توحید اور لا الہ الا اللہ کے معنی سے متعلق محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے ارشادات

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ لا الہ الا اللہ کے معنی کے بارے میں فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ ایک بلند رتبہ اور قابل احترام کلمہ ہے جس نے اسے تھام لیا وہ محفوظ رہا جس نے اسے اپنا لیا وہ نجات پاگیا۔نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے:
من قال لا الہ الا اﷲ وکفر بما یعبد من دون اﷲ حرم ما لہ ودمہ و حسابہ علی اﷲ عزوجل
جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا اور اللہ کے علاوہ معبودوں کا انکار کر لیا تو اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہوگئی۔(رواہ مسلم )۔

حدیث مذکور اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ ایک لا الہ کا لفظ ہے اور ایک اس کا معنی ہے لیکن اس بارے میں لوگ تین فرقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔
1۔ وہ فرقہ ہے جنھوں نے زبان سے کلمہ ادا کیا اور اسے ثابت و حق مانا اور یہ بھی جان لیا کہ اس کا ایک معنی ہے اس معنی پر عمل کر لیا اس طرح کلمہ کے نواقض ہیں ان نواقض سے اجتناب کیا۔
2۔ دوسرا فرقہ وہ ہے جس نے ظاہری طور پر اس کلمہ کااقرار کیا اپنے آپ کو ظاہری اور قولی طور پر اس کے مطابق بنایا مگر دل میں کفر اور شرک چھپائے رکھا۔
3۔ تیسرا فرقہ وہ ہے جس نے اس کا اقرار کیامگر اس کے معنی پر عمل نہ کیا بلکہ اس کے برعکس عمل کیا یہ لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی کاارشاد ہے ۔
الذین ضل سعیہم فی الحیا ة الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیا میں برباد ہوئیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔

پہلا فرقہ ناجیہ ہے وہی حقیقی مؤمن ہیں دوسرافرقہ منافقین کا ہے تیسرا فرقہ مشرکین کا ہے ۔
لا الہ الا اللہ ایک قلعہ ہے مگر ان لوگوں نے اس پر جھوٹ کا منجنیق نصب کر رکھا ہے اس قلعہ کو برباد کرنے کے لئے پتھر مارتے ہیں تو اس قلعہ میں دشمن داخل ہوگئے ہیں جس نے ان سے معنی چھین لئے ہیں اور صرف صورت کے ساتھ انہیں چھوڑ دیا ہے جبکہ حدیث شریف میں آتا ہے :
ان اﷲ لا ینظر الی صورکم وابدانکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم۔
اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ۔

ان لوگوں نے لا الہ الا اللہ کا معنی چھوڑ دیا ہے تو ان کے پاس صرف زبان کی اچھی ادائیگی اور حروف کا رٹہ رہ گیا ہے مگر جس طرح آگ کا باربار تذکرہ کبھی کسی چیز کو جلا نہیں سکتا اور پانی کا صرف ذکر کسی چیز کو ڈبو نہیں سکتا روٹی کاتذکرہ پیٹ نہیں بھر سکتا تلوار کے ذکر سے کوئی چیز کاٹی نہیں جاسکتی اسی طرح قلعے کا صرف تذکرہ تحفظ فراہم نہیں کرسکتا اسی طرح لا الہ الا اللہ میں قول چھلکا ہے اور معنی مغز ہے ۔قول سیپی ہے اور معنی موتی ہے ۔ جب مغز نہ ہوتو صرف چھلکا کس کام کا ؟جب موتی نہ ہوتو سیپی کس فائدے کی؟ لا الہ الا اللہ اپنے معنی کے ساتھ ہوتو اس کی مثال ایسی ہے جیسے جسم کے ساتھ روح اور جسم روح کے بغیر بیکار ہے اسی طرح اس کلمہ کا فائدہ اس کے معنی کے بغیر نہیں ہے اللہ کی صفت فضل ہے تو انہوں نے اس کلمہ کے ظاہری صور ت اور معنی سمیت اپنا لیا اس کی صورت سے اپنے ظاہر کو مزین کیا اقرار کرکے اور اپنے باطن کو اس کومعنی سے آراستہ کرلیا تصدیق کرکے یہ لوگ علماء فضل کہلاتے ہیں ۔
شَھِدَ اﷲُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلٰئِکَةُ وَ اُوْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
اللہ نے گواہی دی کہ اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں فرشتوں اور علم والوں نے(بھی گواہی دی)وہ اللہ انصاف پر قائم ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔ (آل عمران:18)

عدل کا لفظ ثواب و عذاب کے لحاظ سے فضل کے مقابلہ پر استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ایک عربی شاعر نے کہا ہے ۔
فان یثبنا فمحض الفضل ……..و ان یعذبنا فبمحض العدل ۔
اگر اللہ ہمیں ثواب دے گا تو یہ صرف اپنے فضل کی بنیاد پر ہوگا ……..اور اگر عذاب کرے گا تو یہ اس کا عدل ہے۔
جہاں تک اللہ کے عدل کی بات ہے تو اس میں لفظ کو تولے لیا مگر معنی کو چھوڑ دیا ہے اپنے ظاہر کو اقرار سے مزین کر لیا اور باطن کو کفر سے تاریک کر لیا (اس لئے کہ)انہوں نے خیر وشر کا اعتقاد ان کے بارے میں رکھا جن کے اختیار میں یہ دونوں نہیں لہٰذاان کے دل سیاہ اور تاریک ہیں اللہ نے ان کو ایسی صلاحیت نہیں دی جس کے ذریعے سے یہ حق و باطل کو پہچان سکیں قیامت میں بھی یہ لوگ اپنے کفر کے اندھیروں میں ر ہیں گے ۔
ذَھَبَ اﷲُ بِنُوْرِہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ (البقرہ: 17)
اللہ نے ان کا نور چھین لیا ہے انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا ہے جہاں انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔

جو شخص کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اور پرستش اپنی خواہش اور اپنے مالک کی کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ کو کیا جواب دے گا؟
اَفَرَٲَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھَوٰہُ (الجاثیہ:23)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنارکھا ہے ۔

آپ ﷺکا ارشاد ہے :
مال و دولت کا پجاری ہلاک ہوجائے اگر اسے ملتا رہتا ہے تو خوش ورنہ ناراض ہوتا ہے (رواہ البخاری)
اگر کوئی شخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے مگر یہ صرف اسکی زبان تک محدود ہے تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ایسا شخص منافق شمار ہوگا۔اور اگر )اقرار کے ساتھ(دل میں اس کلمہ کو جگہ دی تو یہ شخص مؤمن کہلائے گا لہٰذاہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دلی طور پر مؤمن بنے صرف زبان کا اقراری نہ ہو ورنہ قیامت کے دن یہی کلمہ مخالفت میں گواہی دے گا کہ اللہ میں اس شخص کے پاس اتنے سالوں تک رہا مگر اس نے میرے حق کا اعتراف کیااور نہ ہی میری حرمت کا خیال رکھا جیسا رکھنا چاہیے تھا ۔گویا یہ کلمہ کسی کے حق میں اور کسی کی مخالفت میں گواہی دے گا۔
فضل: لوگوں کے احترام کا گواہ بن کر انہیں جنت میں داخل کرے گا اور عدل ان کے جرائم کا گواہ بن کر انہیں جہنم تک پہنچائے گا۔
فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ (شوری:7)
ایک گروہ جنت میں اور ایک بھڑکتی آگ میں ہوگا۔

لا الہ الا اللہ خوش بختی کا پودا ہے اگر کسی نے اسے تصدیق کی کیاری میں لگایا اور اسے اخلاص کا پانی دیا عمل صالح سے اس کی دیکھ بھال کی تو اس کی جڑیں مضبوط ہوں گی اسکا تنہ طاقت ور ہوگا اس کے پتے سبز ہوں گے اسکے پھل بھرپور ہوں گے بلکہ کئی گنا ہوں گے ۔
تُؤْتِیْ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا (ابراہیم:25)
اپنا پھل ہر وقت دے رہا ہے اپنے رب کے حکم سے ۔

اور اگر کسی نے یہ درخت تکذیب و نافرمانی کی کیاری میں اگایا اور اسے نفاق او رریا کا پانی دیا ۔ اس کی دیکھ بھال اعمال سیئہ و اقوال قبیحہ سے کرتا رہا اس پر گناہوں کی بارش برساتا رہا اس کو بے پروائی کی ہوا دیتا رہا تو اس کے پھل گر جائیں گے اس کے پتے جھڑ جائیں گے اس کا تنہ کمزور اور اس کی جڑیں ٹوٹ جائیں گی اس پر گناہوں کی آندھی آجائے گی اور اس درخت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی ۔
وَقَدِمْنَا اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَملٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَاءً مَّنْثُوْرًا (الفرقان:23)
ہم ان کے اعمال کی طرف بڑھیں گے جو بھی عمل ہوگا اور انہیں اڑتی ہوئی دھول بنادیں گے۔

اگر کوئی مسلمان اس کلمہ سے متعلق ان تمام گذشتہ باتوں کو مدنظر رکھتا ہے تو ا س کے لئے لازمی ہے کہ بقیہ ارکان اسلام کو بھی مکمل طور پر اپنائے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے :
بنی الاسلام علی خمس شھادة ان لا الہ الا اﷲ و ان محمدا رسول اﷲ و اقام الصلا ة و ایتاء الزکاة و صوم رمضان و حج البیت الحرام من استطاع الیہ سبیلا ومن کفر فان اﷲ غنی عن العلمین ۔
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ کی گواہی نماز قائم کرنا، زکاۃ دینارمضان کے روزے اور استطاعت ہوتوحج بیت اللہ جس نے انکار کیا تو اللہ تمام عالم سے بے پرواہ ہے۔(الدرر السنیۃ:2/112)۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s