توحید کا معنی؟ اور اس بات کا بیان کہ یہی عدل ہے۔مشرک کا معنی اور یہ کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے

الحمد ﷲ رب العالمین والصلوة والسلام علی محمد وآلہ و صحبہ اجمعین

اما بعد!

مسلمانوں کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیئے کہ توحید بندوں پر اﷲ کا حق ہے اور یہی وہ مقصود اصلی ہے جس کے لئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ )الذاریات:56(

میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

علماء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’تاکہ وہ میری وحدانیت تسلیم کریں اور میں ہی انہیں حکم کروں گا اور میں ہی منع کرنے کا اختیار رکھوں گا اور توحید ہی سب سے بڑا عدل ہے‘‘۔ اب جو شخص بھی اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہو گا تو وہی شخص ہر چیز کو اپنے صحیح مقام پر رکھنے والا شمار ہو گا اور وہی صحیح عبادت کرنے والا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:

شَھِدَاﷲُ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَالْمَلٰئِکَةُ وَاُوْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ )آل عمران:18(

اﷲ نے گواہی دی اور فرشتوں و اہل علم نے بھی کہ وہ )اﷲ( ایک ہے، عدل پر قائم ہے، وہی معبود ہے جو غالب حکمت والا ہے۔

توحید کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو افعال، اسماء، صفات، ربوبیت کے اُمور اور اپنی عبادات میں اکیلا و تنہا تسلیم کر لے۔

شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ جس نے شرک کا ارتکاب کیا تو اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا یعنی عبادت اس کے لئے کی جو اس کا مستحق نہیں تھا۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے جس کا یہ مرتکب ہوا ہے۔ جیسا کہ لقمان کا قول اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے کہ:

وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاﷲِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ )لقمان 13(۔

جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے شرک مت کرنا بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اﷲ نے اپنی عظمت و جلالۃ شان سے متعلق جو اُمور ذکر کئے ہیں کہ اﷲ اس دن اس طرح اس طرح کرے گا تو یہ صرف ان کاموں کا ذکر ہے جو عقل میں آ سکنے والے ہیں ورنہ اﷲ کی عظمت تو اس سے بہت بلند ہے کہ کسی کی عقل اس کا یا اس کے افعال کا احاطہ کرے جیسا کہ محمد رسول اﷲ ﷺکا ارشاد گرامی ہے:

ما السموات السبع والارض السبع فی کف الرحمن الا کخردلة فی کف احدکم

ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اﷲ کی ہتھیلی میں ایسی ہیں جیسے تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں رائی کا دانہ ہو۔

اب اتنے بڑے رتبے والے اﷲ کی عظمت و جلالۃ شان میں کس طرح کسی مخلوق کو شامل کیا جا سکتا ہے جو اپنے لئے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہ رکھتا ہو؟ اگر کوئی اس طرح کرتا ہے تو یہ شرک ہے اور اس کو سب سے بڑی جہالت اور ظلم بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح اﷲ کے ایک نیک بندے لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ بیٹا اﷲ کے ساتھ شرک مت کرنا بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے )لقمان:13)،)تاریخ نجد:583)

شرک کا معنی ہے کسی مخلوق کو اﷲ کی صفات ، اسماء یا عبادت میں شریک کرنا توحید کو سمجھنے کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے اور شرک کے ساتھ جہالت لازم و ملزوم ہے جس طرح کہ قرآن نے دونوں صفات کو ان آیات میں اس طرح ذکر کیا ہے ۔

فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَاﷲُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَ مَثْوٰکُمْ)محمد:19(۔

اس بات کو جان رکھو کہ اﷲ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے اپنے اور مومن مرد مؤمن عورتوں کے گناہوں کی مغفرت طلب کرو اﷲ تمہارا چلنا پھرنا اور تمہارا ٹھکانہ جانتا ہے ۔

شرک کے بارے میں فرمایا :

قُلْ اَفَغَیْرَ اﷲِ تَٲْمُرُوْنِّیْ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجٰھِلُوْنَ ۔)زمر۔64 (

کہہ دیجئے )اے محمد (ﷺکہ اے جاہلو تم مجھے حکم کرتے ہو کہ میں غیر اﷲ کی عبادت کروں؟

لہٰذا مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہو کہ اﷲ نے اس پر جو توحید لازم کر رکھی ہے اس کی شروط ، ارکان اور نواقض کیاہیں او رپھر اس حاصل شدہ علم کے مطابق عمل کرے تاکہ اپنے رب کی توحید کی حفاظت کرسکے۔

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں :

کہ لاالہ الا اﷲ کے مفہوم کو نماز روزہ سے پہلے سمجھنا ضروری ہے اور واجب ہے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نماز روزہ کے بارے میں معلومات حاصل کر نے سے پہلے لا الہ الا اﷲ کا معنی و مطلب معلوم کرے اس طرح شرک کی حرمت اور طاغوت پر ایمان کی حرمت ماؤں اور پھوپھیوں کی حرمت سے بڑھ کر ہے ۔ایمان کا سب سے اعلی درجہ لا الہ الا اﷲ کی گواہی ہے اس کا معنی ہے کہ بندہ یہ گواہی دے رہا ہے کہ الوہیت ساری اﷲ کے لئے ہے اس میں کوئی نبی، فرشتہ یا ولی شریک نہیں ہے بلکہ یہ اﷲ کابندوں پر حق ہے کہ وہ الوہیت صرف اسی کے لئے ثابت مانیں ۔اور طاغوت کے انکار کا معنی ہے کہ ہر اس چیز سے بیزاری کااعلان جس کے بارے میں مشرکین کوئی عقیدہ رکھتے ہیں چاہے وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر، درخت وغیرہ ہو ان سے بیزاری اور نفرت کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں مشرکانہ عقیدہ رکھنے والوں کو کافر اور گمراہ بھی مانے اگرچہ اس طرح کا عقیدہ رکھنے والا باپ ہو یا بھائی ہو اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں تو صرف اﷲ کو پکارتا ہوں اسی کی عبادت کرتا ہوں مگر میں قبروں اور مزارات پر بننے والے قبوں اور عمارتوں یا ان پر منعقد ہونے والے میلے اور عرس وغیرہ کو کچھ نہیں کہتا انہیں روکنے یا انکی ممانعت کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ایسا شخص اپنے دعوی لا الہ الا اﷲ میں سچا نہیں ہے وہ اﷲ پر ایمان اور طاغوت کا انکار نہیں کر رہا۔ ہم نے ایسے شخص کے بارے میں مختصر سافیصلہ سنا دیا ہے مگر اسکی مزید تفصیل ضروری ہے دین اسلام اور رسول ﷺکی رسالت کو سمجھنے کے لئے یہ تفصیلات ضروری ہیں اور مسلمانوں کے سامنے فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باﷲ فقد استمسک بالعروة الوثقی )بقرہ:256( کے بارے میں علماء کے اقوال لانا بھی ضروری ہے مسلمان کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ جو توحید رسول ﷺنے امت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرے اوراگر کوئی شخص اس بات سے اعراض کرے منہ موڑے دنیا کو دین پر ترجیح دے تو اﷲ اس کی جہالت کی وجہ سے اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے )مجموعة الفتاوی والرسائل والاجوبة خمسون رسالة فی التوحید للامام محمد بن عبدالوھاب ص 135(

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s