غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

غلامیء رسول میں موت بھی قبول ہے

جو ہو نہ عشق مصطفٰی  تو زندگی فضول ہے

غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

ڈھلا ہے اس کے رنگ میں قریب اس کے جو گیا

ملا ہے ایک بار اسے غلام اس کا ہو گیا

وہ ایسا خوش بیان ہے وہ ایسا خوش اصول ہے

غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

پڑھیں درود آپ پر ملی زباں اسی لئے

فدا ہوں ان کے دین پر ہے تن میں جان اسی لئے

جو ان کے واسطے نہیں وہ زندگی فضول ہے

غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

چل اس کے شہر کی طرف یہ دل اگر اداس ہے

بہشت ان کے روضے ہی کی جالیوں کے پاس ہے

خدا کی خاص نعمتوں کا اس جگہ نزول ہے

غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s