کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے تکفیری اور خارجی ہیں؟

فضیلۃ الشیخ حامد محمود حفظہ اللہ

سعودی علماء کے اہم فتویٰ کے ضمن میں کچھ فکر انگیز اور غور طلب نکات
عالم اسلام کے اطراف واکناف میں روز بروز یہ مسئلہ الحمد ﷲ مسلمانوں خصوصانوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنتا جارہا ہے کہ آج کے حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟مسلمان ان کو کیا سمجھیں اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں ؟شریعت میں جہاں اور حقوق وفرائض کی تفصیل ملتی ہے والدین ،زوجین ،پڑوسی ،رشتہ دار وغیرہ سب کے حقوق اورفرائض شریعت نے کھول کھول کر واضح کردئیے ہیں وہاں شریعت نے یہ رہنمائی کرنے میں بھی کمی نہیں چھوڑی کہ حکمرانوں اور رعایا میں تعلقات کی نوعیت کیا ہو اور ان دونوں کے حقوق اور فرائض کیا ہوں ۔مگر چونکہ فتوی دینے کے لئے صرف قرآن کی آیات اور سنت سے احادیث نکال لانا ہی کافی نہیں زمان اور مکان کا صحیح علم وادراک ہونا ضروری ہے اس لیے آج کے مسلمانوں کو ان کے معاشرتی حقوق وفرائض بتانے میں اور ان کے کرنے کا کام سمجھانے میں بہت سارے مخلص حضرات قرآن اور حدیث کے حوالے لے آنے کے باوجود کچھ غلطی ہائے مضامین کا شکارہوجاتے ہے۔موجودہ دور کے ان اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ وقت کے حکمرانوں کا بھی ہے کہ موجودہ دور کے حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے ۔
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ شریعت نے جو حقوق اور فرائض بتائے ہیں وہ مطلق نہیں ۔پڑوسی یا رشتہ دار کافر ہوں تو بھی شریعت میں ان کے حقوق ضرور ہونگے مگر ظاہر ہے وہی حقوق نہیں جو کہ ایک مسلمان رشتہ دار کے ہوسکتے ہیں ۔کوئی صاحب اگر حقوق الزوجین پر طویل وعریض تقریر کریں اور قرآن وحدیث سے مسلمان خاوند بیوی کے حقوق وفرائض زوجین پر سیر حاصل بحث کریں مگر بیچ میں سے ایک بات نظر انداز کرجائیں کہ جس واقع میں وہ فتوی صادر فرمارہے ہیں وہاں شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک کفر کا ارتکاب کرچکا ہے تو ان کی عزارت علم کے باوجود آپ ان کی فقاھت کے بارے میں کیا رائے رکھیں گے ؟
چنانچہ ایک عرصہ سے عالم اسلام میں جو سوال بار بار اٹھ رہا ہے اور عمومًا دین کی غیرت رکھنے والے نوجوانوں کی زبان پر رہتا ہے وہ یہ کہ موجودہ حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے اور مسلمانوں سے ان سے تعامل کی نوعیت کیا ہونا چاہیے۔جس کا جواب ہمارے ہاں علماء کی جانب سے عموماً یہ آتا رہا کہ مسلمان حکمرانوں کے حقوق وفرائض یہ یہ ہوا کرتے ہیں اور شریعت کی رو سے رعایا کے ان سے تعلقات ایسے ایسے ہونے چاہئیں ! یعنی سوال کچھ ہے تو جواب کچھ اور! یہی وجہ ہے کہ بار بار یہی سوال اٹھنے کے باوجود اور علماء کرام کی جانب سے باربار اس کا جواب آنے کے باوجود کسی کی تشفی نہیں ہوپارہی کیونکہ اس مسئلہ میں جتنی بھی آنکھیں چرائی جاتی رہیں یہ اپنی جگہ برقرار ہے اور علماء دین اور زعمائے امت سے جرا ء ت گفتار اور افضل الجہاد کا بدستور تقاضا کررہا ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کو کھل کربتائیں کہ موجودہ حکمران جو جانتے بوجھتے اور ہوش وحواس رکھتے ہوئے رب العالمین کی شریعت کو ایوان اقتدار سے بے دخل کرکے لاکھوں مربع میل کے ا ند ر کروڑوں انسانوں کی گردنوں پر صریحاً غیر اﷲکا حکم اور قانون چلاتے ہیں آیا مسلمان ہیں یا کافر ؟موحد ہیں یا مشرک ؟اورکیا مسلمانوں کو ان کی وفاداررعایا بن کر رہنا چاہیے اور (الدین النصیحۃ والی حدیث کے مطابق )ان کی خیر خواہی اور اعانت کرنی چاہیے(جو کہ اس حدیث کی رو سے آئمۃ المسلمین کا حق ہے )یا ان کے لیے شریعت کا کوئی اور حکم ہے؟اور کیا شرک کا ارتکاب کرنے کے باوجود بلکہ بار بار سمجھائے جانے پر بھی شرک کرتے رہنے کے باوجود کلمہ گوہونا ان کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے ؟ملک کے طول وعرض میں شرک کی تہذیب وثقافت ،کفر کا قانون اور استعمار کا دین پورے منظم اور باقاعدہ انداز میں رائج کرنے کے بعد بھی ان حکمرانوں کی کلمہ گوئی کا ڈھنڈورا پیٹا جانا شریعت میں کیا وقعت رکھتا ہے ؟اخباروں میں ان کے حج وعمرہ کرنے کی تصویریں چھپنے اور سیرت کانفرنسوں کے افتتاح کرنے کا امت کی صحت پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟؟
یہ ہے وہ اصل سوال جس پر مراکش سے انڈونیشیا تک پھیلا ہوا اور برسہا برس سے تہذیب کفار کے پنجوں میں گرفتار عالم اسلام چیخ چیخ کر زعمائے دین کو دعوت سخن دے رہا ہے ۔حالات کی تیزی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح اس سوال کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف جس انداز سے ابنائے اسلام میں دین کا شعور بڑھ رہا ہے ،لگتا ہے بہت دیر تک اس سوال کو سرد خانے میں پڑا رہنے دینا اب کسی کے بس میں نہ ہوگا ۔
سوال کا صحیح تعین ہوجا ئے تو شریعت میں اس کا جواب پانا کچھ مشکل نہیں ۔جو آدمی اﷲکی مخلوق پر اﷲکے حکم اور قانون کی بجائے اپنا حکم اورقانون چلائے وہ اﷲکا شریک اور ہم سر ہے ۔شریعت کی اصطلاح میں اس کو طاغوت کہا جاتا ہے ۔ایک طاغوت اور ایک مسلم حکمران میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔اگرچہ مسلم حکمران ظالم اور فاسق ہی کیوں نہ ہو۔ان دونوں کا حکم ایک کردینا کسی ظلم عظیم سے نہیں ۔
مگر چونکہ پاکستان میں لفظ طاغوت کا استعمال بڑی حد تک شرعی سے زیادہ سیاسی رہاہے اس لیے باوجود یہ کہ لفظ زبان زد عام ہے اس کا صحیح ادراک اور درست اطلاق بہت کم لوگ کرتے ہیں ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو کسی حکمران کو ناانصافی یا بدعنوانی یا عوانی آزادیاں سلب کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ قرار دینے کے لیے یا اس پر اپنا احتجاج واضح کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ۔حالانکہ ایسی حرکت کسی ظالم یا فاسق مسلم حکمران سے بھی ہوسکتی ہے مذہب خوارج کے برعکس جبکہ دوسری جانب ایسے نکتہ درحضرات ہیں جو حکمران کو جھٹ سے طاغوت کہہ دیتے ہیں مگر اسے دائرہ اسلام میں بدستور داخل بھی سمجھتے ہیں اور اس پر کفر یا شرک کا اطلاق کرنا خلاف ادب جانتے ہیں یہ حضرات طاغوت اور مسلم کے الفاظ کو قطعی متضاد نہیں سمجھتے حالانکہ شریعت کی اصطلاح میں طاغوت کسی شخص کے کافر یامشرک ہونے کی بدترین شکل ہے ۔ایک آدمی غیر اﷲکی بندگی کرکے بھی مشرک تو کہلاسکتا ہے مگرضروری نہیں کہ وہ طاغوت کے درجے کو بھی پہنچتا ہو۔
طاغوت وہ اس صورت میں قرار پائے گا جب وہ مخلوق سے خود اپنی ہی بندگی کرائے اور س پر اپنا حکم چلانے لگے شرک کے اس آخری درجے کو پہنچنے کے بعد ہی اس پر اس گھناؤنے لفظ کا اطلاق ہوگا چنانچہ جب آپ نے کسی کو طاغوت کہہ دیا تو اسے کافر اور مشرک کہنے میںآپ نے کوئی کسر ہی نہ چھوڑی۔بلکہ ایسا ویسا مشرک ہی نہیں آپ نے اس کو بدترین مشرک کہہ دیا ہے۔بشرطیکہ آپ اس لفظ کا مطلب جانتے ہوں ۔بلکہ تو یہ کہنا بہتر ہوگا کہ آپ اس کا تاحال مسلمان ہی قرار دینا چہ معنی دارد؟
عقیدہ توحید میں یہ مسئلہ بہت واضح ہے ۔گویا یہ مسئلہ مسلمان طبقوں میں عام کرنا اشد ضروری ہے ۔امت اسلام پر وقت کے باطل نظاموں اور مشرکانہ تہذیب وتمدن کی صورت میں لگ بھگ ایک ڈیڑھ صدی سے جو بدترین آفت مسلط ہے وہ امت کی پوری تاریخ میں اس برے انداز سے اور ایک بڑی سطح پر کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ایسے میں امت کے مخلص اور سنجیدہ ذہنوں میں بار بار یہ سوال اٹھنا ایک طبعی امر تھا کہ ان نظاموں کا شریعت میں کیا حکم ہے اور یہاں ارباب اختیار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟جس نے بھی دقت نظر سے شریعت میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی اسے ایک ہی واضح جواب ملا۔طاغوت ! نتیجتًا وقت کے حکمرانوں کا یہ شرعی لقب رفتہ رفتہ معروف ہوتا گیا ۔چونکہ امت کی تاریخ میں یہ مسئلہ ہی بالکل نیا تھا اس سے پہلے غیر اﷲکے حکم کو ملک کے طول وعرض میں باقاعدہ رسمی اور آئینی طور پرقانون عام کی حیثیت کبھی دی ہی نہیں گئی اور نہ کبھی تہذیب اور ثقافت میں کفار کی ایسی حرف بہ حرف اتباع کروائی گئی اس لیے حکمرانوں کا یہ لقب طاغوت سے بھی ظاہر ہے نیا ہی ہوسکتا تھا اور شریعت کی رو سے حکام وقت کی حیثیت بھی نئی ہی ہونی چاہیے تھی مگر یہ نئی بات ہوجانے پر کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہونا بھی ضروری تھے ہوتابھی کیوں نہ جہاں پڑھانے کے لیے ابھی تک فارسی کا ذریعہ استعمال ہوتاہو(حالانکہ برصغیر میں سوسال سے اس کی ضرورت مائل بہ زوال ہے)وہاں اتنی بڑی بات کو طرز کہن سے خروج کیوں نہ سمجھا جاتا !ان حضرات کو اس بات سے تو کچھ خاص غرض نہیں تھی کہ امت میں یہ مسئلہ سرے سے نیا ہے اور یہ کہ جب سے ہمارے حکمران فرنگ سے درآمد ہونے لگے ہیں یہ سوال ہی تب سے اٹھا ہے ۔البتہ احتجاج صرف اس بات پر ضروری جاناگیا کہ اس مسئلہ کا حل نیا کیوں ہے ؟یعنی اس کا بھی وہ پہلے والا حل کیوں نہیں دیا جاتا جو سلف کے دور میں رائج رہا اور بنوامیہ وبنوعباس سے لے کر سلاطین کے زمانے تک اورنیل سے لے کرکاشغر تک بھلے وقتوں میں مشاہیر اسلام کی زبان سے دیا جاتارہا!!!
رفتہ رفتہ ان معترضین نے یہ باقاعدہ مذہب اختیار کرلیا کہ وقت کے حکمرانوں کو طاغوت یا مشرک کہنا ۔حتیٰ کہ بعض کے نزدیک توان حکمرانوں کی خالی مخالفت کرنا اور اﷲکے عباد اور بلاد پر ان کی طاقت کا سکہ نہ چلنے دینا کی بات کرنا ہی ۔’سلف کے منہج کے خلاف ہے ‘!!! اور یہ کہ سلف کے منہج پر چلنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو ان حکمرانوں کے جنود میں شامل نظر آئیں !!یا کم ازکم بھی وہ لوگ ہیں جو اپنے ملک کے نظام سے کوئی سروکار نہ رکھیں!ان میں سے ’تحقیق‘میں آگے گزرنے والے اصحاب نے تو ان غیور مسلمانوں کے تانے ‘جو باطل نظاموں اور حکمرانوں کی وفادار رعایابن کر رہنے کیلئے تیار نہیں ،سیدھے خوارج سے جا ملائے اور عوام الناس میں ان کے لیے ’تکفیری‘اور ’خارجی‘کے الفاظ عام کیے ۔
اب بھلا ’سلف کے منہج کے خلاف ‘چلنے کی جراء ت کون کرے! آخر ایمان بچانے کی فکر کسے نہ ہو !پھر ایمان کے ساتھ جان بھی بچتی ہو تو حکمرانوں سے وفاداری سے انکار کی کیا دلیل ہوسکتی ہے !! یوں توحید کی فطرت پر چلنے والے غیور مسلمانوں کو علم کی مار دینے کی ایک اسکیم تیار کرلی گئی جو کہ حکمرانوں کی ایک اہم ضرورت تھی ۔گو اغلب یہی ہے کہ یہ ’دریافت ‘پہلے پہل حکمرا نوں کی فرمائش کے بغیر وجود میں آئی البتہ ظہور میں آجانے کے بعد تو اسے پذیرائی دلانے میں کسی کو مضائقہ بھی کیا ہو سکتا تھا! یوں بھی بڑے بڑے منصوبے حکومتی سرپرستی کے بغیر چلنے نہیں ہوتے ۔چنانچہ عالم عرب کے اندر مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے کہ منہج سلف کے ’سرکاری ترجمانوں ‘نے اصلاح کیلئے میدان میں اترنے والی ہر تحریک اور ہر شخصیت کا جینا دوبھر کررکھا ہے اور باغی ،بدعتی ،ایمان کیلئے خطرہ ،قابل قید ومشقت اور گردن زنی قرار دے رکھا ہے۔
یہاں ہمارے ان قارئین کو جو صرف اردو جرائد کا مطالعہ کرتے ہیں صورتحال کا اندازہ کرنے میں شاید کچھ مشکل پیش آرہی ہو۔جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں حاکمیت کی بحثوں نے ابھی وہ زور نہیں پکڑا جو عرب ملکوں میں ایک عرصہ سے دیکھنے میں آرہا ہے ۔خصوصاً وہ معرکہ آرائی جو پچھلے کئی سالوں سے سعودی عرب میں برپاہے اور شیخ سفر الحوالی اور شیخ ،سلمان العودۃ کی تقریر وتحریر کی محنت اور پھر آخر میں ان کی گرفتاریوں نے جو اس فضامیں مزید ارتعاش پیدا کردیا ہے اس کے تناظر میں علمی حلقوں کے اندر اس مسئلہ پر لے دے بہت بڑھ گئی ہے اور اس کی باز گشت اب پورے عالم عرب بلکہ عالم اسلام میں سنی جانے لگی ہے۔
اﷲکی شریعت کو پس پشت ڈال کر مخلوق کی شریعت کو قانون عام کا درجہ دینے والے یہ حکمران کفر کے مرتکب کہلانے سے صرف ایک صورت میں بچ سکتے تھے ۔۔۔۔یا بچائے جاسکتے تھے اور وہ یہ کہ ’ارجاء‘کے عقیدے کو امت میں عام کردیا جائے ،جبکہ وہ پہلے ہی بہت عام ہے اور اﷲکے دشمنوں کااب تک برسراقتدار رہنا اسی کا مرہون منت ہے ۔یہ ’ارجاء ‘کیا ہے ؟امت کی تاریخ میں ایک مشہور بدعت گزری ہے ۔بلکہ گزری بھی کیا مختلف شکلوں اور صورتوں میں اب تک چل رہی ہے اس کی رو سے آدمی عملاً شرک کرتے رہنے سے مشرک نہیں ہوتا صرف اس کا اعتقاد رکھنے سے ہوتا ہے ۔چنانچہ ایک کلمہ گو شرک اور کفر کا خواہ کوئی کام کرے ۔بس دل میں اس کو صحیح نہ سمجھے اور زبان سے اس کوحلال کہنے کی بھی حماقت نہ کرے تو وہ مسلمان اورموحد ہی گنا جائے گا !یعنی کفر اور شرک کے افعال بھی عام گناہوں کی طرح ایک گناہ ہیں اور محض ان کے عملی ارتکاب سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوسکتا ۔چنانچہ خوارج جہاں ایک انتہاء پر گئے اور عام گناہوں کے کاموں کو بھی افعال شرک کے ساتھ ملادیا وہاں یہ مرجۂ دوسری انتہاء پر گئے جنہوں نے افعال شرک وکفر کو بھی عام گناہوں کے ساتھ یکجا کردیا ۔
اصولی طور پر یہ دونوں گمراہیاں اس ایک مسئلہ پر ایک ہوجاتی ہیں کہ کفریہ اعمال اور عام گناہوں میں کوئی فرق نہیں !جبکہ اہل سنت کے نزدیک ان میں واضح فرق ہے ،جن افعال کو شریعت نے صرف گناہ اور فسق کہا ہے ان پر اصرار سے آدمی فاسق ہوگا اور جن افعال کو اﷲاور رسول کفر یا شرک کہیں ان پر اصرار کرنے سے وہ کافر اور مشرک ہوسکتا ہے ۔او ر یہ تو واضح ہے کہ اﷲکے قانون کی بجائے کوئی دوسرا قانون چلانے کو اﷲاور رسول نے کفر کہا ہے ۔
چنانچہ طاغوتوں کو ’اولی الامر ‘کا درجہ دلانے کے لئے ارجاء کے اس عقیدہ کا ایک نئے زور وشور سے ڈول ڈالا گیا ۔دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اس کا یوں غلغلہ کردیا گیا کہ آدمی اس سے واقعی سمجھ لے کہ شاید سلف اور اہلسنت کا یہی عقیدہ ہے اور حاکم بغیر ماانزل اﷲکوکافر کہنا بالفعل خوارج کا ہی مذہب ہے۔پاکستان میں بھی دھیمے سروں پر یہ نغمہ سننے کو مل جاتا رہا ہے تاہم عرب میں تو اس کا آہنگ اتنا اونچا رہا کہ کان پھٹنے کو آنے لگے ۔تصنیفات اور تالیفات کی بھرمار ہوئی اور ان کی اشاعت کا تو کوئی حد وحساب ہی نہ رہا ۔کچھ عرصہ بیشتر اس سلسلہ کی ایک اہم تصنیف ’’الحکم بغیر ماانزل اﷲواصول تکفیر‘‘سعود ی عرب میں بطور خاص مقبول کروائی گئی اور حکام کے ’پکا مسلمان ‘ہونے کے کے مسئلہ میں سلف اور اہلسنت کے منہج پر اتھارٹی قرار دی گئی ۔خالد بن علی العنبری نامی ایک صاحب کی یہ کتاب ،جو حکمرانوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی تھی ،لازمی تھا کہ علمی حلقوں میں بھی موضوع بحث بنتی کیونکہ اس میں بڑی بڑی باتیں سلف سے زبردستی منسوب کردی گئی تھیں ۔اس کتاب پر بھی تفصیلی روشنی تو کسی اور مضمون میں ڈالی جاسکتی ہے یہاں ہمارے لئے صرف اس کے مرکزی خیال کا ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا اور وہ اس لیے کہ مضمون کے اختتام پر اس کتا ب کے بارے میں سعودی علماء کا جو فتویٰ دیا جارہا ہے قارئین کو اسے سمجھنے میں آسانی رہے ۔چنانچہ اس کتاب کے بنیادی نکات یہ تھے ۔
۱۔ حکم بغیر ما انزل اﷲکا فعل کفر نہیں ،الا یہ کہ حکمران اس کو جائزاور حلا ل کہے ۔یعنی اس فعل کی فی نفسہٖ نوعیت باقی گناہوں جیسے ایک گناہ کی ہوگی۔
۲۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مصنف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی اس بات پر تمام اہل سنت کا اجماع ہے!
۳ ۔ پھر اس کی اس بات سے اختلاف رکھنا اس کے خیال میں خوارج کا عقیدہ ہے ۔
۴۔ چونکہ قاضی کا کسی ایک قضیہ میں بددیانتی یا بدعنوانی کے باعث خلاف شریعت فیصلہ دینا سلف کے ہاں کفر دون کفر (وہ چھوٹا کفر جس سے آدمی ملت سے خارج نہیں ہوتا)شمار ہوتا ہے اس لیے مصنف کے نزدیک تشریع عام بھی ویسا ہی ایک گناہ ہے یعنی مصنف کے نزدیک فہم سلف کی رو سے :
اس بات میں کہ اسلامی نظام کے اندر کوئی قاضی یاحاکم کسی ایک آدھ قضیے میں کسی ایک آدھ بار بددیانتی سے شریعت کے خلاف فیصلہ دیدے اور اس بات میں کہ ملک میں ایک خلاف شریعت امر کو باقاعدہ رسمی طور پر قانون عام (پبلک لاء)کا درجہ حاصل ہو اور عدالتوں میں اسے مرجع اور سند کی حیثیت دے دی جائے کوئی فرق نہیں ۔ہردوصورت میں حکمران بدستور مسلمان رہے گا !!
اتنے بڑے بڑے اور بے بنیاد دعوے ظاہر ہے کہ دن کی روشنی میں کام نہیں دے سکتے تھے ۔گو مصنف نے اپنے دعویٰ کے اثبات میں شرعی نصوص کے مفہومات اور علمائے سلف کے اقوال کو توڑمروڑ کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی (جیسا کہ فتویٰ کی عبارت میں بھی اس کی اس حرکت کی نشان دہی کی گئی ہے)مگر یہ کوشش اس کو فائدہ تو کیا دیتی الٹا اس کے لیے گلے کاپھندہ بن گئی ۔سمجھ دار لوگوں نے اس کے مدلل جواب تو لکھے ہی مگر انہوں نے اس کتاب کو سعودی کبار علماء کے سامنے رکھ کر ان سے اس پر فتویٰ کا تقاضہ بھی کیا ۔سعودی علماء کی کمیٹی برائے افتاء نے اس پر جو فتویٰ دیا وہ اردو ترجمہ سمیت یہاں دیا جارہا ہے ۔
سعودی باشاہت کے کثیر معاملات میں اسلام سے انحراف کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ وہاں کے علمی حلقوں میں بڑی حد تک شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کی دعوت کے علمی اصول اور قواعد ابھی تک مسلم ہیں ۔مذکورہ فتویٰ دینے والے علماء گو وہاں کی حکومت سے کسی نہ کسی انداز میں تعاون کرتے ہیں اور اس کیلئے جو وجوہات وہ اپنے پاس رکھتے ہونگے وہ ہمیں معلوم نہیں تاہم اس فتوی سے یہ ضرور واضح ہوجاتا ہے کہ نظریاتی سطح پر ابھی تک وہاں شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے پڑھائے ہوئے اصولوں کی دھاک سب پر کس طرح بیٹھی ہوئی ہے اور عملی سطح پر وہاں جو بھی صورت حال ہو کم ازکم علمی سطح پر ان اصولوں کی دھاک سب پر کس طرح بیٹھی ہوئی ہے اور عملی سطح پر وہاں جو بھی صورتحال ہو کم ازکم علمی سطح پر ان اصولوں سے انحراف کا چلن عام ہوجانا ہرگز اتنا آسان نہیں۔بہرحال اﷲتعالیٰ ان علماء کو اس فتویٰ پر جزائے خیر عطا فرمائے ۔
علاوہ ازیں ہمارا اس فتویٰ کو شائع اور عام کرنے کا ایک اور اہم سبب بھی ہے ۔
برصغیر میں ایک وقت تھا کہ علماء نجد کی دعو ت وفکر شدید تنقید اور مخالفت کا نشانہ بنی رہی ۔گو ایک طبقہ ابھی تک اس دشمنی پرقائم ہے مگر محمد بن عبدالوہاب ؒ کی کتابوں کی یہاں نشرواشاعت ہوجانے کے بعد اور پھر احناف اور اہلحدیث مدارس کے طلبہ کی ایک معتد بہ تعداد کے عرب جامعات میں پڑھ کر آنے سے صورتحال میں اب بہت فرق آچکا ہے ۔اور اب نہ صرف اس کے خلاف وہ پہلے والا تعصب کم ہوگیا ہے بلکہ طلبہ اورعلماء ومشائخ کا ایک قابل لحاظ طبقہ مشائخ نجد کے علمی ورثے کو وزن بھی دینے لگا ہے ۔مگر بدقسمتی سے ہمارے اس صالح ترین طبقہ میں عقیدہ کے جدید معاشرتی پہلوؤں نے تاحال وہ مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں کی جوان کا حق تھا ۔پھر یہاں کچھ لوگ ایسے بھی پائے جانے لگے جو حاکمیت کے مسئلہ کو بڑی حد تک غیر ضروری سمجھتے ہیں ۔کم از کم اس کو عقیدہ کا مسئلہ تسلیم کرنے پرتیار نہیں ۔اور چند ایک حضرات تو لاعلمی یا بے توجہی کے باعث اس بات کو خارجیت گردانتے ہیں کہ کوئی غیر اﷲکا قانون چلانے والے حکمرانوں کو طاغوت کہہ دے۔اور جو ایسا کہے اسے یہ قابل قدر حضرات ’تکفیری‘کا خطاب دیتے ہیں ۔غرض انہی باتوں کے تقریبا سوچے سمجھے بغیر قائل ہیں جو خالد العنبری کی کتاب میں سوچ سمجھ کر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔بہرحال اس صالح اورموحد طبقہ میں گو ایسے حضرات بہت زیادہ نہیں اور جو ہیں بھی تو وہ ہمارے خیال میں کسی بد دیانتی کی بنا پرایسا نہیں کرتے بلکہ اس کا سبب شاید ان کی بے توجہی اور اس مسئلہ پر پوری طرح غوروخوض نہ کیا ہونا ہے ۔
غرض اس طبقہ میں ایسے لوگ بھی کثیر تعداد میں ہیں جو حکم وقانون کے باب میں توحید کے زبردست پرچار کے قائل ہیں مگر پہلے نوجوانوں میں علمی وثوق پید اکرنے کو ضروری سمجھتے ہیں ،جو کہ ایک صالح سوچ ہے ۔
غرض اس پورے طبقہ کے لیے ہی سعودی علماء کا یہ فتویٰ یقیناًفکر انگیز ہوگا جو اس مسئلہ میں اصولی طورپر بہت واضح ہے کہ حکم بغیر ماانزل اﷲپر تکفیر کرنا دراصل خوارج کا نہیں بلکہ سلف اور اہلسنت کا منہج ہے اور یہ کہ اسے کافر قرار دینے کیلئے ہرگز یہ شرط نہیں کہ کہ وہ اپنے فعل کو زبان سے جائز اور حلال بھی کہتا ہو بلکہ یہ شرط لگانا اہلسنت کے مذہب کے خلاف ہے ۔۔۔بہرحال اپنے ان سب قابل احترام اساتذ�ۂکرام ،علماء ومشائخ اور طلبہ علم کے خصوصی استفادہ کیلئے بھی ہم نے یہ فتویٰ شائع کیا ہے ۔
عوام الناس کی سہولت کیلئے اس کا اردو ترجمہ بھی دے دیا گیا ہے ۔قارئین سے گزارش ہے کہ وہ علماء میں اسے زیادہ عام کردیں اور ان سے اس پر رائے طلب کریں ۔
اﷲتعالیٰ جلد وہ وقت لائے کہ دین توحید کو ان ملکوں اور خطوں میں ایک بار پھر عزت وسر بلندی نصیب ہو ۔
اللھم أبرم لھذہ الأمۃ امر رشد یعز فیہ اھل طاعتک ، ویزل فیہ اھل معصیتک ،
وےؤمر فیہ بالمعروف وینھی فیہ عن المنکر ، انک علی ما تشاء قدیر ۔
وصلی اﷲ علی نبیہ محمد و آلہ ۔

مملکت سعودی عرب
سربراہی برائے علمی تحقیقات وافتاء
جنرل سکریٹریٹ ‘کمیٹی برائے اکابر علماء
(فتوی نمبر)۴۵۱۱۲
ؤرخہ ۴ ۲ شوال ۰۲۴۱ھ
دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات وافتاء (اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمےۃ والافتاء)
کابیان بابت خالد علی العنبری کی تصنیف کردہ ایک کتاب بعنوان
’’الحکم بغیر ما انزل اﷲ واصول التکفیر‘‘
الحمد ﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ، وعلی آلہ وصحبہ ، وبعد
دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات وافتاء نے خالد العنبری کی تصنیف ’’الحکم بغیر ما انزل اﷲ واصول التکفیر‘‘ کا جائزہ لیا ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ اس کتاب میں اہلسنت وجماعت کے علماء کے جو حوالے دئیے گئے ہیں ان (کے نقل کرنے )میں علمی دیانت سے کام نہیں لیاگیا اور دلائل کے اس مفہوم میں تحریف کی گئی ہے جس کا عربی زبان اورمقاصد شریعت دراصل تقاضا کرتے ہیں ۔ذیل میں اس کی کچھ تفصیل ہے
۱۔ مصنف نے شرعی دلائل کے مفہوم اورمعانی میں تحریف کی ہے ۔اہل علم کی بعض تحریروں میں تصرف سے کام لیا ہے ۔عبارت کہیں یوں حذف کردی ہے اور کہیں انداز سے تبدیل کردی ہے کہ جس سے عبارت کی سرے سے مراد ہی اور نظر آئے ۔
۲۔ اہل علم کے بعض اقوال کی ایسی تفسیر کی ہے جو ان کا مقصود اورمراد ہی نہیں۔
۳۔ مصنف نے اہل علم پر جھوٹ بھی باندھا ہے جیسا کہ اس نے علامہ شیخ محمد ابراہیم آل شیخ رحمہ اﷲ سے وہ قول منسوب کردیا ہے جو انہوں نے کہیں نہیں کہا .
۴۔ مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ اہل سنت کا اس بات اجماع ہے کہ ایسا آدمی کافر نہیں ہوتا جو قانون عام میں اﷲکی نازل کردہ شریعت کے بغیر حکم چلائے الا یہ کہ وہ اس عمل کو دل سے جائز سمجھتا ہو یعنی یہ کہ یہ ان باقی گناہوں جیسا ایک گناہ ہے جو کفر تک نہیں پہنچے۔ حالانکہ یہ مذہب اہل سنت پر نرا بہتان ہے جو یا تو جہالت کا شاخسانہ ہے یا بدنیتی کا ۔اﷲاپنی عافیت میں رکھے ۔
مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر کمیٹی یہ رائے اختیار کرتی ہے کہ مذکورہ کتاب کی طباعت ،تقسیم اور فروخت ممنوعہ قرار دی جائے ۔مصنف کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ اﷲتعالیٰ سے توبہ کرے اور معتمد اہل علم سے رجوع کرے تاکہ ان سے علم حاصل کرے اور وہ اس کی غلطیوں کی اس نشان دہی کرکے دیں۔
اﷲسے دعا ہے کہ وہ سبھی کو اسلام اورمذہب سنت پر چلنے کی ہدایت اور توفیق عطافرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے ۔
وصلی اﷲ وسلم علی نبینا وآلہ وصحبہ
دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات وافتاء

دستخط صدر کمیٹی
عبدالعزیز بن عبداﷲبن محمد آل شیخ
دستخط رکن کمیٹی
بکر بن عبداﷲابوزید
دستخط رکن کمیٹی
عبداﷲبن عبدالرحمان الغدیان
دستخط رکن کمیٹی
صالح بن فوزان الفوزان
3
بسم اﷲالرحمن الرحیم
توحید دین کی بنیاد اور اساس ہے
کلمہ گومشرکین کے بارے میں شرعی حکم
الحمد ﷲ والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ۔
توحید ، دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے ۔اسی پر اسلام کے باقی تمام عقائد واعمال کی عمارت استوار ہے ۔اسلام میں داخلہ ،سب سے پہلے توحید کی پہچان اور اس کے اقرار سے ہی ہوتا ہے ۔انسان کے جنت وجہنم میں ہمیشہ نہ رہے کا دارومدار اسی توحید پر ہے ۔توحید کی بنیاد پر ہی تمام انسانوں کی تقسیم دوگروہوں میں ممکن ہے،ایک مؤمن ،دوسرا کافر ۔ہر ایک جن وانس کے لئے توحید کا اختیار کرنا لازم ٹھہرادیا گیا ہے۔اور کیوں نہ ہو،کائنات کی تخلیق اور جن واِنس کی پیدائش کی غرض وغایت توحید ہی تو ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِےَعْبُدُوْنِ ۔ [الذاریات:56]
’’میں نے جن وانس کومحض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔
ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ لِےَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۔ [ھود:7]
’’اﷲہی وہ (ذات) ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے ‘‘۔
اس توحید کے اقرار کو رب العالمین نے روزِ ازل میں ہی تمام انسانوں کی فطرت میں ودیعت کردیا تھا ۔تاکہ بعد میں کسی کے پاس توحید سے ناآشنائی کا بہانہ نہ رہے ۔
وَاِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ أٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَأَشْھَدَھُمْ عَلآی أَنْفُسِھَمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھَذَا غٰفِلِےْنَ ط أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَآ أَشْرَکَ أٰبَآ ؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّےَۃً مِّنْ م بَعْدِھِمْ أَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ط وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الأٰےَاتِ وَلَعَلَّھُمْ ےَرجِعُوْن۔ [الاعراف]
اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں انہی کی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟سب نے کہا کیوں نہیں ہم سب گواہ ہیں ۔تاکہ تم قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے بالکل بے خبر تھے ۔یا یوں کہنے لگوکہ شرک تو پہلے سے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے ۔تو کیان ان غلط کاروں کے کام پر توہمیں ہلاکت میں ڈالے گا؟
پھر اﷲتعالیٰ نے انسان کو عقل وشعور اور ہوش وخرد مندی کی بے بہا دولتوں سے مالا مال کیا ۔اور کائنات میں جگہ جگہ چاند ،سورج ،ستاروں ،پہاڑوں ،سمندروں ،درختوں اور دیگر بے شمار مظاہر کی شکل میں اپنے یکتا وجود کے لیے گواہیاں قائم کیں ۔بلکہ خود انسان کے وجود کو اپنی پہچان کے لیے ایک نشانی بنایا
سَنُرِےْھِمْ اٰےٰتِنَا فِی الْأَفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی ےَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقّ ۔ [حٰآ السجدۃ :53]
’’عنقریب ہم انہیں کائنات میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور خودان کی اپنی جانوں میں ،یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے‘‘۔
ربِّ رحیم وکریم کے بے پایاں رحم وکرم نے اسی پر بس نہ کیا ،بلکہ اس نے ہردور میں اپنے انبیاء ورسل قوموں کی طرف بھیجے ،تاکہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اپنے اصل معبود کی طرف پلٹ آئیں ۔
وَمَآ أَرْسَلْنٰکَ مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیٓ اِلَےْہِ أَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ۔ [الانبیاء:25]
’’آپ سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجا ‘‘اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ،پس تم میری ہی عبادت کرو‘‘۔
اِن انبیاء علیہم السلام کی بعثت ،اﷲکی جانب سے اپنے بندوں کے لئے رحمت خاص ہے ،تاکہ اﷲکی طرف ان پر پوری حجت تمام ہوجائے ۔ورنہ اﷲتک پہنچنے کا راستہ غوروفکر کرنے والوں کے لیے پہلے بھی صاف تھا ۔
رُسُلًا مُّبَشِّرِےْنَ وَمُنْذِرِےْنَ لِءَلَّا ےَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اﷲِ حُجَّۃً م بَعْدَ الرُّسُل ۔ [النساء:165]
’’(ہم نے بھیجے)رسول ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے ،تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد اﷲپر لوگو ں کیلئے کوئی حجت باقی نہ رہے ‘‘۔
لوگوں پر اﷲکی یہ حجت نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم ہوجانے کے ساتھ خود بھی پوری ہوچکی ہے ورنہ مذکورہ آیت کامتضاد لازم آئے گا ۔اب آخری نبی محمد صلی اﷲعلیہ وسلم کی نبوت پوری دنیا اور رہتی دنیا تک کیلئے ہے۔لہٰذا کسی غیر مسلم کو اسلام کے بنیادی دعوے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کے متعلق خبر لگ جائے اس کے لئے یہی اتمام حجت ہے ۔باقی اس کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ خود تحقیق کرے اور جستجو اور غوروفکر سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرے ۔جیسا کہ ایک حدیث پاک میں وارد ہے کہ اﷲکے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ،اس امت کا کوئی یہودی یا نصرانی میرے متعلق سن لے اور جس چیز کے ساتھ میں بھیجا گیاہوں اور اس پر ایمان نہ لائے ،وہ جہنمی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)
پھر ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہونا چاہیے جو ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں اسلامی تعلیمات عام ہیں اور قرآن وسنت تک رسائی بہت آسان ہے ۔اور وہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں ،نماز پڑھتے ہیں ۔زکوٰۃ دیتے ہیں ،روزے رکھتے ہیں ،حج بھی کرتے ہیں ،ان سب کے باوجود ان کے عقائد اور اعمال توحید سے قطعاً متصادم اور اسلام کے بالکل الٹ ہیں ؟
مقام صد افسوس ہے کہ آج کل بیشمار ’’کلمہ گو‘‘مسلمانوں کی صورتحال بالکل ایسی ہی ہے۔یعنی دعویٰ اسلام کا اور عقائد اعمال اسلام کے بالکل الٹ ۔اور وہ بھی ان ممالک اور شہروں میں جو ’’اسلامی ‘‘کہلاتے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ کلمہ ‘شرک کو شرک اور کفر سمجھ کرکررہے ہوتے ہیں ۔کہ جس طرح جھوٹ ،غیبت ،چوری یا شراب نوشی وغیرہ کے بارے میں ان کا رویہ ہوتاہے کہ وہ انہیں گناہ سمجھنے کے باوجود بشری کمزوریوں کے ان گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،یا ہوسکتے ہیں ۔کیونکہ شرک تو ایسی چیز ہی نہیں جس کا بشری کمزوری سے کوئی تعلق ہو۔ثانیاً،ایک مسلمان سے،چاہے وہ کتنا ہی گنہگار ہو ،شرک کا صدور ہی ناممکن ہے ،کجہ یہ کہ وہ اسے شرک سمجھ کر کرے (بشرطیکہ وہ واقعی مسلمان ہو ،یعنی اس نے توحید اور شرک سمجھ کر اسلام کو اپنا رکھاہو)گویا کوئی اسلام کا دعویدار اگر کسی شرک کا مرتکب ہو تو اس کا اسلام ہی مشکوک بلکہ غیر معتبر ٹھہرتا ہے ۔یعنی ایسے شخص کو مسلمان ہی نہیں سمجھنا چاہیے ۔حقیقت میں ایک شخص توحید کو قبول اور شرک کو رد کرکے ہی تو مسلمان بنتا ہے ۔توحید کو دل وجان سے قبول کرنا اور شرک کو رد کرنا دونوں لازم وملزوم ہیں ۔تو جس شخص نے شرک کا ارتکاب کرلیا اس نے شرک کو رد کیا اور توحید کو کیسے قبول کیا ؟نیز ایسا شخص مسلمان کس طرح ہوا کیونکہ مسلمان تو کہتے ہی اس کو ہیں جو توحید پہ قائم رہے اور شرک نہ کرے ۔اگر یہ کہا جائے کہ اس نے یہ شرک ،شرک سمجھ کر یا جان بوجھ کر تھوڑا ہی کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ شرک کو شرک سمجھ کر یا جان بوجھ کر شرک کرتا ہی کون ہے؟؟ ’’کلمہ گو‘‘مسلمان تو ایک طرف رہے اور یہ جو دنیا بھر کے ہندو ،عیسائی اور یہودی ہیں اگر انہیں پتہ چل جائے (اسی طرح کہ جس طرح ہم اور آپ جانتے ہیں)کہ ان کا فلاں فلاں فعل ’’شرک ‘‘کہلاتا ہے اور ایسا اور ویسا گناہ ہے ،تو کون سا ہندو،یا عیسائی اور یہودی ایسا ہوگا جو اس فعل کا اعادہ کرے گا ؟بلکہ جو کلمہ گو بعد میں موحد ین کی جعوت اور اﷲکی توفیق سے شرک کو سمجھ کر اس سے تائب ہوجاتے ہیں ،ان میں سے کتنے ایسے ہونگے جو دوبارہ شرک کرلیتے ہوں؟جب کہ انہی تائب ہوجانے والوں میں سے بعض سے کچھ نہ کچھ دوسرے گناہوں کا ارتکاب اب بھی ہوتا ہوگا ،چاہے یہ گناہ کم ہوں یا برابر ،جیسے جھوٹ ،غیبت ،چغلی اور دیگر فسق وفجور وغیرہ۔کیونکہ یہ گناہ بشری کمزوری کے تحت صادر ہوتے ہیں اوران پر کفر واسلام کا مدار نہیں ہے ۔جب کہ شرک بشری کمزوری کے تحت واقع نہیں ہوتا اور اس پر ہر شخص کے کفر واسلام کامدار ہوتا ہے ۔اور ہرمسلمان چاہے وہ کتنا ہی گناہگار ہو،ایسے گناہ سے جو اس کے علم کے مطابق اسلام سے خارج کردینے والا ہوتا ہے ،مکمل طور پر بچنے کا خواہشمند ہوتا ہے ۔
بناء بریں یہ واضح ہوجانا ضروری ہے کہ یہ صرف کہہ دینے سے کہ میں اﷲپر ایمان لایا ہو ں ،میں نے توحید کو اپنالیا اور شرک کو ٹھکرادیا ،کسی شخص کا ایمان مستحکم اورمعتبر نہیں ہوجاتا جب تک کے ایمان کے مطلب اور توحید اور شرک کے مفہوم کواچھی طرح جان کر ان کے تقاضوں پر عمل پیر انہ ہوجائے ۔کسی شرک کرنے والے کا شرک کو نہ سمجھنا ہی اس کی اصل غلطی ہے ۔کیونکہ شرک کے رد کیلئے پہلے شرک کی اچھی طرح پہچان ضروری ہے جس نے شرک کو سمجھا نہیں وہ اسے رد کیسے کریگا ۔بلکہ اس سے بچے گا کس طرح ؟الغرض عقائد میں الفاظ سے زیادہ مفاہیم اورمعانی معتبر ہوتے ہیں ۔ان مفاہیم کو سمجھ کر ان کے تقاضوں کو اختیار کرلینے سے آدمی دین میں داخل ہوتا ہے ،نہ کہ صرف الفاظ ادا کرلینے سے یا کلمہ پڑھ لینے سے ۔
دین کے بنیادی عقائد کے سلسلہ میں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ایسے علاقے میں جہاں دین کی تعلیم عام ہو اور ہرمکتبہ فکر کی کتب اور کیسٹس وغیرہ بہ آسانی دستیاب ہوں ،یا ان کی مساجد قریب ہوں ،جنکے ذریعہ سے ان کے نظریات ودلائل معلوم کئے جاسکتے ہوں ، وہاں لوگو ں پر حجت تمام کرنا ضروری نہیں ،کیونکہ عوام الناس میں ان کے اپنے مولویوں اور پیروں یاآباء واجداد وغیرہ کے ذریعے یہ پہلے سے مشہور ہوتا ہے کہ فلاں فلاں گروہ (مثلاً وہابیہ)کے یہ اور یہ عقائد ہیں ۔تو جبکہ ایسے لوگوں کے پاس قرآن وسنت موجود ہے ،تو ان پر لازم ہے کہ وہ خود تحقیق کریں کہ حق کس کے پاس ہے ۔الشیخ العلامۃ اسحاق بن عبدالرحمن بن حسن بن شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہم اﷲاپنے رسالہ حکم تکفیر المعین والفرق بین قیام الحجۃ وقہم الحجۃ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲکے حوالے سے لکھتے ہیں :
من بلغہ القرأن فقد قامت علیہ الحجۃ ۔
یعنی’’جس تک قرآن پہنچ گیا ،اس پر حجت تمام ہوگئی ‘‘۔
اب یہ خوداس اسلام کے دعویدار کا فرض ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں تحقیق کرے ،مختلف علماء وغیرہ سے دلائل کے ساتھ استفسار کرے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ۔کیونکہ دین کا بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔خاص طور پر بنیادی عقائد کا علم ۔اگر وہ شخص ایسا نہیں کرتا تو وہ دین سے اعراض کرتا ہے(منہ موڑتا ہے)جو بجائے خود ارتداد ہے۔ایسی جگہ رہنے والے کسی شخص یا گروہ سے جب کوئی شرکیہ یا کفریہ فعل ظاہر ہوتو تو اس شخص یا گروہ کی تکفیر میں حجت تمام کرنے کا شبہ رکاوٹ نہیں بننا چاہیے کیونکہ یا تو ان لوگوں کو موحدین کے عقائد کا علم ہوتا ہے ۔تبھی وہ ان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوتے ہیں۔اس صورت میں اتمام حجت کس چیز کی کی جائے ۔یا پھر وہ خود ہی دین سے اس قدر دور ہوتے ہیں کہ قرآن وسنت تک رسائی کے باوجود ان سے رجوع کرنا ہی گوارا نہیں کرتے ۔ایسے لوگوں کو حتی المقدور ،دلائل وبراہین کے ساتھ توحید کی دعوت اور شرک سے بچنے کی نصیحت کرتے رہنا چاہیے ،جو کہ امر بالمعروف ،نھی عن المنکر اور تبلیغ دین کا حصہ ہے نہ کہ اتمام حجت کا ۔اگر اسلامی حکومت ہو تو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲکے فتاویٰ کے مطابق ان لوگوں کو ان کے شرکیہ عقائد سے توبہ کرانی چاہیے ،وگرنہ مرتد ہونے کے سبب سے انہیں قتل کردینا چاہیے۔
ایک شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم کسی کلمہ گو کو مشرک نہیں کہہ سکتے ،کیونکہ اﷲنے اہل کتاب کو قرآن میں مشرک نہیں کہا بلکہ مشرکین سے الگ ذکر کیا ہے ۔پھر ہم قرآن جیسی کتاب کے حاملین کو کیونکر مشرک کہہ سکتے ہیں ۔اس کی مثال میں سورۃ بینہ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے :
لَمْ ےَکُنِ الَّذِےْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِےْنَ مُنْفَکِّےْنَ حَتّٰی تَأتِےَھُمْ البَےِّنۃُ۔ [البینۃ:1]
’’اہل کتاب کے کافر لوگ ،اور مشرکین باز رہنے والے نہ تھے ،جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آگئی‘‘۔
یہ ایک ایسا سطحی اعتراض ہے جو قرآن کو محض سرسری نظر سے پڑھنے والا ہی کرسکتا ہے ۔ورنہ اسی آیت میں اہل کتاب کو کافر کہا گیا ہے ۔ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اہل کتاب کافر ہیں یا نہیں؟ظاہر ہے کوئی ہوشمند مسلمان اس کا جواب نفی میں نہیں دے سکتا ۔پھر جب اہل کتاب کافر ہیں تو آخر ان کے کفر کی اصل وجہ کیا ہے ؟قرآن نے جو وجہ بیان کی ہے وہ کچھ یوں ہے :
وَقَالَتِ الْےَھُوْدُ عَزَےْرُ نِابنُ اﷲِ وَقَالَتِ النّصٰرَی الْمَسِےْحُ ابْنُ اﷲِ ۔ [التوبۃ : 30]
’’وہ لوگ (یعنی عیسائی )کافر ہوئے جنہوں نے کہا ،اﷲتین میں کا تیسرا ہے‘‘
بتائیے اﷲکے لئے اولادماننا اور کسی کو اﷲکا ہم سر تسلیم کرنا بھی شرک نہیں ہے تو پھر شرک کسے کہتے ہیں ؟اور ایسے گھناؤنے شرک کے بعد بھی کوئی انسان مشرک نہیں ہو تا تو آخر کب ہوتا ہے ؟کہ جس کے متعلق اﷲخود فرماتا ہے :
قریب ہے کہ (ان کے )اس (قول) کے باعث آسمان پھٹ پڑیں ،زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں ۔کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا‘‘۔ (مریم:90۔91)
رہی یہ بات کہ اﷲنے قرآن میں اہل کتاب کا ذکر مشرکین سے علیحدہ کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب (یہود ونصاریٰ )اورمجوس وغیرہ کی باقاعدہ اپنی شریعتیں اورمناہج تھے جن کے پیروکار تھے لہٰذا ان کو انہی سے منسوب کرکے پکارا گیا ۔جب کہ مشرکین مکہ کی کوئی باقاعدہ شریعت نہیں تھی ،نہ وہ دین ابراہیمی کے پیروکار تھے ۔نہ کسی اور کی تعلیمات پر عمل پیر اتھے ۔وہ بس بت پرست تھے اور اس میں بھی ان کا کوئی خاص منہج نہ تھا ۔وہ بسا اوقات استنجے کے ڈھیلوں کی پوجا پوجا بھی کرنے لگ جاتے تھے ۔اسی لیے ان کو مطلقاً مشرکین کے طور پر ذکر کیا گیا ۔واﷲاعلم بالصواب۔
درحقیقت کافر اور مشرک کوکافر سمجھنا اور کہنا دین کا بہت اہم مسئلہ ہے ۔کیونکہ کفار ومشرکین سے قطع تعلق برأت اور دشمنی کرنا فرض ہے ۔اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب کسی کافر یا مشرک کو واقعی کافر سمجھا جارہا ہو۔چاہے وہ اسلام کا دعویدار ہو یا نہ ہو ۔اس کے علاوہ کافر یا مشرک کا کافر نہ سمجھنا تقریبا ایسا ہی ہے جیسے کفرکو کفر اور شرک کو شرک نہ سمجھنا ۔اور یہ چیز بجائے خود ایک کفر ہے ۔اسی لیے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ تعالیٰ نے جو نواقضِ اسلام (اسلام کو توڑ دینے والے امور )بیان کئے ہیں ،ان میں تیسرا نواقضِ اسلام یہ ذکر کیا ہے:
’’جو مشرکین کی تکفیر نہ کرے ،یا ان کے مذہب کو صحیح گردانے (وہ بھی کافر ہے)‘‘۔
مزید وضاحت کیلئے ہم مجوعۃ التوحید سے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کے صاحبزادگان رحمہم اﷲکاایک فتویٰ نقل کرتے ہیں تاکہ اہل نظر کیلئے باعث نصیحت ہو۔
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲکی اولاد سے سوال کیاگیا کہ :کیا فرماتے ہیں آپ اس شخص کے متعلق جو مسلمان ہے اور اسلام کی محبت سے سرشار ہے ،لیکن مشرکین سے عداوت نہیں رکھتا ۔یا ان سے دشمنی تو کرتا ہے مگر انہیں کافر نہیں گردانتا یا یوں کہتا ہے کہ میں خود تو مسلمان ہوں لیکن لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہنے والوں کی تکفیر نہیں کرسکتا اگرچہ وہ اس (کلمہ )کے معنی سے واقف ہی نہ ہو ۔اور (اسی طرح)ایک شخص دین اسلام میں داخل ہوچکا ہے اور اس سے محبت رکھتا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میں مزارات وغیرہ کو غلط نہیں کہتا ۔اگرچہ میں جانتا ہوں کہ یہ مزار ات وغیرہ )نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے ،مگر میں ان کی تردید نہیں کرتا ‘‘۔
جواب: ’’کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوگا جب تک توحید کو پہچان کر اس کے تقاضوں پر عمل پیرا نہ ہوجائے ۔ساتھ ہی ساتھ وہ اﷲکے رسول ﷺکی باتوں پر ایمان رکھتا ہو ،اور آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرتا ہو ،اورقرآن پر اور آپ ﷺ کی باتوں پر ایمان رکھتا ہو ،اور آپ ﷺ کے احکامات اورمنع کردہ باتوں میں آپ کی اطاعت کرتا ہو ۔تو جو شخص یہ کہتا ہوں کہ مشرکین سے عداوت نہیں رکھتا ،یا وہ ان سے دشمنی تو کرتا ہومگر ان کی تکفیر نہیں کرتا ۔یایوں کہئے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہنے والے اگر کفریہ اور شرکیہ افعال بھی کریں اور اﷲکے (اصل)دین سے دشمنی رکھیں تب بھی میں ان کی تکفیر نہیں کرتا۔یا یوں کہے کہ میں مزارات وغیرہ کی تردید نہیں کرتا ۔تو ایسا (کہنے والا )شخص تو مسلم نہیں ہوسکتا ۔بلکہ یہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے :
وَےَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنُکَّفُرُ بِبَعْضٍ وَّےُرِےْدُوْنَ اَنْ ےَتَّخِذُوْا بَےْنَ ذٰلِکَ سَبِےْلْا ، أُولٰءِکَ ھُمُ الکٰفِرُوْنَ حَقًّا وَّ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرےْنَ عَذَابًا مُھِےْنًا ۔ [النسآء : 150۔151]
یعنی ’’اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کچھ (باتوں)کو تومانیں اور کچھ کو نہیں مانیں گے۔اور وہ لوگ اس کے درمیان میں ایک (نئی )راہ نکال لینا چاہتے تھے ۔یہی لوگ پکے کافر ہیں۔اور ہم نے کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
(دیکھئے مجموعۃ التوحید ،ص 400,401مطبوعہ دارالفکر ،بیروت)
زیر نظر رسالہ کشف الشبہات فی التوحید کا اردو ترجمہ ہے ،جو شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲتعالیٰ کی بلندپایہ اور لاجواب تصنیف ہے۔اس مختصر اورجامع رسالہ میں شیخ الاسلام رحمہ اﷲنے توحید سے متعلق عوام اور خواص میں پھیلے ہوئے شبہات دور کئے ہیں اور اپنی مربوط کو دونکات پر مرکوز کیا ہے:
(۱) شرک کی صحیح تعریف ،اور یہ کہ ہر دور میں اصل شرک اولیاء وصالحین کو بطور وسیلہ پکارنا اور ان سے مدد مانگنا ہی رہا ہے ،نہ کہ محض لکڑی پتھر کے بتوں کو پوجنا ۔
(۲) کلمہ گو مشرکین کی شرعی حیثیت اور ان کی شرعی حیثیت اور ان کی مشرکین مکہ اورمسیلمہ کذاب کے پیرکاروں کے ساتھ مناسبت۔
اَلَّلھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اِتّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ وَارْزُقْنَا اجْتِنََبَہُ ۔
اے اﷲ،ہمیں حق کو حق کرکے دکھا اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطافرما ،اور ہمیں باطل کو باطل کرکے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ۔یارب العالمین۔

کشف الشبہات کتاب کا آن لائن مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں ……….. 3
عبداﷲبن عبدالمالک

افضل الذکر لاالہ الااﷲ
(سہ ماہی ایقاظ سے)
اﷲکے دین کی حقیقت معلوم ہونا انسان کے لئے دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہوسکتی ہے !یہ ’دین‘کیا ہے جس کی حقیقت معلوم ہونا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے ؟وہ سب جذبات جو بندگی اور پرستش کے الفاظ سن کر آپ کے تخیل میں سماسکیں وہ سب احساسات جو کسی بڑی طاقتور ہستی کا شدید خوف آنے سے دل پر کبھی گزرجائیں ایسی وارفتگی جو کسی کی چاہت اورمحبت میں سب کچھ بھلا دے۔ایسی عاجزی اور حاجتمندی جو انسان کو اپنی سکت سے بے خبر کردے ۔وہ کیفیت جو وفا اور رضا جوئی کی انتہاء ہو اور د ل میں آپ سے آپ موجزن ہو۔ایسا کردار جس میں اطاعت اور فرمانبرداری مجسم ہوکر انسان کی شکل دھار لے ۔۔۔۔۔۔’دین‘ حقیقت میں خشیت اور محبت کا ایک ایسا ہی بے اختیار جذبہ ہے ۔بندگی کا ایک لطیف احساس ہے اور کردار کی ٹھوس حقیقت !
اتنی وسعت اور گہرائی تو ابھی لفظ ’دین‘کی ہے! مگر جب یہ ’دین‘اﷲوحدہ لاشریک کے لیے ہوجائے تو پھر اس کی وسعت کی کوئی انتہانہیں رہتی ۔اس کیفیت کی تعبیر کے لئے تب انسان کے پاس تکبیر اور تسبیح کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا !جتنا بڑا معبود ہوگا اتنا ہی بڑا تعارف ہوگا !اب اﷲسے بڑا کون ہے؟زمین میں یا آسمانوں میں؟وہ تمام جہانوں کا رب ہے جو کچھ نظر آتا ہے جو بڑی سے بڑی چیز ذہن کو متاثر اور مرغوب کرسکتی ہے ،اس کی ہے جس ہولناک سے ہولناک مخلوق کا دل پر خوف اور لرزہ طاری ہوسکتا ہے اس کی ہے اور اس کے عذاب سے پناہ مانگتی ہے جو حسین سے حسین چیز کہیں پائی جاسکتی ہے اور لذت ولطف کی انتہا کہلاسکتی ہے اس کی قدرت کا کمال ہے پھر اس کی قدرت میں صرف یہی نہیں اس سے بڑھ کر اور بہت کچھ ہے ۔۔۔۔۔اتنا کچھ کہ جو نظر آتا ہے عقل میں سماتا ہے وہ اس کے سامنے کچھ نہیں جو نظر سے اوجھل ہے اور عقل پر بھاری ہے اس کی عظمت کے آگے تو بس سجدہ ہوسکتا ہے صرف ماتھا دھرا جاسکتا ہے تخیل اور عقل کواس کا احاطہ کرنے کیلئے نہیں اس کو سجدہ کرنے کے لئے وجود ملتا ہے ! انسان اس کی کبریائی کو صرف اپنی عاجزی کا واسطہ دے سکتا ہے ایک انسان ہی کیا زمین وآسمان کی ہر مخلوق اس کے لطف ورحمت کو اپنی ذات اور لاچاری ہی کا واسطہ دیتی ہے ۔
اتنے بڑے معبود کی پہچان کتنی بڑی ہوگی !اس کی صفات کا احاطہ کربھی کون سکتا ہے !اور اس کی عظمت کا اعتراف تو ہوبھی سکتا ہے !لوگ تو اپنے چھوٹے چھوٹے اور حقیر معبودوں کی تعظیم سے سیر نہیں ہوتے وطن کے گیت گاتے نہیں تھکتے ۔قوم کی ترقی کا درد نہیں چھوڑتے ۔ملک کے استحکام پر جان دے دیتے ہیں ۔آزادی پر تو قومیں اپنی نسلیں وار دیتی ہیں ۔انسانی حقوق کی راہ میں قربانیاں ایک انسان کو امر کر جاتی ہیں ۔اور لوگ اس کے فنا ہوجانے کے بعد اس کے مجسمے تک پوجتے ہیں لوگ جمہوریت کی بحالی کے لئے ’شہید ‘ہوتے ہیں ۔کرکٹ میچ ہارنے جیتنے پر لوگوں کو دل کے دورے پڑجاتے ہیں ۔سیاسی اور فلمی ستاروں کی موت پر غشیاں پڑنے لگتی ہیں ۔قبیلے ،برادری اور ملک کی جنگ میں مائیں اپنے سپوت پیش کردینا ہر دور میں باعث شرف سمجھ لیتی رہی ہیں ۔قوم کے محسنوں کو زندہ وپائندہ باد کے نعروں سے صبح وشام عقیدت کا خراج پیش کیا جاتا ہے ۔وطن کے پرچم کو ’ایڑی چوٹی‘کے پورے زور سے سیلوٹ ہوتا ہے اور قومی تفاخر کے مواقع پر اس کی مورتی (مورتی صرف جاندار کی حرام نہیں اﷲکے سوا جس چیز کی تعظیم ہو اس کی مورتی حرام ہے مثلا صلیب جاندار نہیں ،کمیونسٹوں کا ہتھوڑا اور درانتی جاندار نہیں مگر شرک ہے) دل کے پاس سینے پر سجائی جاتی ہے ۔پتھر اور لکڑی جیسی حقیر چیزیں بھی اگر قومی یادگار وں میں استعمال ہو جائیں تو ان کے تقدس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ایسے پتھر اورلکڑی کے لیے توڑنے یا گرانے کے لفظ تک حرام ہوجاتے ہیں کسی بھی قوم کے ہیرو یا ملک کے بانی کی توہین ہوجائے یا س کے بت کی بے حرمتی اس پر جلوس نکل سکتے ہیں اس کے لیے معمولی نازیبا الفاظ کے استعمال پر قیامت برپا ہوسکتی ہے ۔اگرچہ رب العالمین کے ساتھ صبح وشام وہاں کیسا بھی کفر اور بغاوت ہوتی رہے ۔ایک ہاتھ پیر ہلانے سے عاجز بزرگ کی پس مرگ زیارت کے لیے ہزاروں میل کا سفر پاپیادہ کرکے عقیدت کا ’ادنی‘سا اظہار کیا جاتا ہے ایک مردے کی قبر کی توسیع کیلئے آدھا شہر اٹھادیا جاتا ہے اورایک مٹی میں ملے معبود کی خوشی کی خاطر ہزاروں زندوں کا نقصان خوشی خوشی جھیلنا سعادت سمجھی جاتی ہے۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان جھوٹے اور حقیر معبودوں کے لیے یہ جو کچھ ہوتا ہے اس میں ان معبودوں کا کوئی بھی کمال نہیں ۔دراصل ’عبادت‘ایک جذبہ ہی ایسا ہے!بندگی چیز ہی ایسی پیاری اور خوبصورت بنائی گئی ہے !تبھی توصرف یہ اﷲکا حق ہے !!پرستش مرمٹنے کا نام ہے سچ پوچھیں تو مرمٹنے کا اپنا مزہ ہے اس کے بغیر انسان ادھورا ہے تبھی تو لوگ دیوانے ہوجاتے ہیں مرمٹنے کے لیے کوئی بھی چیز ڈھونڈ لاتے ہیں ۔مٹی نہ ملی تو پتھر اٹھالیا ۔پتھر نہ ملا تولکڑی تراش لی لکڑی سے جی بھر گیا تو پلاسٹک سے بہلالیا۔زندوں سے مایوس ہوا تو مردوں کا رخ کرلیا ۔کیسی وحشت ناک زندگی ہے یہ!اصل معبود نہ ملے تو انسان کیسے پاگل ہوجاتا ہے !کیسے کیسے خبط مارتا ہے ۔انسان اﷲسے واقف نہ ہو تو کتنا حقیر ہوجاتا ہے !کیسی گھٹیا حرکتیں کرتا ہے ! قوم پر مرتا ہے ۔عصبیت پر فدا ہوتا ہے ۔روپے کو خدا بنالیتا ہے ۔پیسے کو خوشی اور غم کا راز سمجھ بیٹھتا ہے ۔لکڑی ،پتھر اور کپڑے کے حضور کبھی مذہبی اور کبھی قومی جوش وخروش کے ساتھ آداب اور کورنش بجالاتا ہے مردوں کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کے منہ کا نوالہ چھین کر ایک بے حس وحرکت معبود کو چڑھاوا دے آتا ہے ۔زندوں اور مردوں کو ہیرو بناکر پوجتا ہے ۔اوران کی شان میں گستاخی کو برداشت سے باہر سمجھتا ہے حقیر ہستیوں کی عظمت وناموس کے لیے مرنے اور مرانے پر اترآتا ہے۔ملک کی عزت پر کٹ مرتا ہے اور وطن کی مٹی کو سلام پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔اور وہ مالک ارض وسماوات جو حق رکھتا ہے اس جان پر،پرستش کے ا ن نفیس جذبات پر اس ایک کو بھول جاتا ہے !کیسا ظالم ہے وہ انسان جسے عقیدت اوربندگی کا خراج دینے کو جہانوں کا رب نظر نہ آئے تو وہ اسے مٹی پر ڈھیر کردے !
اذ قال لابیہ وقومہ ما ذا تعبدون ؟َ ائفکا آلھۃ من دون اﷲ تریدون فما ظنکم برب العالمین ۔ [الصافات:۵۷۔۷۸]
(ابراہیم ؑ نے)جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا تم پوجنے بیٹھے ہو؟نرے بے حقیقت من گھڑت معبود ۔یہ تم اﷲکو چھوڑ کر پوجنا چاہتے ہو ؟تو پھر یہ بتلاؤ کہ تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے ؟
مالکم لاترجون ﷲ وقارا ، وقد خلقکم اطوار ، الم تروا کیف خلق اﷲ سبع سماوات طباقا وجعل القمر فیھن نورا وجعل الشمس سراجا واﷲ أنبتکم من الارض نباتا ثم یعیدکم فیھا ویخرجکم اخراجا واﷲ جعل لکم الأرض بساطا لتسلکوا منھا سبلا فجاجا۔ [نوح: ۳۱۔۰۲]
(نوح نے کہا)تو کیا تمہیں بس ایک اﷲہی کے مرتبے کا پاس نہیں ! وہ تو وہ ہے جس نے تمہیں طرح طرح سے بنایا ۔کیا دیکھتے نہیں وہ اﷲنے جس طرح سات آسمان تہ درتہ بنائے ۔پھر ان میں چاند کا اجالا کردیا اور سورج کا چراغ دھردیا ،اور تم کوبھی زمین سے کیا کیا عجب طریقے سے اگایا اور وجود دیا اور کیسے وہ تمہیں پھر اس مٹی میں ملادے گا پھر اس سے یکایک وہ تم کو نکال کھڑا بھی کرلے گا ۔اور زمین کا دیکھو تمہارے لئے کیسا فرش بچھایا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو۔
یہ بندگی تو بذات خود کتنی بڑی زبردست اور حیران کن چیز ہے !پھر جب یہ اﷲکے لئے ہوجائے ۔۔۔۔۔اور ایک اسی کی ہوجائے ۔۔۔تب تو یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ کیوں نہ ہو صرف سب سے بڑا واقعہ بلکہ خوبصورت ترین اور برحق ترین بھی !
غرض اﷲکے دین کا مطلب ہوا کہ آدمی کو بندگی کی اصل حقیقت معلوم ہو اور پھر۔۔۔۔۔۔اﷲکی پہچان ہوجائے تب اس کی خوشی اور سعادت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا ۔علم کے یہ دوہی حقیقی میدان ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ دونوں اشرف العلوم ہیں ۔بندگی کی حقیقت اور اﷲکا تعارف پھر ان کے ساتھ ایک تیسری چیز اور شامل ہوجاتی ہے جس کی سب کی سب اہمیت ہے تو انہی دوباتوں کے دم سے مگر اہمیت بہت ہے بلکہ اتنی زیادہ کہ لگتا ہے یہی اصل ہے اور اس علم کانام شرک سے بچنا اور مشرکوں سے براء ت رکھنا ہے۔دراصل دین کوئی مصنوعی چیز نہیں ۔بندگی کا جذبہ انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھراہے کسی نہ کسی چیز کو ٹوٹ کرچاہنا انسان کی مجبوری ہے پھر جسے یہ ٹوٹ کرچاہے اسے پانہ سکنے کا ڈر اور بے یقینی کے اندیشے اس کو سب سے زیادہ بے چین رکھتے ہیں حتی کہ اس کو پالے تب بھی اسے بچا رکھنے کی لگن اور اس کے چھن جانے کا خوف ہمیشہ اس پر طاری رہتا ہے مضبوط سے مضبوط انسان بھی ہر دم انجانے خدشوں کا اسیر رہتا ہے ۔بس چاہت اور ڈر کی یہی حالت اور امید ویاس کی یہی کیفیت ’دین‘اور ’بندگی‘کہلاتی ہے جیسے پانی کا بہاؤ رکتا نہیں کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ بنالیتا ہے اسی طرح عبادت انسان کے اندر سے باہر آجانے کے راستے ڈھونڈ لیتی ہے اس کو کہیں نہ کہیں ضرور نکلنا ہے! یہاں اگر انسان اپنے اصل معبود کو ٹھیک ٹھیک نہ پہچانتا ہو تو کوئی اور شخص یا اور چیز اس کو معبود سے بڑھ کر یا اس جتنی اچھی لگے گی کسی اور چیز کی عظمت اور سطوت اس کو اپنا اسیر کرلے گی اور اﷲسے بڑھ کر خوفزدہ کرے گی ۔یوں وہ اﷲکو چھوڑ کر یا اﷲکے ساتھ ایک اس کی بھی بندگی کرنے لگے گا ۔چاہے وہ اس بات کا شعور نہ رکھے اور چاہے وہ اسے بندگی کانام دینے تک کا روادار نہ ہو مگر یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی ۔۔۔۔۔۔اس شرک کا سبب پھر یہی تو ہوا کہ وہ خالق کی پہچان سے کورا اور تہی دامن رہا ۔بس یوں سمجھو کہ صاف ستھری اور پاکیزہ غذا پاس ہو مگر کورا پن کی وجہ سے دکھائی نہ دے تو آدمی کوڑے کے ڈھیر سے بھوک مٹانے لگے۔بھوک تو بھوک ہے اور انسان کو ضرور لگتی ہے ۔پیٹ میں کچھ بھی پڑجائے تو ذرا دیر کے لئے سہارا ہوہی جاتا ہے !مگر غلاظت کھا کھا کر کوئی اس کا رسیا ہوجائے تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان کی بو ی حس مرجاتی ہے تب گندگی اور پاکیزگی اس کے حساب سے ایک برابر ہوتی ہے ۔بلکہ کسی دوسرے کی نسبت اس کو اپنا ہی ’ذوق‘بہتر لگتا ہے!چنانچہ اسلام صرف یہ نہیں کہ آدمی شرک کی غلاظت سے بچے اور توحید کی پاکیزگی اختیار کرے ۔بلکہ پورا اسلام یہ ہے کہ آدمی غلیظ لوگوں سے بھی دور رہے اور پاکیزگی پسندوں میں صبح وشام اپنا نام لکھوائے اور ان میں مل کر ایک جتھا بنے ۔
ان اﷲ یحب التوابین ویحب المتطھرین ۔ (البقرہ:۲۲۲)
اﷲکو وہ لوگ پسند ہیں جو توبہ کرتے رہنے والے ہوں اورپاکیزگی کے پیکر ۔
ان اﷲ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص۔ (الصف:۴)
اﷲکو وہی لوگ پسند ہیں جو ایک صف بن کر اس کے راستے میں لڑتے ہیں گویا وہ کوئی سیسہ پلائی عمارت ہیں ۔
اس ’مشرکوں سے برا ء ت‘میں ’شرک سے اجتناب‘خود بخود آجاتا ہے اسی لیے قرآن اس پر بے انتہا زور دیتا ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ماکان من المشرکین کہہ کرکراتا ہے ‘کہ وہ مشرکوں سے الگ تھلگ رہنے والا تھا۔
چنانچہ شرک یا مشرکوں سے قربت کا باعث یا تو خالق کی پہچان سے محرومی ہوسکتی ہے اور یا پھر بندگی کی حقیقت سے ناآشنائی ۔آدمی اپنے فعل کا مطلب نہ جانتا ہو تو اس کو کیا معلوم کہ وہ کسی کی بندگی کررہا ہے یا اپنا کوئی روزمرہ کا کام ! خصوصا ‘عبادت‘اگر وہ ’مذہب‘اور ’دھرم‘کے چند مخصوص افعال ہی میں محدود سمجھ لے اور عبادت کے بہت سے کام عبادت نہ جان کر غیر اﷲکے لیے کرتا رہے (جیسا کہ عدی بن حاتم کے بیان کے مطابق (مسند احمد )بہت سے نصاریٰ کو معلوم نہ تھا کہ کسی سے حلال اور حرام کے پیمانے لینا اس عبادت کرنا ہے جیسا کہ آج بہت سوں کو معلوم نہیں کہ کسی کا قانون تسلیم کرنا دراصل اس کی عبادت ہے ) تو چاہے لاکھ وہ اﷲکی حمد اور تسبیح اور کوع وسجود کا قائل رہے اس کی بدبختی کے لئے یہ بھی کافی ہے اس صورت میں بھی وہ شرک کامرتکب ہوسکتا ہے اور مشرکوں کا ساتھی ۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس بدبختی سے بچنے کے لیے اور ابدی سعادت کے حصول کی خاطر بندگی کا مطلب جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ معبود کا تعارف !
چنانچہ اب ہمارے پاس تین چیزیں ہوگئیں ۔اﷲکا تعارف ۔بندگی کی حقیقت اور شرک ومشرکین سے براء ت ۔یہ تین باتیں اتنی عظیم الشان ہیں کہ بس یہی سکھانے کے لیے آسمان سے کتابیں نازل ہوتی رہیں اور پے درپے رسول مبعوث ہوئے ۔یہی باتیں ہر دور میں اہل حق کی دعوت کا بنیادی مضمون رہیں اور یہی ان کی ساری محنت اور جدوجہد کا اصل محور ۔یہی ان کی بار بار کی تکرار کا موضوع تھا ۔اسی بات پر ہمیشہ انبیاء وصدیقین اور شہداء وصالحین نے دنیا سے جنگ کی اور اسی پر صلح ۔صرف اسی پر ان کی دوستی ہوئی اور اسی پر دشمنی ۔اسی پرجینے کی تمنا ہوئی اور اسی پر مرنے اور جان دینے کی آرزو ۔ایسا ہو بھی کیوں نہ ہو ،اس پر تو جنت اور جہنم کے فیصلے کامدار ہے!آئیے ذرا اس پر غور کریں کہ اس مسئلہ پر اتنا زور کیوں دیا گیا اور رسولوں اور کتابوں کا یہی اصل موضوع کیونکر ہے۔کہنے کو کہا جاسکتا ہے کہ یہ باتیں جنہیں ہم توحید کا نام دیتے ہیں گنتی کے چند جملوں میں بیان ہوسکتی ہیں ۔پھر اس کے لیے اتنے لمبے چوڑے بیان کی کیا ضرورت تھی ؟یہ باتیں تو معمولی ادیب بھی ایک آدھ صفحہ پر سمیٹ سکتا ہے پھر اس طوالت اختیار کرنے میں رب العالمین کی آخر کیا حکمت ہوسکتی تھی؟رسولوں اورنبیوں کو برسوں بلکہ صدیوں اس پرجان کھپانے کی کیا احتیاج ہوسکتی ہے؟ضرور قرآن کا اصل موضوع کوئی اور ہے آسمانی صحیفوں کا مقصد کچھ اس سے بڑھ کر ہے اور رسولوں کی طویل محنت اور جہاد کا موضوع بھی اس سے زیادہ طویل وعریض اور پرمغز ودقیق ہے !اور یہ بھی کہ اس توحید کی ضرورت اور اہمیت بجا مگر اس کے سوا اور بھی تو زمانے میں غم ہوسکتے ہیں جن کا علاج بھی ایک انبیاء ہی کا فرض تھا!پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انبیاء نے ایک شرک کے سوا دنیا کے اور کسی غم کا حال نہ پوچھا ہو یا انسانیت کا کوئی دکھ مداوا کئے بغیر چھوڑ دیا ہو!
مگر سوال یہ ہے کہ دنیا میں کون سی دعوت ایسی ہے جو چند لفظوں میں بیان نہ ہوسکتی ہو؟انسانیت کو کون سا بنیادی مسئلہ ایسا ہے جو ایک صفحے میں عرض نہ کیا جاسکے ؟کون سا ازم کون سا فلسفہ کون سا دین کون سا فرقہ یا کون سی جماعت اور تحریک دنیا میں ایسی ہے جس کا مدعا چند جملوں میں نہ آجاتا ہو؟پھر اتنا لٹریچر اتنی کتابیں اتنے پرچے اور رسالے اتنی تقریریں کانفرنسیں ،جلسے اور جلوس آخر کس موضوع پر ہوجایا کرتے ہیں ؟اور کیا اتنا کچھ لکھنے اور بولنے کیلئے اسے’تبدیلی ء موضوع ‘کی ضرورت پڑجایا کرتی ہے یا پھر یہ سارا جوشش اسی ایک ’بنیادی موضوع‘ کا مرہون منت ہوتا ہے ؟؟؟ پھر جن ادیبوں اور شاعروں کی قادرالکلامی پر دنیا کو بڑ ناز ہے انہی کو لے لیجئے !یہ شمع اور پروانے کی کہانی کو بھلا کتنے لفظ چاہئیں !یا رخِ یار کی حکایت کتنی طویل ہونی چاہیے! محبوب کا روٹھ جانا یا روٹھ کرمان جانا کتنا وسیع موضوع ہوسکتا ہے !یہ وصل اور ہجر کی داستان کو کتنے صفحے درکار ہیں !رقیب یا ناصح کے کرتوت بتانے میں کتنا وقت لگتا ہے!؟پھر یہ شاعری کی طویل وعریض دیوان آخر کن باتوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ خیال یہ ہو کہ غلط بھی نہیں کہ بڑے بڑے شاعر دریا کو کوزے میں بند کردیتے ہیں!اور دیکھ لیجئے !یہ وطن کے نغمے دنیامیں کبھی ختم کیوں نہیں ہوتے؟اخباروں اور رسالوں اور سیاستدانوں کی تقریروں میں ’قومی ترقی‘ کی گردان رکنے میں کیوں نہیں آتی ؟غربت اور افلاس کا رونا تھم کیوں نہیں جاتا ؟ظلم اور استحصال کی داستان کا ایک بار خلاصہ کرکے چھوڑ کیوں نہیں دیا جاتا ؟آزادی کی خوشی کبھی پرانی کیوں نہیں ہوتی ؟مٹی میں دفن انسانوں کے مناقب اور ان کے لیے زندہ وپائندہ باد کے نعرے فرسودہ کیوں نہیں ہوجاتے ؟برس ہا برس تک قومی تقریبات پر جو کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے اورموجودہ دورمیں قومی نظریے پر جوجو کچھ چھپتا ہے اور اداروں میں پڑھا جاتا ہے اس کی تلخیص کرنے پر آئیں تو آخر کتنے صفحوں کی ضرورت پڑے گی؟
بات یہ ہے کہ حقائق الفاظ سے بہت بڑے ہوتے ہیں یوں کہیں کہ الفاظ حقائق کا احاطہ کرنے کے لیے ہوتے ہی نہیں ۔وہ صرف حقائق کی جانب انسان کی توجہ مبذول کراتے ہیں ۔اس لیے انسان جب کسی حقیقت پر ایمان لے آتا ہے ۔اور وہ حقیقت اس کے دل میں اترتی ہے توپھر الفاظ سے اس کی تسکین نہیں ہوتی!تب وہ بار بار وہی الفاظ بولتا ہے اور تکرار سے اس کی کمی دور کرتا ہے پیرائے بدل بدل کر وہی ایک بات کرتا ہے کچھ دیر ٹھہر لیتا ہے تو پھر وہی بات کرتا ہے ۔ادھر ادھر کی کوئی بات کرلے تو واپس پھر وہیں لوٹ آتا ہے کسی اور کو لاکھ اس سے بوریت ہو مگر وہ اسی بات میں لطف لیتا ہے۔اسی لیے تو ہم کہتے ہیں ہر آدمی ہر گروہ اور ہر قوم کو غور کرتے رہنا چاہئے کہ وہ کون سی بات ہے جس کے بار بار کرنے میں اسے لطف آتا ہے اور جس کی تکرار میں ہی اس کو راحت اور سکون ملتا ہے ۔یہی چیز دراصل اس کا ’دین‘ہواکرتی ہے ۔
رب العالمین نے بھی چونکہ اپنے کلام میں انسان سے انسان کی زبان میں خطاب فرمایا ہے اس لیے انسان کی اس ضرورت کاپورا پورا لحاظ رکھا ہے اس نے پورے قرآن میں اپنی صفات کا تعارف اپنی بندگی کی حقیقت اور اپنی وحدانیت کا ذکر یوں پھیلا دیا ہے کہ آپ کوئی صفحہ کھولیں یہی بات آپ کو نئے سے نئے عمدہ پیرائے میں ملے گی اور صبح بہار سے تازہ اور سورج سے زیادہ روشن لگے گی!یہ دل نشین بات اس نے قرآن کے ہر قصے ،واقعے اورمسائل واحکام کے ہر حکم ،ہر مسئلے اور آیت میں یوں سمودی ہے کہ آپ اس کی ہر بات کے پس منظرمیں یہی بات دیکھیں گے یوں آپ کو بس قرآن پڑھنے کی ضروررت ہے آپ سے آپ بندگی کی حقیقت آپ میں رچ بس جائے گی اﷲکی عظمت خود بخود آپکے دل میں گھر کرلے گی اور اس کی ہمسری آپ کو دنیا میں سب سے بڑی برائی اور انسانیت کا سب سے سنگین جرم نظر آئے گا قرآن کی ترجیحات جس بے ساختگی سے آپ کی ترجیحات بنیں گی اسی نسبت سے آپ کا دین اسلام ہوتا جائے گا ! تب آپ دین کی کوئی بات کریں اس کے اندر سے قرآن کی یہی حقیقت صاف جھلکتی دکھائے دے گی مگر یہ نعمت اﷲسے طلب کرنی پڑتی ہے ورنہ قرآن سے سوائے اس ایک چیز کے سب کچھ ملتا ہے۔خوش قسمت ہے وہ جو قرآن سے قرآ ن کا مضمون پڑھ لے
شھداﷲ انہ لاالہ الا ھو والملائکۃ واولوا العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم ان الدین عند اﷲ الاسلام ۔
’’اﷲنے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ ایک اس کے سوا کوئی الٰہ کوئی بندگی کے لائق نہیں ۔۔۔۔پوری راستی اور انصاف کے ساتھ ۔۔۔اس پر سب فرشتے گواہ ہیں اور علم رکھنے والی تو ہر ہر ہستی یہی شہادت دیتی ہے کہ ایک زبردست قوت اورحکمت والے کے سوا فی الواقع کوئی الٰہ کوئی بندگی کے لائق نہیں ۔اﷲکے نزدیک تو دین یہی اسلام ہے۔ (آل عمران :۸۱۔۹۱)
اس آیت میں آپ نے ’’اولوالعلم‘‘کے الفاظ پر گورفرمایا !یعنی اصل علم کی بات یہی ہے کہ آدمی اس لاالہ الااﷲ کی شہادت دے۔اﷲکے لیے اس کی بندگی اور پرستش کا باربار اثبات کرے اور غیر اﷲسے بار بار اس کی نفی وانکار ۔۔۔۔ہر ہر انداز ہر پیرائے میں کرے’دل سے کرے ‘زبان سے کرے اور عمل کے ہر ہر پہلو سے کرے ۔۔۔۔یہ اس سے بطور فرد بھی مطلوب ہے اور بطور جماعت اور تحریک بھی ۔بطور کنبہ بھی مطلوب ہے اور بطور قوم ،ملک ،سلطنت بھی۔اس کے سوا کچھ بھی مطلوب ہے تو اسی کی نسبت اور اسی کے حوالے سے مطلوب ہے فرشتوں اور علم والی ہستیوں کا بھی یہی مطلوب ہے وجود میں ہر چیز کا یہی مقصود ہے ۔حقیقی علم یہی ہے جسے لاالہ الااﷲ کے چند لفظوں میں سمیٹ دیا گیا ہے باقی سب اس کی تفسیر ہے!پورا دین اسی ایک کلمہ کی وضاحت ہے !پھر یہ انسان کیا ہے اور یہ معاشرے کیا چیز ہیں ،جو ان کی زندگی اس کلمہ کی تعبیر نہ ہو ۔
اس دین کی روشنی میں ۔۔۔اﷲکی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کی پیروی ۔۔۔۔اور سلف امت کے انداز میں ۔۔۔۔۔اس لاالٰہ الااﷲکی تفسیر ہوتی رہنی ضروری ہے۔طاغوتوں سے اس کی نفی وانکار ہرحال میں ہرشکل میں ہر انداز میں ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔اﷲکے رسول جب بھی نماز سے سلام پھیرتے ان کلمات کی پکار لگاتے ۔
لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد ، وھو علی کل شی ء قدیر لا حول ولا قوۃ الا باﷲ لا الٰہ الا اﷲ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون ۔ (روہ مسلم عن عبداﷲ بن زبیر عن النبیﷺ)
’’اﷲکے سوا کوئی بندگی اور پرستش کے لائق نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے بادشاہی ایک اسی کی ہے حمد و تعریف اسی کا حق ہے اسی کی قدرت میں ہرچیز ہے ۔کوئی زور نہیں کوئی طاقت نہیں اس سے لئے بغیر۔بندگی کسی کی نہیں اس ایک کے سوا ہم پوجیں گے تو صرف اسی کو مانیں گے تو ایک اسی کی۔۔۔چاہے کافروں کو یہ سب کتنا بھی برا لگے ‘‘۔
یہ کام یعنی لاالٰہ الااﷲکی عملی تفسیر جو کہ زندگی کامقصد ہے اور نجات کا آسرا بہت عظیم ہے اور اسی پر آدمی اﷲہی سے مدد طلب کرسکتا ہے ۔بلکہ کرتا توہے حضور قلب اور شعور کے ساتھ کرنا چاہیے۔اہدنا الصراط المستقیم۔مگر اس کی سمجھ اور یاددہانی کیلئے اور دین کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے اور اسے بار بار ذھنوں میں تازہ کرنے کے لیے مل بیٹھتے رہنا بھی سلف کی سنت ہے ۔مل بیٹھنے کو عربی میں مجلس کہا جاتا ہے اور یاد دہانی کو ذکر یا تذکیر ۔مجالس ذکر کا تذکرآپ اکثر حدیث کی کتب میں پڑھتے ہوں گے ۔جبکہ اﷲکے رسول کہتے ہیں کہ افضل الذکر لاالٰہ الا اﷲہے

مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ پاکستان

مسلم قومیت کی بدعت
ابوالاعلیٰ مودودی
دعوت انبیاء کا مطالعہ کریں تو اﷲتعالیٰ سے تعلق پیدا کرلینے کے بعد اگر کسی اجتماعی فرض کا کوئی نقشہ آپ کے قلب وذہن میں بنتا ہے تو وہ ایک ’اصولی تحریک‘ کا قیام ہی کہلاسکتا ہے مگر واقعاتی دنیا میں آئیں تو آپ ششدر رہ جاتے ہیں کہ وہی اسلام جو عقیدہ اور عمل کا مجموعہ ہے اور جو موروثی فضیلت یا علاقائی برتری اور نسلی بالادستی کا سب سے بڑا مخالف اور اس کی میزان میں اتباع حق کے سامنے قومی مفاد کوئی وزن ہی نہیں رکھتا ۔۔۔آج وہ اسلام خود ایک ’قوم‘بنادیا گیا ہے عقیدہ وعمل کی کوئی شرط رکھے بغیر ایک وراثت کی طرح نسل درنسل منتقل ہوتا ہے ۔اور ایسی نسل کی ترقی ہی اسلام کی ترقی کہلاتی ہے مسلمان نام کی اس نسل کو دوسری اقوام پر فتح دلانا اب اسلام کی فتح ہے ۔جواسلام پوری انسانی زندگی کو اپنے نقشے پر بدل دینے کا مطالبے پر بضد رہا تھا اور باطل سے دست وگریباں رہنا دنیا میں اس کا امتیاز ہوا کرتا تھا اب نہ صرف وہ باطل نظاموں کے زیر سایہ ہنسی خوشی بس لیتا ہے بلکہ ان شرکیہ نظاموں کی خدمت وترقی کی غرض سے اپنے پیروکاروں کو ان سے صلح جوئی اور وفاداری کے سبق بھی دینے لگا ہے۔
اسلام کے معنی ومفہوم میں اس قدر بڑی حیرت انگیز تبدیلی جو بجا طور پر تاریخ اسلام کی چند بڑی بدعات اور عظیم ترین انحرافات میں سے ایک کہلاسکتی ہے ’’مسلم قومیت ‘‘کے نام سے منسوب ہوئی ۔یہی بدعت آگے چل کر وطنیت ،علاقائیت اور جمہوریت وغیرہ ایسی گمراہیوں کوجنم دیتی رہی ہے اسی نے پچھلے سوسال کے عرصے میں مسلم خون کی بھینٹ لی اور آئندہ بھی نظر آتا ہے کہ اس گمراہی کا علاج نہ کیا گیا تو اسلام کی راہ میں جو کچھ دیا جائے گا وہ اسی کو وصول ہوتا رہے گا ۔قومیت کا یہ بت توڑنا اس لیے آسان نہیں کہ اس نے عبائے اسلام باقاعدہ زیب تن کرکررکھی ہے مگر فرزندان اسلام کو اﷲوحدہ لاشریک کے آگے جھکانے کے لیے اس بدعت ضلالت کا پردہ چاک کردینا بہرحال ضروری ہے اور اس دور کا ایک بہت بڑا فریضہ ۔
ویسے تو امت اسلام کسی دور میں خیر سے یکسر محروم نہیں رہی مگر برصغیر میں قومیت کے اس بت کے خلاف ایک منظم اور مسلسل آواز آج سے ساٹھ ستر برس قبل اٹھائی گئی ہمارے علم میں اس بدعت ضلالت کے خلاف اس سے بہتر اور اس قدر واضح آواز برصغیر کی تاریخ میں نہیں سنی گئی:
’’ مسلمان کے نام سے جو یہ قوم اس وقت موجود ہے وہ خود بھی اس حقیقت کو بھول گئی ہے اور اس کے طرز عمل نے دنیا کو بھی یہ بات بھلادی ہے کہ اسلام اصل میں ایک تحریک کانام ہے جو دنیا میں ایک مقصد اور کچھ اصول لے کر اٹھی تھی اور مسلمان کا لفظ اس جماعت کے لیے وضع کیا گیا تھا ۔جو اس تحریک کی پیروی اور علمبرداری کے لیے بنائی گئی تھی تحریک گم ہوگئی اس کا مقصد فراموش کردیا گیا ۔اس کے اصولوں کو ایک ایک کرکے توڑا گیا ۔اور اس کا نام اپنی تمام معنویت کھودینے کے بعد اب محض ایک نسلی ومعاشرتی قومیت کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے حد یہ ہے کہ ان مواقع پر بھی بے تکلف استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں اسلام کا مقصد پامال ہوتا ہے ،جہاں اس کے اصول توڑے جاتے ہیں جہاں اسلام کے بجائے غیر اسلام ہوتا ہے ۔
بازاروں میں جائیے ’’مسلمان رنڈیاں ‘‘آپ کو کوٹھوں پر بیٹھی نظر آئیں گی اور ’’مسلمان زانی‘‘گشت لگاتے ملیں گے جیل خانوں کا معائنہ کیجئے ’’مسلمان چوروں ‘‘، ’’مسلمان ڈاکوؤں ‘‘اور ’’مسلمان بدمعاشوں‘‘سے آپ کا تعارف ہوگا۔دفتروں اور عدالتوں کے چکرلگائیے رشوت خوری ،جھوٹی شہادت ،جعل ،فریب ،ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگاہوا پائیں گے سوسائٹی میں پھرئیے کہیں آپ کی ملاقات’’ مسلمان شرابیوں ‘‘سے ہوگی ،کہیں آپ کو ’’مسلمان قمار باز‘‘ملیں گے ۔کہیں’’ مسلمان سازندوں ‘‘اور ’’مسلمان گویوں‘‘ اور ’’مسلمان بھانڈوں‘‘ سے آپ دوچارہونگے۔
(اب اس کام کیلئے ’’مسلم ریاست ‘‘کا ایک باقاعدہ ادارہ پاکستان فلم انڈسٹری یا بالی وڈ کے نام سے سرگرم عمل ہے ۔اور’’ مسلم ملک وقوم ‘‘کیلئے ان فنکاروں کی شبانہ روز خدمات کے صلے میں ریاست ان کو سرکاری سطح پر ایوارڈ دینے کا انتظام بھی وقتاً فوقتاً کرتی رہتی ہے،(ایقاظ))
بھلا غور تو کیجئے یہ لفظ ’’مسلمان ‘‘کتنا ذلیل کردیا گیا ہے اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہورہا ہے ۔مسلمان اور زانی! مسلمان اور شرابی! مسلمان اور قمار باز! مسلمان اور رشوت خور! اگر وہ سب کچھ جو ایک کافر کرسکتا ہے وہی ایک مسلمان بھی کرنے لگے تو پھر مسلمان کے وجود کی دنیا میں حاجت ہی کیا ہے اسلام تو نام ہی اس تحریک کا تھا جو دنیا سے ساری بداخلاقیوں کو مٹانے کے لیے اٹھی تھی اس نے مسلمان کے نام سے ان چیدہ آدمیوں کی جماعت بنائی تھی جو خود بلند ترین اخلاق کے حامل ہو ں اور اصلاح اخلاق کے علمبردار بنیں ۔اس نے اپنی جماعت میں ہاتھ کاٹنے کی ،پتھر مارمار کرہلاک کردینے کی ،کوڑے برسابرسا کر کھال اڑا دینے کی ،حتی کہ سولی پر چڑھادینے کی ہولناک سزائیں اسی لیے تومقرر کی تھیں کہ جو جماعت دنیا سے زنا کو مٹانے اٹھی ہے خود اس میں کوئی زانی نہ پایا جائے جس کاکام شراب کا استیصال ہے وہ خود شراب خوروں کے وجود سے خالی ہو ۔جسے چوری اور ڈاکہ کا خاتمہ کرنا ہے خود اس میں کوئی چور اور ڈاکو نہ ہو (غزوہ ہند اور غلبہ پاکستان کے متمنی حضرات متوجہ ہوں ۔ایقاظ)
اس کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ جنہیں دنیا کی اصلاح کرنی ہے وہ دنیا بھر سے زیادہ نیک سیرت ،عالی مرتبہ اور باوقار لوگ ہوں اسی لیے قمار بازی ،جعل سازی اور رشوت خوری تو درکنار اس نے تو اتنا بھی گوارانہ کیا کہ کوئی مسلمان سازندہ اور گویا ہو ۔کیونکہ مصلحین اخلاق کے مرتبہ سے یہ بھی گری ہوئی چیز ہے جس اسلام نے ایسی سخت قیود اور اتنے شدید ڈسپلن کے ساتھ اپنی تحریک اٹھائی تھی اور جس نے اپنی جماعت میں چھانٹ چھانٹ کر بلند ترین کیریکٹر کے آدمیوں کو بھرتی کیا تھا اس کی رسوائی اس سے بڑھ کراور کیا ہوسکتی ہے کہ رنڈی اور بھڑوے اور چور اور زانی تک کے ساتھ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگ جائے ۔کیا اس قدر ذلیل اور رسواہوجانے کے بعد بھی ’اسلام‘ اور ’مسلمان‘کی یہ وقعت باقی رہ سکتی ہے کہ سر اس کے آگے عقیدت سے جھک جائیں اور آنکھیں اس کیلئے فرش راہ بنیں ؟جو شخص بازار بازار اور گلی گلی خوار ہورہا ہو کیا کبھی اس کے لیے بھی آپ نے کسی کو ادب سے کھڑے ہوتے دیکھا ہے ؟
یہ تو بہت ذلیل طبقہ کی مثال تھی اس سے اونچے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت اور زیادہ افسوس ناک ہے ۔یہاں یہ سمجھاجاتا ہے کہ اسلام ایک نسلی قومیت کا نام ہے اور جو شخص مسلمان ماں باپ کے ہاں پیدا ہوا ہے وہ بہرحال مسلمان ہے خواہ عقیدہ ومسلک اور طرز زندگی کے اعتبار سے وہ اسلام کے ساتھ کوئی دور کی مناسبت بھی نہ رکھتا ہو ۔سوسائٹی میں آپ چلیں پھریں تو آپ کو ہرجگہ عجیب وغریب قسم کے ’مسلمانوں ‘سے سابقہ پیش آئے گا ۔کہیں کوئی صاحب خدا اور رسالت اور آخرت کے قطعی منکر ہیں اور کسی مادہ پرستانہ مسلک پر پورا ایمان رکھتے ہیں مگر ان کے ’مسلمان ‘ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ایک تیسرے صاحب سود کھاتے ہیں اور زکوٰۃ کا نام تک نہیں لیتے مگر ہیں یہ بھی ’مسلمان‘ہی۔
(یہ اس وقت کی بات ہے جب ہند میں مسلمانوں کو ایک ریاست میسر نہیں تھی اور سود خوری مسلمانوں کا ذاتی اور انفرادی فعل تھا اب خیر اس کام کیلئے قوم اپنے باقاعدہ آئینی اور قانونی ادارے رکھتی ہے ۔(ایقاظ))
ایک اور بزرگ بیوی اور بیٹی کو میم صاحبہ یا شریمتی جی بنائے ہوئے سنیما لیے جارہے ہیں ۔یا کسی رقص وسرور کی محفل میں صاحب زادی سے وائلن بجوارہے ہیں مگر آپ کے ساتھ بھی لفظ’مسلمان‘بدستور چپکا ہوا ہے ۔
(اب پوری قوم اپنے پیارے دیس کے ٹی وی سکرین پر اپنی بیٹیوں کا فن ملاحظہ کرلیتی ہے ۔ (ایقاظ))
ایک دوسرے ذات شریف نماز ،روزہ، حج ،زکوٰۃ ،تمام فرائض سے مستثنیٰ ہیں شراب،زنا،رشوت ۔جوا اور ایسی سب چیزیں ان کے لیے جائز ہوچکی ہیں حلال وحرام کی تمیز سے نہ صرف خالی الذہن ہیں بلکہ اپنی زندگی کے کسی معاملہ میں بھی ان کو یہ معلوم کرنے کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اﷲکا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے خیالات ،اقوال اور اعمال میں ان کے اور ایک کافر اور مشرک کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا ۔مگر ان کا شمار بھی ’مسلمانوں ‘ہی میں ہوتا ہے ۔غرض اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کا جائزہ لیں گے تو اس میں آپ کو بھانت بھانت کا’مسلمان‘نظر آئے گا مسلمان کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ شمار نہ کرسکیں گے۔یہ ایک چڑیا گھر ہے جس میں چیل کوے ،گدھ ،بٹیر ،تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ’چڑیا ‘ہے کیونکہ چڑیا گھر میں ہے۔
پھر لطف یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام سے انحراف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ اب یہ ہوگیا ہے کہ ’مسلمان‘جو کچھ بھی کرے وہ ’اسلامی ‘ہے حتی کہ اگر وہ اسلام سے بغاوت بھی کرے تو و ہ اسلامی بغاوت ہے یہ بینک کھولیں تو اس کانام ’اسلامی بینک ‘ہوگا (کبھی یہ ایک ناشدنی مذاق تھا مگر اب یہ حقیقت ہے ۔ایقاظ) یہ انشورنس کمپنی قائم کریں تو وہ ’اسلامی انشورنس کمپنی‘ہوگی ،یہ جاہلیت کی تعلیم کا ادارہ کھولیں تو وہ’ مسلم یونیورسٹی‘، ’اسلامیہ کالج‘ یا ’اسلامیہ اسکول‘ہوگا ،ان کی کافرانہ ریاست کو ’اسلامی ریاست ‘کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ (اس وقت دنیامیں ایسی اسلامی ریاستوں کی تعداد 55تک پہنچتی ہے اﷲکرے زور حریت اور زیادہ۔ایقاظ)
ان کے فرعون اور نمرود ،’اسلامی بادشاہوں ‘کے نام سے یاد کئے جائیں گے ان کی جاہلانہ زندگی ’اسلامی تہذیب وتمدن ‘قرار دی جائے گی ۔ان کی موسیقی ،مصوری اور بت تراشی کو ’اسلامی آرٹ ‘کے معزز لقب سے ملقب کیا جائے گا ان کے زندقے اور اوہام لاطائل کو ’اسلامی فلسفہ‘کہا جائیگا ۔حتی کہ یہ سوشلسٹ بھی ہوجائیں تو ’مسلم سوشلسٹ‘کے نام سے پکاریں جائیں گے ان سارے ناموں سے آپ آشنا ہوں چکے ہیں اب صرف کسرباقی ہے کہ ’اسلامی شراب خانے‘ ، ’اسلامی قحبہ خانے‘ اور ’اسلامی قمار خانے ‘ جیسی اصطلاحوں سے بھی آپ کا تعارف شروع ہوجائے ۔مسلمانوں کے اس طرز عمل نے اسلام کے لفظ کو اتنا بے معنی کردیا ہے کہ ایک کافرانہ چیز کو ’اسلامی کفر‘یا’اسلامی معصیت‘کے نام سے موسوم کرنے میں اب کسی تناقض فی الاصطلاح Contradiction in termsکا شبہ تک نہیں ہوتا۔حالانکہ اگر کسی دکان پر آپ ’سبزی خوروں کی دکان گوشت ‘یا ولایتی سودیشی بھنڈار‘ کا بورڈ لگا دیکھیں یا کسی عمارت کا نام ’’موحدین کا بت خانہ‘‘سنیں تو شاید آپ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکے گی ۔
جب افراد کی ذہنیتوں کا یہ حال ہے تو قومی اور قومی پالیسی کا اس تناقض سے متاثر نہ ہونا امرمحال ہے آج مسلمانوں کے اخباروں اور رسالوں میں ،مسلمانوں کے جلسوں اور انجمنوں میں مسلمان پڑھے لکھے طبقہ میں آپ ہر طرف کسی چیز کی پکار سنتے ہیں ؟بس یہی ناکہ سرکاری ملازمتوں میں ہمیں جگہیں ملیں ۔غیر الٰہی نظام حکومت کو چلانے کے لیے جس قدر پرزے درکار ہیں ان میں سے کم از کم اپنے پرزے ہم پر مشتمل ہوں شریعت سازمجلسوں (Lagislatives) کی نشستوں میں کم از کم ا تنا تناسب ہمارا ہو’’من لم یحکم بما انزل اﷲ ‘‘ میں کم سے کم اتنے ہی فیصدی ہم بھی ہوں ’’والذین یقاتلون فی سبیل الطاغوت‘‘میں غالب حصہ ہمارا ہی رہے اسی کی ساری چیخ وپکار ہے ۔اسی کانام اسلامی مفاد ہے اسی محور پر مسلمانوں کی قومی سیاست گھوم رہی ہے یہی گروہ عملاً اس وقت مسلم قوم کی پالیسی کو کنٹرول کررہاہے حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اس کی عین ضد ہیں ۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ ہوتا تو کیا اس کا نقطہ نظر یہی ہوتا؟
کیا کوئی اجتماعی اصلاح کی تحریک اور کوئی ایسی جماعت جو خود اپنے اصول پر دنیا میں حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت میں اپنے پیروؤں کو کل پرزے بننے کی اجازت دیتی ہے ؟کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ اشتراکیوں نے بینک آف انگلینڈ کے نظام میں اشتراکی مفاد کا سوال اٹھایا ہو یا فاشسٹ گرانڈ کو نسل میں اپنی نمائندگی کے مسئلہ پر اشتراکیت کی بقا وفنا کا انحصار رکھا ہو ؟اگر آج روسی کمیونسٹ پارٹی کا کوئی ممبر نازی حکومت کا وفادار خادم بن جائے تو کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ ایک لمحہ بھر کیلئے بھی اسے پارٹی میں رہنے دیا جائے گا ؟اور اگر کہیں وہ نازی آرمی میں داخل ہوکر نازیت کو سربلند کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ اس کی جان کی سلامتی کی بھی امید کرسکتے ہیں ؟مگر یہاں آپ کیا دیکھ رہے ہیں اسلام جس روٹی کو زبان پر رکھنے کی اجازت بھی شاید انتہائی اضطرار کی حالت میں دیتااور جس کو حلو سے اتارنے کے لیے (غیرباغ ولا عاد)کی شرط لگاتا اور پھر تاکید کرتا کہ جس طرح سخت بھوک کی حالت میں جان بچانے کے لیے سور کھایا جاسکتا ہے اسی طرح بس یہ روٹی بھی بقدر سد رمق کھالو ۔یہاں اس روٹی کو نہ صرف یہ کہ ھنےئاً مرےئاً کرکے پورے انسباط کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔بلکہ اسی پر کفر اوراسلام کے معرکے سر ہوتے ہیں اور اسی کو اسلامی مفاد کا مرکزی نقطہ قرار دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد تعجب نہ کیجئے اگر ایک اخلاقی و اجتماعی مسلک کی حیثیت سے اسلام کے دعوائے حکمرانی کو سن کر دنیا مذاق اڑانے لگے کیونکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں نے خود اس کے وقار کواور اس کے دعوے کو اپنے معبود شکم کے چرنوں میں بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ (ماخوذ از ترجمان القرآن نومبر 1939)

مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ پاکستان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s