ارکانِ توحید یعنی لاالٰہ الااللہ کے ارکان

رکن کی تعریف:۔جس کے عدم سے شئی کاعدم لازم آتا ہے مگر رکن کے وجود سے شئی کا وجود ضروری نہیں ہے رکن اور شرط میں فرق یہ ہے کہ رکن عمل کے اندر ہوتا ہے اور اس پر عمل کے صحت کامدار ہے جبکہ شرط عمل سے باہر ہوتا ہے اور اس پر عمل کی قبولیت و عدم قبولیت کی بنیاد ہوتی ہے رکن کی تعریف کے بعد ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کہ جس طرح نماز کے ارکان ہیں اور ان کے بغیر نماز نہیں جیسا کہ تکبیر تحریمہ، فاتحہ، سجدہ، رکوع، آخری تشہد، وغیرہ اسی طرح توحید کے بھی ارکان ہیں ۔
پہلا رکن: کفر بالطاغوت
دوسرا رکن: صرف ایک اﷲ پر ایمان لانا

اﷲ کا یہ قول اس پر دلیل ہے ۔
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْ بِاﷲِ فَقَدَ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثقٰی (البقرہ:256)
جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اﷲ پر ایمان لایاتو اس نے مضبوط کڑا تھام لیا مضبوط کڑے کو تھام لیا۔۔

کڑے سے مراد لا الہ الا اﷲ یعنی توحید ہے ۔
ایک صحیح حدیث ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا :
من قال لا الہ الا اﷲ و کفر بما یعبد من دون اﷲ فقد حرم مالہ ودمہ و حسابہ علی اﷲ عزوجل ۔
جس نے لا الہ الا اﷲ کا اقرار کیااور اﷲ کے علاوہ معبودوں کا انکار کر لیاتو اس کا مال، اسکی جان ، محفوظ ہے اور (قیامت میں)اس کا حساب اﷲ کے ہاں ہوگا ۔ (صحیح مسلم )

کفر بالطاغوت کا مطلب؟
کوئی بھی شخص اس وقت تک موحد نہیں کہلا سکتا جب تک وہ طاغوت کاانکار نہ کرے اور طاغوت کا انکار تبھی ممکن ہے جب انسان طاغوت کو پہچان لے کہ طاغوت ہے کیا چیز ؟لہٰذاہم کچھ تفصیل کے ساتھ اسکی تعریف کر دیتے ہیں ۔
لغت میں طاغوت طغیان سے مشتق ہے جس کا معنی ہے حد سے گذرنا جیسا کہ قرآن میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰکُمْ فِی الْجَارِیَةِ (الحاقہ11)
جب پانی حد سے گذر گیا تو ہم نے تمہیں چلتی کشتی میں سوار کرایا۔

شریعت میں طاغوت ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو سر کشی کرے حدود فراموش بنے اﷲ کے حقوق میں سے کسی حق کو اپنے لئے ثابت مانے یا اپنی طرف اسکی نسبت کرے اور خود کواﷲ کے برابر قرار دے (یاکسی چیز یا شخص کے لئے اﷲ کے حقوق ثابت مانے یا اسے اﷲ کے برابر و شریک قرار دے )
مزید وضاحت ہم اس طرح کریں گے کہ کوئی مخلوق تین امور میں سے کسی ایک کو اپنے لئے ثابت مانے وہ طاغوت ہے ۔
1۔ کوئی مخلوق اپنے لئے کوئی ایسا فعل ثابت مانے یا اپنی طرف منسوب کرے جو اﷲ کے افعال ہیں جیسے پیداکرنا ، رزق دینا، شریعت بنانا وغیرہ جو ان میں سے کسی کام کادعوی کرے وہ طاغوت ہے ۔
2۔ اﷲ کی صفات میں سے کوئی صفت اپنے اندر موجود مانے جیسے علم غیب وغیرہ ۔
3۔ کسی مخلوق کے لئے عبادت میں کوئی عبادت جیسے دعا، نذر، ذبح، قربانی، فیصلے، وغیرہ میں سے کوئی ایک قسم مانے تو یہ بھی طاغوت ہے یا ایسے کسی عمل پر خاموشی اختیار کرے اس سے بیزاری و براء ت کااظہار نہ کرے ۔
ان تینوں امور میں سے اگر کسی شخص نے ایک کو یا تینوں کو اپنی طرف منسوب کرلیا تو وہ طاغوت ہے
امام مالک رحمہ اللہ نے طاغوت کی تعریف اس طرح کی ہے ۔
والطاغوت ھو کل ما یعبد من دون اﷲ عزوجل (ابن کثیر)
طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت کی جائے اﷲ کے علاوہ ۔

یہ تعریف جو امام مالک رحمہ اللہ نے کی ہے سب سے عمدہ تعریف ہے کہ اسمیں ما سوی اﷲ جس چیز کی بھی عبادت کی جائے وہ شامل ہے ہر باطل معبود طاغوت ہے جیسے بت، قبر ،مزار، پوجے جانے والے پتھر، درخت، اور وہ احکام جو اﷲ کے حکم کے مقابلہ پر بنائے جائیں اور ان کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اس طرح وہ قاضی بھی طاغوت ہیں جو اﷲ کے احکام کے مخالف احکام کے مطابق فیصلے کرتے ہیں شیطان اور جادوگر ، کاہن و نجومی جو غیب کادعوی کرتے ہیں سب طاغوت ہیں اس طرح جو لوگ خود کو شریعت ساز سمجھتے ہیں حرام و حلال قرار دینے کا خود کو مجاز سمجھتے ہیں سب طاغوت ہیں ان کا انکار اور ان سے بیزاری و براء ت کا اعلان ضروری ہے یہی کفر بالطاغوت ہے۔
علامہ عبداﷲ بن عبدالرحمن ابابطین کہتے ہیں :
علماء کے اقوال سے یہ خلاصہ سامنے آتا ہے کہ لفظ طاغوت سے مراد اﷲ کے علاوہ ہر معبود ہے اور ہر وہ شخص یا عمل بھی جو باطل کی طرف دعوت دے یا باطل کو مزین کرکے لوگوں کو دکھائے اسی طرح ہر وہ حاکم و قاضی جسے لوگوں نے احکام جاہلیت )یعنی اﷲ و رسول ﷺ کے احکام کے علاوہ (کے احکام کے مطابق فیصلہ کرنے کیلئے مقرر کیاہواسی طرح کاہن، جادوگر بتوں کے محافظ و نگران جو لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتے ہیں اور وہ مجاور جو مزارات کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں سب طاغوت ہیں (مجموعۃ التوحید :1/183)۔
طاغوتوں کے سرغنہ
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔طواغیت بہت سارے ہیں مگر ان کے سرغنہ پانچ ہیں
1۔ شیطان جو غیر اﷲ کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے ۔
اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (یٰس:60)
اے اولادِ آدم کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ شیطانِ کی عبادت مت کرو یہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

2۔ ظالم حکمران جو اﷲ کے احکام کو بدلتا ہے فیصلے اپنی مرضی اور اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق کرتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ آمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ (النساء :60)
کیا آپ (ﷺ) نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو بزعم خویش آپ پر نازل کردہ )شریعت(اور آپ سے پہلے نازل ہونے والی شریعتوں پر ایمان لائے ہیں(مگر ان کا حال یہ ہے کہ )وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انکو حکم کیاگیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں ۔

3۔ جو اﷲ کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کر مخلوق کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اﷲُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (المائدہ:44)
جس نے اﷲ کے نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کئے تو وہ لوگ کافر ہیں ۔

شیخ کی مراد اس سے وہ قاضی و جج ہیں جو اﷲ کے احکام کو بدل کر اپنے احکام نافذ کرنے والوں کی مرضی کے فیصلے کرتا ہے ۔
4۔ جو علم غیب کادعوی کرتا ہے یا اﷲ کے علاوہ کسی اور کے لئے علم غیب کا قائل ہو ۔
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَداً(لجن :26)
)اﷲ( عالم الغیب ہے کسی کو اپنے غیب پر غالب نہیں کرتا۔

5۔ اﷲ کے علاوہ جس کی پرستش کی جائے اور وہ اس پر راضی ہو۔
وَمَنْ یَّقُلْ مِنْہُمْ اِنِّیْ اِلٰہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِکَ نَجْزَیْہٖ جَہَنَّمَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۔(انبیاء ۔29،مجموعۃ التوحید1/15)
ان میں سے جس نے کہا کہ میں اﷲ کے علاوہ معبود ہوں توایسے شخص کو ہم جہنم کی سزاء دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔

محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ آیت ولا یشرک بعبادة ربہ احداً(اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے )کے بارے میں فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب اس طرح سمجھنا کہ اس سے مکمل فائدہ حاصل ہو یہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو توحید ربوبیت اور توحید الوھیت میں مکمل تمیز کر سکتا ہو اور اس بارے میں لوگوں کے ان عقائد سے بھی واقف ہو جو وہ طواغیت کے بارے میں رکھتے ہیں اسی طرح وہ ان طواغیت سے بھی باخبر ہو جو اﷲ کی توحید ربوبیت میں خود کو شریک سمجھتے ہیں حالانکہ یہ شرک ایسا ہے جس تک مشرکین عرب بھی نہیں پہنچ سکے تھے اور ایسے شخص سے بھی واقف ہو جو خود تو طاغوت نہیں ہے مگر طاغوت کا تابع ہے اور ایسے شخص سے بھی واقفیت رکھتا ہو جو اپنے دین کے بارے میں شکوک میں مبتلا ہو اور محمد ﷺکی شریعت اور نصاری کے دین میں فرق نہیں کرسکتا۔
جو شخص ان تمام باتوں کی معلومات رکھتا ہے وہی دراصل توحید کی حمایت اور شرک کی مذمت والی آیات کا مفہوم و مطلب اچھی طرح سمجھ سکتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی سمجھا سکتا ہے۔ (تاریخ نجد ص506)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s