے ‘کتاب القضاء’ میں لکھا ہے کہ امیر المسلمین یوسف بن تاشفین رحمہ اللہ نے علما سے فتویٰ طلب کیا کہ ابن عباد الاندلسی (حاکم اشبیلیہ) نے مسلمانوں کے مقابلے میں امداد و نصرت کی خاطر فرنگیوں سے مراسلت کی ہے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس موقع پر اہل علم کی بڑی تعداد نے اس کے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا؛ یہ 480ھ کا واقعہ ہے۔ (الاستقصاء 275/2)

(5) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ حدیث مبارکہ ‘إذا أنزل اﷲ بقوم عذابًا أصاب العذاب من کان فیھم ثم بعثوا علی أعمالھم‘ کی شرح میں رقم طراز ہیں:
“اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار اور ظالم لوگوں کے پاس سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے ہاں سکونت رکھنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے؛ یہ اس صورت میں ہے، جب وہ ان کی اعانت کرے اور نہ ہی ان کے افعال پر اظہارِ رضامندی کرے؛ اگر وہ ان کا معاون بنا، یا ان کے اعمال پر رضامندی کا اظہار کرتا ہے، تو وہ بھی انھی میں شامل ہے۔” (فتح الباری 61/13)

(6) مجدد ابن تیمیہ حرانی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں متعدد مقامات پر اس مسئلے کی وضاحت کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
“ہر وہ شخص، خواہ وہ کوئی امیر لشکر ہے یا عام سپاہی، جو تاتاریوں کی فوج سے جا ملتا ہے، تو اس کا وہی حکم ہے، جو ان کا ہے؛ ان میں اسلامی شریعت سے ارتداد کی اسی قدر مقدار ہے، جتنی کہ تاتاریوں میں؛ جب سلف صالحین نے مانعین زکاۃ کو مرتد قرار دیا ہے، حالانکہ وہ روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قتال کے لیے بھی نہیں نکلتے تھے، تو اس شخص کی کیا کیفیت ہو گی، جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے مل کر اہل اسلام کے مقابلے میں برسر پیکار ہے؟” (مجموع فتاوی 530/28)

(7) حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ‘احکام أھل الذمۃ’ (233/1) میں انھی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

(8) امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے اس موضوع پر بہت نفیس بحث کی ہے؛ گفتگو کے آغاز میں انہوں نے بطور سوال دو نکات اٹھائے ہیں:
ایک یہ کہ ہم میں سے جو شخص اپنے اختیار و ارادہ سے دارالحرب جاتا ہے اور اس کی نیت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی مخالفت اور مقابلہ کرے گا، تو کیا اس طرزِعمل سے وہ مرتد ہوجاتا ہے یا نہیں؟
دوسرا نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ ایک آدمی دارالاسلام میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے برخلاف اہل حرب کا دست و بازو بنتا اور انھیں مدد فراہم کرتا ہے، تو کیا یہ اس فعل سے مرتد ہو جاتا ہے؟
اس سلسلے میں مختلف دلائل ذکر کرنے کے بعد امام ابن حزم رحمہ اللہ ترقیم فرماتے ہیں:
“صحیح بات یہ ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے دار الکفرو الحرب میں جاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہوتا ہے، تو وہ اس عمل کی بنا پر مرتد ہو جاتا ہے اور اس پر مرتد کے تمام احکام لاگو ہوں گے؛ مثلاً یہ کہ جب وہ قابو میں آ جائے، تو موت کے گھاٹ اتارا جائے گا؛ اس کا مال مباح ہو گا اور اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا، وغیرہ ذلک۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان سے اظہار براءت نہیں فرما سکتے……اگر کوئی شخص اپنی خدمات یا خط و کتابت کے ذریعے کفار کی اعانت کرتا اور مسلمانوں سے جنگ کا مرتکب ہوتا ہے، تو یہ کافر ہے؛ اگر وہ محض دنیوی مفادات کے پیش نظر دارالحرب میں مقیم ہے، تو یہ ایک طرح سے ان کا ذمی ہے؛ یہ اگر دارالاسلام آ کر مسلمانوں سے ملنے پر قادر ہے، لیکن اس کے باوصف نہیں آتا ، تو یہ بھی کفر سے زیادہ دور نہیں ہے اور ہم اس کے لیے کوئی عذر نہیں پاتے۔” (المحلی 126/12)

(9) امام المفسرین ابن جریر طبری رحمہ اللہ آیت کریمہ‘لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِ‌ينَ أَوْلِيَاءَ’کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
“اس کے معنی یہ ہیں کہ مومنو! تم کفار کو اپنا پشت پناہ اور مددگار نہ بناؤ، یعنی ایسا نہ ہونا چاہیے کہ تم ان کے دین کی بنا پر ان سے دوستی کرو؛ مسلمانوں کے خلاف ان کی معاونت کرو اور انھیں مسلمانوں کی کمزوریوں اور پوشیدہ باتوں سے آگاہ کرو؛ جو شخص ایسا کرے گا، اس کا اللہ کے دین سے کوئی حصہ نہیں، یعنی یہ اللہ سے بری اور اللہ اس سے بے زار، کیونکہ یہ اپنے دین سے پھر چکا اور دائرہ کفر میں داخل ہو گیا۔
‘إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً’ کامطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے زیرِ نگیں ہو اور تمھیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے کا اندیشہ ہے، تو اس صورت میں یہ جائز ہے کہ تم زبانی طور پر ان سے دوستی کا اظہار کرو اور دل میں عداوت کے جذبات رکھو، لیکن ان کے کفر و سرکشی میں ان کی تائید و حمایت نہ کرو اور نہ ہی کسی مسلمان کے خلاف بالفعل ان کی مدد کرو۔”

حقیقت یہ ہے کہ امام طبری رحمہ اللہ نے مذکورہ اقتباس میں انتہائی خوبصورتی سے مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے۔

(10) قاضی شوکانی رحمہ اللہ تفسیر ‘فتح القدیر’ میں آیت مبارکہ ‘لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ أَوْلِيَاءَ’ کی شرح و وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے رفاقت، معاشرت اور نصرت و اعانت کے پہلوؤں سے دوستوں کا سا معاملہ روا نہ رکھاجائے۔”

(11) محدث شام علامہ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ اللہ کے ارشاد ‘وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ’ کا مطلب یہ بتلاتے ہیں کہ:
“غیر مسلموں سے دوستی لگانے والا بھی انھی میں شامل ہو گا اوراس کا بھی وہی حکم ہو گا، جو ان کفار کا ہے، خواہ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتا رہے کہ وہ تو دین و مذہب میں ان کا مخالف ہے۔” (محاسن التاویل 240/6)

(12) علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ، جو مصر کے معروف محدث ہیں، اپنے ایک مفصل فتوے میں لکھتے ہیں:
“جہاں تک انگریز سے تعاون کا معاملہ ہے؛ یہ خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو اور چاہے کم ہو یا زیادہ؛ یہ کھلا ارتداد اور صریح کفر ہے؛ اس معاملے میں نہ تو کوئی عذر قابل قبول ہے، نہ کوئی تاویل ہی سودمند ہوسکتی ہے۔ اس شرعی حکم سے خلاصی ممکن نہیں، خواہ اس جرم کی وجہ ــ ارتکاب احمقانہ عصبیت، بے ہنر سیاست اور ظاہری حسن سلوک ہی کیوں نہ ہو۔ یہ جرم شنیع افراد سے سرزد ہو، یا حکومتیں اور لیڈر اس کے مرتکب ہوں، سبھی یکساں طور پر کفر و ارتداد کی لپیٹ میں آئیں گے؛ البتہ جو بر بنائے جہالت یا ازراہِ خطا اس کا ارتکاب کر بیٹھا، لیکن بعد ازاں حقیقت کا ادراک ہونے پر اللہ کے حضور توبہ کی اور اہل ایمان کی روِش پر گامزن ہو گیا، تو اس کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کی توبہ قبول فرما لے،بشرطیکہ اس کی بنیاد اخلاص نیت ہو، نہ کہ سیاست اور لوگوں کی خوشنودی۔……..میرا خیال ہے کہ میں نے انگریز سے جنگ و قتال اور ان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون سے متعلق شرعی احکام کی شرح و وضاحت اس انداز میں کر دی ہے کہ عربی زبان سے شناسائی رکھنے والا ہر مسلمان انھیں فہم و فکر کی گرفت میں لا سکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھتا ہو اور دنیا کے کسی بھی خطے میں سکونت پذیر ہو۔”
آگے چل کر لکھتے ہیں:
“دنیا میں بسنے والے ہر مسلمان کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ مسلمانوں کو غلام بنانے والے دشمنان اسلام انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ان کے حلیفوں سے کسی طرح کا تعاون کرے گا؛ لڑائی کی استطاعت کے باوجود ان سے لڑنے کے بجائے ان کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھائے گا اوراس کے بعد چاہے وہ قول و عمل سے اپنے بھائیوں کے خلاف ان کی اعانت نہ بھی کرے، تو محض اسی بنا پر اس کی نمازیں باطل قرار پائیں گی؛ وہ وضو، غسل، تیمم کرے، تو اس کی طہارت باطل ہو گی؛ اس کے نفلی و فرضی روزے مردود ٹھہریں گے؛ وہ حج کرے گا، تو اس کا حج باطل ہو گا؛ زکاۃ و صدقات دے گا، تو وہ باطل اور مسترد کر دیے جائیں گے؛ الغرض اس کی ہر عبادت باطل ہو گی اور اسے ردّ کر دیا جائے گا؛ اسے کسی عمل کا اجر نہیں ملے گا، بلکہ یہ اس کے لیے گناہ اور سزا کا باعث ہوں گے، گویا نیکی برباد اور گناہ لازم والا معاملہ ہو گا۔…….ہر مسلمان کو کفر و ارتداد کے اس ہلاکت آفریں راستے پر چلنے سے پہلے یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس سے اس کی تمام عبادات اور اعمال صالحہ ضائع اور رائیگاں ہو جائیں گے۔ اللہ کی پناہ کہ اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والا کوئی حقیقی مسلمان اس راہ کا مسافر بنے، کہ عبادت کی صحت اور قبولیت کے لیے ایمان اولین اور بنیادی شرط ہے، جیسا کہ دینی تعلیمات سے بہ قطعیت ِ تمام واضح ہے اور مسلمانوں کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں۔……..تمام مسلمان مرد و زن کو معلوم رہنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے دین کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اپنے دشمنوں کی نصرت و اعانت کرتے ہیں، ان سے شادی بیاہ جائز نہیں ہے؛ اگر کوئی ان سے نکاح کرتا ہے، تو وہ قطعی طور پر باطل ہو گا؛ اسے کسی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس پر نکاح کے آثار و نتائج مثلاً نسب اور وراثت وغیرہ مترتب ہوں گے؛ خواتین کو چاہیے کہ احتیاط کریں اور ان سے کسی صورت میں رشتہ ازدواج استوار نہ کریں۔” (کلمۃالحق، ص 130وما بعد)

(13) شیخ عبد اللہ بن حمد رحمہ اللہ مسئلہ زیر بحث سے متعلق رقم طراز ہیں:
“ہر وہ مسلمان جو اپنے آپ سے خیرخواہ ہے، اس پر یہ واجب و لازم ہے کہ وہ اس فرق و امتیاز سے باخبر ہو جو علماء نے موالات اور تولّی کے مابین کیا ہے؛ چنانچہ اربابِ علم کے حسب تصریح موالات یہ ہے کہ کفار سے نرم لہجے میں گفتگو کی جائے،؛ انھیں خندہ پیشانی سے ملا جائے، یا بظاہر تعلق کا اظہار کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہل کفر اور ان کے دین سے لا تعلقی اور بے زاری کا مظاہرہ ہو اور کافروں کو اس کا علم بھی ہو، تو یہ طرزِ عمل اپنانے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب اور خطرے میں ہے۔………جہاں تک تولّی کا معاملہ ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ کفار کی تعظیم و تکریم کی جائے،؛ ان کی تعریف و توصیف کی جائے؛ مسلمانوں کے برخلاف ان کی مدد و نصرت کی جائے،؛ ان کے ساتھ رہن سہن رکھا جائے اور ان سے براءت کا اظہار نہ کیا جائے؛ یہ ارتداد ہے اور اس کے مرتکب پر مرتدوں کے احکام جاری کرنا ضروری ہے، جیسا کہ کتاب و سنت اور ائمہ امت کا اجماع اس پر دلالت کناں ہے۔” (الدرر السنیۃ 479/15)

(14) شیخ محمد بن عبد اللہ الشعیبی لکھتے ہیں:
“مسلمانوں کے خلاف اہل کفر کی امداد و معاونت کرنا کفر ہے، جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے؛ معتبر علمائے امت قدیم و جدید اسی کے قائل رہے ہیں۔”
اس کے بعد انھوں نے شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ کا بیان کردہ آٹھواں ناقض اسلام اور علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کی عبارت نقل کی ہے اور پھر لکھا ہے:
“ان دلائل کے پیش نظر جو شخص اہل اسلام کے مقابلے میں کافر ممالک مثلاً امریکا اور اس کے حواریوں کی نصرت و اعانت کرتا ہے، وہ مرتد ہو گا، خواہ کسی بھی صورت میں مدد کرے۔”

(15) شیخ عبد الرحمن بن ناصر البراک ترقیم فرماتے ہیں:
“اس میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف امریکا کا اعلانِ جنگ ظلم و زیادتی اور اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز ہے، جیسا کہ امریکی صدر نے ببانگ دہل کہا ہے۔ اس نازک صورتِ حال میں افغان مسلمانوں کی تائید و حمایت سے مسلم سلطنتوں کا دست کش ہو جانا بجائے خودایک عظیم مصیبت ہے، چہ جائیکہ ان کے خلاف اہل کفر کی مدد و نصرت کی جائے، جو دراصل اہل کفر سے تولّی کا اظہار ہے، جب کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اہل ایمان یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائیں:’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ أَوْلِيَاءَ …… الآیة، اس آیت کی بنا پر علمائے کرام نے مسلمانوں کے برخلاف کفار کی پشت پناہی اور امداد و معاونت کو نواقض اسلام میں شمار کیا ہے۔”

شیخ علی بن خضیر الخضیر، شیخ سلیمان بن ناصر العلوان، شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن السعد، شیخ عبد اللہ بن محمد الغنیمان، شیخ بشر بن فہد البشر، شیخ سفر بن عبد الرحمن الحوالی اوربلادِ مغرب کے سولہ علما نے فتویٰ دیا ہے کہ:
“کفار کی نصرت و اعانت نیز افغانستان یا دیگر مسلم خطوں کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کا حصہ بننا کفر اور اسلام سے ارتداد کے مترادف ہے۔”

اقوالِ ائمہ نجد


زیر بحث قضیہ سے متعلق نجد کے اٹھائیس ائمہ دعوت کے اقوال و آراء ایک سلفی عالم نے اپنی کتاب ‘التبیان فی کفر من أعان الأمریکان’میں نقل کیے ہیں؛ ان تمام اصحابِ علم کا فتویٰ یہ ہے کہ جو شخص اہل شرک کی امداد و نصرت کرتا اور کسی بھی طریقے سے ان کی اعانت کرتا ہے، وہ کافر ہے۔

یہ کتاب انتہائی اہم ہے، لہٰذا اس کا مطالعہ کرنا چاہیے؛ میں نے بھی زیر نظر فتوے کے لیے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے؛ مصنف موصوف نے، اللہ انھیں جزاے خیر دے، اس مسئلہ پر انتہائی مفصل بحث کی ہے اور وہ تمام دلائل ذکر کیے ہیں، جن سے یہ شرعی حکم ثابت ہوتا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ ایک غیرت مند مسلمان کے لیے تو ایک ہی آیت کافی ہوتی ہے؛ قرآن شریف غیور کتاب ہے، جسے محض وہی سمجھ سکتے ہیں، جنھیں دینِ خداوندی کے باب میں غیرت وحمیت نصیب ہوئی ہے؛ اگر مسلمان مجاہدین کے خلاف حربی کفار کی امداد و نصرت کرنا کفر و ارتداد نہیں، تو بتلایا جائے کہ پھر کفر و ارتدد کس چڑیا کا نام ہے؟ اگر یہ کفر نہیں، تو پھر اس صفحۂ ہستی پر کہیں کفر کا وجود نہیں ہے۔اللہ متعال نے بعض مدعیان علم کی بصیرت سلب کر لی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل کفر نہیں!!!

قاریِ محترم!اگر آپ سچے مومن اور دین خداوندی کے لیے غیرت و حمیت کے جذبات رکھتے ہیں، تو آپ یقیناً جان چکے ہوں گےکہ ان کفار کے مددگاروں کا کفر، کفر بواح ہے، جس میں شک و شبہہ کہ کوئی گنجائش نہیں۔
ہم اللہ عزوجل سے عفو و عافیت کے طالب ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s